×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا جنرل راحیل شریف اچھے سٹیٹس مین بن سکتے ہیں ؟
Dated: 18-Oct-2016
آج کل اس جز کا بڑا چرچا ہے جو اعلیٰ سطح کے اجلاس سے لیک اور فیڈ ہو کر میڈیا میں آ گئی۔ جن لوگوں نے خبر لیک اور فیڈ کی وہ ایک سائیڈ پر کھڑے قہقہے لگا رہے ہوں گے جبکہ سارا نزلہ برعضوِ ضعیف کے مصداق ڈان اور اس کے رپورٹر پر گرایا جا رہا ہے۔ مجھے اس تناظر میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا وہ دور یاد آ رہا ہے جب خالصتان کی آزادی دو چار ہاتھ پر تھی کہ اس دور میں کمند توڑ دی گئی۔ کس نے توڑی، یہ نہ اُس وقت کوئی راز تھا او رنہ اب تک اسے سکھ اور پاکستان کے وہ ادارے بھول پائے ہیں جو خالصتان تحریک کو اس سطح پر لے گئے کہ سکھوں کو کہنا پڑا۔ قسمت کی بدنصیبی کہ ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گیا بے نظیر بھٹو کی وزارت داخلہ کے لیے نظرِ نوازش چودھری اعتزاز احسن پر پڑی تھی۔ وزارت داخلہ کی وساطت سے خالصتان کی آزادی کے لیے بھارتی حکومت کے ساتھ برسرپیکار سکھ لیڈروں اور کارکنوں کی لسٹیں راجیوگاندھی حکومت کے حوالے کر دی گئیں۔ کانگریس حکومت سکھوں کے ہاتھوں وزیراعظم اندراگاندھی کے قتل پر بپھری ہوئی تھی۔ بھنڈرانوالہ قتل کے سانحہ پر سکھوں نے اندراگاندھی کو قتل کرکے اپنی طرف سے امرتسر میں گولڈن ٹیمپل میں قتل و غارت اور بربریت کا بدلہ چکا دیا تھا۔ اس پر بھارتی حکومت نے خواتین اور بچوں سمیت جو سکھ بھی ہتھے چڑھااسے بہیمانہ تشدد سے ہلاک یا مفلوج کر دیا مگر یہ ظلم سکھوں میں آزادی کے جذبے کو دبانے کے بجائے مزید جوش و جذبے سے ابھارنے کا سبب بنا۔پاکستان کی طرف سے کشمیر کا بدلہ خالصتان میں کسی حد تک چکانے کی کوشش کی گئی تھی۔ کشمیر میں اس وقت بھی لاکھوں بھارتی فوجی نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کی حکومت خالصتان تحریک کی دور بیٹھ کر ہی معاونت کرنے سے اکتفا کر رہی تھی۔ آج وزیراعظم نوازشریف پر یہ کہہ کر، مودی کا جو یار ہے، برسنے والے بلاول بھٹو زرداری کے والدین بے نظیر اور زرداری نے وزارت داخلہ کے توسط سے سکھ لیڈروں اور کارکنوں کی لسٹیں راجیو گاندھی حکومت تک پہنچا دیں۔ میرے کانوں میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وہ الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں۔ ’’ہم نے راجیو گاندھی کا مدد کیا۔‘‘ سکھ اس مدد پر آج بھی اس دور کے پاکستانی وزیر داخلہ اعتزاز احسن اور وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو جو کچھ کہتے ہیں وہ سننے کے لیے انڈیا اور کینیڈا جانے کی ضرورت نہیں، انٹرنیٹ پر موجود ہے، جہاں سے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ کشمیر میں ظلم ڈھانے والے دشمن کی ضیاء الحق دور میں گردن دبوچ لی گئی تھی۔ ضیاء دور جمہوریت کے حوالے سے ایک سیاہ دور تھا مگر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انہوں نے خالصتان کے حوالے سے راجیو حکومت کو جس مشکل میں ڈالا ہوا تھا بے نظیر اور ان کے وزیر داخلہ نے اسے اس مشکل سے نکال دیا جس پر وہ کشمیر میں بربریت کی نئی داستانیں رقم کرنے میں آزاد ہو گیا۔ بے نظیر حکومت اگر کشمیر کی آزادی کو مشروط کرکے خالصتان کے حوالے سے بھارت سے تعاون کرتی تو پاکستان میں اس پر جس تحسین اور تکریم کا اظہار ہوتا وہ اپنی مثال آپ بن جاتا۔ آج ایک بار پھر حکومتی سطح پر بھارت کے ایجنڈے کو اسی طرح تقویت پہنچائی جا رہی ہے۔ 3اکتوبر کو اسلام آباد میں وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں پارلیمانی پارٹیوں کی کانفرنس ہوئی جس کے ذریعے بھارت کو قوم کے اتحاد ،یکجہتی اور یگانگت کا ٹھوس پیغام دیا گیا مگر اسی روز ایک اور اجلاس کے انعقاد کا بھی وزیراعظم ہائوس میں نوازشریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فوج کے نمائندے بھی شریک تھے۔ اس اجلاس کے بعد جان بوجھ کر وزیراعظم نے اپنے ایک شرارتی وزیر کے ذریعے اس اجلاس کی کارروائی کو مرچ مصالحہ لگا کر میڈیا کی زینت بنا دیا ۔ اس سے بھارت کو پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے کا ایک بار پھر موقع مل گیا۔ سیرل المائڈہ کے ذریعے اخبار میں جو کچھ چھپا اس میں کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں تھی مگر ان کو جو فیڈ کرکے شائع کر دیا گیا یہ اس کا پاکستان کے نکتہ نظر سے کوئی موقع نہیں تھا۔ ایک طرف خبر سامنے آئی دوسری طرف رپورٹر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا اور اس اخبار کے خلاف حکومت لٹھ لے کر کھڑی ہو گئی۔ جس نے یہ خبر لیک یا فیڈ کی وہ ایک سائیڈ پر کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے ۔ اس اجلاس میں وزیراعظم کے ساتھ شہبازشریف، چودھری نثار، خواجہ آصف اور سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری تھے۔ میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ خبر خواجہ صاحب کے توسط سے مریم نواز کے میڈیا سیل نے اخبار تک پہنچائی۔ فوج اس پر شدید ردعمل ظاہر کر چکی ہے۔ جنرل راحیل شریف باعزت اور پروقار طریقے سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں مگر حکومت کا رویہ ’’ہمارے ساتھ کچھ کرکے جا‘‘جیسا نظر آتا ہے۔ شاید سیاسی شہید بننے کے لیے فوج کو ’’کچھ تو کرو‘‘ پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مگر راحیل شریف ایسا کوئی اقدام کرنے سے گریز کر رہے ہیں جس سے ان کی عزت اور جمہوریت پر کوئی حرف آئے۔بہت سے لوگ موجودہ جمہوریت کُش حالات میں جنرل راحیل شریف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کچھ تو اشتہارات کے ذریعے ان کو ’’آنے کی‘‘ دعوت بھی دے رہے ہیں۔ عوام کی آج عمومی خواہش بھی یہی نظر آ رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف کسی وجہ سے یا حکومت کے ان کو آخری حد تک مجبور کرنے کے باعث ٹیک اوور کر لیتے ہیں تو ان کے لیے حالات پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔ملک کو چلانا،سیاسی حالات کو سنبھالنا ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور اسٹیٹ مین(Stateman)کا کام ہے۔ جنرل راحیل بلاشبہ ایک جری بہادر سپاہی اور کامیاب سپاہی ہیں،بطور آرمی چیف ان کی پاکستان کے لئے بڑی اچیومنٹس ہیں جس کا ہرپاکستانی کو اعتراف ہے مگر ان کے اندر سٹیٹسمین والی خوبیاں جیسا کہ قائداعظم اور ایوب خان کے اندر تھیں شاید ایسی خوبیاں ان کے اندر ڈھونڈنا مشکل ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ایک کامیابی سپاہی اور چیف آف آرمی سٹاف ہونے کے باوجود وہ ملک کے اندرونی حالات میں دخل اندازی کرنے سے کترا رہے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ اس کا ادراک میاں نوازشریف اور ان کی پوری ٹیم کو ہو چکا ہے اس لیے کبھی وزیراطلاعات پرویز رشید فوجی جرنیلوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور کبھی پارلیمنٹیرین رانا افضل اور اعتزاز چودھری ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں اور کبھی محمود اچکزئی اور خواجہ آصف جیسے تماشبین اسمبلی کے فلور پر پٹاری کھول لیتے ہیں۔اگر عسکری اور سیاسی حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جنرل راحیل شریف ایک اچھے سولجر تو ہیں مگر سٹیٹس مین نہیں ۔ 18اکتوبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus