×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جب جل رہا تھا پاکستان
Dated: 29-Mar-2016
ضیاء الحقی فلسفۂ اقتدار نے قوم کو نظریاتی طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا اور ملکی اساس کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔ قوم کو ایک غلط سمت کی طرف لگا دیا گیا اور اس وقت کے لگائے ہوئے گناہوں کے وہ پودے آج تناور درخت بن چکے ہیں۔ سابقہ سوویت یونین کے خلاف پاکستان کی سرزمین کو موبلائزیشن کے لیے استعمال کیا گیا۔ سکولوں ، کالجوں، یونیورسٹیوں سے طلباء کو کلاشنکوف تھما کر نام نہاد جہاد کے میدانِ کار میں بھیج دیا گیا۔ روس کے جانے کے بعد پچاس مسلم ممالک کے تقریباً پچاس لاکھ مجاہدین امریکہ کی بے اعتنائی کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے اور یہی لوگ آ جکل القاعدہ، داعش، طالبان، ازبک جنگجو، چیچن حریت پسند، پنجابی طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ محمد اور کالعدم لشکر طیبہ جیسی تنظیموں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ نائن الیون کے بعد جب امریکی قیادت نے پاکستان کی سیاسی طور پر کمزور عسکری قیادت کو بین الاقوامی جنگ میں اپنا اتحادی بننے کے لیے کہا تو پھر فلسفۂ اقتدار حب الوطنی پر غالب آگیا اور تب سے آج تک پاکستان جہاں امن و آشتی کا دور دورہ تھا میدان کارزار بن چکا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں ہمیں اب تک دو سو ارب ڈالرز سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ ا ہے۔ جس کے بدلے میں امریکہ، یورپی یونین اور عرب گلف ریاستوں کی طرف سے ملنے والی مجموعی معاشی مدد صرف دس ارب ڈالرز کے قریب ہے جبکہ اس جنگ میں ہمارے نوے ہزار سے زائد سویلین،لیفٹیننٹ جنرل، میجر جنرل ،درجن بھر بریگیڈیئرز سمیت سات ہزار کے قریب فوجی جوان جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جب کہ گذشتہ حکمران اور موجودہ رجیم آج تک قوم کے ساتھ یہ بات طے ہی نہیں کر سکے کہ یہ جنگ ہماری ہے یا ہم اغیار کے لیے فدا اور قربان ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی بیشتر مذہبی جماعتیں جو نیم سیاسی لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں وہ ان دہشت گردوں کے سیاسی دفاتر کھولنے کی اجازت دینے تک کو تیار تھے۔ خود وزیراعظم کی موجودہ صوبائی اور وفاقی کابینہ اور مشیروں کی صف میں طالبان کی بھرپور نمائندگی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جی ایچ کیو پر اٹیک ہو، سانحہ صفورہ ہو یا پھر کامرہ بیس ، مہران بیس پر حملے ہوں۔ اے پی ایس پشاور میں بربریت ہو تو فوراً کمیٹیاں بنا دی جاتی ہیں۔ کمیشن اور جے آئی ٹی بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ عدالتی کمیشن کا ڈھنڈوراپیٹا جاتا ہے۔ یہ کمیٹیاں اور کمیشنز سالوں تک بھی کوئی رپورٹ مرتب کرنے یا مرض کی کوئی تشخیص کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ایک ممبر جو اپنی تنخواہ کے علاوہ دس دس مختلف کمیٹیوں کا ممبر ہوتا ہے اور اس طرح ملکی خزانے پر ہاتھی کی مانند مسلط ہوتا ہے۔ اس طرح پارلیمنٹیرین کو اس قومی بندر بانٹ میں شریک کر لیا جاتاہے۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد حمودالرحمن کمیشن رپورٹ آج تک منظرعام پر نہیں آ سکی۔ 1996ء میں مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں تقریباً ملوث پولیس آفیسر شعیب سڈل بعدازاں آئی جی کے عہدے سے ریٹائرہوئے جبکہ اسی کیس کے ایک دوسرے پولیس آفیسر شاہد اکرم اس وقت ڈائریکٹر ایف آئی اے کے عہدے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث شخص پانچ سال مسندِ صدارت انجوائے کر چکا ہے جبکہ دیگر ملزمان بھی کلیدی عہدوں پر ابھی تک براجمان ہیں۔ جون 2014ء میں ہونے والی بربریت سانحۂ ماڈل ٹائون میں کئی درجن انسانوں کے قاتل پولیس آفیسر اس وقت آئی جی پنجاب کے عہدے پر تعینات ہے کچھ کو محکمے میں ترقیاں دی گئیں اور کچھ منظورِ نظر پولیس آفیسرز کو فارن سروسز میں ٹرانسفر کرکے حق نمک ادا کیا گیا جبکہ اسی کیس میں ملوث درجن بھر افراد صوبائی اور وفاقی کابینہ میں موجود ہیں جبکہ خادمِ اعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان بھی اسی کیس کے نامزد ملزمان ہیں۔ قارئین! جب ہمارے گھر کی اندرونی صورتِ حال اس قدر گھمبیر ہے تو ہمیں بھارتی ’’را‘‘ کی طرف سے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس اور بلوچستان میں دشمن کی کھلی مداخلت اور ہزاروں بے گناہ معصوم پاکستانیوں کے خون کی بابت دریافت کرنے کی ہوش کہاں ہے۔ آئے روز کراچی کی ایک سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خور، اغوا کار اور دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں۔ سانحۂ بلدیہ ٹائون کی حقیقت اب ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔ گذشتہ روز بھی ایک بھارتی نیول آفیسر اور ’’را‘‘کے ایجنٹ کل بھوشن یادیوکو جو کہ مبارک حسین پاٹیل کے نام سے جعلی دستاویزات پر پاکستان میں دہشت گردانہ ،سفاکانہ اور علیحدگی پسندی کو فروغ دینے جیسی سرگرمیاں انجام دے رہا تھا۔ قارئین یہی وجہ ہے کہ ہمارے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایرانی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر متنبہ کیا کہ پاکستان کو اس بات پر تشویش ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہمارے دوست اور برادر ملک ایران کی سرزمین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ گرفتار ’’را‘‘ کے ایجنٹ سے ملنے والی معلومات انتہائی لرزہ خیز ہیں اورہمیں عرب، فارس، ترک، پراکسی وار کی جدت سے بچنا ہوگا ۔گذشتہ روز باغوں کے شہر لاہور گلشن اقبال پارک میں ستر سے زائد معصوم انسانی جانوں کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا اور ہم سب خاموش ہیں۔ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہوں گی کہ جب پاک وطن جل رہا تھا تو آپ کیا کر رہے تھے؟ کہیں ہم نیرو کی طرح روم جلنے کے دوران بانسری بجا رہے تھے یا سقوطِ ڈھاکہ کے وقت یحییٰ خاں کی طرح نشے میں دھت ڈانس کر رہے تھے یا محمد شاہ رنگیلے کی طرح دلی لٹنے سے بے خبر رقص و سرود کی محفلوں میں گم تھے؟ یاد رکھئے ہم آنے والی نسلوں کے اس سوال کو نظرانداز نہیں کر پائیں گے۔ آئیے اپنے درمیان موجود ان تمام کرداروں کو ڈھونڈ کر جو کل کل بھوشن کی صورت میں ہمارے اردگرد موجود ہیں کو کیفرکردار تک پہنچائیں کیونکہ پاکستان کی سلامتی میں ہماری بقا ہے۔ قارئین! جھورا جہاز آج بہت افسردہ تھا ،بولا وڑائچ صاحب یہ کیسا خوفناک اتفاق ہے کہ پچھلے تین سالوں سے ہر سال مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہو جاتا ہے جس سے ہمارے مسیحی بھائی کی خوشیاں خون رنگ ہو جاتی ہے۔اس سال بھی سانحۂ گلشن پارک میں جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے دلیر اور ذہین افسران اپنی تفتیش کو اس زاویہ سے بھی چیک کریں گے۔ 29 مارچ2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus