×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہارن دو راستہ لو
Dated: 20-Sep-2009
جب سے جمہوریت آئی ہے سیاست کے بازار میں ایک عجب ہلچل مچی ہوئی ہے، بلکہ یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ایک عجیب سی سیاسی افراتفری کا سماں ہے۔ ہر سیاسی پارٹی اپنی اپنی سرکس لگا کر بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ ایسا حسن اتفاق ہے کہ اس وقت ہر جماعت کے پاس کچھ ایسے فنکار بھی موجود ہیں جو سیاسی فضا کو مکدر اور گدلا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتے۔ کبھی مائنس ون فارمولے کا راگ الاپا جاتا ہے اور کبھی آرٹیکل 6اور سترہویں ترمیم کی بانسری بجائی جاتی ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ سرکس کے اندر کے فنکار تو اپنے اپنے کرتب دکھا ہی رہے ہیں، باہر بیٹھے ہوئے کچھ بے تاب فنکار بھی جو ٹرین مِس کر چکے ہیں اپنے اپنے حصے کے سُر نکال رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت داخلی و خارجی محاذوں پر شدید مشکلات کا شکار ہے۔ جب مشرف نے اقتدار چھوڑا تو ریت کی دیواروں پہ کھڑا معاشی خوشحالی کا محل زمین بوس ہو گیا۔ بجلی کی شدید تر لوڈشیڈنگ،سیمنٹ اور کھاد سمیت بے شمار مسائل حکومت کو ورثے میں ملے اور سونے پر سہاگہ جناب شوکت عزیز صاحب جاتے جاتے گندم کا بحران بھی تحفے میں دے گئے۔ خارجی محاذوں پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ملا۔ جس کی وجہ سے خود پاکستان دہشت گردی کی لیپٹ میں آ گیا۔ یورپ اور امریکہ نے مل کر افغانستان اور عراق وار میں جتنے وسائل کے ساتھ حصہ لیا تھا پاکستان کے پاس اس کے مقابلے میں 5فیصد وسائل بھی نہ تھے اور ہمیں دوسروں کی جنگ اپنی تلوار سے لڑنا پڑی یعنی ہم کہنے کو تو امریکہ اور یورپ کے اتحادی ہیں مگر ان کی جنگ ہمیں اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر لڑنا پڑی جو کہ ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے کسی طرح بھی Affordable نہیں تھی۔ ایک ایسا ملک جس کی نہریں اور دریا خشک ہوں جس کے پاس آبادی کے سوا ہر چیز کا فقدان اور بحران ہو اس کو ایسے ماحول میں جھونک دینا اس کی کمر توڑ دینے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی حالت اس وقت ایسے خالی پلاٹ کی مانند ہے جس پر محلے کے بچے جو دل کرے کھیل کھیلنا شروع کر دیتے ہیں ایک طرف ہمارا ہمسایہ ایران اپنے مذہبی و سیاسی مقاصد کے لیے سرگرم ہے تو دوسری طرف سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور امریکہ بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ہماری حالت اس وقت اس شعر کے مترادف ہے۔ دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستہ بنا لیا اور ان حالات میں جہاں اس ملک میں جناب مجید نظامی جیسے جلیل القدر صحافی آسمانِ صحافت پر چمکتے ستارے کی طرح موجود ہیں تو وہیں پر زرد صحافت کے علمبردار بھی کچھ کم نہیں ہیں اور یہ ان نادان دوستوں کی طرح ہیں جو جس ٹہنی پر بیٹھے ہیں اسے ہی کاٹنے کے درپے ہیں۔ اور ’’مان نہ مان میں تیرا مہمان ‘‘خود اپنے آپ کو ریاست کی اساس کا چوتھا ستون منوانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔ میں صحافت کے شعبہ میں طفل مکتب کی حیثیت رکھتا ہوں مگر میری یہ اٹل رائے ہے کہ صحافت کا مقصد خبربتانا ہوتا ہے نہ کہ خبر بنانا۔اس لیے آج ہماراالیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جو اپنے عروج کے دور سے گزر رہا ہے اپنی ذمہ داریوں سے کماحقہ انصاف کرتا نظر نہیں آ رہا۔ چند روز پہلے صدر مملکت آصف علی زرداری پر جو پچھلے پورے ایک سال سے توپوں کے نشانے پر ہیں کو ایک بار پھر نشانے پہ لیا گیا اور پرویز مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے الزامات لگا دیئے گئے۔ حقیقت میں یہ ان ہی نادان دوستوں کی کاوش تھی جو صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ساتھ غیرملکی دوروں میں بھی انجوائے کرتے ہیں اور ایوان صدر میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی بیٹھک میں بیٹھے ہوئے بھی نظر آتے ہیں مگر پھر بھی صدرِ مملکت کو سنبھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتے۔جب کبھی مستقبل میں تاریخ کے اوراق حالات کی آندھیوں سے اڑ کر ہمارے یا ہماری آنے والی نسلوں کے پاس پہنچیں گے تو یقینا یہ بات بھی پہلے معاہدوں کی طرح واضح ہو جائے گی کہ مشرف کو محفوظ راستہ دینے کے کھیل میں کون کون سی اندرونی اور بیرونی قوتیں کارفرما تھیں۔ ویسے بھی سیانے کہتے ہیں کہ جب آپ کسی خونخوار بھیڑیے کو مارنا چاہتے ہوں اور وہ بند گلی میں چلا جائے تو پھر وہ پلٹ کر مجبوری کی حالت میں اپنے پیچھے بھاگنے والوں پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ مارنے سے بھگانا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ ذرا غور کریں تو آپ کو نظر آئے گا کہ ٹرالی،ٹرک اور رکشا ہماری ثقافت کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں اور ان پر لکھے شعر اور فقرات کبھی کبھی توبڑے قابل توجہ ہوتے ہیں جیسا کہ ’’ہارن دو راستہ لو،‘‘’’ہارن دے کر پاس کریں،‘‘ ’’نصیب اپنا پنا‘‘،’’تو لنگ جا ساڈی خیر اے‘‘ اس طرح مشرف نے مذاکرات کے نتیجے میں کچھ دشمنوں اور دوستوں کی مشاورت سے گزرنے کا راستہ لے لیا ہے تو اب اس کو بحث کا حصہ بنانے کی بجائے۔ یا یوں کہیے سانپ کے گزر جانے کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ۔یہ ارضِ پاک اس وقت جن شدید بحرانوں اور خطرات کا شکار ہے اس میں ہمیں اس کی سالمیت وفاق اور اکائی کے لیے سوچنا ہوگا۔ ہمارے پاس اس وقت عوام کے مسائل کی صورت میں ایشوز کی سیاست کرنے کے لیے بہت کچھ ہے اور ہمیں اپنی ترکش سے تیروں کو نشانے پر لگانے کی ضرورت ہے۔ ہوا میں تیر چلا چلا کر اپنی طاقت کو ضائع کرنا کسی بھی طرح اپنے اور ملک کے مفاد میں نہیں۔ اس ضمن میں حکومت کے قابل قدر اقدامات کو داد تحسین نہ دیں، مگر نان ایشوز کی پالیٹکس کرکے یا ہوائی تحفظات کا اظہار کرکے دراصل ہم اپنا اور دوسروں کا وقت برباد کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان حالات میں اس سیاسی سرکس کے اندر جو فنکار اپنی خواہشوں کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں اور میاں نوازشریف کے اوپر تمام کیسز ختم ہو جانے کے بعد یقینا کچھ لوگ تلملا کر رہ گئے ہیں انہیں اب کسی پل چین اور سکون نہیں ہے۔اور وہ اس نازک وقت میں بھی جب کہ وطن عزیز کو عام ڈگر سے ہٹ کر زیادہ پیار اور وفا کی ضرورت ہے کچھ طالع آزما مسلسل اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کچھ بھی نتائج ہوں زمام اقتدار کی لگام ان کے ہاتھوں تک پہنچ جائے۔ہمیں ایسے عاقبت نااندیش دوستوں کو اپنی صفوں میں تلاش کرنا ہوگا وگرنہ وہ کسی بھی وقت اپنے مذموم ارادہ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus