×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا قوم نفسیاتی مریض بن چکی؟
Dated: 26-Jan-2016
یہ 29جنوری 1258ء کا دن تھا چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالم اسلام کے دارالخلافہ بغداد کا محاصرہ کیا اور مذاکرات ناکام ہونے کے بعد 5فروری کے دن بڑا حملہ کرکے بغداد شہر میں منگول جرنیل انسانی لاشیں روندتا ہوا داخل ہوا اور پورا ہفتہ انسانوں کو تہ تیغ کرنے اور انسانی سروں سے مینار بنانے والے ہلاکو خان نے 10فروری 1258ء کو بغداد کو جلا کر رکھ دیا۔ مسلم دنیا کی سب سے بڑی لائبریریوںکو دریا برد کر دیا۔ اسلامی ثقافت کے نادر نمونے جلاڈالے۔ قارئین مگر آپ سوچ رہے ہوں گے کہ خلیفہ معتصم کی فوج اس وقت کیا کر رہی تھی؟ہلاکو کے محاصرے سے پہلے بغداد کے گلی محلوں اور تھڑوں پہ کوّے کے حرام و حلال کی بحث چل رہی تھی۔علماء اس پرفتویٰ بازی کررہے تھے۔ فال آف بغداد کے بعد مسلمان اپنا قیمتی اثاثہ کھو چکے تھے مگر اس سے بھی سبق نہ سیکھا۔یہ1798ء کی بات ہے یورپ کے مشہور جرنیل نپولین بوناپارٹ نے مصر پر چڑھائی کی۔ قاہرہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور مملوک سلطان شکست کھا رہے تھے اس وقت بھی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نپولین اور فرانس کا ساتھ دے رہی تھی۔ جس روز قاہرہ پر قبضہ ہوا اس روزقاہرہ کے مفتی اور علماء نپولین کی رہائش گاہ پر انڈوں کے حلوے کی تعریف کر رہے تھے۔ تاریخ کا سفر جاری رہا مسلمان برصغیر تک پھیل گئے۔ سینکڑوں سال حکمرانی کی۔ آخری مغل حکمران محمد شاہ رنگیلا عیاشیوں میں مشغول تھا کہ نادر شاہی فوج نے تخت دہلی پر قبضہ کر لیامگربادشاہ کہہ رہا تھا ’’ہنوزدلی دوراست‘‘ پھر انگریزوں کی حکمرانی شروع ہوئی۔ 1947ء میں ڈیڑھ سو سال کی غلامی کے بعد آزادی ملی مگر صرف 24سال بعد ملک کا آدھا حصہ اس لیے کاٹ دیا گیا کہ ہم اپنے سطحی اختلافات خود طے نہ کر سکے اور تاک میں بیٹھے دشمن نے ’’مکتی باہنی‘‘ کے ذریعے کاری ضرب لگائی اور ہمارا ایک بازو ہم سے جدا کر دیا۔ چار دن رو دھو کر ہم پھر اپنی حماقتوں پر نازاں ہونے لگے پھر دشمن نے ایک ایسا عمل کیا جس سے اس نے ہماری بنیادوں میں زہر بھر دیا۔ سول ملٹری تعلقات میں خرابی کی انتہا تھی۔ متعدد بارمارشل لاء کے ٹیکے لگا کر مریض کو بچانے کی کوشش کی گئی مگر مرض بڑھتا چلا گیا۔ مکار دشمن نے ہمارے گلی کوچوں تک مسلکی منافرت پھیلا دی اور جس مملکت کو لشکر خداوندی ہونا چاہیے تھا وہ لشکر جھنگوی میں تبدیل ہو گئی۔ ایک خاص طبقے کو ذہنی یرغمال بنانے کے بعد دشمن نے ہمارے اداروں کو تباہ کرنا شروع کیا۔ ہمیں پھر بھی سمجھ نہ آئی۔ ایک نوزائیدہ مملکت جس پر کم از کم پانچ دفعہ مارشل لاء مسلط کیا گیا اور لٹیرے سول حکمران اربوں ڈالرز لوٹ کر ملک سے باہر منتقل کر چکے پھر کچھ قوتوں نے ہمیں پراکسی وار میں دھکیلنا چاہا۔ ہم نے صرف پچھلے پندرہ سال میں 90ہزار سول اور 12ہزار ملٹری جوانوں، افسروں کی زندگی کے نذرانے پیش کیے۔ کئی سوارب ڈالرز کے ملکی قومی انفراسٹکچر تباہ ہوئے مگر سزا پھر بھی ختم نہ ہوئی۔ 16دسمبر2014ء کو آرمی پبلک سکول کا سانحہ پیش آیا اس سے پہلے 17جون 2014ء کو حکمرانوں نے سانحہ ماڈل ٹائون برپا کرکے عوام کا ریاست پر سے رہتا سہتا اعتماد ختم کر دیاتھا۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد قوم سکتے میں چلی گئی کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اشکبار نہ ہوئی ہو۔ دل اور دماغ روتے رہے سوچا کہ اب قوم متحد ہو جائے گی مگر ہم شاید سانحات کے عادی ہو چکے ہیں۔گذشتہ دنوںایک بار پھر پاکستانی مائوں کے سینوں پر چھری چل گئی۔ باچا خان یونیورسٹی میں ماں باپ کی تیار فصل تباہ کر دی گئی۔ اب ایک بار حکمرانوں کے بیانات میں آئے ابال میں کمی ارہی ہے ۔گویا ہم پھرکسی نئے سانحے کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ جھوراجہاز آج بڑے دنوں کے بعد اداس چہرہ لیے آیا کہنے لگا’یہ بھی ملک ہے جہاں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مسجدوں، گرجا گھروں، مندروں ،امام بارگاہوں ،عبادت گاہوں میں سیکیورٹی تعینات کرنا پڑے؟ جس ملک میں جنازوں میں خودکش حملہ آور گھس آئیں، زندہ تو کیا مردوں کو بھی نہ بخشیں؟ یہ کیسا معاشرہ ہے؟ کیسی بے حسی ہے، یہ قوم نفسیاتی مریض بن چکی ہے۔روزانہ صبح اٹھتے ہیں ٹی وی آن کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ابھی کسی سانحے، کسی بم دھماکے، کسی خودکش حملہ کی اطلاع ہماری منتظر ہو گی۔ قارئین! ہلاکو خان کے مظالم سے لے کر آج تک ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ ابھی سانحہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے شہدا کی تدفین بھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے اپنے ہی دیئے ہوئے ایک حکم نامے کو منسوخ کر دیا۔ 19اگست 2015کو سپریم کورٹ نے ملک میں ’’تلور‘‘کے شکار پر پابندی لگائی تو جیسے قیامت برپا ہوگئی۔ ہمسایہ عرب شہزادوں نے پاکستان کا ناطقہ بند کر دیا۔ عرب شیخوں نے ہمارے زرخرید حکمرانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی عدلیہ کو یہ سمجھائیں کہ آزاد ملک ،آزاد فیصلے کرتے ہیں، قرض میں جکڑی قومیں آزاد فیصلوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر حکمرانوں کی پوچھ گچھ ہونے کی بجائے عدلیہ عرب شہزادوں کے لیے پریشان ہے۔ جھورا جہاز پوچھ رہا ہے وڑائچ مجھے پتہ کرکے بتایا جائے کہ کیا پاکستان اس لیے حاصل کیا گیا تھا کہ ہم عرب شہزادوں کے ملازم بن کر جئیں گے؟ ہمارا لاکھوں ایکڑ رقبہ ان عرب شہزادوں کے کھیل تماشے کے لیے مختص کر دیا جائے گا۔ ہماری افرادی قوت صرف اس لیے ہو گی کہ ہم ان عرب شیوخ کی غلامی کر سکیں؟ ہمیں ایران اور عرب ممالک کو سمجھانا ہوگا کہ ہم ان کی پراکسی وار کے لیے مسلکی جھگڑے لیے میدان جنگ بننے کے لیے معرض وجود میں نہیں آئے۔ قارئین گذشتہ ماہ فرانس کے طول و عرض میں دہشت گردانہ حملے ہوئے، فرانس کی حکومت نے ابھی تک ایمرجنسی کا نفاذ جاری رکھا ہے۔ فرانس کے وزیراعظم ’’مینوئل ولاس‘‘ نے ایمرجنسی کو ختم کرنے سے انکار کر تے ہوئے کہا ہے جب تک کوئی ایک بھی دہشت گرد اور داعش کا وجود ہے، فرانس سے ایمرجنسی کا نفاذ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ کتنی عجب بات ہے کہ ہم نے ہلاکو خان، نپولین اور سقوط ڈھاکہ سے سبق نہیں سیکھا۔ سانحہ ماڈل ٹائون،سانحہ آرمی پبلک سکول اور باچا خان یونیورسٹی جیسے سانحات سے سبق نہیں سیکھا اور سانحے کے اگلے روز جب میڈیا ، سیاست دان اور عوام حالت شاک میں تھے مگر ہمارے حکمرانوں کو ٹھیک اسی لمحے کی ضرورت تھی ،ٹھیک اسی لمحے کا انتظار تھاکہ تلور کے شکار پر سے پابندی ہٹوا لیں۔ ٹھیک اسی لمحے ملکی ادارے پی آئی اے کے حصے بخرے کرنے کے اقدام کوقانونی شکل دے لیں۔ ٹھیک اسی لمحے کا انتظار تھا کہ ملک کے لٹیرے، چوروں،ڈاکوئوں کو پارلیمنٹ سے قانون پاس کروا کر موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنا اربوں کھربوں کا لوٹا ہوا کالادھن سفید کر لیں اور پھر کہتے ہو کہ قوم بے حس کیوں ہے، قوم ذہنی مریض کیوں بنتی جا رہی ہے؟ یہ ملک میں اتنا بڑا سانحہ ہو گیا مگر وزیراعظم سوئٹزرلینڈ ڈیووس کیا کرتے رہے ؟ جبکہ سوئس شہری اور یورپی شہری ڈیووس میں ہونے والی کانفرنس کے خلاف ریلیاں نکال رہے تھے۔ 26جنوری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus