×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لیڈر کیسا ہونا چاہیے؟
Dated: 02-Feb-2016
ٹرین دلی کی طرف رواں تھی۔ قائداعظم اپنے کیبن میں بیٹھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ آپ نے دروازہ کھولا، سامنے مہاتما گاندھی کھڑے تھے۔ قائداعظم نے اندر آنے کیلئے راستہ چھوڑا اور پوچھا مسٹر گاندھی! آپ رات کے وقت میرے پاس کیسے تو گاندھی بولے مسٹر جناح! میںالہ آباد جلسے میں آپ اورپاکستان سے متعلق کچھ زیادہ ہی بول گیا۔ مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔ قائداعظم نے کہا مسٹر گاندھی! آپ نے جو کچھ کہنا ہے وہ کل دلی کے جلسے میں عوام کے سامنے کہیے گا۔میں رات کو چھپ کر معذرت کرانایا ڈیل کرنا نہیں چاہتا۔اب بات عوام کے سامنے ہو گی۔ قارئین! یہ ہوتے ہیں لیڈر جو عوام کی مرضی کے بغیر قدم تک نہیں اٹھاتے مگر چند روز پہلے ایک تگڑے صوبے کے وزیراعلیٰ بمع دو وفاقی وزیروں کے موجودہ آرمی چیف کو رات کے اندھیرے میں ایک ڈیل کی آفر کرتے ہیں جسے بالکل قائداعظم کے ہی اندازمیں چیف آف آرمی سٹاف نے ٹھکرا کر قائدقوم اور فوج سب کی عزت رکھ لی۔ سنگاپور کے پہلے وزیراعظم ’’لی کون یے وکی‘‘ نے 3جون 1959ء کو پہلی دفعہ وزیراعظم بن کر اقتدار سنبھالا اور 28نومبر1990ء تک وہ مسلسل سنگاپور کے وزیراعظم منتخب ہوتے رہے۔ 1963ء سے لے کر 1965ء ملائیشیا کے ساتھ الحاق کے معاملے میںعوام کی ترجمانی کرکے انہوں نے تاریخ میں اپنا نام لکھوا لیا۔ ان کے ہی دور میں سنگاپور کو گارڈین سٹی کا نام ملا۔ نیشنل آئرن اینڈ سٹیل مل کا قیام اور نیپٹیون اورینٹ لائن کا منصوبہ سنگاپور ایئر لائن کی بنیاد اور دو بچوں سے زیادہ پیدا کرنے پر بھاری جرمانے کا قانون پاس کیا اور 91سال کی عمر تک بھی تھکے نہیں ۔ جب سلطنت عثمانیہ زوال پذیر ہونا شروع ہوئی۔ 19مئی 1881ء کو پیدا ہونے والے مصطفیٰ کمال نے کم عمری میں ہی اپنے وطن کو غیر ملکی تسلط سے بچانے کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔ اتا ترک کی خواہش تھی کہ ایک جدید لبرل معاشرہ تشکیل دے ۔اس نے نہ صرف ایک بکھری ہوئی قوم کو متحد کیا بلکہ ترکی کو نیا آئین دیا۔ نیا جدید رسم الخط دیا۔ ذات پات کو ختم کیا اور فیملی نام کا سسٹم متعارف کروایا۔ 1935ء کے الیکشن کے بعد ترکی کے 395ممبران میں سے 18خواتین منتخب ہو کر آئیں جبکہ اسی وقت برطانیہ میں 615ممبرز میں سے صرف 9اور امریکہ میں 435ممبرز میں سے صرف 6خواتین تھیں۔ مہاتیر محمد 10جولائی 1925ء کو پیدا ہوئے تعلیم کے دوران ہی یونائیٹڈ ملائی نیشنل آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ 1981ء کو ملائیشیا کے چوتھے وزیراعظم بنے اور 2003ء تک مسلسل 22سال وزیراعظم رہے۔ کمزور ترین ملکی معیشت کو ایسے بلندی تک لے گئے جس طرح دنیا کی اونچی عمارت بنا کر عالم کوششدر کر دیاجائے۔ سِلی کون ویلی کے نام سے انفرمیشن ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔ ملٹی میڈیا کوریڈور بنایا۔ ملائیشیا میں پہلی دفعہ فارمولا ون گرینڈ پری ریس کا میلہ لگانے میں کامیاب ہوئے۔ ملکی اور غیر ملکی مخالفت کے باوجود ’’باکون‘‘ ڈیم بنایا جس سے آج ملائیشیا کو بجلی و انرجی کی کوئی فکر نہیں۔ اگر سچ کہا جائے تو ملائیشیا کوایشین ٹائیگر بنا دیا مگر اقتدار سے چمٹے رہنے کی خواہش نہ کی۔ آج ملائیشیا باقی ممالک کے لیے رول ماڈل ہے۔ اقوام بنانے والے لیڈرز کی بات ہو رہی ہے تو نیلسن منڈیلا کو کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے۔ جس نے کالے افریقیوں کو آزادی دلانے کے لیے اپنی آدھے سے زیادہ زندگی جیلوں کی نذر کر دی۔1996ء کے الیکشن میں تاریخی کامیابی کے بعد انہوں نے افریقہ کی عوام کو متحد کردیا۔ نیلسن منڈیلا کو نوبیل انعام تو ملا ہی مگر وہ دنیا بھر کی اقوام کے لیے جدوجہد اور ہمت کی علامت بن گئے۔ اسی طرح برطانیہ کے سرونسٹن چرچل جو 1940ء سے لے کر 1945وزیراعظم منتخب ہوئے اور 1940-41ء میں جب انگلینڈ تقریبا اکیلا رہ گیا تھا تو اس وقت سرونسٹن چرچل نے قوم کا مورال بلند کیا۔ اور خاص طور پران بیانات کو ریڈیو پر نشر کیا جاتا جس سے ہٹلر سے سہمی اور ڈری ہوئی قوم کو حوصلہ ملتا۔ مائوزے تنگ کے لافانی کردار کو بھی نہیں بھلایا جا سکتا جس نے ایک بکھری ہوئی قوم کو اس قابل بنایا کہ آج بلاشبہ وہ دنیا کی معیشت پر اکیلے حاوی ہیں۔ آج چائنا کی معیشت امریکہ کے بعد دنیا کی سب سے مضبوط معیشت ہے۔ چیئرمین مائو کے اقوال نے چینی قوم کی سمت تبدیل کرکے رکھ دی۔ آج چائنا نے ثابت کرکر رکھ دیا ہے کہ نام نہاد یورپی جمہوریت کے بغیر بھی ترقی کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔ آج دنیا بھر خصوصاً یورپ چین کے پیچھے بھاگ رہا ہے کہاں گئی ان کی جمہوریت؟ اسی طرح جنوبی کوریا کے راہنما کم ال سنگ جرمنی کے چانسلرہیلمٹ سمتھ ، فرانس کے چارلس ڈیگال اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈروں نے اپنی اپنی قوموں کو جو ویژن دیئے ان سے قوموں نے سیکھا اور معراج حاصل کی جبکہ ہم نے قائداعظم کو جو ایمبولینس میں پڑے اپنی قوم کے لیے پریشان تھے اور ان کی ایمبولینس پنکچرڈ پڑی تھی۔ گاندھی کو ایک ہندو انتہا پسند نے گولی مار دی۔ ذوالفقار بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ اندرا گاندھی کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو سڑک پر شہید کر دیا گیا۔ بالکل اسی جگہ پر جہاں چند سال پہلے لیاقت علی خاں کو شہید کر دیا گیا تھا۔خدا نے ہمیں بار بار قیادت سے نوازا مگر ہم نے ناشکری کی اور آج ہم قیادت کے بحران کے شکار ہیں۔ یہ المیہ نہیں تو کیا کہ باچا خان یونیورسٹی کے جوانوں کے لاشے انتظار کرتے رہے کہ ان کا کوئی پرسان حال ہو۔ وزیراعظم ڈیووس کے غیر ضروری دورے سے واپس آسکتے تھے مگر انہوں چار دن ڈیووس میں ضائع کئے اورلندن کا نجی دورہ ضروری سمجھا۔ لندن میںاربوں روپے کی انویسٹمنٹ ہے ت اور سوئٹزرلینڈ میں عالمی راہنمائوں سے ہاتھ ملانا بھی تو سعادت کی بات تھی ناں؟ اگر ملک کا ایک سابق صدر جس نے پہلی دفعہ پانچ سال کی مدت پوری کی وہ کھربوں روپے لوٹ کر فرار ہے۔ ایک سابق وزیر کئی سو ارب روپے کے فراڈ میں زیر حراست ہے۔ کئی وفاقی و صوبائی سیکرٹری ملک سے بھاگ چکے ہیں۔ چور چور کو چور کہہ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے چند وزراء گرفتاری کے ڈر سے خاموش ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کئی ساتھی فرار ہو چکے ہیں تو پھر قیادت کون کرے گا۔ طاہر القادری کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ عمران کے پاس ویژن نہیں، راحیل شریف ایکسٹینشن نہیں چاہتے تو یا خدایا پھر یہ بائیس کروڑ کا ہجوم کیا کرے؟ اگر جنرل راحیل شریف بھی چلے گئے تو یہ 22کروڑ عوام ایک دوسرے کو کھا جائیں گے۔ قوم پکار رہی ہے،ہمیں جمہوریت سے زیادہ سلامتی چاہیے۔ ہمیں ایک درد دل رکھنے والا،ویژن رکھنے والا ،قوم کی سمت بدلنے والا لیڈر چاہیے۔ ہمیں اس سے غرض نہیں کہ وہ سوشلسٹ ہے، کیمونسٹ ہے، جمہوری ہے، اسلامی ہے، لبرل ہے، نیشنل ہے، مگر ہمیں ایک سچا پاکستانی چاہیے۔،صرف پاکستان سے پیار کرنے والا جس کا سرمایہ پاکستان میں ہو۔عزیر بلوچ کی گرفتاری پر صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ 2فروری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus