×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سویٹ ٹوئیٹ
Dated: 09-May-2017
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بچپن میں بزرگوں سے یہ سنا تھا کہ جب کسی سے دوستی کرنی ہو تو اس سے پہلے آپ دونوں دوست ایک ایک کلو نمک کھا لیں۔ ہم پوچھتے تھے دو دوستوں کے درمیان نمک کھانے سے کیا مطلب ہے تو جواب ملتا تھا اپنے حصے کا ایک کلو نمک کھا کر اتنے کڑوے ہو جائو کہ آپ کو مدمقابل دوست کی کوئی بات بھی کڑو ی نہ لگے۔ قارئین مجھے یہ پرانی مثال اس لیے یاد آئی کہ حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان یہ کشمکش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ حکمران احساس برتری کے زعم میں ہیں تو دوسری طرف قومی سلامتی کے ادارے اپنی فرض شناسی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور پھر اس اثناء میں جب اغیار جو ہمارے تین طرف سرحدوں کے اس پار موجود ہیں۔ وہ اس تفریق سے فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں جبکہ ان حالات میں قومی سلامتی کے ادارے اور حکمران ایک دم، ایک پیج پر اکٹھا ہونے کا تاثر دیتے ہیں مگر عمومی حالات میں وزیراعظم میاں نوازشریف صاحب کی صاحبزادی محترمہ مریم نوازشریف صاحبہ اپنے ٹویٹر پیغام کے ذریعے ایسے ایسے نشتر چلاتی ہیں کہ جن کے جواب میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور کو بھی جواب آں غزل کے طورپر اپنی توپوں کا رخ وزیراعظم ہائوس کی طرف موڑنا پڑتا ہے۔ اسی طرح وزیراعظم کے رفقاء اور کابینہ کے سبھی وزراء وزیراعظم ہائوس اور مریم نوازشریف صاحبہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم مخالف کیمپ پر گھمسان کی جنگ مسلط کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور اپنے اس مشن میں چار میں سے دو لوگ منزل بامراد ہو چکے ہیں۔ زبیر عمر صاحب کو سندھ کی گورنری مل گئی جبکہ طارق فضل کو دارالخلافے اور محترمہ مریم اورنگزیب صاحبہ کو چھوٹی وزارت اطلاعات مل گئی جبکہ بیچارے طلال چودھری اور دانیال عزیز کے لیے تو میں بس اتنا کہنا چاہوں گا۔ ’’حسرت توان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے‘‘ قارئین ملک میں جاری اس سیاسی کشمکش کے اثرات پھیلتے پھیلتے اب پورے ملک کے اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں اور وسیع تر قومی مفاد کی خاطر کم از کم وزیراعظم اور قومی سلامتی کے عسکری اداروں کو یا تو ہر ایک کو ایک ایک کلو نمک کھا لینا چاہیے۔ بصورت دیگر محترمہ مریم نوازشریف صاحبہ اور میجر جنرل آصف غفور صاحب کو اپنے اپنے ٹوئٹر پیغامات میں تھوڑا، تھوڑا میٹھا ملا کر ’’سویٹ ٹوئیٹ‘‘ کر لینا چاہیے۔ اسی طرح باہمی کشیدگی کو باہمی ہم آہنگی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور ان اثرات کی وجہ سے بائیس کروڑ عوام شدید عدم اطمینان کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب عوام عدم استحکام کا شکار ہوں گے تو ہماری سرحدوں کے تینوں اطراف ہمارے دشمنان ہمیں للچائی نظروں سے دیکھیں گے۔ کیا ہمیں دشمن کا ترنوالہ بننا ہے؟ قارئین! وزیراعظم نوازشریف کے لیہ کے دورے پر کیا ہوا، خطاب اور اس کے مندرجات پر زبان زد عام ہیں جس میں میاں صاحب نے خود کو اور اپنے ساتھیوں کو اپنے انتخابی سلوگن سے تشبیہات دیں ۔ مثلاً یہ کہ صرف ہم ہی شیر ہیں، ایک شیر سو گیدڑوں پر بھاری ہے اور شیر سیاسی کبوتر کھا جاتا ہے۔ مگر قارئین ہم نے جہاں بھر کے چڑیا گھر اور جنگلات کی کوگل گرافی کے ذریعے چھان بین کی۔ یہ کبوتر کھانے والا شیر ہمیں کہیں بھی دستیاب نہ ہوا۔ اس پر مجھے بچپن میں سنا ہوا لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک گھر میں مہمان نے جا کر دروازے کی کنڈی کھٹکھٹائی اندر سے آواز آئی ’’جی کون ہے؟‘‘ مہمان نے جواب دیا، جی میں شیر خان ولد دلیر خان ہوں۔ میزبان نے آواز لگائی اندر آ جائیں۔ شیر خان بولا پہلے اپنا کتا باندھ لیں،اس سے ڈرلگتاہے۔ قارئین! عالمی افق پر رونما ہونے والی تبدیلیوں نے اپنے اثرات دکھانا شروع کر دیئے ہیں۔ سوشلسٹ پارٹی آف فرانس کے سابق رکن مینیول میکرون جس نے کہ 16اپریل 2016ء یعنی صرف ایک سال پہلے لی مارچ ایک نوزائیدہ سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی اور ایک سال کی قلیل مدت میں65.1 فیصد ووٹ لے کر کنزرویٹو پارٹی کی میرین لی پین جس نے 34.9فیصد ووٹ حاصل کیے کو شکست فاش دے دی۔ یاد رہے مس میرین لی پین کے والد نے 2002ء کے الیکشن میں میرین لی پین سے دگنے ووٹ لیے تھے۔ نومنتخب صدر مینیونل میکرون نے ایک سال کی مدت میں اپنے پولیٹیکل کیریئر کو جلا بخشی جبکہ پاکستان میں سابق صدر آصف علی زرداری نے پانچ سال کی مدت میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کی چالیس سالہ سیاسی خدمات اور اچیومنٹس کو پارٹی سمیت غرق کرکے رکھ دیا۔ قارئین! ہم انتالیس سالہ نومنتخب صدر مینیول میکرون کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے لبرل اور سوشلسٹ خیالات رکھنے کے باعث فرانس میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو احساس تحفظ دیں گے۔ قارئین گذشتہ روز ہمارے برادر اسلامی ملک افغانستان جس کے ساتھ ہماری ڈھائی ہزار میل سرحد ہے اور مشکل گھڑی میں ہم نے اپنے پچاس لاکھ افغان بھائیوں کو بمع ان کے مویشی، حیوانات اور ٹرک ٹرالوں کے پاکستان میں انسانی حقوق کی بنیادوں پر سیاسی پناہ دی۔ جس کے عوض میں ہمارے مہمان افغان بھائیوں نے اپنے ساتھ لائی ہوئی منشیات،ہیروئن اور کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ کی ریل پیل کر دی۔ ہماری آنے والی نسلیں جس سے شدید متاثر ہوئیں بلکہ جس کے ہم آج بھی نتائج بھگت رہے ہیں۔ گذشتہ روز چمن کی سرحد پر قصبات میں مردم شماری کرتی ہوئی ہماری ٹیم پر حملہ کرکے ہمارے دس شہریوں کو شہید اور دو درجن کو شدید مضروب کر دیا۔ جس کے جوا ب میں پچاس سے زائد عقل سے عاری نادان شرارتی بچے ہلاک کر دیئے گئے۔ کمانڈر سدرن کمان لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے بتایا۔ نادان شرارتی بچوں کی پانچ چوکیاں بھی مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔ اگر اب بھی نادان شرارتی بچے نہ سمجھے تو شدید نقصان اٹھائیں گے۔ قارئین! آج ٹورنٹو کینیڈا میں پاکستانی کمیونٹی نے کینیڈا میں پاکستان ایمبیسی اور قونصل جنرل کے رویوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے گذشتہ روز ایک معزز پاکستانی نژاد ایک محترم خاتون کو ٹورنٹو قونصلیٹ میں نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ ان کی توہین اور تضحیک بھی کی گئی۔ ملک کا اگر کوئی وزیرخارجہ ہوتا تو ہم اس سے درخواست کرتے مگر وزیر خارجہ کی عدم موجودگی پر ہم وزیراعظم محمد نوازشریف سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کا خصوصی نوٹس لیں۔پاکستانی کینڈین، چیف جسٹس آف سپریم کورٹ ثاقب نثار صاحب سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعے کا ازخود نوٹس لے کر لاکھوں پاکستانیوں کی اشک جوئی کی جائے۔ قارئین! اس سلسلے میں مزید تفصیلات آپ کی خدمت میں اگلے کالم میںپیش کی جائیں گی۔ 9مئی 2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus