×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
موروثی سیاست اور درباری صحافت!
Dated: 25-Aug-2015
خطۂ ارض پاک، برصغیر اور خلیجی ریاستوں، سرزمین عرب کے باسیوں کی فطرت اور مزاج میں سیاست کے اندر موروثیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ نزولِ اسلام کے بعد ماسوائے خلفائے راشدین کے بعد میں آنے والے تمام اقتدار پر قابض خاندانوں نے موروثیت کو طرزِحکمرانی بنایا۔ یزید ابن معاویہ سے شروع ہونے والے اموی دور سے اسلامی موروثیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس خاندان نے عمر بن عبدالعزیز، مروان عبدالمالک اور حجاج بن یوسف جیسے نامور حکمران پیدا کیے اور زیادہ تر اس خاندان کا مرکز دمشق(شام) ہی رہا۔ 750عیسوی میں عباسی خاندان نے عراق کو اپنا دارالخلافہ بنایا اور 1258عیسوی تک حکومت کی۔ عباسیوں کے دور میں الصفا،المنصور، الہدیٰ، ہارون الرشید، مامون الرشید، معتصم باللہ اور المتوکل نامور حکمران تھے۔ مصر کے مملوک خاندان، سلجوک، سمنی، غزنوی، سفری، تغلق بیگ، اپسران ،خوارزمی، منگول، چنگیز اور ہلاکو خاں جیسے خاندان بالترتیب برصغیر پر حکمرانی کرتے رہے۔ تیمور کے بعد 1526ء میں ظہیر الدین بابر نے مغل بادشاہت کا آغاز کیا اور ہمایوں، اکبر اعظم، جہانگیر، شاہجہاں، اورنگ زیب اور بہادر شاہ ظفرنے 1857ء تک مغلیہ سلطنت کا پرچم بلند کیے رکھا۔ انگریزوں کے ہندوستان میں قابض ہونے کے بعد اس سے گذشتہ ادوار کے سابق سلاطین انگریزوں سے جاگیریں اور میراثیں لے کر عوام کے حقوق پر قابض رہے۔ حضرت علامہ اقبال، نواب سر سلیم اللہ خان اور قائداعظم محمد علی جناح جیسی ہستیوں کے طفیل 1947ء میں پاکستان کا وجود عمل میں آیا تو صرف ایک سال بعد ہی قائداعظم کی رحلت کے سے اقتدار زدہ طبقے نے ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیئے۔ اس دوران مسلمانوں کے سیاسی مزاج کو دیکھتے ہوئے مولانا ابواعلیٰ مودودی نے اصلاحِ قوم کے لیے ’’خلافت و ملوکیت‘‘ جیسی عظیم الشان کتاب لکھی جس میں مسلمانوں کے لیے پسندیدہ طرزِحکمرانی کے گُر اور انداز بتائے گئے تھے مگر نوزائیدہ مملکت پاکستان کے بنتے ہی مختلف قبیلوں اور خاندانوں نے اقتدار کے لیے ہاتھ پائوں مارنا شروع کر دیئے ۔ آج بھی کم و بیش نواب آف بہاولپور، رحیم یار خان کا مخدوم خاندان ، نواب گورمانی، گورچانی، ٹوانے، وٹو، مزاری، لغاری، دولتانے، کھوڑو، مگسی، تالپور، پگاڑا خاندان، رئیسانی ،بگٹی، مری، مینگل، کھر، زرداری اور بھٹوز اقتدار پر قابض ہیں جبکہ گذشتہ تقریباً ستر سالوں کے درمیان آنے والے کم و بیش سبھی ملٹری ڈکٹیٹروں نے بھی اپنی اولادوں کو سیاست کے اندر نہ صرف داخل کیا بلکہ ان کے لیے ریفرنس یعنی اپنی شناخت بھی چھوڑ گئے۔ فیلڈ مارشل ایوب خاں (مرحوم) اور ضیا الحق (مرحوم) کی مثال دی جا سکتی ہے جبکہ موجودہ سیاست کا بغور نظر جائزہ لیا جائے تو شہید ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، میر شاہنواز بھٹو، شہیدمحترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کا بیٹا بلاول زرداری اور شوہر آصف علی زرداری اور اس کی بہنوں سمیت غنوی بھٹو اور فاطمہ بھٹو بھی سیاست میں موجود ہیں جبکہ نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بن کر اور شہبازشریف تیسری بار وزیراعلیٰ بن کر اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔ اسی طرح شریف خاندان کی اولاد مع سسرال، ننھیال اور قریبی عزیز سیاست میں مکمل طور پر اِن ہیں۔ اس طرح اموی دور سے شروع ہونے والی موروثیت آج چودہ سو سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔ قارئین! سیاست کی طرح ہمارے خطے میں صحافت نے بھی اقتدار کے ایوانوں میں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ تحریک پاکستان کے دورن مولانا ظفر علی خاں ،حمید نظامی(مرحوم)،مردِ صحافت مجید نظامی(مرحوم)، میر خلیل الرحمن(مرحوم) اور پیر علی محمد راشدی (مرحوم) جیسے نامور مفکرین پاکستان کے اندر صحافت ،لفافہ کریسی، زرد صحافت اور درباری صحافت جیسی بیماریوں سے محفوظ رہے۔مسلمان حکمرانوں کے ادوار میں ہمیشہ درباری ملائوں کے ساتھ درباری شعراء اور قصیدہ گو حضرات کا بھی بڑا عمل دخل تھا اور باقاعدہ ان کے وظیفے مقرر تھے۔ ایک وہ دور تھا کہ صحافی قلم کے تقدس کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتے تھے ۔ اسی لیے باضمیر صحافیوں نے جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہتے ہوئے کوڑے کھائے اور قلعوں کی قید کاٹی۔ قیامِ پاکستان سے اب تک سینکڑوں باضمیر صحافیوں کو ہر سال شہید کر دیاجاتارہاہے مگر اس کے باوجود کچھ گندی مچھلیوں نے پورے صحافتی تالاب کو گندا کرکے رکھ دیا ہے۔ کچھ عرصہ بیشتر ملک کے ممتاز رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے دفتر سے ایک لسٹ جاری کی گئی۔ اس ہوشربا انکشاف والی فہرست کو دیکھ کر انسان دہل جاتا ہے کہ کن کن ہستیوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ چھلانگیں بھی لگائی ہوئی ہیں۔ صحافیوں کی باقاعدہ طور پر منڈی میاں نوازشریف کے پہلے دورِ حکومت میں متعارف ہوئی جبکہ محترمہ شہید کے دونوں ادوار میں صحافیوں میں تعمیر شدہ مکانات تقسیم کیے گئے جبکہ مشرف دور میں چوہدری برادران نے عام صحافیوں کے لیے صحافی کالونی بناکر اچھا کام کیا وہیں پسندیدہ اور نامور صحافیوں کے لیے پلاٹوں کی لوٹ مار سیل لگائی دی۔کئی اپنی سکیمیں بنا کر اب بھی لوٹ مار کرہے ہیں۔ جھوراجہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب کل تک جو غریب صحافی پنکچر شدہ سائیکل ہاتھ میں پکڑ کر گھسیٹتا پھرتا تھا آج اس کے پاس مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو جیسی لگژری گاڑیاں موجود ہیں جبکہ کچھ ایسے صحافی بھائی بھی موجود ہیں جن کے زیر استعمال ذاتی ہوائی جہاز تک ہیں۔ درباری صحافت کے اس چمک زدہ دور میں پورے کے پورے صحافتی گھرانے شامل ہیں اور اکثر میڈیا گروپس کا قیام ہی صرف اسی وجہ سے لایا گیا تاکہ اپنے کالے کرتوتوں ،کمائی اور کاروبار کو صحافتی تحفظ دیاجا سکے۔وطن عزیز میں اس وقت ایک سو سے زائد ٹی وی چینلز اس بات کا ثبوت ہیں۔مملکت عزیز پاکستان میں اس وقت صحافت کو ایک انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے اوراس صحافتی اسٹاک ایکسچینج میں بھائو بھی اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں اور قلم کی حرمت کا یہ حال ہے کہ سیاست دانوں کو وفاداری بدلنے پر لوٹے کہنے والے خود چند روپوں کی خاطر چینل اور ادارہ بدلتے رہتے ہیں۔میری جنرل راحیل شریف سے التماس ہے کہ سرحدوں اور سرحدوں کے اندر دہشت گردی اور معاشی دہشت گردی کا سدِ باب کرنے کے ساتھ ساتھ موروثی سیاست اور درباری صحافت کا بھی سدِ باب کیا جائے جس کے بغیر ترقی کا خواب فقط دیوانے کی بڑ ہے۔ 25اگست2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus