×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یہ سب گورکھ دھندہ ہے!
Dated: 23-Feb-2016
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکولز کے دوروں پر تھے اور اسی سلسلے میں انہوں نے اچانک ایک سکول کا دورہ کیا۔ ایک کلاس روم میں گئے طلبہ کی حاضری دیکھی اور تعلیمی معیار چیک کرنے کے لیے طلبہ سے سوال کیا کہ سومنات کا مندر کس نے توڑا؟ تو یک زبان سارے بچوں نے جواب دیا جناب ہم نے تو نہیں توڑا۔ ڈی ای او نے کلاس ٹیچر کی طرف دیکھا تو ٹیچر گھبرا کر کہنے لگا کہ جناب میں تو دو ماہ کی چھٹی کے بعد آج سکول آیا ہوں، یہ میری غیر موجودگی میں کسی نے توڑا ہوگا۔ اتنی دیر میں پاس ہی کھڑے سکول کے ہیڈ ماسٹر بولے سر یہ کام کسی بچے کا ہی ہے آپ کے ڈر سے نہیں مان رہے۔ قارئین! بالکل ٹھیک اس طرح گزشتہ دنوںوزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم ہائوس سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ایک سرکاری سکول کا دورہ کیا ،درجن بھر وفاقی وزراء، غیر ملکی سفیراور صحافیوں کی فوج ان کے ساتھ تھی۔ ٹی وی فوٹیج سے صاف پتہ لگ رہا تھا ان کی جانشین بیٹی مریم نواز نے یہ وزٹ ارینج کیا ہوا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے ایوانِ اقتدار کے قلب میں واقع اس سکول کی لاکھوں کروڑوں روپے سے تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ پھر اسی ڈی ای او کی طرح وزیراعظم موصوف پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ایک کلاس روم میں بچوں سے جنرل نالج کا یہ سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں کتنے برِاعظم ہیں؟ بچے جواب نہیں دے پاتے پیچھے سے کہیں آواز آتی ہے سات۔ وزیراعظم دوسرا سوال کرتے ہیں کہ دنیا میں کتنے سمندر ہیں پھر بھی جواب نہیں آتا شاید وزیراعظم موصوف کو یہ سوالات دیئے گئے تھے اور ان کا جواب ان کو خود بھی نہیں آتا ہوگا۔ قارئین اسلام آباد کے وسط میں واقع یہ ساڑھے چارسو سکولوں میں سے ایک کا حال ہے، جسے وزیراعظم کے خصوصی وزٹ کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ کیا ہمارے ملک کے حکمران اسلام آباد اور لاہور سے باہر نکل کر کشمور، رحیم یار خان، بدین، ڈیرہ بگٹی ، جھنگ،میانوالی، بھکر ،لیہ، کوٹلی اور چارسدہ کے کسی سرکاری سکول کا دورہ کرنا پسند کریں گے۔ جہاں سکول کی عمارت تو کیا درختوں کے نیچے بیٹھ کر غریب طلبہ اِک دونی دونی، دو دونی چار کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان بھر کے ساٹھ ہزار سے زائد سکول صرف کاغذات کی حد تک موجود ہیں جبکہ ان میں تعینات عملہ سالوں سے کبھی سکول تک نہیں آیا اور ایسے بیشتر اساتذہ بیرون ملک نوکریاں کر رہے ہیں، جبکہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی جہاں پوری عالمی دنیا کے ساتھ ہمار امقابلہ صرف تعلیم ہی کی وجہ سے ممکن ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں اس شعبے میں تین فیصد بھی خرچ نہیں کیا جاتا جبکہ لاہور میں ایک اورنج ٹرین چلانے کے لیے جس کی مسافت صرف 27کلومیٹر ہے دو سو ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے اور ضرورت بھی کیا ہے کیونکہ حکمرانوں ، پارلیمنٹیرین اور بیوروکریٹس کی اولادیں تو برطانیہ،امریکہ، کینیڈ اور یورپ کی مہنگی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرکے پاکستان میں حکمرانی کرنے کے لیے واپس آ جاتے ہیں۔ قارئین گذشتہ ہفتے وزیراعظم کے اس سکول کے دورہ کے بعد وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی نے اس تقریب کی فوٹیج کو سیاسی مقاصد کے لیے نجی و سرکاری ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا پر دو ارب روپے کی لاگت سے کمپین شروع کر رکھی ہے۔ ان دو ارب روپوں سے کم از کم دو ہزار گھوسٹ سکولوں کو حقیقت دی جا سکتی تھی۔ قارئین،گزشتہ ہفتے نیب کی ایک ٹیم پنجاب کی بڑی شخصیت کے جانشین بیٹے کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے گھر پہنچی ۔ دوسری طرف بالکل اسی وقت نیب کی ایک ٹیم مشہور شخصیت فواد حسن فواد کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچی۔ بیٹے نے فوراً اپنے والد صاحب کوبلوا لیا جنہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو فون کرکے ساری صورت حال سے آگاہ کیا ۔وزیراعظم جو پہلے ہی نیب سے اس وجہ سے ناخوش تھے کہ بقول رانا ثنا اللہ ،میاں منشا جیسے شرفاء کو بلوا کر نیب تضحیک کرتی ہے۔ نیب اتنی جلدی حب الوطنی میں مبتلا ہو گئی ہے اس کی سمجھ بہت سے پاکستانیوں کو نہیں آ رہی کیونکہ ماضی قریب میں این آر او اور اٹھارویں ترمیم پاس ہونے کے بعد وزیراعظم اور قائدحزب اختلاف کی باہمی رضامندی سے ایک ایسے شخص کو نیب کا چیئرمین مقرر کیا گیا جو نہ صرف فوج میں میجر کے عہدے پر کام کر چکا ہے بلکہ ایک لمبے عرصے سے سول سروس میں یس سر اور یس منسٹر کی صدائیں لگانے میں بھی مشہور ہے۔ قارئین! یہ وہی نیب ہے جس نے سرکاری خزانے سے اربوں روپے خرچ کرکے اٹھارہ سال تک سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن اور سوئس کیسز کی تحقیقات کیں ،جس کے نتیجے میں حکومت کو تو کچھ نہ ملا مگر آصف علی زرداری کو سرے محل، بہتر ملین سوئس فرانک اور مشہور ڈائمنڈ ہار واپس مل گیا۔ نیب کی تحقیقات اور شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ راقم جسے ان سوئس کیسز میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی نے اپنا مختارِ خاص مقرر کیا تھا اور قانونی طور پر یہ مینڈنٹ میرے پاس آج بھی ہے مگر پاکستان کے کسی ادارے ،کسی عدالت، کسی ایجنسی اور نیب نے مجھ سے رسماً بھی پوچھا تک نہیں۔ میں نے متعدد دفعہ اپنے کالموں، پریس ریلیز اور ٹی وی ٹاک شوز پر اس کا برملا اظہار اور اعتراف کیا ہے۔ دراصل نیب کا پورا سٹاف خود ہی کرپٹ ہو چکا ہے۔ خود چیئرمین نیب وزیراعظم، چاروں وزرائے اعلیٰ ،اپوزیشن لیڈر اور قومی اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے کلیدی عہدوں پر براجمان سیاستدان، بیوروکریٹس اور کافی حد تک اسٹیبلشمنٹ کے لوگ نیب کے زیر تفتیش ہیں اور جب تک شرفاء کا احتساب شروع نہیں ہوگا احتساب شفاف نہیں ہوگا۔ آج بڑے بڑے گھرانوں کے بچے ایک دوسرے کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ میرے پاپا پلی بارکیننگ کرکے واپس گھر آ گئے ہیں۔ قارئین! ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق آئندہ چند مہینو ںمیں پاکستان کی اکانومی ڈیفالٹ کر جائے گی اور ہمارے دشمن جو ہم سے دوبدو لڑائی میں تو نہ جیت سکے مگر ہمارے کرپٹ سیاستدانوں اور ناجائز فروش سرمایہ داروں کی وجہ سے معاشی طور پر لاغر کرکے ہم سے ہمارا نیوکلیئر اثاثہ چھیننا چاہتے ہیں اسی لیے یہ گورکھ دھندا ترتیب دیا گیا ہے۔ 23فروری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus