×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی بے بی سِٹر۔۔۔ اور بلدیاتی سرکس
Dated: 15-Sep-2015
بلاول زرداری بھٹو پانچ ارب روپوں کی لاگت سے تعمیر کردہ عظیم الشان محل میں جس کی کہ تیس فٹ اونچی دیواریں اس بات کی غماز ہیں کہ اس کے مکین نہ تو غریب ہیں نہ لوئر مڈل اور مڈل کلاس اور نہ ہی ان کے مسائل روٹی کپڑا اور مکان ہیں۔ جی ہاں اسی بلاول کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو سندھ کے ایک جاگیردار کے ہاں پیدا ہوئے انکی ماں چونکہ ہاری کی بیٹی تھیں اس لیے پیدائشی طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے دل میں غریبوں کے لیے درد تھا۔ اس لیے زمامِ اقتدار سنبھالتے ہی نہ صرف اپنی جاگیر کا ایک بڑا حصہ غریب ہاریوں میں تقسیم کر دیا بلکہ پاکستان کی اب تک پہلی اور آخری زرعی اصلاحات متعارف کروا کر غریبوں کے چہروں پہ روشنیاں بکھیریں جبکہ بلاول کے دادا ایک عام انسان ہونے کے ناطے معمولی کاروبار کے مالک تھے۔ بھٹو کی بیٹی کو بیاہ کر لانے کے بعد آج انکا بیٹا اسّی ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ جنوبی ایشیا کا امیر ترین شخص بن چکا ہے۔ آصف علی زرداری جنہوں نے گذشتہ پانچ سال ملک میں بلاشرکت غیر ے حکمرانی کی۔ تینوں صوبوں اور مرکز میں ہرطرف کرپشن کا بازار گرم تھا اور اب اقتدار کی تبدیلی کے بعد جب لوگوں کی نفرت عروج کو پہنچی تو موصوف نے ٹھرا کوشمپئن کی نئی بوتل میں ڈال کر بیچنا چاہی مگر قید، قلعے، کوڑے، پھانسیاں جھیلنے والے جیالے اب معصوم نہیں رہے۔ زرداری صاحب نے پہلے پہل تو معاملات بیٹے کے ساتھ مل کر چلانے کا منصوبہ بنایا مگر جب بلاول نے مختلف مواقع پر انکار کیا تو شنید ہے کہ تینوں بہن بھائیوں کے کریڈٹ کارڈز بلاک کروا دیئے جاتے تھے، اس طرح زرداری صاحب بلیک میلنگ کو بطور ہتھیار اپنے بچوں کے ساتھ بھی استعمال کرنے لگے جس کی وجہ سے بقول ڈاکٹر عاصم حسین بلاول بھٹو ’’بائی پولر ڈس آرڈر‘‘ نامی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس بیماری کی علامات یہ ہیں کہ مریض کسی بھی وقت پاگلوں جیسی حرکتیں شروع کر دیتا ہے۔ مجھے پیپلزپارٹی کے متعدد جیالوں اور ہم وطن پاکستانیوں نے سوال کیا ہے، پیپلزپارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعت کا چیئرمین کیا کسی ایسے نوعمر کو بنایا جا سکتا ہے؟ یا کوئی ایسا انسان جو اس بیماری کا شکار ہو اسے دنیا کی چھٹی بڑی نیوکلیئر پاور کا سربراہ مقرر کیا جا سکتا ہے؟ تو میں اپنے کرم فرمائوں اور قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ آصف علی زرداری مشرف حکومت کے دوران عدالت میں اپنی ذہنی، نفسیاتی بیماری اور پاگل پن کا سرٹیفکیٹ پیش کر چکے ہیں مگر پھر بھی ان کو صدرِ پاکستان جیسے جید عہدے پر فائز کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے بانی ورکرز اور محترمہ کے جیالے آج اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ’’دروغ بر گردن راوی‘‘ محترمہ فریال تالپور کرپشن کی ملکہ کہلاتی ہیں اور آج پیپلزپارٹی جس مقام پر پہنچ چکی ہے اس کی صرف اور صرف ذمہ دار یہی محترمہ ہیں مگر جب آصف علی زرداری کی جانب سے یکدم بالغ ہونے کی خوشی میںاسے پارٹی چیئرمین بنا دیا گیا تومحترمہ فریال تالپور کوسائے کی طرح بلاول لگا دیا گیا تاکہ وہ بلاول کی حرکت و سکنات ،سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں اور یہ بھی کہ کوئی اصلی جیالا انکے قریب بھی پھٹکنے نہ پائے۔ یعنی محترمہ تالپورکو بلاول کا سیاسی بے بی سِٹر بنا دیا گیا۔ قارئین! گذشتہ روز بلاول ہائوس کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے پیپلزپارٹی کے باقی ماندہ چیدہ چیدہ کارکنوں اور قیادت کو مدعو کرکے ایک سیاسی فلاپ شو کیا گیا جسے یقینا آپ نے بھی نجی چینلز پر دیکھا ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ سٹیج پر منظوروٹو، راجہ ریاض، اشرف کائرہ اور ندیم افضل چن موجود تھے۔ بتایئے کہ ان صاحبان کا تعلق کیا پیپلزپارٹی سے ہے؟ ان چار افراد میں سے دوضیاء کی باقیات جبکہ آخری دو جماعت اسلامی کی یادگاریں ہیں۔ یہ لوگ چلے کارتوس اور زنگ آلود گن کی طرح ہیں۔ ابھی شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم حسین کی طرح اور بھی درجنوں را طوطے فر فر بولنے کو بے تاب ہیں۔ یہ پیپلزپارٹی کی کیا خوبصورت تصویر کشی ہے کہ جہانگیر بدر جیسے بنیادی کارکن خاموش ہو کر گھر بیٹھ جائیں۔ میں نے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے پوچھاکہ انقلاب کیسے آئے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ چہرے بدلنے سے نہیں بلکہ سوچ بدلنے سے انقلاب آتے ہیں۔ جب تک بلاول اپنے باپ اور پھوپھی کی کرپشن زدہ دولت کے بل بوتے پر سیاست کرینگے اور جب تک وہ خود کو ان کرپشن کی جونکوں سے اعلانیہ طور پر آزاد نہیں کر لیتے کوئی بھی بلاول بھٹو پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ قارئین! جس پارٹی کا پچھلے ساڑھے سات سال سے سندھ میں وزیراعلیٰ ،علی نوازشاہ اور دیگر مجرموں کو عدالت سے سزا ہونے پر ان کی ملاقات کے لیے جیل جائے اور انصاف کے منہ پر طمانچہ رسید کرتے ہوئے کرپشن کے مجرموں کو جیل میں اے کلاس دینے کا اعلان کرے تو کیا اس پارٹی کو غریبوں کی پارٹی کہلوانے کا حق ہے۔ قارئین! پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کے نام پر بلدیاتی سرکس شروع ہو گئی ہے اور جیسا کہ انتظار تھا مسلم لیگ ن کی حکومت نے پولیس سمیت دیگر ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کے بھائی اعجاز سکھیرا اور مشیرِ حکومت تہمینہ دولتانہ کے بھائی زاہد دولتانہ اور وزیراعظم کے قریبی عزیز خواجہ احمد احسان اور دوسرے بیشمار لوگوں کو بلامقابلہ منتخب کروانے کا عمل جاری ہے جبکہ لاہور پولیس کے ڈی آئی جی اور ایک ایس ایس پی سی آئی اے عمر ورک کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو پی ٹی آئی کو 2013ء والا سبق پھر سے یاد کروائے گی ۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ 15ستمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus