×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گلوبل ویلج رحمان ملک اور استاد امام دین سے مصطفیٰ کمال تک
Dated: 08-Mar-2016
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com زمانۂ طالب علمی کی بات ہے کہ جو بھی کوئی فحش شعروشاعری سننے کو ملتی وہ یار لوگ استاد امام دین گجراتی سے منسوب کر دیتے بلکہ مزاحیہ شاعری میں یہ نام زبان زدِ عام تھا۔ میں ایک دفعہ خصوصی طور پر گجرات صرف اس لیے گیا کہ استاد امام دین کا دیوان ’’بانگِ دہل‘‘ خرید کر لائوں کتاب خرید کر لائے اور اس تجسس کے ساتھ کہ اس میں استاد امام دین سے منسوب شاعری پڑھنے کو ملے گی مگر حیرت کی انتہا ورق گردانی کے ساتھ بڑھتی گئی کیونکہ یہ ایک عام ردیف قافیہ سے عاری شاعری کا مجموعہ تھا۔ تو پھر اندازہ ہوا کہ جو کوئی بھی فحش اور نیم فحش شعر ہوتا ہے اسے استاد امام دین سے منسوب کر دیا جاتا ہے بلکہ اسی طرح جس طرح پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں وزیرداخلہ رحمان ملک سے ہر وہ بات منسوب کر دی جاتی ہے جو اس نے کہی یا نہیں کہی ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ رحمان ملک جھوٹ بولنے سننے اور کہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، جب سے قاسم ضیاء نے رحمان ملک سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا تعارف کروایا پھر اس دن سے رحمان ملک اپنی حیرتِ زبانی سے محترمہ اور زرداری کے اتنا قریب ہو گیا اور شہید بی بی کو یہ مشورہ دے ڈالا کہ اقوامِ متحدہ کے آئل فارفوڈ پروگرام کے سلسلے میں صدام حسین کو فون کرکے ان کی کمپنی کو فوڈ سپلائی کے ایگریمنٹ دیئے جائیں، بعد میں دوبئی میں اس سلسلے میں ایک کمپنی تشکیل دی گئی اور پھر کئی سو کروڑ کا بزنس اس کمپنی کو ملا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے جب اس کمپنی کا حساب مانگا تو انہیں پتہ چلا کہ موصوف اربوں روپے کا ٹیکہ بھٹو اور زرداری خاندان کو لگا چکے ہیں۔ بعدازاں رحمان ملک چند ایک دوسرے معاملات کے ساتھ اس مسئلہ پر بھی آصف علی زرداری کو بلیک میل کرتے رہے ،خود آصف علی زرداری کو شروع سے ہی رحمان ملک پر شک تھا کہ وہ برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی سکس کے لیے کام کرتا ہے یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں جب بھی کبھی ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت کی پیپلزپارٹی کی ناراضگی حد سے بڑھی تو رحمان ملک نے الٰہ دین کے چراغ کی طرح دونوں رہنمائوں کے درمیان ہمیشہ صلح کروا دی۔ ایک باوثوق ذریعہ کے مطابق موصوف کو ان خدمات کا صلہ ’’را‘‘ سے بھی ملتا رہا۔ ابھی پچھلے دنوں موصوف نے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کو اپنی چرب زبانی سے بیوقوف بنا کر رکھ دیا۔ میں نوائے وقت کے قارئین کو یہ وثوق سے بتاتا چلوں کہ گذشتہ دنوں آصف علی زرداری کا جنرل راحیل شریف کے حق میں پہلے بیان اور بعد میں مُکر جانا دراصل رحمان ملک کی غیر مصدقہ اطلاعات کی بنا پر تھا۔ آصف علی زرداری کے بیان سے منحرف ہو جانے کے بعد رحمان ملک بذاتِ خود نیویارک تشریف لے گئے اور سابق صدر کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعے مطلوبہ بیان دینے پر راضی کر لیا اور اس پریس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کر دیا گیا مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ نادیدہ قوتوں کو ان کی متوقع پریس کانفرنس کے مندرجات کا علم ہو گیااور مقررہ وقت سے صرف چند گھنٹے پہلے ہی کراچی کے سابق میئر اور الطاف حسین کے دائیں بازو مصطفیٰ کمال اور ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنوینئیر انیس قائم خانی کی غیر شیڈول ہنگامی پریس کانفرنس کروا دی گئی اور اس طرح ’’ایم آئی سکس‘‘ اور ’’را‘‘کا مشترکہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ دراصل یہود و ہنود اور برطانوی خفیہ ایجنسیاں اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستان کے حصے بکھرے کرنا چاہتی ہیں۔ سرفراز مرچنٹ کے اقبالی بیانات کے بعد الطاف حسین پر ’’را‘‘ سے فنڈز لینا ثابت ہو جاتا ہے جبکہ ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی پیش رفت کچھوے کی چال سے بھی کمتر ہے۔ حالانکہ برطانوی خفیہ ادارہ اور پولیس پاکستان آ کر عمران فاروق کے قاتلوں سے مکمل انٹرویو اور تفتیش کر چکے ہیں۔ ادھر ’’را‘‘ اور ’’ایم آئی سکس ‘‘ کی شدید خواہش ہے کہ انتہائی بیمار اور علیل الطاف حسین کو کسی بھی طریقے سے پاکستان بھجوا دیا جائے تاکہ الطاف حسین کی پاکستان کی سرزمین پر متوقع موت کو وہ پاکستانی اداروں کے سر ڈال کر کراچی اور پاکستان کے حالات کو ایک بار پھر تشویش ناک حد تک لے جائیں۔ 1992ء میں پاکستان سے فرار ہو کر لندن جا کر بیٹھ جانے والے کریمنل گروہ جس پر ہزاروں جانیں لینے کا الزام ہو، اسے میزبان ملک نہ صرف سیاسی پناہ دے بلکہ تمام بھگوڑے سیاسی ورکروں کو پاسپورٹ بھی جاری کر دے اور بقول ڈاکٹر فاروق ستار کہ 92ء کے آپریشن کے بعد ہمارے کچھ لوگ بھارت بھی چلے گئے تھے اور اگر انہوں نے وہاں عسکری تربیت اور فنڈز وصول کیے ہیں تو اس سے ایم کیو ایم کی مرکزی قیادت بے خبر ہے۔ ؎ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔ دوسری طرف پنجاب کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے تقریباً سارے وزراء خواجہ آصف، دانیال عزیز، عابد شیر علی، خاقان عباسی، سعد رفیق منظر سے اس طرح غائب ہیں کہ جیسے وہ تھے ہی نہیں۔ ایک لے دے کر زبیر عمر اور رانا ثناء اللہ یا پرویز رشید کبھی کبھار نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے اعلیٰ عہدے داروں کا انڈر گرائونڈ چلے جانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کے سیاسی موسم میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ قارئین! آج سے چند سال پہلے نوائے وقت کے صفحات پر میرا کالم ’’لاہور کو بھی ایک مصطفیٰ کمال چاہیے‘‘ شائع ہوا تھا، تب مصطفیٰ کمال، ہارون رضا اور حیدرعباس رضوی، مبشر لقمان کے ہمراہ میرا شکریہ ادا کرنے میرے پاس آئے تھے۔جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ کراچی میں سید مصطفیٰ کمال کی آمد اور اس کے ساتھ فنکشنل لیگ کے پیر پگارڑا صاحب کی قومی اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی جستجو میں اگر انہیں پنجاب میں ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی تحریک اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہو گئی تو پاکستان کی تاریخ کا یہ مضبوط ترین سیاسی اتحاد ہوگا کیونکہ قوم اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادتوں سے دلبرداشتہ ہو چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس اتحاد کو گجرات کے چودھریوں اور مشرف کا تڑکا بھی لگانا پڑ جائے۔ 8مارچ2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus