×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پنجاب کا پہلا ’’با اختیار‘‘ گورنر
Dated: 30-Oct-2009
سرجان لیرڈمیئر لارنس پنجاب کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر تھے۔ ان کے پاس یہ عہدہ یکم جنوری 1859ء سے 25فروری 1859ء تک رہا۔ لیفٹیننٹ گورنر کا عہدہ 3جنوری 1921ء تک برقرار رہاآخری لیفٹیننٹ گورنر سر ایڈورڈ ڈگلس میکلیگن تھے۔ اس کے بعد گورنر پنجاب کا عہدہ تخلیق کیا گیا تو سر ایڈورڈ ہی پہلے گورنر نامزد کیے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے گورنر پنجاب سررابرٹ فرانسس مودی تھے۔ یہ 15اگست 1947ء سے اگست 1949ء تک گورنر رہے یہ 25ویں گورنر تھے۔ ون یونٹ کے بعد مشتاق گورمانی مغربی پاکستان کے پہلے گورنر مقرر کیے گئے۔ گورمانی 4اکتوبر 1955ء سے 31اگست 1957ء تک گورنر رہے۔ مغربی پاکستان کے آخر گورنر ایئرمارشل نور خان تھے وہ یکم ستمبر 1969ء سے یکم فروری 1970ء تک گورنری کرتے رہے۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمن یکم جولائی 1970ء کو گورنر پنجاب تعینات کیے گئے۔ آج 2009تک پنجاب نے بہت سے عروج و زوال اور مدوجزر دیکھے۔ نواب آف کالاباغ یکم جنوری 1960ء سے18ستمبر1966ء تک بڑے رعب اور دبدبے سے گورنری کرتے رہے۔ ان کو سب سے زیادہ طاقتور گورنر قرار دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ڈیلروں نے گندم20سے 25روپے من کر دی گورنر نے ان کو بلایا اور مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے کہا کل گندم کی قیمت 20روپے من ہونی چاہیے، دوسرے دن واقعی پورے پنجاب میں گندم کی قیمت 20روپے من تھی۔ ملک غلام مصطفی کھر23دسمبر1971ء سے 12نومبر1973ء تک گورنر کے عہدے پر رہے اور شیر پنجاب کا لقب پایا۔ وہ زبردست منتظم تھے۔ ان کے دور میں غنڈہ،ڈکیٹ اور جرائم پیشہ عناصر کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملتی تھی اور انہوں نے ملکی تاریخ میں ہونے والی پہلی پولیس ہڑتال کو جس طرح ناکام بنایا اس کا ذکر کتابوں میں رہے گا لیکن ملک صاحب گورنر ہائوس میں بہت سی رنگین داستانیں بھی چھوڑ آئے۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد پنجاب میں 19میں سے 9ملٹری گورنر رہے۔ آج سلمان تاثیر54ویں اور سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد 19ویں گورنر ہیں۔ انہوں نے 15مئی2008ء کو حلف اٹھایا۔ یہ وہ وقت تھا جب مشرف کے اقتدار کی چولیں اکھڑی ہوئی تھیں۔ گورنر خالد مقبول آمریت کو فروغ دینے کے لیے 7سال سے زائد عرصہ گورنر ہائوس میں گزار چکے تھے جو کہ پنجاب کے کسی بھی گورنر کا اب تک سب سے زیادہ عرصہ اقتدار ہے۔ پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ چکے تھے تو صدر مشرف نے پیپلز پارٹی کی مشاورت سے سلمان تاثیر کو گورنر نامزد کیا۔ اس کے صرف تین ماہ بعد آصف علی زرداری عہدہ صدارت پر متمکن ہوئے۔ جیالے 12سال تک اقتدار میں آنے کا صبر آزما انتظار کرتے رہے۔ سلمان تاثیر گورنر بنے تو جیالوں پر گورنر ہائوس کے دروازے کھل گئے انہوں نے لاہور کو پیپلز پارٹی کا گڑھ اور لاڑکانہ بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ صدارتی الیکشن سے کچھ عرصہ قبل جناب آصف علی زرداری لاہور آئے تو گورنر ہائوس میں جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ آج گورنر ہائوس میں جیالا گورنر ہے تو جلد ایوانِ صدر میں جیالا صدر ہوگا۔ایک طرف یہ سب ہو رہا تھا تو دوسری طرف پنجاب کا اقتدار ایک بار پھر سردار دوست محمد کھوسہ کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا شریف برادران کی جھولی میںآ گرا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن مرکز اور پنجاب میں اقتدار کی ساجھی دار تھیں۔ مرکز میں ن لیگ نے وزارتیں چھوڑ دیں۔ ن لیگ اور پی پی آج بھی پنجاب میں مخلوط حکومت چلا رہے ہیں۔ لیکن اصل صورت حال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر جنہوں نے سردار دوست محمد کھوسہ کے ساتھ اسمبلی کے فلور پر اعلان کیا تھا کہ اپوزیشن یا حکومتی ارکان اسمبلی سب کو ایک جیسے فنڈ اکٹھے جاری کیے جائیں گے لیکن آج تک اس اعلان پر عمل کروانے میں ناکام رہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ تو اپنے دفتر جاتے ہیں نہ ہی ان کے پاس چپڑاسی تک کے تبادلے کے اختیارات ہیں۔ اس طرح ایک محکمے میں ڈپٹی سیکرٹری،سیکرٹری، پارلیمانی سیکرٹری اور چیئرمین ٹاسک فورس کی موجودگی میں وزیر کی کیا وقعت رہ جاتی ہے۔ عدالت نے میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دیا تو پنجاب میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ اختیارات گورنر کے پاس آئے تو پیپلز پارٹی کے صوبائی وزرا، ایم این اے،اپم پی ایز اورجیالوں نے تبادلوں کے لیے سفارشوں کے ڈھیر لگا دیئے۔ یوں گورنر سلمان تاثیر کے 8کلب روڈ پر گزارے گئے دن تبادلوں اور تقرریوں کی نذر ہو گئے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے جج دوبارہ بحال ہوئے تو گورنر راج بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔ گورنر ہائوس کا عملہ 8کلب سے آگ کے شعلوں سے بچنے والوں کی طرح بھاگ اٹھا۔ مرکزی حکومت میں موجود ایک دھڑا گورنر سلمان تاثیر کی سیاست سے خائف ہے اور وہ پنجاب میں گورنر کو ہر موقعے پر نیچا دکھلانے کے لیے تیار رہتا ہے۔ گورنر راج ختم ہوا تو گورنر کی آنکھوں کے سامنے سیاسی تاریکیوں کے بادل چھائے نظر آئے۔ گورنر کو اپنی چھوٹی چھوٹی سی خواہشوں کے لیے کافی تردد کرنا پڑتا ہے کبھی اسے ہیلی کاپٹر اور کبھی طیارہ مہیا کرنے میں لیل وحجت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو کہیں ججوں کی تقرریوں پر شراکت داری کا سندیسہ بھیجا جاتا ہے اور خودپیپلزپارٹی کے اندر دو تین گروپ گورنری کے حصول میں ناکامی کے بعد سلمان تاثیر کو چین سے نہیں بیٹھنے دے رہے۔ دوسری طرف گورنر کے مصاحبین میں ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے جو سیاسی کم اور سنیاسی زیادہ لگتے ہیں اور گورنر کے اردگرد ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو آمر کی خصوصی باقیات میں سے ہے جو اپنے ماضی کی کارگزاریوں کو گورنر کی چھتری تلے چھپا کر سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جن کے کارناموں سے گورنر کا امیج بُری طرح مجروح ہو رہا ہے۔ آج اگر کسی کو اپنا کام رکوانا یا خراب کرانا مقصود ہو تو وہ گورنر کے پاس سفارش کے لیے چلا جائے۔ پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ اسے انشاء اللہ مایوس نہیں کرے گی۔ گورنر کی ٹیم کواکثر یہ کہتے سنا گیا ہے ہمارے کہنے پر ایک پٹواری تک کا تبادلہ نہیں ہو سکتا۔ اب گورنر ہائوس کے دروازے عام کارکنوں اور جیالوںپر بند ہوناشروع ہو چکے ہیں۔ ایم این ایز، ایم پی ایزاور جیالے قائدین کی بھی سیکورٹی کی آڑ میں تذلیل کی جاتی ہے۔ گورنر سلمان تاثیر چاہتے ہیں کہ وہ صوبے اور پارٹی کے لیے کچھ کریں لیکن ان کی بیچارگی اور بے بسی دیکھ کر دل کرتا ہے کہ ان سے کچھ لینے کی بجائے ان کو دینے کی آفر کی جائے۔پنجاب میں مسلم لیگ ن کا وزیراعلیٰ اور مرکز میں اقتدار کا ایک دھڑا ان کی ایک نہیں چلنے دے رہا اور گورنر کے ہر کام میںروڑے اٹکانا اور گورنر کے احکامات کو سبوتاژ کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔اس لیے گورنر صاحب اپنی اہمیت دکھانے کے لیے کبھی لبرٹی میں ’’صدیق ‘‘ کا جوس پینے چلے جاتے ہیں تو کبھی ریگل چوک میں ’’چمن‘‘ کی آئس کریم کھاتے نظر آتے ہیں۔ آج ایک جیالا مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ ہمارا کیا بنے گا؟ میری خاموشی پر اس نے خود ہی جواب دیا کہ اپوزیشن میں صعوبتیں، مصیبتیں اور تکلیفیں تو دیکھی تھیں اب مصیبتوں کے ساتھ ساتھ نظرانداز ہونے کا مزا بھی چکھ رہے ہیںجذبات کی رو میں بہہ کر وہ کہتا چلا گیا کہ گورنر اور صدر نے لاہور کو پیپلز پارٹی کا قلعہ بنانے کا اعلان کیا تھا آج لاہور پیپلز پارٹی کے لیے وہی آمر دور کا شاہی قلعہ بن کر رہ گیا ہے جس میں ایک دفعہ پھر کارکنان اور جیالے مصائب کا شکاراور مقید ہیں اس نے کہا کہ ہم جیالے ایک بار پھر قربانی دینے کے لیے تیار رہیں۔ کیوں کہ ان جیالوں کا کام قربانی دینا ہے اور ان کی قربانیوں کی کمائی کھانے والے آج بھی اقتدار میں ہیں کل پھر ہوں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus