×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مخدوموں کے دیس میں
Dated: 23-Oct-2009
ذوالفقار علی بھٹونے ایک امیر اور سندھ کے بڑے جاگیردار سرشاہنواز بھٹو کے گھر جنم لیا لیکن ان کی والدہ کا تعلق بھٹو خاندان کے ہی غریب ہاری گھرانے سے تھا۔ والدکی طرف سے دلائی گئی تعلیم اور والدہ کی تربیت کے باعث یہی بچہ آگے چل کر برصغیر پاک و ہند میں آفتاب و مہتاب بن کر چمکا۔ بھٹو اوائل جوانی میں تھے کہ برصغیر کا نقشہ تبدیل ہوا اور ہندوستان کے وجود سے پاکستان نے جنم لیا۔ بھٹو نے اندرون و بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی لیکن وہ اپنی غریب ماں کی آنکھوں میں پائی جانے والی حسرت،سوچوںاوراداسی کبھی فراموش نہ کر پائے۔ انہوں نے اپنے گھر میں دو مختلف کلچر دیکھے۔ ان کے دل میں غریبوں کے لیے جو درد اٹھا وہ ماں سے متاثر ہو کر تھا۔ اوائل عمری میں ہی ایوب کابینہ میں بھٹووزیر بنے پھر وزارت خارجہ جیسی اہم وزارت ان کو تفویض کی گئی۔ ان کے اندر غریبوں کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا۔ تاشقند میں ایوب خان کے رویے سے دلبرداشتہ ہوئے میٹنگ کے دوران دستاویزات پھاڑ کر چلے آئے۔ اور پیپلز پارٹی کے نام سے ایک نئی پارٹی تشکیل دی۔جو روٹی،کپڑا اور مکان کے فلسفے پر غریبوں کے دل میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ 1970ء کے انتخابات میں غریب اور لوئرمڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ٹکٹ ہولڈروں کی ایک لمبی فہرست تھی۔ ان میں مبشر حسن، ڈاکٹر غلام حسین، مختار رانا، ملک معراج خالد، شیخ رفیق، کوثر نیازی، حنیف رامے، مختاراعوان، افتخار تاری، حفیظ کاردار، چودھری ارشاد، رانا اقبال، پروفیسر این ڈی خان اورملک حاکمین خان سمیت درجنوں شامل تھے۔ جو پہلی بار اقتدار کے ایوان تک پہنچے تھے۔ مگر اس کے بعد 77ء کے الیکشن میں بھٹو کے ایڈوائزر حیات محمد ٹمن نے سندھ اور پنجاب کے بڑے بڑے جاگیرداروں کو پیپلز پارٹی میں لانے کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ جس کی وجہ سے پارٹی کے اندر مخدوبین اور غریب کارکنوں کے درمیان سٹیٹس اور دولت کی ایک بڑی خلیج حائل ہو گئی۔ بھٹو کی پھانسی سے پہلے پارٹی کے وارث بننے والے بڑے لوگوں نے اسے لاوارث چھوڑ کر آمریت کی چھتری تلے پناہ لے لی۔ اور ایک ایسا وقت بھی آیا کہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل کے صرف تین ارکان رہ گئے باقی سب چھوڑ کر اِدھر اُدھر جائے پناہ ڈھونڈنے لگے۔ یہ مستقبل کے لیے ایک بڑا سبق تھا۔ لیکن 86ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی وطن واپسی پر ایک مرتبہ پھر لغاری، مزاری، وٹو، مخدوم، چودھری اور سادات ان کا سایہ بنے ہوئے تھے۔ 77ء کی طرح 88ء کے انتخابات میں بھی ملتان سے گیلانیوں، قریشیوں، جھنگ سے کرنل عابد اور کرنل صالح حیات، سندھ سے مخدوم طالب المولیٰ، تالپوروں، جونیجو اور جاموں کی اولادیں ٹکٹ لے کر کامیاب ٹھہریں اور آمریت کے دور میں کوڑے کھانے، اذیتیں جھیلنے اور پارٹی پر جانیں نچھاور کرنے والے محض محوتماشا تھے۔ آج محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟ آج بھی کچھ’’بڑوں‘‘ نے سیاست پر اس طرح قبضہ کیا ہوا ہے کہ مخدوم کے مقابلے میں مخدوم، لغاری کے مقابلے میں لغاری،مزاری کے مقابلے میں مزاری، وٹو کے مقابلے میں وٹو،چودھری کے مقابلے میں چودھری اور رائے کے مقابلے میں رائے ہوتا ہے اور ایسا ہر پارٹی میں ہوتاہے۔ کیا کبھی ملک کے محنت کشوں، غریبوں،کسانوں، ترکھانوں،لوہاروں، کمہاروں، موچیوں،جولاہوںاور دھوبیوں کو بھی 70ء کی طرح سیاست میں بھرپور حصہ لینے کا موقع ملے گا؟ کیا ان کے مقدر میں ووٹ کی پرچی پر ٹھپہ لگانا ہی لکھا ہے؟ پاکستان پیپلز پارٹی میں کیا قیادت کا اتنا قحط اور فقدان ہے کہ وزیراعظم اور وزیر خارجہ ایک ہی شہر سے لیے گئے ہیں اور طرفہ تماشا یہ کہ دونوں مخدوم بھی ہیں۔ ضیاء الحق نے 77ء میں اقتدار پر قبضہ کیا تو پہلی مرتبہ سرکاری سرپرستی میں انجمن ارائیاں قائم کرکے برادری ازم کا باقاعدہ بیج بویا گیا۔ اس کے بعد میاں نوازشریف اقتدار میں آئے تو ملک کے طول و ارض میں پھیلی ہوئی کشمیری برادری کو چن چن کر نوازا گیا۔ مشرف دور میں رنجیت سنگھ وڑائچ کے اقتدارکے خاتمے کے ڈیڑھ سوسال بعد حکومت جاٹوں کے ہاتھ آئی تو پرویز الٰہی جو کہ جاٹ وڑائچ ہیں پورے صوبے میں چیمے، چٹھے،گھمن،سندھو،سیان،باجوہ،ساہی اور بھٹیوں کو نواز کر برادری ازم کو فروغ دیتے رہے۔ پیپلز پارٹی کو ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ قربانیاں دے کر اقتدار میں لاتے رہے لیکن ان کے مقدر میں اقتدار کبھی نہ آیا۔ اقتدار پر ہمیشہ مخصوص طبقہ قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتاہے جبکہ غریب اقتدار کی گاڑی سجا کر تیار کرتے ہیں مگرسواری کا موقع آتا ہے تو مخدوم،سادات، بخاری، رضوی، قریشی، گیلانی،کاظمی، نقوی، ترمذی، لغاری،مزاری، وٹو، چودھری اور رائے وغیرہ سوار ہو جاتے ہیں۔اور بدشومئی قسمت آج بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اس وقت بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکز اور سندھ میں کابینہ آدھی سے زیادہ مخدوموں اور سادات پر مشتمل ہے جو کہ ہر محکمے اور ڈیپارٹمنٹ میں اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو نواز رہے ہیں۔اقتدار میں 17ویں گریڈ سے اوپر کا کوئی ایسا عہدہ نہیں جس پر یہ لوگ قابض نہ ہوں۔پیپلز پارٹی کے کروڑوں جیالے آج اپنے کوچیئرمین سے یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیںکہ کیا حق حکمرانی صرف انہی لوگوں کا ہے اور اس ملک کا جیالا اور عام آدمی کچھ اس طرح سے نظرانداز کیا گیا ہے کہ بھٹو شہید کا فلسفہ جو وہ اپنی ماں کی آنکھوں سے اٹھا کر لائے تھے اب کہیں نظر نہیں آتااور یہ ملک مخدوموں اور وڈیروں کا غلام بن کر رہ گیا ہے۔اور اگر کارکنان میں پائی جانے والی اس سوچ کا مداوا نہ کیا گیا تو آئندہ آنے والے الیکشن میں بیلٹ بکسوں میں ان مخدوموں اور وڈیروں کے ووٹ بھی نہ ہوں گے کیونکہ یہ تو کچھ لینے والوں میں سے ہیں دینے والوں میں نہیں،چاہے وہ کاغذ کی ایک پرچی ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے نظریہ پاکستان کے پاسبان جناب مجید نظامی صاحب سے وہ ملاقات بھی یاد ہے جس میں انہوں نے برادری ازم کی سیاست کو ملک و قوم اور جمہوریت کے لیے زہر قاتل قرار دیا تھا۔ اور کہا تھا کہ اگر پاکستان کو بین الاقوامی برادری میں ایک عزت اور غیرت مند قوم کے طور پر آگے لے کر جانا ہے تو ہمیں برادری ازم کو راستے میں دفن کرنا ہوگا۔17کروڑ عوام کا بھی یقین کامل ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ہزار سال بھی کھوکھلے نعرے لگاتے رہیں سیاسی پارٹیوں اور معاشرے سے برادری ازم کے خاتمے کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کر سکتا ہے نہ جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے۔ آج ترکی میں کمال اتا ترک کے فلسفے کے مطابق ایک ایسے معاشرے نے جنم لیا ہے کہ ترکی میں آج ذات پات، برادری کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا ہے اور وہاں پر حکومت کی طرف سے چند درجن نام دیئے گئے جو کہ شہروں،باغوں،پہاڑوں اور دریائوں کے نام پر تھے اور پوری قوم کو کہا کہ وہ اپنے لیے ان میں سے ایک خاندانی نام کے طور پر چُن لیں اسی لیے آج ترکی میں کوئی شخص موچی، لوہار، ترکھان،جولاہا نہیں ہے اور ترکی میں انقلاب سے پہلے آغا اور بے آفندی جو کہ پاکستان کے مخدوم یا سادات کہلاتے ہیں کو بھی انہیں مخصوص ناموں میں سے ایک نام چُننے کے لیے کہا گیا۔اس طرح آج ترک معاشرہ برادری ازم اور ذات پات سے پاک ہے (یاد رہے مخدوم کا لقب بھی زمانہ خلافت میں ترک سلطنت کی طرف سے دنیا بھر میں لقب کے طور پر عطا کیا جاتا تھا جس میں برصغیر بھی شامل تھا)ترکی میں ایک بڑے آدمی کی ذات بھی وہی ہے جو دورافتادہ پہاڑوں میں بسنے والے ایک غریب آدمی کی ہے۔ اقبال کے تصورات، قائداعظم کے فرمودات اور بھٹو کا فلسفہ سیاست بھی ہر شعبہ سے برادری ازم کے خاتمے کا درس دیتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus