×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قومی ترانے کی چائنہ کٹنگ
Dated: 22-Mar-2016
میں اور میرے دوست قومی ترانے کے احترام میں ٹی وی سیٹ کے سامنے باادب کھڑے تھے۔ پاکستان کے مشہور گائیک شفقت امانت علی کو بھارت نے قومی ترانہ پیش کرنے کے لیے کلکتہ مدعو کیا تھا۔ پاکستان کا قومی ترانہ شروع ہو چکا تھا۔ برصغیر کے ڈیڑھ ارب سے زائد سامعین اور ناظرین دیکھ اور سن رہے تھے کہ ہمارے گلوکار نے ایک دم قومی ترانے کی چائنہ کٹنگ کرکے اس کا اختتام کیا۔ میرے پاس موجود تمام ساتھیوں کو ہی اچنبھا ہوا کہ اتنے میں ایک دوست بولے کہ آج کا بیس اوور کا میچ بارش کی وجہ سے اٹھارہ اوورز تک محدود کر دیا گیا ہے۔ شاید اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہمارے گلوکار نے قومی ترانے کی چائنہ کٹنگ کرکے اٹھارہ اوور کی مطابقت سے گا دیا۔ہمارے ہاں ایسے’’ فنکار‘‘ بہتات سے پائے جاتے ہیں:رحمٰن ملک کو تلاوت کا شوق ہے مگر سورۃ اخلاص نہیں آتی۔ قارئین گذشتہ دنوں سے لے کر اب تک کرکٹ کے موضوع پر بہت کچھ کہنا اور لکھا جا چکا ہے مگر ہمارے منتظمین کی چڑیوں سے باز مروانے کی خواہش ابھی ختم نہیں ہوئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جس طرح جب ملک کا قومی ترانہ لکھا گیا تو اس وقت کے زمینی حقائق قطعی مختلف تھے اس دور میں ہمارے سکولز میں فارسی کو لازمی مضمون کی اہمیت حاصل تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مفکرِ پاکستان حضرت علامہ اقبال نے اپنی تقریباً تمام شاعری کے لیے فارسی زبان کو ہدفِ قلم بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ حفیظ جالندھری مرحوم نے اس وقت کا قومی ترانہ فارسی زبان میں لکھنا مناسب سمجھا۔وہ فارسی کے ترانے میں اردو کا ایک لفظ شامل کر کے قومی ترانے میں ایک چائنہ کٹ لگا گئے۔ یہ الگ داستان ہے کہ مسجد میں ہمارے بچوں کو زبردستی عربی پڑھنے کو کہا جاتا ہے اور سکولز میں فارسی ترانہ گانے کو جبکہ دونوں زبانیں ہی پنجاب یا اردو بولنے والے طالب علم کی پہنچ سے دور ہوتی ہیں۔ ملک کے سیاسی زعما اور حکمرانوں سے درخواست ہے کہ اگر وہ اپنی حکمرانی کے لیے قومی ترانے کے سالوں بعد 1973ء کا آئین پاس کر سکتے ہیں جس میں 2016ء تک تقریباً ت تئیس بڑی ترامیم ہو چکی ہیں تو پھر پاکستان کے قومی ترانے کوبھی موجودہ دور کی نسل کے تقاضوں اور سمجھ کے مطابق اردو زبان میں لکھوایا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ آئین میں اس پر پابندی نہیں ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ ہم جو بول، دیکھ اور گا رہے ہوتے ہیں اس کی سمجھ بھی ہونی چاہیے۔ قارئین گذشتہ دنوں ایم کیو ایم کے وجود سے جدا ہونے والے ایک دھڑے کے سربراہ مصطفی کمال اور ان کے ساتھی ہارون رضا نے سیاست دانوں کے متعلق اشارتاًہیپی آورز‘‘ کا لقمہ دیا مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں 80کے شروع کی دہائی میں سوئٹزرلینڈ گیا اور وہاں پر تعلیم حاصل کر رہا تھا تو ایک دن میرے روم میٹ دوست نے مجھے کہا کہ آئو باہر چلیں، ساتھ والے ریسٹورنٹ بار پر ہیپی آورز شروع ہو چکے ہیں، میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چل پڑا تو مجھے پتہ چلا کہ پورے یورپ کے ریسٹورنٹس اور بارز پر شام پانچ بجے سے سات بجے کے دوران ایک ڈرنک کے ساتھ دوسرا فری ملتا ہے اس لیے اسے ہیپی آورز کہتے ہیں۔ اب پتہ نہیں ہمارے دوست ہارون رضا کونسی چیز کے ساتھ کیا فری دینے کے وعدے کر رہے ہیں مگر ایک بات تو طے ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی شام کو ہیپی آورزکا سا سامان بنا دیتے ہیں۔ آج کا تیسرا موضوع وہ ایک ویڈیو کلپ تھا جو دیکھ کر میرے سمیت ہر دیکھنے والے کے اوسان خطا ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی اس ویڈیو کلپ نے بہت تفصیل سے پی آئی اے کے ساتھ ہونے والی ممکنہ زیادتی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ مین ہیٹن نیویارک کے دل میں واقع ہوٹل روزویلٹ جس میں پندرہ سو کمرے اور باون لگژری اپارٹمنٹس ہیں اور اس ویلیو کے اسی علاقے میں کچھ دوسرے ہوٹلز کی قیمتیں اس وقت دو ارب ڈالرز کے قریب ہیں یعنی دو ہزار ارب روپے کے مالیت کے اس ہوٹل کو ہمارے موجودہ حکمران اپنے تجارتی پارٹنرمیاں منشا کو صرف ایک ارب روپے میں فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ یا درہے آج سے دو دہائیاں پہلے یہی میاں منشا اپنے انہی شریف دوستوں سے ملک کا سب سے بڑا مسلم کمرشل بینک جس کی مالیت بوقت فروخت کئی سو ارب روپے تھی کو صرف چند کروڑ روپوں میں خرید لیا تھا۔ مجھے یہاں یہ لکھتے ہوئے ذرابھی جھجک محسوس نہیں ہو رہی کہ شریف برادران دو دفعہ اقتدار سے علیحدہ کیے جانے اور آٹھ سالہ جلاوطنی کا انتقام اس غریب ملک کے برلبِ جاں بیس کروڑ عوام اور قومی خزانے سے لے رہے ہیںجبکہ قوم مست ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز پر رنگارنگ پروگرام خوش گپیاں اور بھانڈوں کے پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں، قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ ملکی ترقی اور انقلاب ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھ کر چائے پینے میں پنہاں ہے۔ قارئین رواں ہفتے بھارت کے دارالحکومت نیو دہلی کے رام لیلہ گرائونڈ میں پیراشرف جیلانی کی رہنمائی میں انٹرنیشنل صوفی فورم اور کانفرنس کا انعقاد جاری ہے جس کے مختلف سیشن کے دوران تقریباً ڈیڑھ کروڑ حاضرین شرکت کریں گے جبکہ پچاس ممالک سے پانچ ہزار کے قریب صوفیائے کرام ،مفتی، علماء اور درگاہوں و خانقاہوں کے پیر اور منتظمین شامل ہوں گے۔ یاد رہے بھارت میں اس وقت بائیس لاکھ سے زائد خانقاہوں اور درگاہوں کا ایک پورا سلسلہ موجود ہے۔ بھارت میں ہونے والی یہ عالمی صوفی کانفرنس اس لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ ہمارے سچے مذہب اسلام پر پچھلے پندرہ سال کے دوران جو دہشت گردی کے گہرے داغ لگے ہیں ان کو حقیقی اسلام سے مٹایا جا سکے۔گذشتہ روز اس کانفرنس کے سب سے خصوصی خطاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے اپنی تقریر میں دنیا کے سات ارب لوگوں کو یہ واضح پیغام دیا کہ داعش اور آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ جیسی تنظیموں نے مذہب اسلام کا نقاب پہن کر دنیا بھر اور خصوصا ً مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے اور یہ کہ حقیقی اسلام میں جہاد کی اجازت مملکت اور ریاست کو ہے۔ اس دوران بھارت کے مختلف ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا پر دیئے جانے والے ڈاکٹر طاہر القادری کے انٹرویوز نے نہ صرف پاکستانی ریاست کی ترجمانی کی ہے بلکہ ایک لبرل اور پروگریسو اسلام کی حقیقی منظر کشی بھی کی گئی ہے۔ 22مارچ2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus