×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی کُتکتاریاں
Dated: 20-Oct-2015
کسی زمانے میں بادشاہ کو وزیر خزانہ سے متعلق شکایات آنے لگیں۔ وزیر خزانہ چونکہ ملکہ عالیہ کا چہیتا اور قریبی عزیز تھا اس لئے بادشاہ اسے بیک جنبش قلم وزارت سے ہٹا نے سے گریزاں تھا۔ بادشاہ نے اپنے سینئر وزیروں سے مشورہ کیا اور حل یہ نکالا کہ وزیرخزانہ کی وزارت تبدیل کر دی جائے اور ایک نئی وزارت کاقیام عمل میں لایا گیا۔ جس کا کام یہ طے پایا کہ متعلقہ وزارت ملک میں چوہوں کو تلف کرے گی۔ وزیر صاحب نے نئی وزارت کا منصب سنبھالا اور پھر آہستہ آہستہ پرانے حربوں پر اتر آیا۔ وزیر کے ہرکارے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتے اور مکینوں سے کہتے کہ وہ گھر کا سارا سامان باہر نکالیں کہ ہم نے چوہے تلف کرنے ہیں۔آہستہ آہستہ لوگ وزیر کی منشا کو سمجھنے لگ گئے اور جب وزارت کے اہلکار دروازے پر پہنچتے تو اہل خانہ اندر سے پانچ دس درہم ان کو تھما دیتے اس طرح وہ سامان اٹھا کر باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے جیسی مشقت سے بچ جاتے۔ جب رشوت اور کرپشن گھر گھر پہنچنے لگی تو یہ بات دربار اور بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچی۔ بادشاہ نے پھر مشاورت کی کہ اس وزیر کو کوئی ایسی وزارت سونپی جائے جہاں کرپشن کا احتمال نہ ہو۔ کافی مشاورت کے بعد بادشاہ نے چہیتے وزیر کو بلوایا اور اسے کہا کہ آپ کو امیرِ بحر یعنی سمندر کا وزیر مقرر کیا جاتا ہے کہ آپ سمندر اور موسم کا بروقت حال حکومت کو بتایا کریں۔ وزیر موصوف سمندر کنارے بمع اپنے اہل کاروں کے دفتر بنا کر بیٹھ گئے اوراس دوران جو بحری بیڑے اور بحری جہاز ساحل پر لنگرانداز ہوتے ان کو جرمانے کیے جانے لگے۔ بحری جہازوں کے کپتان اس پر مشتعل ہوئے تو وزیر کے اہل کاروں نے انہیں جواب دیا کہ ہم بادشاہ سلامت کے حکم کے تحت سمندر کی وہ لہریں جو ساحل سے ٹکراتی ہیں ان کو گنتے ہیں اور آپ کے بحری جہاز سے ہمارا گنتی کا عمل متاثر ہوتا ہے اس لیے آپ کو یہاں جرمانے کی ادائیگی کرنا ہو گی۔پہلے تو ملک کے اندر سے شکایات کا انبار تھا اب باہر کے ممالک اور ریاستیں اور بحری جہاز مالکان بھی اس رشوت کے خلاف احتجاج کرنے لگے ۔ بادشاہ سلامت کے دربار تک بات پہنچی تو بیچارہ بادشاہ بہت پریشان ہوا ۔کرپٹ وزیر کے ملکۂ عالیہ کے رشتے کی وجہ سے سبکدوش بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ چارو ناچار بادشاہ نے کرپٹ وزیر کو پھر سے وزیر خزانہ مقرر کر دیا اور دیگر درباریوں سے کہا کہ میں اس کو وزیر ہوا بھی بنا دوں تو یہ کرپشن کرنے سے باز نہیں آئے گا اس لیے بہتر ہے کہ وہ جو کام کر رہا ہے کرتا رہے۔ قارئین! بے بس بادشاہ کی بے بسی سے یہ ثابت ہوا کہ کرپشن جرم اور دھاندلی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ گذشتہ دنوں ملک میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں دھاندلی کے نئے طریقے متعارف ہوئے۔ عمران خان، ڈاکٹر طاہر القادری اور جماعت اسلامی یا کوئی بھی سیاسی پارٹی دھاندلی کی روک تھام کے لیے چاہے کوئی بھی سافٹ ویئر تیار کر لیں مگر اقتدارزدہ ہوسِ اقتدار کے بھوکے اس طبقہ کے پاس اقتدار میں رہنے کے بے شمار جواز، بہانے اور طریقے موجود ہیں۔ سادہ دل، معصوم اور بھولے عمران خان کو ان قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جنم کی جدوجہد کافی نہیں اور طریقہ صرف ایک ہی ہے۔ بقول ڈاکٹر طاہر القادری ’’چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا۔‘‘ جمہوریت کے نام پر ان خون چوسنے والی جونکوں نے ملکی خزانے کو خالی، زمینوں کو بنجر اور انسان کو پنجر بنا کر رکھ دیا ہے۔ مشہور زمانہ دانشور کارل مارکس کے بقول ’’جب بھی کوئی معاشی نظام اور اس کے ذرائع پیداوار سماجی ترقی دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں تو معاشرہ ایک جمود کا شکار ہو جاتا ہے یہ جمود ایک بحران کو جنم دیتا ہے جو سماجوں میں بغاوتیں پیدا کرتا ہے یہیں سے وہ انقلاب ابھرتے ہیں جو اس معاشرے کی معاشی، سماجی ا ور اقتصادی بنیادوں کو یکسر بدل دیتے ہیں۔‘‘ میں کارل مارکس کے اوپر بیان کیے گئے فلسفہ سے متفق ہوں مگر پاکستان کے سیاسی سمندر میں تلاطم لانے کے لیے کیا کوئی انقلابی لیڈرشپ پاکستان میں موجود ہے؟ یقینا کچھ قیادتوں پر اعتبار اور کچھ پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے پینتیس سال طویل جدوجہد کرکے اپنے پیروکاروں اور انقلاب کے چاہنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنے ساتھ لگا لیا ہے اور گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران درجنوں شہداء سینکڑوں زخمی اور ہزاروں گرفتاریاں دے کر انقلاب کا ایک راستہ تو دکھایا ہے مگر کیا اکیلے طاہر القادری قوم کو منزل پہ لے جا سکتے ہیں؟ جی ہاں مگر اس کے لیے قوم کو بھی انہیں رہبر تسلیم کرنا ہوگا۔ قارئین آج کا دوسرا موضوع عمران خان کی سولوفلائیٹ،یوٹرن پالیسیاں اور سیاسی ناپختگی ہے ۔ مثال کے طور پر پارٹی کے اندر جسٹس وجیہہ اور حامد خان جیسے کینسر کا فوری خاتمہ اور تحریک انصاف میں بڑھتے ہوئے برادری ازم میں اسی فیصد ق لیگ کا خون شامل کر دیا گیاہے جبکہ پندرہ فیصد پیپلزپارٹی کی بچی کھچی لیڈرشپ ہے اور جس یوتھ کا چرچا کیا جاتا ہے اس کی تعداد بمشکل پانچ فیصد ہے ۔ ضمنی الیکشن والے دن لاہور میں پارٹی کی پہلی اور دوسری صف کا میدان میں نہ آنا اور علیم خان کو جان بوجھ کر ہروانا بھی پارٹی کی رگوں میں برادری ازم کے ناسور کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ اوکاڑہ میں ضمانت ضبط ہونے والی سیاست نے پارٹی کے اندرونی خلفشار کے پول کھول کر رکھ دیئے ہیں۔ دوسری طرف ایک خاص سازش کے تحت عمران خان کو ریحام خان کے ساتھ اختلافات کا چرچا کرکے عمران خان کو ذہنی انتشار کا شکار کر دیا ہے۔ یقینا حکمران عمران خان کو گھریلو ناچاقی اور پارٹی کے اندرونی خلفشار میں الجھاکر اپنی مدتِ اقتدار پوری کرنا چاہتے ہیں اور تنہا بائولنگ اور بیٹنگ کے خواہشمند عمران خان اور اس کے ساتھیوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ یہ اقتدار بدلنے کی نہیں نظام بدلنے کی جنگ ہے اور جنگ فرد نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں اور جس دن عمران خان اپنے ساتھ باقی سیاسی قوتوں اور عوام کو ساتھ لگانے میں کامیاب ہو گئے اس روز منزل عمران خان کے قدموں کے نیچے ہو گی وگرنہ اقتدارزدہ طبقہ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے دھاندلی کے نت نئے طریقے ایجاد کرتا رہے گا اور اپوزیشن بمع عمران خان حکمرانوں کی سیاسی کُتکتاریاں نکالتے رہیں گے۔ قارئین!گذشتہ روز کینیڈا میں جنرل الیکشن لیبرل پارٹی کی فتح کے ساتھ اختتام کو پہنچے اور آج تک کے نتائج کے مطابق کم از کم تین پاکستانی نژاد کینیڈین پہلی دفعہ کینیڈا کی نیشنل پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور یہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خوشی کی خبر ہے۔ 20اکتوبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus