×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
برہان وانی، جذبۂ ایمانی اور بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ
Dated: 08-Jul-2017
آج8جولائی کو برہان مظفر وانی شہید کا یومِ شہادت ہے۔ یوں تو آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں اب تک لاکھوں جانثارانِ کشمیر جامِ شہادت نوش فرما چکے ہیں اور پاکستان سے چھ گنا بڑے ہمسایہ دشمن بھارت کی وادیٔ کشمیر میں نو لاکھ درندہ صفت افواج تعینات ہے۔ دراصل کشمیر کا ایشوکسی بھی پاکستانی اور بھارتی شہری کے لیے غیر معروف نہیں یہ سامراج کی پرانی عادت تھی کہ جب بھی وہ کسی خطے کے غیور عوام کو آزادی دینے پر مجبور ہوئے تو انہوں نے اس خطے کے مکینوں کے درمیان ایسے تنازعات پیچھے چھوڑ دیئے کہ جن کو بنیاد بنا کر اس خطے کے عوام ہمیشہ کے لیے اجتماعی جنگوں میں مشغول ہو گئے۔ یہ ایک طرح سے برطانوی سامراج کا انتقام کہلاتا ہے اور جب پاکستان اور بھارت نئی مملکتیں بننے جا رہی تھیں تو لارڈ مائونٹ بیٹن نے آنجہانی نہرو کو خوش کرنے کے لیے کشمیر کے عوام کی مرضی کے خلاف نہ سمجھ آنے والا فیصلہ دے دیا، ابھی پاکستان کو بنے چند روز ہی ہوئے تھے کہ ہمارے مکار دشمن نے تقسیم ہند کے دوران آزاد رہنے والی ریاستوں کو ہڑپ کرنا شروع کر دیا۔ حیدرآباد دکن اس کی اولین مثال ہے ،پھر جب دونوزائیدہ مملکتوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور پاکستان نے چالیس فیصد سے زائد کشمیر دشمن سے آزاد کروا لیا تھا تو مکار دشمن نے اقوامِ متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایاجس پر اقوام متحدہ نے ایک قرارداد پاس کی جس کے توسط سے ایک ریفرنڈم کرانا طے پایا جس میں کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق جو فیصلہ ہو اس کو قبول کیا جانا تھا مگر ہمارے برہمن دشمن نے آج تک اس قرار داد پر عمل کرنے سے گریز کیا ہے جس کی وجہ سے اب تک پانچ خوفناک جنگیں معرضِ وجود میں آ چکی ہیں، جن کے اثرات خطے کے دو ارب انسانوں کے لیے کسی لمحہ بھی بارود پھٹنے کے مترادف ہو سکتے ہیں۔ مشہور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے گذشتہ روز اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا ہے کہ برہان وانی کی شہادت سے مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت اور جدوجہد کی تحریک میں تیزی پیدا ہوئی ہے اور ستر سالوں سے جاری آزادیٔ کشمیر کی مہم کو اتنی پذیرائی کبھی نہ ملی جتنی کے برہان مظفر وانی کی شہادت نے اس تحریک کو جِلا بخشی۔ قارئین! گذشتہ روز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا یہ کسی بھی بھارتی سربراہِ مملکت کا پہلا دورہ تھا جس میں مودی کے اعزاز میں دیئے جانے والے سرکاری اعشایئے سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتن یاہو نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شان میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے اور مودی کو اس صدی کا سب سے پرامن انسان ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا ۔ یہ کیا موقع تھاکہ دنیا کا ایک بڑا دہشت گرد دنیا کے دوسرے بڑے دہشت گرد کو امن اور بھائی چارے کا ایوارڈ دے رہا تھا۔ قارئین! مگر یہاں یہ سوال قابلِ غور ہے کہ پچھلے دس سال کو چھوڑ کر یعنی ساٹھ سال سے بھارت کی ہر حکومت فلسطینی کاز کی حمایت کرتی رہی ہے اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تصورِ فلسطین کے خالق یاسر عرفات (مرحوم) ہمیشہ ہی آنجہانی اندراگاندھی کو اپنی بہن کہتے رہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ فلسطینی قیادت نے ہمیشہ کشمیر کاز کے مسئلے پر بھارت کی طرف داری کی ہے۔ آج حماس اور پی ایل او(فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) کی موجودہ قیادتوں کو احساس ہوا ہوگا کہ ’’سپاں دے پُت کدی مِت نئیں ہوندے بھانوے چُلیاں دُودھ پیائیے‘‘ جب کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت آئی اس نے فلسطینیوں کی اخلاقی اور عملی حمایت ہر موقع پر کی۔نریندر مودی کی کشمیر کاز سے چشم پوشی کی انتہا ہے کہ اپنے دورئہ اسرائیل میں اس نے فلسطینی ہیڈ کوارٹر ’’رملہ‘‘ جانے کا کوئی پلان نہیں بنایا تھا۔ دراصل اس وقت عرب کی گلف ریاستیں سعودی عرب اور تمام مسلم ممالک آپس میں جس طرح دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کے گلے بے دردی اور جنونیت سے کاٹ رہے ہیں۔ شام، عراق، لبنان، تیونس، لیبیا، افغانستان، یمن اور قطر و بحرین سمیت مختلف ممالک میں انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ آدھے مسلمان امریکہ کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں اور آدھے مسلمان روسی ہاتھوں میں کھلونا بنے ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج خلیج عرب کے مسلمان دنیا بھر میں رسوا ہو رہے ہیں۔ ایک مضحکہ خیز لطیفہ گذشتہ روز وقوع پذیر ہوا جب سعودی عرب نے چار سو تیس ارب ڈالرز کے فوجی معاہدے امریکہ سے کیے اور متحدہ عرب امارات نے ایک سو دس ارب ڈالرز کے معاہدے یورپ اور امریکہ سے کیے اور لطیفہ یہ ہے کہ سعودی عرب کے حریف قطر نے بھی امریکہ کو بارہ ارب ڈالرز کے جنگی طیاروں کا آرڈر دے دیا۔ قارئین! جب میں سکول میں زیر تعلیم تھا تو میں اپنے علاقے کے ایک نوجوان طالب علم رہنما سے بہت متاثر تھا جو کے ایل او (کشمیر لبریشن آرگنائزیشن) سے منسلک تھا ۔اس سے متاثر ہو کر میں نے لکھا تھا ’’لینے دو کشمیر ہمیں بزورِ شمشیر لینے دو، اپنا مقدر اپنے دشمن سے چھین لینے دو‘‘ قارئین! آزادی ٔ کشمیر کی شمع کو حافظ محمد سعید صاحب نے جس خوش اسلوبی اور جواں مردی سے سنبھال رکھا ہے اس پر میں انہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور انہیں شیرِ کشمیر کا خطاب دیتا ہوں۔ اٹھارہ لاکھ سے زائد افواج رکھنے والا بھارت، دنیا کی چھٹی نیوکلیئر طاقت بھارت ،اس وقت چوہا بن جاتا ہے جب حافظ محمد سعید اپنے حجرے سے باہر نکلتے ہیں اور ہماری موجودہ حکومت نے اپنے ذاتی اور کاروباری مفادات کی وجہ سے تقریباً سال بھر سے حافظ محمد سعید صاحب کو مقید کر رکھا ہے۔ میرا یہ دعویٰ ہے کہ اگر حافظ محمد سعید صاحب کو پاکستانی حکومت آزاد رکھتی تو عین ممکن تھا کہ اب تک کشمیر آزاد ہو گیا ہوتا۔ دوسری طرف نریندر مودی کے واشنگٹن دورے کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تحفہ دیا اور حزب المجاہدین کے سید صلاح الدین صاحب کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔ یاد رہے یہ اسی نریندرمودی کو نوازنے کے لیے کیا گیا جس نے اس صدی کے آغاز میں انڈین گجرات میں مسلمانوں پر قیامتِ صغریٰ برپا کر دی تھی اورصرف چند روز میں تیس ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا۔ تیرہ ہزار مسلم بہنوں اور بیٹیوں کو ریپ کیا گیا اور لاکھوں گجراتی مسلمان بھارت چھوڑ کر یورپ، کینیڈا اور امریکہ میں شفٹ ہو گئے اور بعدازاں خود امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس وقت وزیراعلیٰ نریندرمودی کو جنگی مجرم قرار دے دیا تھا اور اس کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی جبکہ کیلنڈر کیا تبدیل ہوا کہ امریکی سامراج کی نظریں بھی تبدیل ہو گئیں اور آج وہی درندہ مودی اسرائیل اور امریکہ کا ہیرو تصور کیا جاتا ہے اور یہ سب ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی دلیل ہے۔ قارئین! گذشتہ روز برہان وانی شہید کے والد کو انڈین کشمیر میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ حکومت پاکستان جس نے کشمیر کمیٹی کا چیئرمین مولانا فضل الرحمن کو بنا رکھا ہے جنہوں نے کشمیر یا اس کی آزادی کے لیے کبھی لب کشائی نہیں کی اور ایسے لوگوں کی موجودگی میں کشمیر کی آزادی کاخواب دیکھنا دیوانے کی بڑہے۔ کشمیر آزاد ہوگا مگر جذبۂ ایمانی سے۔ 8جولائی2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus