×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت؟
Dated: 27-Sep-2009
جناب ذوالفقار علی بھٹوشہید کے ساتھ سٹوڈنٹس اور لیبر پالیٹکس کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ترقی پسند خیالات کے حامل افراد کی ٹیم بھی موجود تھی جس نے مضبوط اور طاقتور آمر ایوب خان کو اقتدار سے الگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بلکہ 70ء کے الیکشن میں ایک نوزائیدہ جماعت کو حقیقی عوامی نعروں سے مزین کرکے مغربی پاکستان میں لینڈ سلائیڈنگ وکٹری حاصل کرلی۔ ان انتخابات میں مخدوموں، نوابوں اور جاگیرداروں کے سیاسی بت ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ بھٹو شہید کی اس ٹیم میں جے اے رحیم، معراج محمد خان، معراج خالد، ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹر غلام حسین، کوثر نیازی، شیخ رفیق اور حنیف رامے جیسے لوگوں کا تعلق متوسط طبقے سے تھا جب کہ مخدوم طالب المولیٰ، غلام مصطفیٰ کھر، حفیظ پیرزادہ، غلام مصطفیٰ جتوئی اور چانڈیو تالپورو دیگرجاگیردارجو 70ء کے الیکشن میں صرف جاگیرداروں کی نسل در نسل چلی آ رہی انیس سیٹیں لینے میں کامیاب ہو گئے۔اس طرح چند جاگیردار بھی اس جماعت میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ طالب علموں کی سیاست کرنے والوں میں ارشد بٹ، جہانگیربدر، آغا نوید،راجہ انور اور چوہدری غلام عباس جیسے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے بعدازاں عملی سیاست میں شہید بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ادوار میں بڑی شہرت اور نام کمایا۔بھٹو صاحب کے ان ساتھیوں میں سے کچھ لوگ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے اور وقت کی رفتار سے زیادہ تیز چلنے کے شوق میں اس قافلے سے الگ ہوتے چلے گئے۔ جب قائدعوام 77ء کے الیکشن میں ایک بار پھر مخدوموں اور جاگیرداروں کے نرغے میں آ چکے تھے تو یہ لوگ ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ 5جولائی 77ء سے قبل اور کچھ مابعد آمریت کی گود میں پناہ گزین ہو گئے۔ پیپلز پارٹی پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قائدعوام موت کی کوٹھڑی میں تھے تو پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں صرف تین لوگ باقی رہ گئے تھے۔ باقیوں نے مصائب کی دھوپ سے بچنے کے لیے آمریت کے سائبان تلے اپنا ٹھکانا بنا لیا تھا۔ 10 اپریل 1986ء کو محترمہ بے نظیر جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو انسانی آنکھوں نے ناقابل یقین مثالی استقبال کا نظارہ کیا۔ 88ء کے الیکشن میں بہت سے انکلز محترمہ کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ جو ساتھ تھے وہ سنیارٹی کے زعم میں پرخلوص نہ تھے۔ اس موقع پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے نوجوان قیادت پر مشتمل سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی تشکیل دی اور ٹکٹیں بانٹتے وقت اس میں قائدعوام کے دور کے گنتی کے چند ساتھیوں کو شامل کیا۔ 1988ء سے 12اکتوبر 99ء تک مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کو دو دو مرتبہ اقتدار ملا لیکن دونوں کو ایک بار بھی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی۔ مشرف کا دور جمہوریت پسندوں کے لیے گھٹن اور حبس کی مانند تھا۔ اس دور میں سیاستدانوں کو احساس ہوا کہ ملک و قوم اور جمہوریت کی خاطر اختلافات بھلا کر ایک ہونا ہوگا یا وطن عظیم کو طالع آزمائوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہوگا۔ 2000ء سے2006ء تک مجھے شہید محترمہ کے سنگ امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پنٹاگان اوراقوامِ متحدہ کے دفاتر کے متعدد دوروں کے مواقع ملے تو میں نے محسوس کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو اب یہ شدید ادراک ہوا ہے کہ جب تک جمہوریت پسند قوتیں پاکستان میں متحد اور مضبوط نہ ہوں گی عالمی برادری بھی پاکستانی سیاستدانوں کو احترام دینے میں بخل سے کام لیں گی۔ تبھی محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی پالیسی کو ایک نیا رنگ دیتے ہوئے میاں نوازشریف سے روابط کا آغاز کیا اور مجھے بھی یہ شرف حاصل ہوا کہ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی معیت میںمیڈل ایسٹ سعودیہ اور یورپ،برطانیہ جانا پڑا۔ جہاں لندن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ نوابزادہ نصراللہ مرحوم کی طویل ملاقاتیں ہوئیں اور یہیں وہ دن تھے جب میثاقِ جمہوریت کی عملاً ابتداء ہوئی۔ سیاست کے دریا کے پاٹوں کو ملانے کا فائنل رائونڈ دراصل یہی میثاقِ جمہوریت کی ابتدا تھی اور انتہا بھی۔ جس میں میرے جیسے کئی خاموش کرداروںاور لیڈرزنے اپنا اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔ ساتھ ساتھ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملٹری قیادت سے رابطے کیے۔ جس کا اصل مقصد آمر اور آمریت سے چھٹکارا پانا تھا۔ اس دوران میاں نوازشریف اور میاں شہباز کو ایک ایک بار پاکستان سے ڈیپورٹ کیا جا چکا تھا۔ شہید محترمہ نے سوچا کہ آخر کسی کو تو بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنا ہے۔ تو انہوں نے بھرپور مخالفت کے باوجود پاکستان آنے کا فیصلہ کر لیا۔ 18اکتوبر2007ء کو اب کراچی میں 40لاکھ انسان ان کے فقیدالمثال استقبال کے لیے موجود تھے۔ پھر خفیہ ہاتھوں نے محترمہ کے قافلے کو خون میں نہلا دیا تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو یہ احساس ہوا کہ ’’آمر‘‘ کبھی اپنے وعدوں کی پاسبانی نہیں کرتے اور پھر جن کے ساتھ عوام ہوں وہ آمروں کی پرواہ نہیں کرتے۔محترمہ نے جمہوری مستقبل کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا۔ جب ان کو 27دسمبر 2007ء کو عوامی اجتماع کے دوران شہید کر دیا گیا تو جناب آصف علی زرداری پاکستان کھپے کے نعرے کے ساتھ میدان میں اترے۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی اور سیاسی ٹیم کے پاس نیا کیپٹن تھا۔ جو اس ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی بقا اور انتخابی نتائج کے لیے جواب دہ تھا۔ انہوں نے بالکل محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جس ٹیم کا انتخاب کیا وہ ہراول دستے کے طور پر ان کے ساتھ موجود ہے۔یہ بالکل اسی طرح تھا جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ کو پارٹی کی قیادت ملی اور انہوں نے اپنی مرضی کی ٹیم کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آج آصف علی زرداری صاحب کے ساتھ جو ساتھی موجود ہیں شاید وہ دو عشرہ پہلے والے وہ لوگ نہیں جو پیپلزپارٹی کی اساس تھے مگر آگے چل کر شاید یہی لوگ پیپلز پارٹی کی پہچان بن جائیں؟اوراس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے والے خود ماضی کا قصہ بن جائیں۔میرے اپنے خیال کے مطابق آنے والے کیپٹن کو اپنی ٹیم خود بنانے کا اختیار ہونا چاہیے۔مگر پرانی ٹیم میں سے بہتر کھلاڑیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا چاہیے جو ذہنی طور پر ’’ایکسپائر‘‘ نہ ہوئے ہوں۔ اس کے باوجود کہ میثاقِ جمہوریت پر دستخطوں کے کچھ عرصہ بعد جب میثاقِ جمہوریت کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی میاں صاحب نے جماعتِ اسلامی،تحریک انصاف اور مجلس عمل کے مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر الگ ایجنڈے پر کام شروع کر دیا تھا۔ اور میثاق جمہوریت اسی دن بے حقیقت اور بے وزن ہو کر رہ گیا تھا۔میاں نوازشریف نے دو مرتبہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ زرداری صاحب ان کو مجبور کرکے انتخابی میدان میں لے آئے۔ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو جزوی کامیابی ملی۔ مسلم لیگ ن کو اس کی توقع سے بڑھ کر نشستیں ملیں تو میثاقِ جمہوریت ایک بار پھر زندہ ہو گیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مرکز اور پنجاب میں مخلوط حکومتیں بنیں لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر قسم کی سیاست سے کبھی مثبت نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ مسلم لیگ ن جلد مرکزی حکومت سے الگ ہو گئی مگر سٹیڈنگ و پارلیمانی کمیٹیوں میں طے شدہ فارمولا کے مطابق ’’چالیس ساٹھ‘‘ کی نسبت سے اپنا حق وصول کر رہی ہے۔ اور اسی طرح چوہدری نثار احمدخاں میثاقِ جمہوریت کی شق کے مطابق بحیثیت قائدحزب اختلاف اس وقت بھی قومی اسمبلی کی احتساب کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔مگر پنجاب میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے کولیشن پارٹنر رہنے کا فیصلہ کیا تو وہاں پر بھی اس کے چھ وزراء کو جھنڈے اور ڈنڈے کے سوا کچھ نہ ملا۔ جبکہ وزراء صبح آفس جاتے ہیں تو ان کو پتہ چلتا ہے کہ کل شام کا ان کا آفس تبدیل کر دیا گیا ہوا ہے۔اور ’’چالیس ساٹھ‘‘ فارمولے پر عمل کرنے کی بجائے ٹاسک فورسز بنا کر حکومت چلائی جا رہی ہے اس طرح مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں کے کارکنان ان جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے ثمرات سے محروم ہیں۔اور پتا نہیں بلی اور چوہے کا یہ کھیل کب تک جاری رہتا ہے۔ عوام اس کھیل سے تنگ آ چکے ہیں۔ بس ایک تھوڑا سا حجاب باقی ہے اور اس نقاب کے اٹھنے سے پہلے یا تو معروضی حالات کو سامنے رکھ کر ایک نیا میثاقِ جمہوریت تشکیل دیا جائے جو ہماری آج کی مجبوریوں اور تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ یا پھر کھلی جنگ کا اعلان کر دیا جائے تاکہ ہم مزید منافقت سے بچ سکیں۔ دراصل ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں سے ایک تو صرف ون ڈے میچ کھیلنا چاہتی ہے اور مڈ ٹرم میچ کے لیے بے چین ہے جب کہ دوسری جماعت ٹیسٹ میچ کھیلنا چاہتی ہے۔میں نے بہت پہلے ایک کالم میں لکھا تھا کہ دو سیاسی حریف دوستی کرنے لگیں تو ان کو ایک ایک کلو نمک کھا لینا چاہیے تاکہ اتنے کڑوے ہو جائیں کہ ایک دوسرے کی بات کڑوی نہ لگے۔شاید دونوں پارٹیوں نے نمک تو کھا لیا مگر اس میں آئیوڈین ملانا بھول گئے ہوں گے ؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus