×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جابریٹ! پانچ پیارے
Dated: 12-May-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قصبہ میترانوالی محل وقوع کے اعتبار سے گوجرانوالہ، نارووال، گجرات اور سیالکوٹ کے سنگم میں واقع ہے اور اسی وجہ سے تہذیب و تمدن کی امیرانہ روایات سے مالا مال ہے، اس قصبہ کے عوام خوش کلامی اور حس مزاح میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ میراثی اور بھانڈ بھی یہاں آ کر لب کشائی سے احتراز کرتے ہیں۔ قارئین! آج میں جن پانچ کرداروں کا ذکر کرنے چلا ہوں ان میں سے تین کا تعلق اسی قصبہ میترانوالی سے ہے۔ میرا پہلا کردار بشیرا ’’جابریٹ‘‘ ہے جو بازار میں ایک دوکان کے تھڑے پر بیٹھا رہتا، لوگ اسے پاگل سمجھتے ہوئے آتے جاتے چھیڑتے، آوازے کستے اور وہ جواب میں کہتا کہ ’تمہاری ماں جابریٹ، تمہاری بہن جابریٹ‘ اور گالیاں دیتا جس پر چھیڑنے والے نوجوان خاصے محظوظ ہوتے مگر ہم سب کو آج بھی دنیا بھر کی تمام ڈکشنریاں کھنگالنے کے بعد بھی جابریٹ کے معنی معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔ آج کا دوسرا کردار اسی مین بازار میں پورا دن مٹرگشت کرنے والاایک نیم مخبوط الحواس شخص صادق تھا جس کو لوگ صادق ’’سوئی‘‘ کہہ کر پکارتے اور وہ جواباً گالیاں نکالتا تھا۔ ایک دن اس نے ہمارے گھروں میں شکایات بھیجیں جس پر بزرگوں نے ہمیں منع کر دیا کہ اس کو آئندہ نہیں چھیڑنا مگر ہوا یوں کہ چند روز بعد جیسے ہی وہ بازار میں دور سے آتا دکھائی دیا تو ہم دوستوں کے جھرمٹ میں سے ایک دوست عمران حسین جھکڑ نے واقع سنانا شروع کر دیا کہ کل رات فلاں محلہ میں نامعلوم چور ایک گھر سے سب کچھ چُرا کر لے گئے ہیں اور گھر کا صفایا کر گئے ہیں۔ اتنی دیر میں صادق قریب پہنچ چکا تھا تو عمران نے کہا کہ چور ایک سوئی تک نہیں چھوڑ کر گئے جس پر ایک زبردست قہقہہ بلند ہوا اور جب صادق سوئی کو سمجھ آئی تو اس نے گالیوں کی ایک نہ رکنے والی گردان شروع کر دی۔ آج کا تیسرا کردار ہمارے محلے کا ایک بوڑھا شخص جسے سب لوگ ’’بابا کیڑی‘‘کہتے تھے جس پر وہ ہمیشہ نان سٹاپ گالیاں دیتا اور ایسا ہر روز کئی بار ہوتا۔ ایک دن ہمارے ہائی سکول کا ہاکی میچ قریبی قصبہ بھوپال والا کے ہائی سکول کی ہاکی ٹیم کے ساتھ تھا پورا دن ہم میچ کے چکر میں قصبہ سے باہر رہے۔ شام کو جب بھوپال والا سے واپس میترانوالی کے ویگن اڈا پر آئے تو وہاں پر موجود ایک دوست نے بتایا کہ آج تو ’’بابا کیڑی‘‘بہت بے چین تھا اور تِلملا رہا تھا۔ ہم نے پوچھا وہ کیوں؟ جس پر ہمارے دوست نے بتایا کہ میں ادھر سے گزر ا تو ’’بابا کیڑی‘‘ اونچی آواز میں بول رہا تھا ’’کتھے مر گئے نیں سارے اَج مینوں کوئی وی چھیڑن نئیں آیا‘‘ تو اس سے ہم محظوظ بھی ہوئے اور سوچ میں بھی پڑ گئے کہ ہم ’’بابا کیڑی‘‘ کی عادت بن گئے تھے اور ہمارے ایک دن نہ آنے کی وجہ سے ’’بابا کیڑی‘‘ نے ہمیں بہت مِس کیا تھا۔ آج کا چوتھا کردار صوبہ سندھ کے اندرون شہر نواب شاہ کا وہ شخص ہے جس نے آٹھویں جماعت تین سالوں میں پاس کی وہ پٹارو سکول اور کالج میں زیر تعلیم رہنے کے باوجود علم کی روشنی سے محفوظ رہا اور اور پھر اپنے باپ کے بنائے ہوئے کراچی میں بمبینوسینما میں ٹکٹیں بلیک کرتا رہا اور بعدازاں ایک المناک حادثے نے اس کو سندھ کے سب سے امیر خاندان کا داماد بنا دیا اور کچھ ہی دنوں بعد اس شخص کی بیوی اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بن گئی۔ جی ہاں قارئین! میں اسی آصف علی زرداری اور ان کی شہید زوجہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا واقعہ سنانے چلا ہوں۔ اپنی صدیوں کی بھوک اور لالچ مٹانے کے لیے زرداری نے دو دفعہ شہید محترمہ کی حکومت کو ناکام بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور عوامی عدالت سے مسٹر ’’ٹین پرسنٹ‘‘ کا خطاب حاصل کیا اور اپنے برادرِ نستی کا بھی المناک انجام کیا۔ جناب آصف زرداری کی سب سے بڑی کوالیفکیشن ان کی ساڑھے گیارہ سالہ وہ جیل اور سزا ہے جو ان کو کرپشن ،منی لانڈرنگ، منشیات سمگلنگ ،قتل رہزنی اور کِک بیک کمیشن پر بھگتنا پڑی اور پھر 2007ء میں محترمہ کی شہادت کے بعد ایک خود ساختہ وصیت کے ذریعے ملک کے سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گئے۔ قارئین! میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان پیپلزپارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر تھا اور سوئٹزرلینڈمیں آصف زرداری اور شہید محترمہ کے خلاف جو کیسز عدالتوں میں زیر سماعت تھے ان کا مجھے نگران بھی مقرر کیا گیا تھا۔ اس لیے میں اندرونی خانہ معاملات کو ذوالفقار مرزا سے بہتر سمجھتا ہوں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد ہونے والے الیکشن کے بعد جب سی ای سی اور فیڈرل کونسل کا پہلا مشترکہ اجلاس ہوا تو میں اپنی افتتاحی تقریر میں یہ بات کہی تھی کہ شہید محترمہ کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ جس کے بعد زرداری کے زیر یرغمال پی پی پی کی اعلیٰ قیادت نے یہ محسوس کیا کہ ایک تو محترمہ کے جانثار ساتھیوں سے دوری اختیار کی جائے اور دوسرا فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو بالکل مفلوج بنا دیا جائے اور پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ محترمہ کی شہادت کے ساتھ سال بعد بھی جب کسی تقریب میں ’’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘‘ کا نعرہ جیالے بلند کرتے ہیں تو آصف زرداری پر ایک عجیب سی کیفیت اور گھبراہٹ طاری ہو جاتی ہے۔ اور اس کے بعد وہ علیل بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ فقرہ زندہ ہے بی بی زندہ ہے لگتا ہے آصف علی زرداری کی چھیڑ بن گیا ہے۔ قارئین ! آج کا پانچواں کردار اس ملک کا وہ شخص ہے جو پاکستان میں پیدا ہوا، یہیں پڑھا لکھا اور سکوٹر پر کراچی کی گلیوں میں سوار نظر آتا تھا ،آج وہ شخص کراچی ،دوبئی، سنگاپور اور لندن میں اربوں روپے کی پراپرٹی کا مالک ہے کہ اس شخص نے ایک متحد پاکستانی قوم کو لسانی اور قومیتی بنیادوں پر تقسیم کیا ۔ اپنے ملک پر فخر کرنے کی بجائے دشمن ملک کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایجنٹ ہونے پر جسے ناز ہے جی ہاں قارئین! میں الطاف بھائی کی بات کر رہا ہوں جو گذشتہ تئیس سال سے خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی لندن میں گزار رہے ہیں اور آہستہ آہستہ اب پارٹی پر اپنا کنٹرول کھو رہے ہیں۔ جرائم کی ایک ناختم ہونے والی ایک لسٹ ان کے گلے پڑ چکی ہے اور آنے والے احتساب اور عذاب سے گھبرا کر موصوف دو درجن بار پارٹی قیادت سے استعفیٰ دے چکے ہیں ہر روز لائیوٹی چینلز پر رونا پیٹا،بچوں جیسی ضد کرنا اور خاتون اینکرز سے لائیو نامناسب اٹھکیلیاں کرنا موصوف کا شیوہ بن چکا ہے اور اب توپاکستان کے سیاسی شرارتی بچے جب تھوڑی سی تار ہلاتے ہیں تو یہ ضِدی بچہ چیخنا ،چلانا دھمکیاں اور گالیاں دینا شروع ہو جاتا ہے۔ قارئین! یہ تھی آج کے پانچ پیارے کرداروں کی داستان۔ 12مئی2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus