×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈنڈا پیر اے وِگڑیاں تِگڑیاں دا
Dated: 19-May-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تھرکے علاقے میں ہزاروں بچے بھوک اور پیاس سے سسک سسک کر مر گئے اور ایک مخصوص طبقہ فکر نے مذہب کے نام پر بیس کروڑ پاکستانیوں کو یرغمال بنانا چاہا، چور کو حاجی صاحب اور قاتل کو شہید بنانا چاہا ، اس فلسفے کی بھینٹ ایک لاکھ ہموطنوں کو چڑھا دیا گیا، دس ہزار عسکری جوان اور افسران خون میں نہلا دیئے گئے، لاکھوں پاکستانیوں کو اپاہج ،ہزاروں مائوں کی گود اجاڑ دی گئی۔ ان گنت سہاگنوں کے سہاگ چھن گئے مگر ہمیشہ سے اقتدار کا بھوکا طبقہ قاتلوں سے مذاکرات پر بضد تھا۔ قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئیں اور قاتلوں کو ہیلی کاپٹر سروس مہیا کرنے کی پیش کش کی گئی ۔ جی ایچ کیو جو پاکستان کی ساکھ کی علامت ہے پر بزدلانہ حملہ کیا گیا، کینٹ میں نمازِ جمعہ پڑھتے فوجی جوانوں اور ان کے لواحقین کو شہید کیا گیا ،مہران نیول ایئر بیس پر حملہ کرکے اربوں روپے مالیت کے طیارے اور انفراسٹرکچر تباہ کیاگیا۔کامرہ ایئر بیس میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ قتل و غارت کے دوران مذہبی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کو بھی نہ بخشا گیا ۔ غیرملکی مہمان کرکٹ ٹیم پر حملہ کرکے ملک کی بچی کھچی ساکھ بھی تباہ کردی گئی۔ مسجدیں تو پہلے ہی ویران کی جا چکی تھیں کھیل کے میدان بھی سنسان بنا دیئے گئے۔ بے حسی کی سرحدوں کو چھوتے ہوئے جنازہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایاگیا جس سے اس قدر خوف پھیلا گیا کہ جنازہ تو موجود تھا مگر جنازہ پڑھنے والے خوف سے دُبکے بیٹھے تھے۔ قاتل ایک طرف مملکت کو مذاکرات کا چکمہ دیتے، دوسری طرف ریاست ہی کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے تھے۔ ملک کے سب سے بڑے ایئرپورٹ کو یرغمال بنا کر اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا اور پھر سفاکی کی انتہا کرتے ہوئے درندہ صفت وحشیوں نے پشاور میں معصوم بچوں کے سکول پر حملہ کرکے بچوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ جس سے بیس کروڑ پاکستانیوں کے کلیجے نکل کر باہر آ گئے اور اس سے پہلے لاہور میں سانحہ ماڈل ٹائون برپا کرکے خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔ معصوم بچوں کی سفاکانہ قتل کے بعد عین ممکن تھا کہ عوام قانون ہاتھ میں لے کر ہتھیار اٹھا لیتے مگر اس موقع پر نئی عسکری قیادت نے قومی اور عسکری جذبات کو سمجھتے ہوئے دانش مندانہ اور دلیرانہ فیصلہ کیا۔ اب بال کمزور ،نحیف اور لاغر حکومتی کورٹ میں تھی۔ سیاسی پنڈتوں کو شاید یہ ادراک ہوا کہ اب عوامی خون کے بہنے کا موسم ختم ہو گیا ہے اور قومی غیض و غضب کو دیکھتے ہوئے تمام سیاسی جماعتیں اس ایک نکتے پر اکٹھی ہو گئیں کہ ہمیں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام پر مہر ثبت کرنا ہو گی۔ خاص طور پر کراچی میں جہاں پر صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے جبکہ پیپلزپارٹی ہی کی سابقہ وفاقی حکومت کرپشن کے پانچ سال تو پورے کر گئی مگر اس دوران ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ شتر بے مہار کا روپ دھار چکے تھے جبکہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی بھی بھائیوں سمیت کرپشن کی اس دلدل میں اس حد تک پھنس چکے تھے کہ انہیں وانا، سوات، شمالی و جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی خودساختہ متبادل حکومت نظر نہیں آ رہی تھی۔ غرضیکہ اس وقت کی عسکری قیادت دشمن کی طرف سے سرحدوں کی خلاف وزریوں پر بھی عاقبت نااندیشی کا شکار رہی۔ پنجاب میں صوبائی حکومت کمیشنوں اور کک بیکس سے مال بنا رہی تھی اور وفاق میں زرداری ٹولہ ملک کی اساس کو دائو پر لگا کر کرپشن کا بحرالکاہل عبور کر چکا تھا۔ لاہور ، اسلام آباد اور پنجاب کو لوٹنے کے بعد ملک کے ایک رئیل اسٹیٹ ’’آئی کون‘‘ کو سندھ تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا گیا اور صرف کراچی کے ساحل کے ساتھ پانچ لاکھ ایکٹر زمین اس پراپرٹی ماسٹر کو دے دی گئی جبکہ سکھر، نواب شاہ، حیدرآباد اور لاڑکانہ میں عطا کی جانے والی لاکھوں ایکٹر اراضی اس کے علاوہ ہے۔ اس کام میں ایم کیو ایم کی قیادت بھی نقدی کی صورت میں اپنا حصہ وصول کر چکی ہے جس کے بدلے میں لاہور میں بلاول ہائوس اور حیدر آباد اور کراچی میں الطاف حسین کے نام سے یونیورسٹیاں منسوب کی جائیں گی۔ یوں تو میرٹ کا مذاق ہر صوبے میں ہی اڑایا گیا مگر آسیب زدہ کراچی کو واٹربورڈ مافیا اور زمینوں کی ’’چائینہ کٹنگ‘‘ اور حدیں عبور کرتی ہوئی بھتہ خور مافیا اور سٹیل مل اور پولیس میں ہزاروں نااہل افراد کو بھرتی کرکے کراچی کو افریقہ کا کوئی شہر بنا دیا گیا۔سابق اور موجودہ وفاقی حکومت شہریوں کو تحفظ دینے میں بُری طرح ناکام ہیں جس سے صرف گذشتہ سات سال میں ایک سو ارب ڈالرز ملک سے باہر منتقل ہو چکے ہیں۔ چھوٹے بڑے سینکڑوں پاکستانی سرمایہ کار بنگالہ دیش، سنگاپور، ہانگ کانگ،ملائیشیا، دوبئی، ابوظہبی، لندن، کینیڈا حتیٰ کہ بھارت کا رخ کر چکے ہیں۔ عین ممکن تھا کہ یہ خون پینے والے ڈریکولے بچے کھچے پاکستان کی ہڈیاں بھی چپا جاتے کہ موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور ہمارا فخر ہماری آئی ایس آئی کی قیادت نے تہیہ کر لیا ہے کہ اب کی بار دہشت گردوں کا ان کے بِلوں تک اور کرپشن زدہ طبقے کا ان کے ملکی اور غیر ملکی اکائونٹس تک ان کا پیچھا کیا جائے گا اور لوٹا ہوا دو سو ارب ڈالرز کا ملکی خزانہ پاکستان واپس لایا جائے گا۔ میری اطلاع کے مطابق لاہور، کراچی ،کوئٹہ سمیت ملک کے دیگر شہروں سے پانچ ہزار ایسے لوگوں کی فہرستیں تیار ہو چکی ہیں جنہیں کسی بھی وقت حراست میں لیا جا سکتا ہے۔جبکہ کچھ سابق وزرائے اعظم و سربراہان مملکت وزیروں، سفیروں ،مشیروں کی وی وی آئی پی لسٹیں بھی آویزاں ہونی والی ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ان معاشی دہشت گردوں کو اپنے اپنے شہر کے بجلی کے کھمبوں کے ساتھ لٹکایا جائے گا۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھاکہ بہت سے سرکاری افسران اور موجودہ حکمرانوں نے اپنے بال بچوں کو ملک سے باہر شفٹ کر ا دیا ہے اور طبل جنگ کسی بھی لمحے بج سکتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ : ڈنڈا پیراے وِگڑیاں تِگڑیاں دا 19مئی2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus