×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جے آئی ٹی کی کچی لسّی!
Dated: 26-May-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سیانے کہتے ہیں کہ پڑوسی کا چہرہ سرخ ہو تو اپنا تھپڑ مار کر لال نہیں کر لینا چاہیے۔ جی ہاں میری مراد سندھ پولیس ہے جس کے سُورمائوں نے گذشتہ روز کراچی ہائی کورٹ کے احاطہ میں صحافیوں کو تشدد کرکے ادھ موا کر دیا۔ دراصل گذشتہ سال سترہ جون کو لاہور ماڈل ٹائون میں عوامی تحریک، منہاج القرآن کے نہتے کارکنان پر پولیس نے بہیمانہ تشدد کی جو تاریخ رقم کی اور سینے اور چہروں پر سیدھی گولیاں برسائی گئیں جس سے سترہ کارکنان جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔ اسّی سے زائد شدید مضروب ہوئے جن میں سے اکثریت ہمیشہ کے لیے اپاہج ہو چکی ہے۔ قومی سیاسی جماعتوں اور عوام کے شدید تر دبائو کے بعد اس وقت کے وزیرقانون نے استعفیٰ دیا جبکہ وزیراعلیٰ صاحب نے فرمایا کہ اگر تحقیقاتی جوڈیشل کمیشن نے اشارتاً بھی مجھے اس عمل میں گنہگار ٹھہرایا تو میں بلاسوچے سمجھے مستعفی ہو کر خود کو احتساب کے لیے پیش کردوں گا مگر شاید ہمارے جذباتی خادم اعلیٰ یہ بھول گئے کہ عین ان کی ماڈل ٹائون والی رہائش گاہ سے چند میٹر کے فاصلے پر ہونے والے اس خونین دنگل کی بارہ گھنٹے لائیو کوریج پاکستان کی غیور صحافت نے کی۔ گھنٹوں لمبی اس میڈیا کوریج کے دوران ایسا کوئی ایک سیکنڈ کا شاٹ بھی نہیں ملا جس میں عوامی تحریک کے کسی کارکن کے ہاتھ میں اسلحہ دکھایا گیا ہو۔ عوامی تحریک کی قیادت بشمول چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری اس واقع کے بعدشاک کی حالت میں تھے اور شدید تر ملکی اور عوامی دبائو کی وجہ سے ہر قسم کی تحقیقاتی کمیشن ٹیم یا انکوائری کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار کیا جس پر خادم اعلیٰ نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک معزز جج کی سربراہی میں جس میں آئی ایس آئی، ایف آئی اے، پنجاب پولیس اور دیگر خفیہ اداروں کی نمائندگی تھی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا۔ چند ماہ بعد جسٹس باقر نجفی کمیشن نے وزیراعلیٰ کو اپنی رپورٹ بھجوا دی جس میں کچھ وفاقی وزراء سمیت اس وقت کے صوبائی وزیر قانون اور صوبے کے وزیراعلیٰ کو اس اندوہناک واقع کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ عوامی تحریک کے اس رپورٹ کا حصہ نہ بننے کے باوجود وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کو قصوروار ٹھہرایا جانا ان کے لیے غیر متوقع تھا۔ جس پر حکمرانوں کے طرف سے آئی بائیں شائیں جیسا ردعمل ظاہر کیا گیا۔ میڈیا کے ہاتھ وہ رپورٹ چڑھ جانے کے باوجود عوام کے لیے اسے پبلش نہ کیا گیا اور قصوروار ٹھہرائے گئے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے ایک نیا جوڈیشل کمیشن بنانے کا عندیہ دے دیا اور اس سارے عرصے کے دوران اس واقع میں قصوروار قرار دیئے گئے بعض اعلیٰ افسران کو ملک سے فرار کروا دیا گیا۔ اور کچھ افسران کو نوازتے ہوئے اقوام متحدہ سمیت متعدد اعلیٰ عہدوں پر سمندر پار تعینات کر دیا گیا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ پولیس افسر کو پہلے تو کوئٹہ ٹرانسفر کیا گیا پھر اسے دوسرے صوبے کا اعلیٰ افسر گردانتے ہوئے اسے اس نئی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا گیا اور پھر حسب توقع اس نئی جے آئی ٹی سے کلین چٹ سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا گیا۔ آج ملک کے بیس کروڑ عوام اسی کے قریب نجی ٹی وی چینلز، اخبارات کے انویسٹی گیشن رپورٹرز سکتے کی حالت میں منہ میں انگلیاں دبائے بیٹھے ہیں کہ دن دیہاڑے انصاف کے نام پر یہ کھیلا جانے والا تماشا خدا نخواستہ ملک کی اساس کو تباہ نہ کر دے۔ قارئین! پیپلزپارٹی کی گذشتہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے سات سالوں میں سیاسی انتقام، قید ،کوڑوں، اور جیلوں کی تاریخ نہیں ملتی مگر پنجاب میں بتیس افراد کو پولیس گردی سے قتل کروا کر مسٹر کلین کہلوانا اور مبارکبادیں حاصل کرنے کے بعد صوبہ سندھ کے حکمرانوں کو بھی جوش آیا ہے کہ کیوں نہ وہ پنجاب کی طرز پر اقتدار کو دوام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری کو چیلنج کرنے والے ذوالفقار مرزا ، اس کے خاندان اور ساتھیوں کے خلاف صرف چند دنوں کے اندر درجنوں مقدمات درج کر لیے گئے اور پنجاب طرز کے نقاب پوش گلو بٹوں نے دن دیہاڑے عدلیہ کا منہ چڑایا۔ قارئین! ایک بات تو طے ہے کہ ظلمت کی سیاہ رات کے بعد حق اور انصاف کا سورج طلوع ہوتا ہے: کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا۔ دراصل پاک فوج جو کہ اصولی طور پر اس وقت ملک کے نظام پر حاوی ہے اور جس کو اندرونی اور خارجی محاذوں پر دشمنوں سے واسطہ پڑا ہے اور پاک فوج کے سربراہ کی یہ حتی الوسع کوشش ہے کہ جمہوریت کی اس نام نہاد کشتی کو طوفان سے بچاتے ہوئے ساحل پر پہنچنے میں مدد اور وقت دیا جائے مگر آج میرے سمیت جمہوریت پسندی کے بے شمار دعویدار یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ لٹے، پُٹے، بچے کھچے پاکستان کو بچانے کا اب ایک ہی راستہ رہ گیاہے کہ اس مریض جاں بلب کا اب بڑا آپریشن ہونا ضروری ہے۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلام آباد، گوادر، بلوچستان کے ساحلی شہر، جنوبی پنجاب بلکہ لاہور کے مضافات میں بھی ملک دشمنوں ،را کے ایجنٹوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ درودِ پاک پڑھنے والے لوگ صاحب علم و دانشور طبقہ قلم چھوڑ کر بندوق اٹھا لیں اور پھر کچھ بھی نہ بچ سکے گا۔ یاد رکھئے ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو عوامی سیلاب کے آگے بند باندھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر سالوں بعد نواب قصوری کے قتل میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پہ چڑھایا جا سکتا ہے تو دن دیہاڑے درجنوں قتال کرکے موجودہ حکمران کیسے بچ پائیں گے؟ جبکہ سعودی عرب کے اندرونی اور جغرافیائی حالات بھی اس قابل نہیں رہے کہ وہ کسی مفرور کو جگہ دے سکیں۔ حکومت ایک کے بعد ایک جے آئی ٹی بنا کر دراصل ویسا ہی کر رہی ہے جیسا گرمیوں میں دیہات کے اندر غریب کسان تھوڑے دودھ میں زیادہ پانی ملا کر ’’کچی لسّی ‘‘بنا لیتا ہے اور پھر مہمانوں کی آمد کو دیکھتے ہوئے اس میں مزید پانی ملاتا جاتا ہے اس طرح ایک ایسی کچی لسّی تیار ہوتی ہے جس کی دودھیا سفیدی ختم کرنا مشکل ہے۔ مگر دن دیہاڑے ہونے والے سترہ جون اور اکتیس اگست کے قتال کا رنگ سرخ ہی رہے گا ۔ مجھے یقین ہے کہ خود کو احتساب کے لیے پیش کرنا ایک مشکل عمل ہے مگر یاد رکھیے جوں جوں انصاف کے رستے میں روڑے اٹکائے جائیں گے سزا کا عمل شدید تر ہوتا جائے گا۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ ہم سب کو اپنے اعمال کا حساب اِس دنیا اور اُس دنیا میں بھی دینا ہوگا۔ کیا سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کے بچوں کی آہیں اور بددعائیں ربِ کریم کے دربار میں نہیں پہنچیں گی؟ 26مئی2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus