×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جنرل راحیل پردھمکیاں،گیڈر بھبکیاں بے اثر
Dated: 16-Feb-2016
کچھ بھانڈایک گائوں سے گزر رہے تھے، انہوں نے دیکھا ایک گھر کے باہر شامیانے لگے ہوئے ہیں۔ وہاں پر کافی رش تھا۔ بھانڈوں نے سوچاکہ یہ شادی کی کوئی تقریب ہے اور فوراً اپنے ’’چموٹے‘‘ نکال لیے۔ ہجوم کے قریب پہنچ کر اپنے مخصوص انداز میں صدائیں لگانا شروع کر دیں۔’’بھاگ لگے رہن اللہ اور خوشیاں دے وغیرہ وغیرہ)لوگوںنے بھانڈوں کی چھترول شروع کر دی۔ بھانڈ چلاتے ہوئے پوچھنے لگے ہم سے کیا غلطی ہوئی؟ گائوں والوں نے کہا ارے اُلّو کے پٹھو اس گھر میں آج ایک جوان موت ہوئی ہے۔ پورا گائوں غمزدہ ہے اور آپ لوگوں کو ’’جگتوں‘‘ کی سوجھی ہے۔ قارئین بالکل اسی طرح گذشتہ روز بھارتی وزیرعظم جو ہر جگہ ’’جماں جماں جنج نال‘‘ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیلفیاں بنوانے کے شوقین ہیں ،نے افغان صدر اشرف غنی کو ٹویٹر پر سالگرہ کا پیغام بھجوایا۔ افغان صدر کی طرف سے نریندر مودی کو جواب میں بتایا گیا کہ صدر اشرف غنی کی سالگرہ آج نہیں ہے بلکہ 19 مئی کے دن ہے، جس پر پوری انڈین سرکار کی وہ سُبکی ہوئی جو اس گائوں میں بھانڈوں کی ہوئی تھی۔ قارئین ! گذشتہ روز پہلے ڈی جی آئی بی اور پھر ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک پریس کانفرنس میں اس پر مہرتصدیق ثبت کر دی کہ پچھلے کافی سال سے کراچی میں کالعدم ٹی ٹی پی اور القائدہ برصغیر کے نیٹ ورک کے علاوہ داعش بھی اپنے مذموم ارادوں کے ساتھ باقاعدہ موجود ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نہ صرف گرفتار ملزمان کو دکھایا بلکہ ان سے برآمد ہونے والا بھاری اسلحہ بارود کی کھیپ بھی میڈیا کو دکھائی اور بقول آئی ایس پی آر ملزمان نے اعترافات کیے ہیں کہ پاکستان میں اب تک ہونے والے تمام بڑے سانحات کی کڑیاں انہی ملزمان اور ان سے منسلک گروہ سے ملتی ہیں، تو سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی ان کے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہمیشہ اس بات سے انکاری رہے ہیں کہ کراچی میں مندرجہ ذیل قوتوں کا کوئی وجود بھی ہے ۔ نہ صرف سابقہ عسکری قیادت بلکہ سابق منتخب وفاقی حکومت اور ان کے وزیر داخلہ رحمان ملک بھی اپنے دور میں آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔موجودہ عسکری قیادت کے اعتراف اور انکشاف کے بعد ضرورت اب اس امر کی ہے کہ سابقہ عسکری ٹیم کا بمع سابق آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور دیگر مجاز اور طاقتورحکام کو غفلت برتنے اور قوم سے جھوٹ بولنے پران کا کورٹ مارشل کیا جائے جبکہ شریکِ جرم ہونے کی بنا پر سابق صدر ان کے دو وزراء اعظم،وزیر دفاع اور سابق وزیر داخلہ کو عبرتناک قرارواقعی سزائیں دی جائیں اور موجودہ حکومت نے بھی کیا خوب تماشا بنا رکھا ہے کہ وزیرداخلہ چودھری نثار داعش اور القائدہ کی پاکستان میں موجودگی سے صرف اس لیے انکاری ہیں کہ کہیں لال مسجد اور اس کے مکین مشکل میں نہ پھنس جائیں جبکہ رانا ثناء اللہ ہمیشہ کی طرح اپنے بیان بدلنے کے ماہر ہیں، کبھی وہ داعش اور ٹی ٹی پی کی پنجاب میں موجودگی کو ’ہوا‘ بنا کر پیش کرتے ہیں،کبھی اس کے وجود سے ہی انکاری ہوجاتے ہیں۔اسی طرح سندھ کے قدیم وزیراعلیٰ وڈے سائیں نے گذشتہ روز سندھ میں ٹی ٹی پی اور داعش کی موجودگی سے اظہار لاعلمی کیا ہے، تو قارئین سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کون سی عینک یا چشمہ ہے جسے لگا کر وطن دوستوں کو امڈھتے ہوئے خطرات نظر آتے ہیں۔ وہ کونسی بے بسی یا مجبوری ہے جس کے تحت سیاسی قیادت کچھ کہنے اور قبول کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔آخر کب تک کبوترکی طرح آنکھیں بند رکھی جائینگی۔ گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل پر محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے نام پر بننے والے کچھ پراجیکٹس جن میں بے نظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ، بے نظیر ہسپتال اور کچھ پارکس کے علاوہ شہید بے نظیر آباد شہر کے منصوبے نہ صرف ٹھپ ہو چکے ہیں بلکہ آثارِ قدیمہ کے مناظر پیش کر رہے ہیں۔ میری چیئرمین بلاول بھٹو سے درخواست ہے کہ اپنی شہید ماں کے نام پر آپ گذشتہ سات سال سے سندھ پر قابض ہیں۔ یاد رکھیئے بے نظیر اور بھٹو کے نام لینے والے تو شاید آنے والے دنوں میں بھی مل جائیں مگر بے نظیر کا نام استعمال کرنے والے تاریخ سے مٹ جائیں گے۔قارئین! کچھ دن پہلے مسیحیوں کے فرقے رومن کیتھولک کے سربراہ پوپ فرانسس اور دوسرے فرقے آرتھوڈوکس کے روحانی پیشوا پیٹریاک کے درمیان کیوبا کے شہر ہوانا میں ایک ہزار سال کے بعد پہلی دفعہ اکٹھے مل بیٹھنے پر مذاکرات ہوئے، اس دوران آرتھوڈوکس اور کیتھولک فرقوں کی آپس میں جنگوں کے دوران اربوں انسان لقمۂ اجل بنے لیکن ایک ہزار سال بعد بھی انہیں اپنے مذہب اور بنی نوع انسان کی فلاح مذاکرات میں ہی نظر آئی۔ کیا عالمِ اسلام میں اس وقت کوئی ایسی تنظیم، کوئی ایسا لیڈر، کوئی ایسی قیادت موجود ہے جو تمام مسلمان مسلکی فرقوں کو ایک میز پر بٹھا کر صلح، امن آشتی کا راستہ دکھا دے؟ اپنے گذشتہ کالم میں قارئین کو مطلع کیا تھا کہ پاکستان کو متوقع طور پر امریکہ سے آٹھ جدید ایف 16طیارے ملنے کی بات چل رہی ہے اور اس بِل کے پاس ہونے سے پہلے سابق صدر آصف علی زرداری ، سابق وزیرخزانہ سلیم مانڈی والا اور کچھ دیگر رہنما ڈالرز سے بھرے بریف کیس لے کر امریکہ پہنچ گئے۔ جہاں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے پاکستان مخالف لابی تیار کر رکھی تھی جنہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر وہ امداد رکوانے میں ناکام رہے۔ دراصل حسین حقانی اور آصف علی زرداری پاک فوج کے ساتھ ایک ’’این آر آو‘ ‘ کی تلاش میں ہیں جس کے لیے وہ لابنگ کرکے عسکری قیادت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتے تھے مگر وہ نہیں جانتے کہ دو نشانِ حیدر رکھنے والے گھرانے کا چشم و چراغ سیاسی گیڈر بھبکیوں میں نہیں آتا۔ 16فروری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus