×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پِدی۔ اور کیا پِدی کا شوربہ
Dated: 05-May-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اماں، اماںمیں پائلٹ بن گیا ہوں اور اب جہاز اڑائوں گا۔ مگر بیٹا مجھے کیسے پتا چلے گا کہ میرا بیٹا جہاز اڑا رہاہے۔ بوڑھی ماں نے پوچھا۔ بیٹے نے جواب دیا اماں جب میں اپنے گھر کے اوپر سے گزروں گا تو بم گرائوں گا۔ کچھ یہی حال پاکستان میں بسنے والے اور اس کو لوٹ کر کامیابیاں سمیٹنے والے تاجروں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔ قارئین! صرف ستر سال پہلے جب ہم نے آزادی حاصل کی تو اس کی بھاری بھرکم قیمت ہمارے آبائواجداد کو چکاناپڑی۔ انسانی تاریخ کی یہ پہلی تقسیم اور ہجرت تھی جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ ملین سے زائد انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا اور ایک پاکستان بنانے کے لیے خطے کی جغرافیائی حیثیت بدل کر رہ گئی۔ خصوصاً اس کا سب سے زیادہ نقصان پنجاب کو ہوا جو ایک نیا دیس بناتے بناتے خود تقسیم ہو کر رہ گیا۔ بہار، آسام اور بنگال سے آئے لاکھوں مہاجرین پاکستان کے طول و ارض میں پناہ گزیں ہو گئے۔ البتہ کراچی میں رہائش اختیار کرنے والے اس وقت کے مہمان آج تک خود کو مہاجر ازم کے دائرے سے باہر نہ نکال سکے اور اس کو تقویت ضیاء الحق (مرحوم) کے دور میں اس وقت ملی جب مرحوم ضیاء الحق نے سیاسی جماعتوں کو دبانے کے لیے مہاجر ازم کا شوشہ کھڑا کر دیا جو آج ایک مکمل ناسور بن کر ملک و وطن کی رگوں میں پھیل چکا ہے۔ قارئین! آپ مجھے موجودہ پاکستان کے اس حصے کی نشاندہی کر دیں کہ جس کی مقامی زبان اردو ہو یا مجھے پاکستان میں وہ شہر یا صوبہ دکھا دیں جہاں کا موسمی یا روایتی لباس شیروانی ہو۔ یقینا آپ ایسا نہیں کر سکیں گے ہم نے وفاق کو متحدہ رکھنے کے لیے درآمد کی گئی زبان اور لباس کو بطور قومی قبول کر لیا حالانکہ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے بھارت میں آج بھی ہندی زبان قومی درجہ نہیں حاصل کر سکی۔ گذشتہ روز ایم کیو ایم کے قائد جو اس وقت برطانیہ میں پچھلے 23سال سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور متعدد دفعہ قومی پرچم جلانے سمیت بھارت سے اظہار یک جہتی، رشتے داری اور محبتیں جتلا چکے ہیں۔ پچھلے دنوں حلقہ این اے 246جیتنے کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت یکسر یہ فراموش کر بیٹھی کہ اسی شہر کراچی کے پچیس ایم این ایز ، آٹھ سینیٹرز اور ساتھ ممبران صوبائی اسمبلی اور صوبے کے گورنر کی مکمل سپورٹ انہیں حاصل تھی۔اتنی مضبوط لابی اور قیادت کی موجودگی میں ایم کیو ایم کا اپنی ہی چھوڑی ہوئی نشست دوبارہ جیت لینا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔جہاں متحدہ کو ساڑھے تین لاکھ میں سے 95ہزار ووٹ ملے۔گویااڑھائی لاکھ ووٹرز کا متحدہ کو اعتماد حاصل نہیں ہے۔ دراصل ایم کیو ایم کی حالت اس شرارتی بچے جیسی ہے جو ہر روز شیرآیا، شیر آیا کی صدائیں دیتا تھا اور جب ایک دن شیر آ ہی گیا تو اس کا کام تمام ہوا۔ پچھلے کم از کم دو سال سے ایم کیو ایم کی قیادت فوج کو براہ راست آپریشن کی دعوت دیتی چلی آ رہی ہے اور جب فوج کا ایک ذیلی ادارہ رینجر استحکامِ پاکستان کے لیے آپریشن میں جُت گیا تو ایم کیو ایم نے چیخنا، چلانا شروع کر دیا۔ دراصل الطاف بھائی اور ان کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ کراچی میں ان کے مدِ مقابل تمام پاور شیئرنگ گروپس کے خلاف تو آپریشن کیا جائے مگر ثمرات اکیلی ایم کیو ایم سمیٹے۔ دراصل صولت مرزا، معظم علی اور طاہر لمبا سمیت متعدد اعترافات اور لندن میں چلنے والے کیسز کے دبائو کی وجہ سے ایم کیو ایم کی قیادت بوکھلا گئی ہے اور ماضی کی طرح ایک بار پھر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘اور بھارتی حکومت سے مدد مانگنا شروع کر دی مگر جب پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی اور عسکری قوت نے مونچھوں کو بَل دیا تو الطاف بھائی کا سارا نشہ ہرن ہو گیا اور موصوف کویاد آیا کہ وہ شیر کی کھچار میں سر پھنسا بیٹھے ہیں۔ پھر الطاف بھائی کی طرف حسب معمول معافیوں، تلافیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور گذشتہ روز رابطہ کمیٹی لندن اور رابطہ کمیٹی کراچی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں بھارتی حکومت اور’’را‘‘ کے خلاف بظاہر دل کھول کر مذمت کی گئی مگر اس سے پہلے پاکستان کی نو بڑی جماعتوں اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظو رکی جس میں ایم کیو ایم پر پابندی لگانے اور الطاف بھائی کو غدار قراردینے کی سفارش کی ہے۔ یاد رہے یہ وہی بلوچستان ہے جس میں چند شرپسندوں کو بھارت سپورٹ دے کر اپنے ذہن میں کئی منصوبے بنائے بیٹھا ہے مگر مودی سرکار یہ بھول گئی ہے کہ یہ وہی بلوچستان ہے کہ جس نے قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کے حق میں پہلی قرارداد منظور کی تھی۔ قارئین! محبان وطن اور ملک کی ساری سیاسی جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مذمتی قراردادیں لانے کا تہیہ کر چکی ہیں مگر ایک بار پھر ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایسے کسی اقدام کو سپورٹ نہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس کا اظہار قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ اور وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کر چکے ہیں۔جس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ پاکستان کے سیاسی ناخدا جِن کو ختم کرنے کی بجائے بوتل میں بند رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں تاکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان کے اپنے کنٹرول میں رہے۔ میرے پاس بیٹھا ہوا جھورا جہاز مجھ سے مسلسل یہ تکرار کر رہا ہے کہ ہم بحیثیت ایک زندہ اور آزاد قوم برطانیہ سے یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتے کہ لندن میں یونین جیک کے نیچے بیٹھا ہوا ایک شخص جب بھی چاہتا ہے رات کی تاریکی میں مدہوش ہو کر پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے خلاف بولنا اور ماحول بنانا شروع کر دیتا ہے۔ کیا ملکہ برطانیہ یہ پسند کریں گی کہ ملکہ کا کوئی بھگوڑا کراچی میں بیٹھ کر شمالی آئرلینڈ یا سکاٹ لینڈ کی مملکتوں کو یونین جیک سے جدا کرنے کے منصوبے تیار کرے۔ برطانیہ کے سرد ماحول سے ہمیں یہ گرم ہوائیں آنا بند نہ ہوئیں تو دونوں مملکتوں کے درمیان دوستی اور رواداری کے رشتے کو ٹھیس پہنچے گی۔ قارئین! میں یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوں کہ پاکستان کا ایک انتہائی مخیر شخص الطاف بھائی کے نام پر کراچی اور حیدرآباد میں دو یونیورسٹیاں بنا رہا ہے مجھے شک ہے کہ ان جامعات میں حصولِ علم کے لیے آنے والے طالب علم الطاف بھائی کے رویئے، لہجے اور تکلم سے مختلف ہوں گے؟ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب آپ پریشان نہ ہوں کہ کیا پِدی اور کیا پِدی کا شوربہ۔ 5مئی2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus