×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خدا کی بستی اور خدا کا خوف!
Dated: 17-Mar-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com کئی برس قبل شوکت صدیقی نے شہرئہ آفاق ناول ’’خدا کی بستی‘‘ تحریر کیا تھا،جس میں انہوں نے ایک مخصوص بستی کے مسائل کا احاطہ کیا تھا۔ آج اگر شوکت صدیقی زندہ ہوتے تو میں ان سے پوچھتا کہ پاکستان کا ہر شہر، قصبہ، گائوں،خدا کی بستی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔اب ایک خاص مائنڈ سیٹ اپنے ہی ہم وطنوں کو جو دیگر مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں ان کی عبادت گاہوں کو دھماکوں سے اڑایا، جلایااور ان کو کشت و خون میں نہلایا جا رہا ہے۔جن لوگوں نے پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے اپنا خون دیااور جن کے آبائواجداد نے علامہ اقبال کے خواب کی حسین تعبیر ممکن بنائی ،آج انہیں اسی سرزمین پر جینے کا حق بھی چھینا جا رہا ہے۔قیام پاکستان سے پہلے ہونے والے ملک گیر الیکشن میں آل انڈیا مسلم لیگ کو جن علاقوں سے خاص طور پر کامیابی حاصل ہوئی ،یہ وہ علاقے تھے جہاں پر کرسچین کمیونٹی کثیر تعداد میں آباد تھی اگر آپ پرانے نتائج اٹھا کر دیکھیں تو راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور ،کراچی اور لائل پور جیسے بڑے شہروں میں آباد کرسچین کمیونٹی نے آل انڈیا مسلم لیگ کو ووٹ دے کر تکمیل پاکستان کا خواب شرمندئہ تعبیر کیا۔ خود ہمارے پیارے پیغمبرؐ کو جب مکہ میں ہراساں کیا گیا تو آپ ؐ نے قریبی عیسائی ملک حبشہ کے بادشاہ کے پاس مدد اور پناہ کے لیے وفود بھیجے۔ یقینا ہمارے مسلمان دوست ہجرت حبشہ کے واقعات سے باخبر ہوں گے۔ خود قائداعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں متعدد مواقع پر پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کو ریاست کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا اور صاف اور پُرشگاف الفاظ میں کہا کہ ریاست پاکستان کے ہر شہری کو اپنی مذہبی حیثیت کو برقرار رکھنے کی مکمل آزادی ہو گی۔ خود راقم نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے لاہور کے تقریباً تمام چرچز کی کرسمس اور دیگر تقریبات میں شرکت کی مگر پچھلے کچھ سالوں سے خاص طور پر کرسچین اور ہندوئوں کو ہمارا ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہراساں کر رہا ہے اور بحیثیت پاکستانی دنیا بھر میں ہمارے شفاف امیج پر داغ لگ رہے ہیں۔ اس وقت ڈیڑھ کروڑ کے قریب پاکستانی بیرونِ ملک خاص طور پر یورپ اور نارتھ امریکہ کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور انہیں روزمرہ وہاں کی لوکل آبادی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کام کرنا اور سماجی معاملات میں شریک ہونا ہوتا ہے مگر جب ہمارے ان تارکینِ وطن کو وطن سے یہ خبریں ملیں گی کہ آج فلاں مندر اور چرچ کو جلا دیا گیا، آج درجنوں مذہبی اقلیت کے افراد قتل کر دیئے گئے تو یقین جانیئے ہم ڈیڑھ کروڑ پاکستانی اپنے میزبانوں سے آنکھیں چراتے اور شرمندہ شرمندہ سے نظر آتے ہیں۔ خدا را ایمان، اتحاد اور یقین محکم سے پانی صفیں اور سمتیں درست کیجئے کیونکہ دشمن کی طرف سے آنے والی گولی اور بم یہ نہیں دیکھے گا کہ اس کی زد میں کوئی ہندو، عیسائی یا مسلمان آ رہا ہے۔میں مسیح بھائیوں اور ان کی مقامی قیادت سے ایک سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ دھماکوں کے بعد ہونے والی توڑ پھوڑ اور لاہور شہر کی املاک کو کروڑوں روپے کا جو نقصان پہنچایا گیا اس کا فائدہ مسیحی کمیونٹی کے لوگوں کو کیا ہوا؟کیا آپ نے یہ محسوس نہیں کیا کہ دہشت گرد طالبان یہی تو چاہتے تھے ،آپ نے ان کا ادھورا کام پورا کر دیا گیا۔اس سے پہلے بھی مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔کیا سیکڑوں مسجدیں جو شہید کی گئی ہیں پر احتجاج کے لیے اگر پاکستان کے بیس کروڑ عوام اسی طرح کرنے لگے تو پورا ملک تباہ ہو جائے گا اور یہی دہشت گرد چاہتے ہیں۔ قارئین! آج کا دوسرا موضوع گذشتہ روز ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر ہونے والا رینجرز کا چھاپہ ،اس سے برآمد ہونے والا بے شمار ممنوعہ اسلحہ اور گرفتار شدگاہ میں شامل بین الاقوامی کریمنل لوگوں کی موجودگی اور پھر اس کے بعد ایم کیو ایم کی ملکی قیادت کی طرف سے لگاتار پریس کانفرنسز اور الطاف بھائی کے وہ بیان جن پر یقین کرنا اس لیے مشکل لگتا ہے کیونکہ ایک بیان خود ہی پہلے دیئے گئے بیان کی نفی کرتا ہے۔ قارئین! جہاں تک مجھے یاد ہے ابھی چند ماہ پہلے ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت بڑے شدومد سے کراچی کو فوج کے حوالے کرنایا مارشل لاء لگانے کے مطالبے کر رہی تھی اور جب فوج اور اس کے ہی ذیلی ادارے رینجر نے کراچی میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے آپریشن شروع کیا تو ایم کیو ایم کی قیادت کے خیال میں فوج ان کے حکم پر کراچی سے دیگر مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کو تو خاتمہ کر دے مگر اس کی تفتیش کا رخ سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگز کی طرف نہ ہو اور مجھے اس بات کی بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک دن پہلے ملک کے حکمران اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نوازشریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سترہ سال کے طویل عرصہ کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی کو لندن فون کرکے سینیٹ کے لیے ووٹ مانگ رہے ہیں اور جس کے عوض ایم کیو ایم کو وفاقی حکومت میں شامل کرنے کی آفر بھی موجود تھی مگر صرف چوبیس گھنٹے بعد نائن زیرو کے آپریشن نے یہاں پر بہت سے سوالیہ نشانات چھوڑ دیئے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ایم کیو ایم سے مصالحت نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی حکومت ایم کیو ایم کو 1992ء والی سزا دینا چاہتی ہے؟ کچھ بھی ہو اس بلیم گیم اور پاور پلے میں پاک فوج کو سینڈوچ تو نہیں بنایاجا رہا؟ کچھ ہی ماہ پہلے مسلم لیگ کے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ سمیت دیگر کابینہ کے لوگوں نے اپنی توپوں کا رخ فوج کی جانب کیا ہوا تھا مگر آج وہی لوگ فوج کے صدقے واری جا رہے ہیں اور قارئین! بحیثیت پاکستانی ملک اور ملت کے لیے متفکر ہونا میرا حق ہے اور اپنی پاک فوج اور اس کے ذیلی اداروں کی عزت اور سلامتی کی تشویش لاحق ہوناایک فطری عمل ہے۔ خاص طور پر فاروق ستار، حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری اور الطاف بھائی کے نفرت آمیز بیانات ملکی سالمیت اور پاک فوج کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ خاص طور پر گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر اینکر پرسن سے محو گفتگو کے دوران الطاف بھائی نے پاک فوج کے افسران کو نیست و نابود کر دینے کی جو دھمکی دی تھی اس کے بعد ان سے ہر توقع رکھنا کہ وہ شک و شکوک سے پاک خیالات رکھتے ہیں۔ یقینا ماضی میں پولیس کے دو سو افسران کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ختم کیا گیا اور ایم کیو ایم کی قیادت کی طرف سے اکثر اینکر پرسنز کو مذاقاً دھمکی دینا بھی اس بات کی علامت ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت بوریوں میں بند کرنے والی سیاست کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ دراصل سانحہ بلدیہ ٹائون کے مجرموں کی گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت بوکھلا گئی ہے۔ دوسری طرف لندن سرکار نے بھی عمران فاروق کیس سمیت دیگر کیسز کو جلدی نمٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ایک اطلاع کے مطابق نوازشریف حکومت برطانیہ کو وہ دو طوطے دینے پر رضامند ہو گئی ہے جن میں الطاف بھائی کی جان ہے۔ الطاف بھائی اور ان کی ٹیم اگر واقعی پاکستان او رپاک فوج سے محبت کرتے ہیں تو یقینا وہ اپنے رویئے اور اندازِ فکر پر غور کریں گے۔ 17مارچ2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus