×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نیب کو پیپلز سیکرٹریٹ منتقل کر ہی دیاجائے!
Dated: 27-Oct-2015
سندھ حکومت کے آدھے سے زیادہ وزیر کرپشن میں رینجرز کو مطلوب ہیں جبکہ بیوروکریسی تو تقریباً تمام کی تمام کرپشن اور بدعنوانی میں رینجرز کی لسٹوں میں ہے۔ تاریخ میںایسا بہت کم ہوا کہ بیوروکریٹ اور وزراء پر بدعنوانی کے کیس درج ہوں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہوں۔ جس تعداد میں سندھ سے سیاستدان اور بیوروکریٹ گرفتار ہوئے اور قبل از گرفتاری ضمانتیں کرائیں ایسا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ پیپلزپارٹی شہیدوں کی پارٹی ہے جو گردش افلاک کا شکار ہو کر لٹیروں کے ہتھے چڑھ گئی اور اقتدار ملا تو فطرت کے ہاتھوں مجبور اس کی قیادت نے لوٹ مار کے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے۔ عشق اور مشک کی طرح ویسے تو کرپشن بھی نہیں چھپتی مگر پیپلزپارٹی کی قیادت نے 5سال تک جس طرح لوٹ مار کی، اس کی پردہ داری کا بھی تکلف نہیں کیا۔ آج مسلم لیگ ن بھی قومی وسائل کا ستیاناس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی مگر طریقہ واردات سات پردوں میں چھپا ہوتا ہے۔ ایک نندی پوری پاورپراجیکٹ کو لے لیں پیپلزپارٹی کے وزیر قانون نے اپنی ڈیمانڈ پوری نہ ہونے پر چار سال فائل دبائے رکھی۔ ہر فائل اس دور میں نوٹوں کے پہیے لگنے سے حرکت میں آتی تھی۔ ہر ملازمت اور بڑا عہدہ بکتا تھا۔ مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو نندی پور پاور پراجیکٹ کی گرد میں دبی فائل باہر نکالی۔ 24ارب روپے کا تخمینہ 54ارب تک پہنچ چکا تھا۔ منصوبہ مکمل ہوا تو 84ارب روپے خرچ ہو چکے تھے مگر بجلی کی پیداوار اتنی ہی تھی جتنی ایک فیکٹری کو چلانے والا جنریٹر دیتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیڈوں نے بڑی ذہانت سے اس منصوبہ کا بیڑا غرق کرکے اپنے کائونٹس میں اضافہ کر لیا۔ نندی پور منصوبہ بند پڑا ہے مگر ن لیگ والوں کا کوّا سفید ہے۔ نندی پور منصوبوں میں کرپشن قبول کرنے پر تیار نہیں حالانکہ اس کے ڈائریکٹر اور سی ای او کو منصوبے سے الگ کر دیا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کھل کھیلتی رہی۔ امین فہیم کو مدبر سیاستدان تسلیم کیا جاتا ہے۔ این آئی سی ایل کرپشن کیس میں ان کو 18کروڑ روپے ملے۔ اس کرپشن کا چرچا وصولیوں کے چند دن بعد ہی ہونے لگا تھا۔ امین فہیم نے تسلیم کیا کہ ان کے اکائونٹ میں کسی نے 18کروڑ جمع کر ا دیئے۔ انہوں نے اپنے اکائونٹ میں 18کروڑ جمع ہونے کا اعتراف کیا اور ملکیت سے دستبرداربھی نہیں ہوئے۔ ایک مدبر اور شریف سیاستدان کی کرپشن کا یہ حال ہے تو اندازہ کر لیں کہ جن کی شہرت ہی کرپٹ سیاستدانوں کی ہے انہوں نے کیا کیا گُل کھلائے ہوں گے۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ لیڈرشپ کی گھٹی میں کرپشن سمائی ہوئی ہے۔ ان کا خمیر ہی کرپشن سے اٹھا ہے۔ اس کی اصل وراثت تو سینما کی ٹکٹیں بلیک کرنا ہے۔ سیاست کو وراثت کہہ کر پیپلزپارٹی پر تسلط حاصل کیا تو اس کی بھی ہر ٹکٹ بلیک ہونے لگی۔ آصف علی زرداری کو خدا نے پاکستان کی تاریخ میں اپنا نام سنہری الفاظ میں رقم کرانے کا موقع عطا فرمایا مگر انہوں نے اپنی فطرت کے مطابق پارٹی کو چلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے پورے ملک کو بمبینوسینما سمجھ لیا۔ پیپلزپارٹی کو 2013ء میں الیکشن جیت کر حکومت بنانے کا موقع ملا تو زرداری صاحب کی وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے یوسف رضا گیلانی ہی پر نظر کیوں پڑی؟۔ ان دنوں بھی گیلانی کرپٹ سیاستدان کی شہرت رکھتے تھے۔ محمد خان جونیجو نے ان کو کرپشن کے باعث اپنی کابینہ سے نکال دیا تھا۔ آصف علی زرداری کے ’’اعتماد‘‘ پر ان سے زیادہ کوئی اور لیڈر پورا نہیں اتر سکتا تھا۔ اگر کسی کو شک ہو کہ زرداری صاحب کے پیش نظر یوسف رضا گیلانی کا کرپٹ ہونا نہیں تھا تو جواب دیں کہ راجہ پرویز اشرف پر رینٹل پاور منصوبوں میں کرپشن کے الزامات کے تحت نہ صرف مقدمات تھے بلکہ کئی کیسز میں ریکوری بھی ہو چکی تھی۔ ان کو گیلانی کا جاں نشین بنانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟۔ اب احتساب کا پھندا کسا جا رہا ہے تو آصف زرداری فوج اور نواز حکومت پر برس رہے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا تو شدید ردعمل سامنے آیا۔پی پی پی کی قیادت نے رینجرز اور ایف آئی اے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں یہ ان کا کام نہیں۔کرپشن اگلوانا جس ادارے کا کام ہے اس نے اپنا کام شروع کیا تو اس پر گرجنے اور برسنے لگے۔ گذشتہ ہفتے نیب نے کرپشن اور غیرقانونی اثاثوں کے الزام میں سابق وزیر تعلیم سندھ پیر مظہر الحق، ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ عاصمہ ارباب سمیت 5افراد کے خلاف انکوائریوں کی منظور دی تو سابق صدر غصے میں آ گئے۔انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا: ’’نیب اپنے دفاتر بند کرکے پیپلزپارٹی سیکرٹریٹ منتقل ہو جائے۔ نیب نے ون پارٹی احتساب کا ایک اور باب شروع کر دیا جس کے نتائج خطرناک نکلیں گے۔ پورے ملک میں سوائے پیپلزپارٹی کے سب اچھا ہو رہا ہے۔ سب ہمارا ہی احتساب کریں۔ ‘‘ پیپلزپارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور میں جس طرح ملک کو لوٹا، کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کیے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعی تحقیقات اور کرپشن اگلوانے کے لیے نیب اور دیگر اداروں کو پیپلزپارٹی کے ہر شہر میں سیکریٹریٹ میں مکمل احتساب تک بیٹھ جانا چاہیے۔قارئین! ذرا غور فرمائیں کہ اُس دور میں وزیر مذہبی امور نے اربوں کی کرپشن کی۔ حکومت نے ان کو بچانے کی پوری کوشش کی مگر عدلیہ نے ان کے جرائم کے تحت ان کو جیل بھجوایا۔ وزارت حج کے دیگر کئی سیاسی کارندوں کی کرپشن بھی مسلمہ تھی۔ آصف زرداری کے رونے دھونے سے کرپشن معاف ہو سکتی ہے نہ کرپٹ لوگوں کے دامن پر لگے داغ دھل سکتے ہیں۔ کرپشن نے معیشت کو کمزور کر دیا، غریب آدمی سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا۔ ایسے لوگ کسی صورت قابلِ معافی نہیں۔ نیب کی ٹیمیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے دفاتر میں بیٹھ کر ان کے لیڈروں کا احتساب کریں۔ متحدہ ، اے این پی اور جے یو آئی کے لیڈر بھی کرپشن کی گنگا میں اشنان کر چکے ہیں۔ق لیگ والے بھی پوتر نہیں ہیں۔ ایک ایک کرپٹ کو احتساب کی چھلنی سے گزار کر پائی پائی وصول کی جائے۔ مگریہ کام کرے گا کون؟ یہی جن کے نام سے رانا ثناء اللہ کی مونچھیں نیچی ہو جاتی ہیں، ان پر لرزا طاری ہو جاتا ہے اور کہتے ہیں فوج کو دہشتگردی کے خاتمے کا مینڈیٹ دیا ہے کرپشن کے خاتمے کا نہیں۔فوج جب مینڈیٹ لیتی ہے تو کسی سے پوچھ کر نہیں لیتی جیساکہ دہشتگردوں اور کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کا مینڈینٹ حاصل کیا ہے۔ قارئین گزشتہ روز بڑے بھائیوں جیسے دوست میاں کلیم اللہ ٹریفک حادثے میں نیویارک میں وفات پا گئے میں ان دنوں ان کی تجہیز و تدفین کے لیے نیویارک آیا ہوا ہوں اور اس دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ٹورنٹو کینیڈا تشریف لائے ہوئے ہیں۔یقینا میں جلد واپس جا کر ان میٹنگز کا حصہ بنوں گا اور حکمرانوں کی گردن کے گرد جو گھِیرا تنگ ہونے والا ہے اس کی روداد آپ کو آئندہ کالم میں پڑھنے کو ملے گی۔ 27اکتوبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus