×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سراج الحق کے معتدل فلسفہ پر منور حسن کا ڈرون حملہ!
Dated: 25-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الٰہی کا حصول۔یہ تھے وہ اس گولڈن سلوگن کے الفاظ جنہوں نے میرے سمیت لاکھوں نوجوانوں کو جمعیت کی طرف راغب کیا۔ میں جمعیت کا علاقائی ناظم بنا اور اسی پلیٹ فارم سے سٹوڈنٹس یونین کا صدر منتخب ہوا اور یوں طالب علمی سیاست سے عملی سیاست میں داخل ہوا۔ دراصل جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی(مرحوم) نے قیامِ پاکستان سے قبل ہی جماعت اسلامی کی بنیاد رکھ کر ایک اسلامی تحریک شروع کر دی تھی لیکن قیامِ پاکستان کے بعد جب جماعت اسلامی نے قومی دھارے میں آنے کے لیے انتخابی سیاست شروع کرنا چاہی تو اس کے بانی کارکنان اور لیڈر شپ ڈاکٹر اسرار احمد اورامین اصلاحی نے جماعت سے اپنی راہیں جدا کرلیں اور خالصتاًتحریکی سیاست کی بنیاد رکھی۔ ذوالفقار علی بھٹو اور ایوب خان کے دورِ حکومت میں جماعت اسلامی مرکزی اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرتی رہی۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وفات کے بعد بھٹو بھی زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے اور شہید کر دیئے گئے۔ اس دوران جماعت کی امامت مولانا طفیل محمد کے ہاتھ آ گئی، جنہوں نے ڈکٹیٹر ضیاء الحق کو اقتدار میں لانے کے لیے نہ صرف عملی جدوجہد کی بلکہ اس کی پہلی کابینہ میں جماعت اسلامی کے متعدد وزراء اقتدار سے فیض یاب ہوئے۔ ضیاء الحق اور میاں طفیل محمد کے درمیان قریبی رشتہ داری بھی تھی جس کی بنا پر ضیاء الحق کے اقتدار کے آخری دن تک جماعت اسلامی اس کی بی ٹیم کا رول ادا کرتے ہوئے سیاسی میدان میں اپنا بہت کچھ کھو چکی تھی، جس کا سب سے زیادہ فائدہ اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں بنی ہوئی اس مسلم لیگ جس کی بعدازاں قیادت میاں نوازشریف کو ملی کو ہوا۔ 70کی دہائی میں البدر اور الشمس کے نام سے مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی سے لڑنے والی یہ دونوں تنظیمیں جماعت اسلامی کے پرچم تلے ہی متحد تھیں۔ میاں طفیل محمد کے دور جماعت اسلامی مسلم لیگ ن کی ’’طفیلی‘‘ پارٹی بن کر رہ گئی۔ اس کے لاکھوں ووٹر ز آہستہ آہستہ مسلم لیگ ن کے ہمنوا بنتے گئے اور اس سے پہلے کہ قاضی حسین احمد اس کی امارت سنبھالتے، اس کے سارے دانے گِر چکے تھے اور یہ ’’مکئی کی چھلی کے خالی تکے‘‘ کی مانند ہو چکی تھی۔ قاضی حسین احمد کی معتدل قیادت نے اس خالی غبارے میں ہوا بھرنے کی بھرپور کوشش کی اور شبابِ ملی قائم کرکے جماعت اسلامی کو پھر سے فنکشنل کیا مگر کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے اور پھر جماعت اسلامی کے ہاتھوں وہ غلطی سرزد ہوئی کہ جس کے نتائج وہ آج تک بھگت رہی ہے۔ 2008ء میں قاضی حسین کی سبکدوشی کے بعد سید منور حسن کو جماعت اسلامی کانیا امیر چُن لیا گیا جنہوں نے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق جماعت کو لے کر چلنے کی بجائے وہی فرسودہ اندازِ سیاست کو اپنایا اور ان کے پانچ سالہ دور میں نان ایشوز کی سیاست کی داغ بیل ڈالی گئی اور پانچ سال کے عرصہ میں سید منور حسن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے مسئلے کو اپنا محورِ سیاست بنائے رکھا مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013ء کے الیکشن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے جماعت اسلامی کے امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا حالانکہ اگر سید منور حسن چاہتے تو مرکز میں زرداری اور صوبوں میں نوازشریف کو ملکی مسائل حل نہ کرنے پر ٹف اپوزیشن ٹائم دے کر ملکی سیاست میں جگہ بنا سکتے تھے پھر 2013ء کے الیکشن کے بعد جماعت اسلامی جس میں کوئی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی تھی، یک مشت اپنا سارا وزن طالبان کے پلڑے میں ڈال دیا حالانکہ اس سے پہلے 2001ء سے لے کر 2013ء تک جماعت اسلامی کی طالبان کے لیے حمایت پوشیدہ تو نہیں مگر کھل کر بھی نہیں تھی۔ فیصل آباد سے القائدہ کے ٹاپ دہشت گرد خالد شیخ کی جماعت اسلامی کے عہدیدار کے گھر سے گرفتاری اور بعدازاں ڈینیئل پرل غیر ملکی صحافی کے قاتل اراکین کا کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے گھر سے گرفتا رہونا اس بات کے شواہد تھے کہ جماعت اسلامی کے القائدہ اور طالبان کے ساتھ کہیں نہ کہیںروابط موجود ہیں۔ پھر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موت کے واقع پر جماعت اسلامی کے نظریات لوگوں پر کھل کر سامنے آئے ۔ یہی وجہ تھی کہ سید منور حسن نے اسامہ بن لادن اور حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دیا، جس سے پاکستان کے اندر ایک ایسی بحث چھڑ گئی جس سے ملکی سلامتی انتہائی دائو پر لگ گئی اور افواج پاکستان کے نظریہ اور فلسفۂ ’’شہادت‘‘ کو شدید دھچکا لگا۔ نوازشریف حکومت پر اندرونی خلفشار اور دہشت گردی کی وجہ سے شدید دبائو تھا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کریں اور یہ دبائو جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی قیادت کی طرف سے تھا۔ بعدازاں طالبان نے جو مذاکراتی کمیٹی بنائی اس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی ممبربھی تھے۔ فلسفہ شہادت کو زِک پہنچانے پر عوام میں شدید اشتعال پایا جا رہا تھا جس پر جماعت اسلامی کی قیادت نے سید منور حسن کو قیادت سے سبکدوش کر دیا اور مارچ 2014ء میں قدرے معتدل رکن کے پی کے اسمبلی سراج الحق کو امیر منتخب کر لیا گیا۔ اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان اور حکومت کے درمیان سیاسی درجہ حرارت بلندیوں کو چھو رہا تھا اور حکومت مخالف تحریک اور دھرنے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا اور غیر متوقع طور پر مولانا سراج الحق نے پیپلزپارٹی کے رحمان ملک کے ساتھ مل کر مصالحتی کوششیں شروع کر دیں جس کا فائدہ جماعت اسلامی کو یہ ہوا کہ اسے اپنا معتدل امیج عوام کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملا اور اس درمیان سابق صدر آصف زرداری نے بذات خود ان مصالحتی کوششوں کی نگرانی کی اور متعدد بار ’’منصورہ‘‘ کے مہمان بنے(یاد رہے یہ وہی جماعت اسلامی تھی جس کی کاوشوں کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی) قارئین! گذشتہ جمعہ کو لاہو رمیں جماعت اسلامی نے تیز تر سیاسی ماحول میں تین روزہ عالمی اجتماع کا انعقاد کیا۔ سب کچھ خوش اسلوبی سے جاری تھا کہ جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا منور حسن نے جماعت اسلامی کی معتدل قیادت کی کاوشوں پر یہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ ’’قتال فی سبیل اللہ‘‘ اور پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کے نتائج کو نقصان پہنچانے کی اپنی سی سعی کی گئی۔ یہ سید منور حسن کا جماعت اسلامی کے معتدل قیادت پر پہلا ’’ڈرون‘‘ حملہ تھا۔ کرائن اور حالات یہ ثابت کرتے ہیں کہ سید منور حسن جماعت اسلامی کے لیے گوربا چوف ثانی ثابت ہوں گے۔سرتاج عزیز اور سید منور حسن کی طرف سے امریکہ میں جاری جنرل راحیل شریف کے دورہ کو سبوتاژ کرنا شاید مقصود تھا۔ اور پھر آخر بلی تھیلے سے باہر اس وقت آ گئی جب مولانا سراج الحق اور ان کی ٹیم حکمرانوں کے خلاف تین دن تقریریں کرتے رہے اور لوٹا ہوا پاکستانی سرمایہ واپس لانے کے بلند و بانگ دعوے کیے۔ کینیا، بھارت، سعودی عرب اور لندن کے حوالہ جات بھی دیئے مگر چشم فلک نے پھر ایک عجیب منظر دیکھا جب مولانا سراج الحق اور جماعت اسلامی کی قیادت اجتماعی دعا کے بعد اپنے غیر ملکی مندوبین کو ساتھ لے کر خصوصی طور پر جماعت اسلامی کے لیے تیار عصرانے میں پہنچ گئے جو وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے دیا گیا تھا۔ مولانا سراج الحق نے وزیراعلیٰ کا بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا مگر ناقدین کو سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ یہ تین روزہ پروگرام بھی دراصل نوراکشتی تھا۔ مولانا سراج الحق اور ان کی ٹیم چاہتے تو اس اجتماع کے اثرات سمیٹ سکتے تھے مگر انہوں نے ثمرات سمیٹنے پر اکتفا کیا۔ 25نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus