×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خوش فہمی ہزار نعمت ہے
Dated: 08-Nov-2016
تحریک انصاف کے اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کی تیاری جاری تھی کہ حکومت نے پورے ملک ہی کو لاک ڈائون کر دیا۔ ہزاروں کنٹینر اس مقصد کے لیے پکڑ لیے۔ عمران خان کے چاہنے والے جہاں جہاں سے اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے ان کو روک لیا گیا۔ عمران خان خود بنی گالہ میں نظر بند کر دیئے گئے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت پریشان تھی، عمران خان تو لگتا تھا اپنے مقصد اور ایجنڈے میں کامیاب ہوا چاہتے تھے۔ اسلام آباد اور پنڈی میں جتنے لوگ پہنچ چکے تھے اور ان شہروں میں تحریک انصاف کے جو حامی رہائش پذیر ہیں اسلام آبادکو بند کرنے کے لیے وہی کافی تھے مگر یہ تماشانہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے وہ فیصلہ سنا دیا جسے سن کر عمران خان سجدہ شکر بجا لائے۔ ان کے حامیوں نے بھی شکر ادا کیا اور عمران خان کا سپریم کورٹ پر اعتماد اور سپریم کورٹ کے ریمارکس دیکھ کر خوش ہو گئے کہ اب عمران خان کے ایجنڈے کی تکمیل دنوں کا کام ہے جبکہ لاک ڈائون میں خونریزی کا بہرحال خطرہ موجود تھا۔ سپریم کورٹ میں میاں نوازشریف، کیپٹن صفدر اور حسن نواز کی طرف سے جو جوابات جمع کرائے گئے تھے ان کے تضادات پر ہی فیصلہ ان کے خلاف ہوتا نظر آ رہا تھا۔ کم از کم تحریک انصاف کے لیڈر، کارکن اور سپوٹر یہی باور کیے ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ کو وزیراعظم نوازشریف نے لکھ کر دیا کہ وہ جو بھی فیصلہ ہوگا اس کو مانیں گے۔عمران خان نے بھی ایسی ہی تحریر پر دستخط کیے تھے۔ خوش فہمی ہزار نعمت ہے۔ عدالت کی غیر جانبداری کو دیکھ کر ملک کا بڑا حلقہ بڑا مطمئن ہو گیا، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونے کا یقین ہو گیا۔ انصاف کی عملداری نظر آ رہی تھی کہ ان حلقوں کو شدید دھچکا لگا جب اتحادی دھڑے کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ نے نے رٹ دائر کر دی کہ سپریم کورٹ کو یہ کیس سننے کا اختیار ہی نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی پاکستان بار کونسل کی طرف سے بھی عدالت کے دائرہ کار پر اعتراض سامنے آچکا ہے جبکہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر ان کے ٹی اوآر نہ مانے گئے تو وہ اس کیس کیس کو چلنے دینگے نہ حکومت کو چلنے دیں گے ۔بین السطور یہ مسلم لیگ ن کی حمایت ہے ۔مسلم لیگ ن نے 2نومبر کے لاک ڈائون کو ٹالنا تھا، سو وہ ٹل گیا اور اب تو کون اور میں کون !سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کے بچوں کو اپنے جوابات جمع کرانے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دیا انہوں نے پیر کو جوابات تو جمع کرادیئے اس کے ساتھ ان کے وکیل نے دستاویزات جمع کرانے کے لئے مزید پندرہ دن مانگ لئے گویا پہلے روز سے مقدمے کو لٹکانے کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں۔مگر خوش خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور احتساب بلاامتیاز ہونے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ حکومت کو ذراسا ریلیف کیا ملا کہ وزیرداخلہ سمیت حکومتی مشینری اپنے بلوں سے نکل آئے اور انہوں نے یہ کہنا تک بھی شروع کر دیا کہ پرویز رشید کا استعفیٰ کو توبس ہم نے اخلاقاًہی لیا تھا۔ ورنہ اس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ ایسا وطن عزیز میں کئی بار اور باربار ہو چکا ہے۔ عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین کے اوپر الزام آیا۔ قاتل پکڑے گئے، انہوں نے اعتراف کر لیا۔ یوں لگتا تھا الطاف حسین کو وہی سزا ہو گی جو ذوالفقار علی بھٹو کو ایسے ہی کیس میں ہوئی تھی۔ بھٹو کیس میں شواہد ،گواہیاں اور عدالتی کارروائی حتی کہ ججوں کا کردار بھی مشکوک تھا۔ الطاف حسین کے خلاف ٹھوس ثبوت، قاتل زندہ اور گواہیاں مکمل تھیں۔ اس کیس کی تفتیش کے دوران ہی منی لانڈرنگ سامنے آئی اور ’’را‘‘ سے تعلقات اور فنڈنگ بھی ثابت ہو گئی۔۔۔ صولت مرزا بھی اسی دوران سامنے آئے ہر لمحے لگتا کہ الطاف کی خیر نہیں ۔عمران فاروق قتل کا مقدمہ پاکستان میں درج ہوا تو الطاف مخالف طبقات کو انصاف ہوتا روزِ روشن کی طرح نظر آنے لگا مگر یوں لگا کہالطاف کو بچانے کے لیے اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔ جب الطاف نے پاکستان کے خلاف جلسوں میں زہر اگلا، پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے تو اس پر آرٹیکل لگنے کا قوم یقین کیے ہوئے تھی مگر کچھ بھی نہ ہوا۔اس کے برعکس الطاف کے خلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ کیس ہی ختم کردیا گیا۔عمران فاروق قتل کیس بھی اسی طرح دم توڑتا نظرآرہا ہے۔ زرداری کا بھائی مظفر ٹپی پکڑا گیا جو بہانہ بنا کرملک سے فرار ہو گیا، شرجیل میمن کے گھر سے دو ارب روپے ملے، اس کا احتساب ہوتا نظر آیا مگر وہ بھی بیرونِ ملک چلا گیا۔اور پھر جب تقریباً پانچ سو ارب روپے کی کرپشن میں ڈاکٹر عاصم کو پکڑا گیا تو اب صاف نظر آ رہا تھا کہ پوری پیپلزپارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ اور اسی بوکھلاہٹ میں بابائے کرپشن آصف علی زرداری نے پاک فوج کے متعلق ہرزہ سرائی کی اور پھر وہ دلیر اتنے ہیں کہ اینٹ سے اینٹ بجانے کی بجائے ملک سے لوٹی ہوئی سونے کی اینٹیں بچانے کے لیے ملک سے بھاگ گئے۔ اور ڈاکٹر عاصم کرپشن میں تاریخی ریکارڈ قائم کرکے بھی اس عوام کا منہ چڑھا رہے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم کو بس سزا ہونے ہی والی ہے ۔ قارئین یہی نہیں ایک مشہور ماڈل جو کہ ایک سابق ایگزیکٹو عہدیدار سے منسوب ہے، ایان علی کو ایئرپورٹ پر بیرون ملک جاتے ہوئے رنگے ہاتھوں کرنسی سمگل کرتے ہوئے پکڑ لیا گیا جس نے بعدازاں حساس اداروں کے سامنے قبول کیا، پھر اسی ایان علی کو پکڑنے والے کسٹم انسپکٹر کا قتل ہو جاتا ہے۔ ملک کے ٹاپ کے وکلا ء ایان علی کے کیس کی پیروی کے لیے دست بہ دستہ حاضر ہو جاتے ہیںاور ان وکلا میں ایک سابق گورنر ،سابق اٹارنی جنرل اور ایک سابق چیئرمین سینیٹ پیش پیش ہوتے ہیں۔اور پھر وہی ہوا اس کیس میں بھی ملزمہ ایان علی صاف بچا لی جائے گی۔اور عوام اس خوش فہمی میں ہیں کہ شاید انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ کوئٹہ سے سیکرٹری خزانہ اور مشیر خزانہ کے گھر سے نوٹوں کا خزانہ دستیاب ہوا مگر کوئی سزا نہیں، کوئی احتساب نہیں ہوا۔بلاول بھٹو زرداری اپنی طرف سے قوم کو جگا رہے ہیں جو پہلے ہی جاگ رہی اور جو کچھ زرداری نے ملک اور قوم کے ساتھ کر دیا اس کے بعد وہ پیپلزپارٹی ان سے دور بھاگ رہی ہے۔بلاول تبدیلی لانے کے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ ان کے والد نے 60ارب ڈالر کے اثاثے بنائے۔ نوازشریف اور ان کی پارٹی الیکشن کمپین میں ان کے خلاف کارروائی ا ور لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں لانے کے دعوے کرتے تھے لوگوں نے اسی خوش فہمی پر ن لیگ کو ووٹ دیئے مگر قوم کی یہ خوش فہمی اس وقت غلط فہمی میں بدل گئی جب نوازشریف نے زرداری کو جاتی امراء بلا کر مہمان نوازی کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ہمارے وزیراعظم علاج کی غرض سے دو ماہ لندن میں رہے۔ ان دنوں پانامہ لیکس کا جادوسرچڑھ کر بول رہا تھا۔ وزیراعظم کی ملک سے عدم موجودگی سے پانامہ لیکس کے اثرات زائل ہو گئے۔ تاہم قوم عدلیہ کو احتساب کے لیے پرعزم دیکھ کر پرامید تھی مگر ن لیگ نے عدالت کو بھی چکمہ دینے کی کوشش کی ہے۔ لوگوں کی خوش فہمی اب غلط فہمی میں بدل رہی ہے۔ شاید عدالت حکومت اور حکمرانوں کے فریب میں نہ آئے ایسا ہوا تو یہ پہلی بار ہوگا کہ قوم کی امیدیں برآئیں گی۔ورنہ حکومت نے تو میاں نواز شریف کو ڈان لیکس سے صاف بچا کر نکالنے کی بھی تیاری کرلی ہوئی ہے۔کل تک کہتے تھے جے آئی ٹی بنے گی آج کہہ رہے ہیں سابق جج کی سربراہی میں کمیٹی بنے گی ایسی کمیٹی باقر نجفی کی سربراہی میں بھی بنی تھی جس کی رپورٹ اب تک سامنے نہیں آئی ۔قارئین اسی لیے تو میں کہتا ہوں ’’خوش فہمی ہزار نعمت ہے‘‘ 8نومبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus