×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گُلو سے قونصلر غلُو تک
Dated: 18-Aug-2015
سانحہ ماڈل ٹائون سے گُلوبٹ کو پوری دنیا میں شہرت ملی، چاہے اس شہرت کے حصول کے لیے اس نے اقدار کی تمام حدود کو پھلانگ لیا۔ نہ صرف درجنوں معصوم انسان قتل ہوئے بلکہ سینکڑوں کو سینوں پر گولیاں مار کر اپاہج بنا دیا گیا۔ تاریخ میں وہ دن بربریت کے طورپر جانا جاتا رہے گا اور گُلو بٹ کا نام قانون کا مذاق اڑانے والوں کی لسٹ میں سرفہرست رہے گا۔ بالکل اسی طرح ٹورنٹو میں تعینات پاکستانی قونصلر جنرل اصغر علی غلُو نے جشن آزادی کے سلسلے میں ترتیب دیئے گئے 14اگست کے پروگرام کو مقامی کمیونٹی کی خواہشوں کے برعکس ترتیب دیا جس پر کمیونٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ قونصلر جنرل غلُو نے آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے وہ اقدام کیے کہ جس کے سامنے گُلوبٹ کے گناہ بچگانہ نظر آتے ہیں۔ قارئین نوائے وقت کو کسی اور کالم میں مفصل بیان کروں گا کیونکہ پچھلے ہفتہ سے پاکستانی تاریخ میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو کرنٹ افیئرز سے متعلقہ ہیں جن سے قارئین کو اپ ڈیٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر سانحہ قصور کے ہوشربا مناظر اور سیکنڈل سامنے آنے کے بعد ان واقعات نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کسی کو بھی موردِ الزام ٹھہرانے سے پہلے ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ معاشرے میں اس جیسے ناسور کا ابھرنا کس طرف اشارہ کرتا ہے اور قطع نظر اس کے کہ ایسے واقعات کے پیچھے کونسے ہاتھ ہیں اور ان واقعات کا سدِ باب اور قلع قمع کرنا ضروری ہے۔ اگر اس کے پیچھے کوئی طاقتور اور سیاسی خاندان ہے تو قانون کے ہاتھ اس کے گریبان تک پہنچنے چاہئیں مگر مملکت خداداد پاکستان میں ایک سکینڈل کے رونما ہونے کے بعد ایک نیا سکینڈل محض اس لیے تیار کیا جاتا ہے کہ پہلے سکینڈل کی تپش کو کنٹرول کیا جا سکے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ دورِ حکومت کے گذشتہ تیس مہینوں کے درمیان سکینڈلز کی سینچری مکمل ہو چکی ہے او ران سکینڈلز اور ان کے اثرات سے بے نیاز حکومت شاید یہ سمجھتی ہے ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘ جھوٹ ، فریب، دھوکے، غلط بیانی اورچرب زبانی سے کاروبارِ مملکت چلایا جا رہا ہے۔ طالبان سے مذاکرات کا ڈرامہ دھرنوں کے دوران چلایا گیا پھر دھرنوں کا اثر زائل کرنے کے لیے آرمی پبلک سکول پشاور جیسا سانحہ رونما کروا دیا گیا۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے ورثا آج بھی پہلی جے آئی ٹی رپورٹ کے لیے دہائیاں دے رہے ہیں اور جب حکمرانوں نے دیکھا کہ کراچی اور سندھ میں جاری رینجرز کا آپریشن قریباً مکمل ہونے کو ہے اور اب پاک فوج شاید پنجاب کا رخ کرے گی اور اس طرح کئی اور صولت مرزا پیدا ہو جائیں گے اور اسی خوف کے سبب لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کو مقابلے میں پار کر دیا گیا۔ جی ہاں یہ وہی ملک اسحاق تھے جن کو جی ایچ کیو پر حملہ اور فوجی افسران کو یرغمال بنائے جانے کے بعد راولپنڈی طلب کرکے دہشت گردوں کو مذاکرات میں الجھا کر نتائج حاصل کیے گئے۔ جھورا جہاز کہہ رہا ہے کہ ملک اسحاق وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ کی خلوتوں کا بھی ساتھی رہ چکا ہے اور شاید حکمران یادِ ماضی سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔ میں اس بات کا فیصلہ قارئین نوائے وقت پر چھوڑتا ہوں کہ وہ ملک اسحاق کی ہلاکت کے بعد شریف خاندان کے افراد کے چہروں پر چھائی مرجھاہٹ کے پیچھے کیا عوامل ہیں؟رانا ثناء اللہ سے یاد آیا گذشتہ روز شریف فیملی کے داماد اور فیصل آباد سے طاقتور سیاسی شخصیت چوہدری شیر علی نے رانا ثناء اللہ سے متعلق ایسے ہوشربا انکشافات اور پنڈورا باکس کھول کر رکھ دیا ہے کہ جس سے رانا ثناء اللہ کا بچ نکلنا محال نظر آتا ہے۔ اس دوران ایم کیو ایم کے استعفوں نے معاملات کو ایک دوسری طرف بھی لے جانے کی کوشش کی۔ دراصل خود حکومتی اقتدار دو گروپوں میں بٹا ہوا ہے۔ چوھدری نثار اور ان کے رفقاء فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر اقتدار کے پانچ سال پورے کرنا چاہتے ہیں جبکہ کچھ سینئر وزراء خواجہ آصف، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور مشاہد اللہ خاں اقتدار کی اس بس کا فوج کے ساتھ ٹکرائو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند دن پہلے خواجہ آصف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہان کے متعلق ہرزہ سرائی کرکے دل کی بھڑاس نکالی اور 14اگست کے موقع پر سالوں بعد پُرامن جشن آزادی سے لطف اندوز ہوئے لامحالہ اس کا کریڈٹ پاک فوج کو جا رہا تھا اور جنرل راحیل شریف کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبرا کر حکمران ٹولہ وہ حرکت کر بیٹھا کہ وفاقی وزیر مشاہد اللہ خاں کو تیار کرکے آئی ایس آئی اور فوج کے خلاف سٹیٹمنٹ دلوا دی اور پھر کچھ بکائو صحافتی گماشتوں نے اس کو جشن آزادی کی شام اپنا ہدف بنا لیا۔ وزیراعظم نے بادل نخواستہ اس پر نوٹس لیتے ہوئے مشاہد اللہ خاں کو برطرف کر دیا مگر خواجہ آصف ہمیشہ کی طرح آج بھی بیس کروڑ عوام اور افواج کا منہ چڑاتے ہوئے مسندِ وزارت پر موجود ہیں۔ کچھ بھی ہو یار لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حکومت الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو فوج کے آپریشن سے بچانا چاہتی ہے اور مشاہد اللہ خاں کا انٹرویو عسکری قیادت کے لیے ایک پیغام تھا کہ ہم تمہارے آپریشن اور مقاصد کے رستے میں روڑے اٹکانے سے باز نہیں آئیں گے۔ قارئین گزشتہ روز سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل وفات پا گئے۔ ان کی پالیسیوں اور سوچ سے اختلاف قطع نظر مگر جنرل حمید گل مرحوم نے سوویت یونین کو توڑ کر سات نئی مسلم مملکتوں کا قیام ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی طرح پنجاب کے وزیرداخلہ کرنل (ر)شجاع خانزادہ جنہوں نے سینٹرل اور جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا کو شہید کر دیا گیا۔ اپنی شہادت سے چند دن پہلے کرنل صاحب کو دھمکیاں ملیں تو آپ نے واضح طور پر کہا کہ ’’را‘‘ اور اس کے پاکستان میں کارندے میری جان کے دشمن ہیں۔‘‘اور آج کالعدم لشکر جھنگوی اور احرار گروپ نے ان پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ مذکورہ دونوں گروپس کا تعلق ’’را‘‘ سے بھی ہے اور اس بات کا بہت جلد پتہ لگ جائے گا مگر جب تک ملک میں گُلو اور غلُو موجود ہیں ملک میں استحکام کا خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوگا۔ 18اگست2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus