×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لعل میری پت رکھیو ۔۔۔
Dated: 21-Feb-2017
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت جلاوطنی کی زندگی گزار رہی تھی اور بیشتر رہنما روپوشی اختیار کر چکے تھے۔ راقم ان ایام میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ، پینٹاگون اور اقوام متحدہ کے چکر لگا رہا تھا۔ ہم سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے ایک میٹنگ سے فارغ ہوئے تو شہید محترمہ نے کہا کہ ہمیں ورجینیا جانا ہوگا جہاں پارٹی کے ایک سینئر رہنما ہمارا گھر پر انتظار کر رہے ہیں۔ جب ہم واشنگٹن کے نواح میں ورجینیا کے اس ایڈریس پر پہنچے تو گھر کے دروازے کے باہر کھڑے ایک عمر رسیدہ شخص نے ہمارا استقبال کیا بعدازاں محترمہ نے ہمارا تعارف کروایا اور مجھے بتایا کہ یہ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ صاحب ہیں جو اس وقت پاکستانی گورنمنٹ اور انٹرپول سے چھپ چھپا کر روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے اور یہ گھر ان کے بیٹے مراد شاہ صاحب کا ہے جنہیں محترمہ کی سفارش پر ایک شخص نے ایک عالمی بینک میں ملازمت دلوائی ہے (اس شخص کو بعدازاں محترمہ نے پنجاب سے سینیٹر منتخب کروا دیا تھا) میں نے اور محترمہ نے اس رات ادھر قیام کیا اور جب تک ہم ادھر موجود رہے میزبان باپ بیٹے نے ہماری خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی حتیٰ کہ اس ضعیف العمری اور نقاہت میں بھی عبداللہ شاہ (مرحوم) محترمہ یعنی ہمارے سامنے صوفے پر بیٹھنے کی جراتٔ بھی نہ کر سکے۔ مجھے یہ سب دیکھ کر دکھ ہوا اور میں نے واپسی پر راستے میں محترمہ سے پوچھ ہی لیا تو محترمہ نے جواب دیا کہ یہ سندھ کلچر اور سیاسی اصولوں کے عین مطابق ہے جسے پاکستان میں سیاسی تابعداری بھی کہا جاتا ہے ۔ خیر شنید ہے کہ بعد میں مراد شاہ صاحب کینیڈا تشریف لے گئے اور وہاں کی نیشنلٹی بھی حاصل کی۔ میں مراد شاہ صاحب کو بعدازاں چند ایک بار دوبئی میں بھی محترمہ کے روبرو دیکھ چکا تھا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد یقینا وہ سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی سیاسی تابعداری میں چلے گئے اور آج اپنی اسی خاندانی سیاسی تابعداری کی وجہ سے سندھ کے چیف منسٹر کی مسند پر فائز ہیں۔ قارئین! گذشتہ دنوں سانحہ سیہون شریف کے بعد جب یہ ذکر بار بار آیا کہ اندرونِ سندھ کے اس حلقہ سے جس سے وزیراعلیٰ مراد علی شآہ منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے ہیں اس پر اسی حلقہ سے اس سے پہلے بھی دو وزرائے اعلیٰ سید عبداللہ شاہ (مرحوم) اور لیاقت جتوئی بھی تعلق رکھتے ہیں اور اس حلقے کی حالت کچھ اس طرح ہے کہ یہاں پر میلوں دور تک کوئی سرکاری ہسپتال ہے نہ سکول، روزگارکا سارا دارومدار مقامی وڈیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ 2002ء میں جب میں پاکستان شفٹ ہوا تو میں ہر سال ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) اورنگ زیب برکی اور دوستوں کے ساتھ سالانہ کم از کم دو مرتبہ لاڑکانہ اور گڑھی خدا بخش جایا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ 2012ء،میری آخری جلاوطنی تک جاری رہا۔ شہید بھٹو کی برسی اور محترمہ کے یومِ شہادت پر جاتے ہوئے ہمیں اندرونِ سندھ دیکھنے کا کافی موقع ملا۔ صادق آباد کے بعد جیسے ہی سرزمین سندھ شروع ہوتی سڑکیں اور مکانات دیکھ کر انسان کو خود بخود اندازہ ہو جاتا ہے کہ سندھ دھرتی کے عوام آج بھی سولہویں صدی کے دور کی زندگی گزار رہے ہیں۔ قارئین !اس وقت ہزاروں سندھی خاندان کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ان کی اولادیں یہاں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اور اقتدار کے گُر سیکھ کر واپس سندھ صرف اقتدار سے لطف اندوز ہونے کے لیے جاتی ہیں۔ یورپ اور نارتھ امریکہ میں مقیم سندھی خانوادے اگر اپنی مجموعی دولت کا پانچ فیصد بھی سندھ دھرتی کو سنوارنے پر لگا دیں تو شاہ عبداللطیف بھٹائی اور لعل شہباز قلندر کا یہ اجڑا ہوا سندھ پیرس اور سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورت، پُرآسائش اور جنت نظیر نہ بن جائے تو راقم اپنا نام اور کام بدلنے کے لیے تیار ہے۔ آج سخی لعل شہباز قلندر کی درگاہ سے لاشوں اور بِلکتے انسانوں کو گدھاگاڑیوں پر ہسپتال لے جانے کے لیے ڈالا گیا جبکہ سانحہ سیہون شریف کی خبر سن کر زرداری صاحب دوبئی سے اپنے پرائیویٹ جیٹ پر کراچی کے لیے روانہ ہوئے تو اس سارے عرصے میں بجائے اس کے کہ مراد علی شاہ سانحہ کے موقع پر پہنچتے وہ ایئرپورٹ پر پھول پکڑے دوبئی سے آنے والے اپنے عظیم قائد کا انتظار کرتے رہے اور تادمِ تحریر سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں ہوا۔ قارئین! گذشتہ دنوں بدامنی اور دھماکوں کی جو نئی لہر ہمارے سامنے آئی ہے اس کے کچھ قومی اور کچھ عالمی اہداف ہیں جن کو ہم باری باری ڈسکس کرتے ہیں۔ حکمران جماعت کے نزدیک قومی اہداف یہ ہیں کہ ڈان لیکس، پاناما لیکس اور اپنے ایک محبوب میڈیا گروپ کو کسی بھی طرح اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سے بچایا جائے۔ حقائق کو منظر رکھتے ہوئے یقینی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ڈان لیکس اور پاناما لیکس میں حکومت کو سو فیصد اپنی شکست نظر آ رہی ہے جبکہ شریف خاندان کی تین شوگر ملز کو پراسس بند کرنے کے احکامات نے گویا حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں مگر حکمران خانوادے کے قریبی مشیران اور کچھ عاقبت نااندیش قومی و صوبائی وزراء اور خاندان کے ہی کچھ لوگ اپنی اُوٹ پٹانگ حرکتوں سے شریف خاندان کے بہت بڑا نقصان پہنچا سکتے ہیں جبکہ عالمی سطح پر ٹرمپ کے آنے کے بعد پاکستان کو متعدد محاذوں پر نظر رکھنی ہو گی، جن میں سی پیک منصوبہ، پاکستان نیوکلیئر پروگرام اور ریکوڈیک منصوبہ سرِفہرست ہے۔ موجودہ حالات میں روس، چائنہ، ایران اور ترکی ہمارے کندھے سے کندھا ملا کر تب ہی کھڑے ہوں گے جب ہم اپنے اہداف طے کر لیں گے۔ پاک فوج اور عسکری قیادت بشمول آئی ایس آئی موجودہ حالات میں سمجھتے ہیں کہ آئندہ تقریباً آٹھ سال تک امریکی تِلوں سے تیل نکالنا مشکل ہوگا اس لیے ہمیں اپنے قومی مفادات کو ازسرِ نو طے کرنا ہوگا۔ اگر اس کے لیے جمہوریت کے بیمار جانور کی قربانی بھی دینی پڑے تو ہمیں قطعاً سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ قارئین! قوم کا مورال پے در پے دھماکوں، ناقص اور بیڈ گورنس سے شدید متاثر ہے، میرایقین ہے کہ صوفیاء کرام کی نظر کرم سے پنجاب، سندھ، کے پی کے، بلوچستان ،کشمیر اور گلگت بلتستان ہر بلا سے محفوظ رہیں گے۔لاہور میں بہادر پولیس افسروںنے جان کا نذرانہ پیش کرکے پولیس کو بھی سرخرو کیا ہے۔ افسروں بے ساختہ مجھے بچپن میں سنا ہوا یہ کلام یاد آ رہا ہے: لعل میری پت رکھیو بلا جھولے لالین…سندھڑی دا سیہون داسخی شہباز قلندر پاک فوج کو افغانستان کے اندر گھس کر دہشتگردوں کونشانہ بنا کر جہنم واصل کرنے پریہاں خراج تحسین پیش کرنا ضروری ہے، وہیں بھارت کو بھی باور ہونا چاہیے کہ سرجیکل سٹرائیک اسے کہتے ہیں جسے ساری دنیا نے دیکھا اور ماناہے۔ 21فروری2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus