×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یومِ فتح۔ ایان سے ایلان تک
Dated: 08-Sep-2015
گذشتہ روز ملک کے نامور قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان ، سابق گورنر پنجاب اور پیپلزپارٹی کے موجودہ سیکرٹری جنرل سردار محمد لطیف کھوسہ صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ ماڈل ایان علی ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہیں اور وہ پاکستان کی ثقافتی سفیر بھی ہیں۔ موصوفہ کی مزید خوبیاں گنواتے ہوئے سابق گورنر نے کہا کہ ایان علی شاعرہ، ادیبہ اور صحافی بھی ہیں۔ ہمارے لیے یہ سب کسی انکشاف سے کم نہیں ہے یہ تو ہم جانتے ہیں کہ لطیف کھوسہ اور سابق وزیر قانون، سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک بھی ایان علی کی وکلا ٹیم میں شامل ہیں جبکہ ہمارے ملک کے سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اس مشہورماڈل کی زلفوں کے اسیر رہ چکے ہیں اور ایسا صرف عظیم مملکت پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ ایک لڑکی ایئرپورٹ پر پانچ لاکھ ڈالر کے سوٹ کیس کے ساتھ سمگلنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی اور جس کسٹم انسپکٹر نے اسے گرفتار کیا اسے بعدازاں قتل کر دیا گیا حتیٰ کہ ایان کے والد کو بیٹی سے ملنے کی کوشش کے دوران گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا۔ تادمِ تحریر محکمہ داخلہ اور کسٹم حکام میں سکت نہیں کہ وہ ماڈل ایان کے خلاف چالان مکمل کرکے پیش کر سکیں اور نہ ہی عدلیہ کے کسی جج میں یہ جرأت ہے کہ رنگے ہاتھوں پکڑی جانے والی ملزمہ جو کہ اربوں ڈالر بیرون ملک سمگل کر چکی ہے پر فرد جرم عائد کر سکے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق جس دن ملزمہ کی ضمانت پر رہائی ہوئی تو ملزمہ کے وکیل نے دو کروڑ روپے کے ملبوسات تیار کروا کر رکھے ہوئے تھے مگر ’’چوروں کو پڑ گئے مور‘‘ کے مصداق لطیف کھوسہ کا بیٹا خرم کھوسہ بیچ میں سے موصوفہ کو اُچک کر سیدھا کراچی لے گیا جہاں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سمگلر اور خطرناک ملزمہ نے کراچی یونیورسٹی میں لیکچر بھی دیا۔ یہ ہماری عدلیہ، انتظامیہ ،قانون، آئین، انصاف کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے اور ملزمہ کو شاعرہ اور ادیبہ کہنا بھی بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی چور کو حاجی صاحب اور آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم کو ایماندار، باکردار، دیانتدار،پُرخلوص،محب وطن کے خطابات سے نواز دیا جائے۔ قارئین! آگے بڑھتے ہوئے بات کرتے ہیں مسلم اُمہ عرب برادری بھائی چارے اور اخوت کی زبوں حالی کی۔ عراق اور شام گذشتہ عشرے سے مسلکی لڑائیوں کی لپیٹ میں ہے ۔ عراق جو اتحادی فوجوں کے ہاتھوں پہلے ہی برباد ہو چکا تھا اور ایک اندازے کے مطابق گذشتہ دو عشروں کے دوران تیس لاکھ مسلمان جنگ اور فرقہ پرستی کا شکار ہوئے جبکہ شام گذشتہ تیس سال سے مغربی طاقتوں کی طرف سے معاشی پابندیوں اور امبارگو کا شکار ہے۔ جبکہ داعش، آئی ایس آئی ایس کی صورت میں ان ممالک کے گلی کوچوں میں بربریت کا راج ہے۔ دونوں ممالک سے کروڑوں افراد نقل مکانی کرکے جا چکے ہیں۔ گذشتہ روز ساحل سمندر سے ملنے والی معصوم ’’ایلان‘‘ کی لاش نے عالمی برادری کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ شام اور عراق سے بھاگنے والے راستے میں سمندر کی موجوں کا اکثر شکار ہو جاتے ہیں۔ ابھی کل ہی تین ہزار سے زائد شامی اور عراقی تارکین وطن جب میونخ(جرمنی) پہنچے تو وہاں کی مقامی آبادی نے ان مہاجرین کا والہانہ استقبال کیا۔ میرے ایک جرمن صحافی دوست بتا رہے تھے کہ اپنی ایک نجی محفل میں جرمن سربراہ مملکت مادام انجیلا مارکل یہ کہتی ہوئی سنی گئیں کہ شام اور عراق کی سرحدوں سے مکہ، مدینہ، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات بہت قریب ہیں تو پھر قریبی ہمسائے اسلامی ممالک ان رفیوجیز کو اپنے پاس پناہ دینے کی بجائے سمند رکی لہروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ میرے پاس ایان علی اور ایلان سے وابستہ ان کہانیوں کا کوئی جواب نہیں۔ قارئین گذشتہ روز 6ستمبر پچاس سال کا ہو گیا۔ بہت سالوں کے بعد پہلی دفعہ ارضِ پاک کے ہر شہر میں یومِ فتح کی تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ مرکزی تقریب جی ایچ کیو کے وسیع میدان میں پاک فوج کے شہداء کی یادگار کے سامنے منعقد کی گئی او رپہلی دفعہ انتشار کے شکار، پاکستانی میڈیا نے حب الوطنی دکھاتے ہوئے گھنٹوں لمبی نشریات براہ راست نشر کیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے مرکزی تقریب میں بیس کروڑ پاکستانیوں کو خوشخبری سنائی کہ ہم ضربِ عضب کے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں جبکہ کراچی اور اندرونِ ملک معاشی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اپنے عروج پر ہے۔ جنرل راحیل شریف نے چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جبکہ کشمیر کے بغیر کی آپشن کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیا۔ قارئین! جنرل راحیل شریف جب قوم سے خطاب کر رہے تھے تو بہت سالوںبعد مجھے ایسا لگا کہ ہمارا بھی کوئی والی وارث ہے۔ ایک وہ قوم جو پچھلے تقریباً پندرہ سال سے اندرونی خلفشار، دہشت گردی اور معاشی ڈاکہ زنی کا شکار رہی ہو جس کے ایک لاکھ شہری اور دس ہزار عسکری جوان شہید کر دیئے گئے ہوں، جس کے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی مالیت سوارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہو جو قوم مایوسیوں کی انتہائی گہرائی میں گِر چکی ہو جو قوم اپنے قاتل دہشت گردوں سے مذاکرات کی بھیک مانگتی رہی ہو ،اس بیس کروڑ عوام کا ہیرو جرنیل جب انہیں فتح کی نوید سنائے تو خود ہی اندازہ کیجئے گا کہ پاکستان کے طول و ارض میں ہر چہرہ دمک اٹھا ہوگا۔ میں نے اپنی سیاسی اور صحافتی زندگی میں کسی بھی لیڈر کی اتنی زیادہ پذیرائی اور مقبولیت کا گراف اونچا نہیں دیکھا اور میری دعا ہے کہ جنرل راحیل شریف اپنے وعدے کے مطابق پاکستان کے قومی سلامتی کے دشمنوں اور معاشی دہشت گردوں سے اس ارض پاک کو پاک کر دیں۔ یقینا راحیل شریف کو اس رستے میں بے شمار اندرونی اور بیرونی دبائو کا سامنا بھی ہوگا لیکن آج اس گھڑی میں راحیل شریف اکیلے نہیں بیس کروڑ ہم وطنوں کی فوج ان کے شانہ بشانہ ہے۔ پاکستان فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔ 8ستمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus