×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پانڈھے قلعی کرالو!
Dated: 14-Feb-2017
بچپن کے دنوں کی بات ہے ہمارے قصبہ اور نواحی قصبات میں ہر بڑے تہوار خصوصاً عید سے پہلے کچھ لوگوں پر مشتمل ایک گروہ آتا اور گائوں میں اعلان ہوتا کہ وہ لوگ جو اپنے گھر کے پیتل اور تانبے کے برتن قلعی اور پالش کروانا چاہتے ہیں وہ برتن اکٹھے کرکے ہمارے نمائندے کو دے دیں اور شام کو اسی طرح وہ ہر گھر کے برتن قلعی کرکے واپس کرتے اور ساتھ ساتھ معاوضہ وصول کرتے پھر کچھ اس طرح ہونے لگا کہ قلعی کرنے والے یہ لوگ آتے آواز لگاتے ’’پانڈھے قلعی کرالو‘‘ برتن اکٹھے کرتے اور زیورات وغیرہ سب کچھ لے کر رفوچکر ہو جاتے ہیں۔ بچپن کا یہ واقعہ مجھے اس لیے یاد آ رہا ہے کہ حالات آج بھی جوں کے توں ہیں بس طریقہ ٔ واردات تھوڑا بدل گیا ہے۔ آج بھی کچھ گروہ ہر تھوڑے عرصے کے بعد نمودار ہوتے ہیں۔ اب وہ گاڑیوں پرلائوڈسپیکر لگا کر لمبی گاڑیوں کے جلوس میں شہروں، قصبوں، گائوں کی گلیوں اور بازاروں میں اعلان کرتے دہائی دیتے اور منتیں، سماجتیں کرتے عوام سے ان کا ضمیر، ان کی کل کائنات ان کا ووٹ مانگتے نظر آتے ہیں اور اس کے بدلے میں یہ سیاسی جادوگر عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں۔ ہر پارٹی کا امیدوار اور نمائندہ عوام سے ایسے مافوق الفطرت دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ علاقے میں سکول، کالج، یونیورسٹیاں، ہسپتال، سڑکیں، گلیاں، سیوریج، بجلی کے کنکشن اور سوئی گیس کے کنکشن بانٹتا نظر آتا ہے۔ پُل، اوور ہیڈبریج، انڈرپاسز، میٹرو اور موٹروے کے حسین دعوے کرتا ہے اور علاقے کے مکین خیالوں میں یہ خواب سجا لیتے ہیں کہ جیسے ہی الیکشن کے یہ ہنگامہ خیز ایام اختتام پذیر ہوں گے ہمارا علاقہ پیرس او رملک سوئٹزرلینڈ بن چکا ہوگا۔ قارئین! کم از کم پاکستان میں تو یہی مشق پچھلے ستر سال سے دہرائی جا رہی ہے لیکن حقیقت میں ہوتا یہ ہے کہ لوگوں سے ان کا ووٹ ان کا مینڈیٹ لے کر جانے والے یہ لوگ ان بھانڈے قلعی کرنے والے لوگوں کی طرح پھر مڑ کر واپس نہیں آتے اور پانچ سال بعد جب عوام الناس کے حافظہ سے یہ باتیں نکل چکی ہوتی ہیں تو پھر یہ لوگ نئے جھنڈے ،نئے رنگ ،نئے انتخابی نشانات اور نئے وعدوں کے ساتھ آ دھمکتے ہیں اور عوام کو لوٹ کر پھر سے سوئٹزرلینڈ، پیرس، پاناما، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں اپنے محلات تعمیر کرتے ہیں اور وہاں کے بینکوں کو اپنی تجوریاں بنا لیتے ہیں۔ قارئین! بلی اور چوہے کا یہ کھیل اس وقت تک کھیلا جاتا رہے گا کہ جب تک ہماری بائیس کروڑ عوام شعور کی منزلیں طے نہیں کر لیتی لہٰذا اس قوم کو شعور سے دور رکھنے کے لیے اس ملک کے سیاست دان، دانشور، علما، مولوی، جاگیردار، سرمایہ دار، مخدوم اور نواب زادے ایک ہی پیچ پر ہیں۔ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام کو جہالت کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑا رہنے دیا جائے اور شعور کو لاشعوری طور پر بھی ان کی دسترس سے محفوظ رکھا جائے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کی عوام اور اقوامِ عالم میں کوئی بھی قوم اتنی دقیانوسی سوچوں کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی اور ہمیں من حیث القوم یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم بائیس کروڑ نفوس کا مجموعہ ہیں۔ ہماری کوئی ذاتی اور اجتماعی سوچ نہیں، ہمیں لوٹنے والے ہم سے چھیننے والے اور ہمارے قاتل تو متحد ہیں مگر ہم ایک منتشر گروہ سے زیادہ کچھ نہیں۔اگر ہم واقعی ایک قوم ہوتے، ہماری کوئی سوچ ہوتی، کوئی اجتماعی زاویہ نظر ہوتا ، کوئی ویژن ہوتا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ پچھلے ستر سال سے ہمیں لوٹنے والے ہر بار ایک نئے روپ میں ہمیں لوٹ کر غیر ممالک میں اپنے بینکوں کی تجوریاں بھرتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں دو سو ارب ڈالرز اور اسی طرح امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، پاناما، یورپ اور متحدہ عرب امارات میں کم از کم ایک ٹریلین (کھرب) ڈالرز پاکستانیوں کے اکائونٹس میں پڑے ہیں اگر صرف یہی دولت پاکستان واپس لائی جا سکے تو اس ایک ٹریلین ڈالرز کی رقم سے پورا پاکستان آئندہ پچاس سال تک بغیر کوئی کام کیے سروائیو کر سکتا ہے۔ قارئین! مگر ایسا ہوگا کیوں؟ کیونکہ جن کے مفادات لٹے ہیں، جن کا رزق چھینا گیا ہے، جن کا مستقبل کب کا دائو پر لگ چکا ہے، جن کے خواب چُرا لیے گئے ہیں وہ عوام تو گھوڑے بیچ کر سو رہے ہے ،کوئی شخص اپنے گھر سے نکل کر احتجاج کے لیے تیار نہیں، کوئی اپنا حق مانگنے کی جسارت نہیں کرتا، ہر شخص دوسرے کی طرف دیکھ رہا ہے کہ مجھے کچھ نہ کرنا پڑے اور کوئی دوسرا میری جگہ آ کر قربانی دے۔ قارئین! آج کا دوسرا اہم ترین ایشو مقامی روایتی تہوار ہیں۔ گذشتہ روز صوبے کے خادمِ اعلیٰ کی طرف سے میڈیا پر ایک وارننگ جاری کی گئی کہ امسال بھی بسنت کے تہوار پر پابندی ہو گی مگر اس سال بھی گذشتہ سالوں کی طرح 14فروری کے دن ویلنٹائن ڈے کے موقع پر پابندی کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں جاری کیا گیا۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ ویلنٹائن ڈے اسلامی ثقافت یا مغربی ثقافت کا نشان ہے، نہ ہی یہ اس کے منانے یا نہ منانے سے کوئی آسمان آ گرتا ہے مگر خادمِ اعلیٰ صاحب! جن قوموں کو ان کی تہذیب ، روایات اور علاقائی تہواروں سے دور کر دیا جاتا ہے تو قوموں کی اساس منہدم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں عید الضحیٰ، عیدالفطر ،شب برأت اور عید میلادالنبیؐ ہمارے مقدس مذہبی تہوار ہیں مگر بحیثیت پنجابی ہونے کے ہمیں غیر مذہبی تہوار جیسے بیساکھی اور بسنت منائے جاتے ہیںان کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جس معاشرے میں مقامی صوفیاء کے افکار، عرسوں، میلوں ٹھیلوں اور فصل کی کٹائی کے موقع پر آنے والے تہواروں کو منانے سے ہی قومیں، تہذیبی، تمدنی طور پر زندہ رہتی ہیں ۔پنجاب حکومت کے ایک اپنے سروے کے مطابق پچھلے دس سالوں میں بسنت کے تہوار اور پتنگ بازی سے چھتیس قیمتی جانیں چلی گئیں۔ اگر خادمِ اعلیٰ چاہیں تو قاتل دھاتی ڈور تیار کرنے والی فیکٹریاں یا گروہوں کے خلاف کریک ڈائون کرکے بسنت کے مقامی اور روایتی تہوار کو معدوم ہونے سے بچاسکتے ہیں ۔ 14فروری2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus