×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
Dated: 14-Mar-2017
لبرل کی مختصر تعریف یہ ہے کہ دوسرے کے نظریات کا احترام کرو اور اگر آپ اس کے خیالات اور نظریات سے اتفاق نہیں بھی کرتے تو بھی ان کا احترام کیا جائے۔ آج کے اس دور میں لبرل ازم کی بے شمار اقسام ہیں جیسے لبرل خیالات، لبرل مذہبی رجحان، لبرل اکنامکس، لبرل پولیٹکس اور لبرل معاشرتی اقداروغیرہ وغیرہ۔ زمانۂ طالب علمی سے راقم خود بھی بھٹو اِزم، سوشلزم اور لبرل سکول آف تھاٹ کا طالب علم تھا اور اسی دوران مارکسی، لینن، اسٹالن، ہیگل اور چی گویرا کے متعلق لٹریچر اور کتابیں پڑھنا مشغلہ تھا مگر دوسری طرف میں نے کالج یونین کا صدارتی الیکشن اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے لڑا اور کالج کا ناظم بھی رہا۔ کالج کے الیکشن میں صدر منتخب ہونے کے بعد اپنے فطری رجحان کی طرف بڑھا اور پی ایس ایف کا لیڈر بنا اس سارے عمل اور مراحل کے دوران ہمارے تمام سُرخے اور کامریڈ دوستوں نے کبھی بھی دینی اور مذہبی معاملات سے دوری اختیار نہ کی۔ میرے اپنے تجویز کردہ نظریئے کے مطابق ایک اچھا سُٔرخہ اور کامریڈ اچھا مسلمان ثابت ہونا چاہیے۔ قارئین! یہی وجہ تھی کہ سامراجی اور اسلام دشمن طاقتوں کو بڑی تگ و دو کے بعد ملک میں سوشلسٹ اور کیمونسٹ پارٹیوں کی موجودگی میں بھی کوئی ایک ایسا فرد بھی نہ ملا تھا جس کو وہ توہینِ رسالتؐ کے لیے اُکسا سکتے۔ انہی ایام میں برطانیہ سے لے کر جرمنی، سویڈن، ڈنمارک، ناروے اور امریکہ میں وقتاً فوقتاً گستاخانہ خاکے، ممنوعہ فلمیں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے توہینِ رسالتؐ کے گستاخانہ اور ممنوعہ مواد کو شائع کروایا جاتا رہا ۔ مقاصد ان قوتوں کے یقینا یہ تھے کہ مسلمانوں کے جذبات کو زخمی کرکے اشتعال انگیز بنایا جائے تاکہ عالمی امن کو تباہ کیاجا سکے اور یہ عمل کئی جنگوں کا موجب بنے ، تاکہ سُپر طاقتیں اپنے اسلحے کے ذخائر بیچ کر اپنے زرمبادلہ میں اضافہ کر سکیں۔ قارئین! ان اسلام دشمن قوتوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے را میٹیریل (یعنی بھٹکے ہوئے لوگ) مسلمان ممالک سے ہی دستیاب ہونے لگے اور پھر ملعون سلمان رُشدی ،تسلیمہ نسرین اور طارق فتح جیسے ننگ ملت، ننگِ دین تھوڑے سے دنیاوی لالچ کے عوض یا پرماننٹ ریذیڈنٹ کے عوض یا پُرکشش مراعات کے عوض اسلامی شعار کی توہین اور اہانت جیسے کاموں میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تینوں ملعون اس وقت اسلام دشمن قوتوں اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نگرانی میں قیام پذیر ہیں جبکہ پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، ترکی اور عرب ممالک میں ایسی اسلام دشمن سرگرمیوں کے خلاف سینکڑوں احتجاج ہوئے، کروڑوں لوگ سڑکوں پر آئے، اربوں ڈالر کی املاک کو اس اشتعال سے جلایا گیا۔ سینکڑوں لوگ اب تک توہینِ رسالتؐ کے احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں مگر اب جب دنیا یکسر بدل چکی ہے، اخبارات اور ٹی وی چینلز کی جگہ گھر گھر نہیں بلکہ ہر فرد کے پاس انٹرنیٹ پہنچ چکا ہے جس سے سوشل میڈیا میں ایک ہیجان خیز تبدیلی آئی ہے اور اسلام دشمن قوتوں نے اس موقع کو بھی کھونا مناسب نہ جانا اور یہود و ہنود کے سرمائے سے چلنے والی سوشل میڈیا مہم کے ذریعے کچھ سرپھرے بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو پیسے، شہرت اور اچھے مستقبل کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ یقین جانیے آج سے صرف پانچ سال پہلے کوئی پاکستانی یہ تصور کر سکتا تھا کہ وطنِ عزیز پاکستان جس کے بائیس کروڑ عوام میں سے 95فیصد مسلمان ہیں (جب کہ پاک فوج کی مخالفت میں سرگرداں مافیا اور نام نہاد لبرل موم بتی فیم کہیں بھی 20 ،22افراد اکٹھے ہو کر بین الاقوامی مظاہرہ کر لیتے ہیں )وہاں بھینسا، موچی اور روشنی جیسی ویب سائٹس اپنا نہ صرف وجود رکھتی ہوں گی بلکہ ان کو لائک اور شیئر کرنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے اور گذشتہ روزجنیوا ،سوئٹزرلینڈ میں ملعون بلاگر وقاص گورائیہ نے پاکستان اور اسلام کے خلاف پریس کانفرنس کرکے ہمارے احساسات کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔جبکہ توہین رسالتؐ اور گستاخانہ خاکے شائع کرنے والے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار خاں کی نااہلی یا اشیروادکی وجہ سے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستانی قانون سے بچ نکلے ہیں مگر وہ اللہ کے قانون سے کیسے بچیں گے؟ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کا ممنون ہوں کہ جنہوں نے اس انتہائی اہم مسئلے پر توجہ دی اور اہانت رسولؐ کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کا حکم دیا مگر ساتھ ہی مجھے ہزاروں علمائے کرام اور بائیس کروڑ عوام کی اجتماعی قومی بے حسی پر تشویش ہے۔ کبھی ایسی کسی گستاخانہ جسارت کے صرف اشارہ ملنے پر وطنِ عزیز میں جیسے قیامت آ جاتی تھی مگر آج سوئی ہوئی قوم کو جگانے والا نہ کوئی محمد علی جناح ہے اور نہ کوئی غازی علم دین شہید۔ قارئین! میں اپنے آج کے کالم کی آخری لائینیں لکھ رہا تھا کہ مجھے یہ اندوہناک خبر ملی کی پی وائی اور رہنما اور لاہور سے صدارت کے پیپلزپارٹی کے امیدوار بابر سہیل بٹ کو بزدلانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا۔ قارئین! بابر سہیل بٹ سے میری پہلی ملاقات اور تعارف شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے خود کروایا۔ اس موقع پر میاں منیر ہانس بھی موجود تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب راقم اور محترمہ شہید جلاوطنی میں بحالیٔ جمہوریت میں کوشاں تھے اور بابر سہیل بٹ بھی ان دنوں جبری جلاوطنی کی وجہ سے دوبئی مقیم تھے۔ بابر بٹ کی تمام زندگی جدوجہد اور بھٹو ازم کے لیے مختص تھی وہ اکثر مجھے لکھو ڈیر اپنے گھر مدعو کرتے تھے ، وہ اچھے میزبان تھے، خاندانی اور سیاسی رنجشوں کی وجہ سے ان کے دشمنوں کی تعداد کچھ کم نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر تین قاتلانہ حملے ہو چکے تھے، ان پر پہلا قاتلانہ حملہ جس روز ہوا، اس دن محترمہ ناہید خاں، شاہ محمود قریشی، عبدالقادر شاہین میرے گھر میں ایک میٹنگ میں مصروف تھے کہ ہمیں بابر بٹ پر قاتلانہ حملے کی خبر ملی اور میں مذکورہ دوستوں کے ساتھ سروسز ہسپتال عیادت کے لیے پہنچا ۔ ایک بات طے ہے کہ پیپلزپارٹی میں بھٹو ازم سے محبت کرنے والے کسی خاص سازش یا منصوبے کے تحت منظر سے ہٹائے جا رہے ہیں۔ بابر بٹ جیسے دلیر ساتھیوں کا قتال جاری رہا تو کل کو بلاول بھٹو زرداری کے سامنے کوئی ڈھال محفوظ نہیں رہے گی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کا چل چلائو ہے مگر وہ جانے سے پہلے اپنے راستے کے کانٹے صاف کر رہے ہیں۔ میرے احساسات اور ہمدردیاں بابر بٹ اور متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔ لاہور کے جیالوں کے لیے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں استقامت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین) 14مارچ2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus