×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پارٹی از ناٹ اوور
Dated: 11-Jul-2017
جولائی کے مہینے سے بے شمار واقعات، سانحات اور یادیں وابستہ ہیں اور آج جب میں کالم لکھنے بیٹھا تو یاد آیا کہ پانچ جولائی کو پاکستان میں جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تھی اور آج 10جولائی ہے آج کے دن جے آئی ٹی پانامہ کیس اور شریف برادران کی کرپشن پر مشتمل ایک خصوصی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گی اور بقول ایک دانشور اینکر ،صحافی اور کالم نگار جناب سہیل وڑائچ صاحب کہ ’’دی پارٹی از اوور‘‘ میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کچھ لوگوں کی پارٹی کبھی اوور نہیں ہوتی ،وہ گیم نہ کرتے ہوئے بھی ان گیم ہوتے ہیں۔ آج 10جولائی کے دن ایشیا کے نامور سیاست دان اور ستر سال تک سیاست کرنے والے جن میں سے بائیس سال مسلسل وہ اپنے ملک کے بلاشرکت غیرے حکمران رہے اور بانوے سال کی عمر میں آج بھی وہ ذہنی، جسمانی اور سیاسی طور پر توانا ہیں۔ میری مراد ملائیشیا کے سابق وزیراعظم اور ملائیشیا کو ایشین ٹائیگر بنانے والے مہاتیر محمد سے ہے جو 1976ء سے 1981ء تک ملائیشیا کے ڈپٹی وزیراعظم رہے اور 1981ء سے 2003ء تک ملائیشیا کے وزیراعظم منتخب ہوتے رہے اور 2003ء میں جب وہ ملائیشیا کی اور اپنی سیاست کے عروج پر تھے انہوں نے وزارت عظمیٰ چھوڑ کر دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا حالانکہ ان کی اولاد اور خاندان کے لوگ آج بھی ملائیشیا کے اندر ایک طاقتور اور مضبوط سیاسی خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ مجھے مہاتیر محمد سے ڈیوس( سوئٹزرلینڈ) میں ایک دفعہ ملنے کا اتفاق ہوا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یکدم وزارتِ عظمیٰ کو خیر باد کیوں کہہ دیا؟ تو وہ ہمیشہ کی طرح دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولے کہ میں نے اپنے اقتدار کو خیر باد کہا ہے مگر میں ملکی معاملات سے کنارہ کش قبر میں دفن ہونے تک نہیں ہوں گا بلکہ میری پالیسیاں میرے مرنے کے بعد بھی ملائیشین عوام کے لیے رہبر ثابت ہوں گی تو میں نے برجستہ انہیں کہا کہ سر آپ جیسے لوگ کبھی مرتے نہیں بلکہ وہ تاریخ کی نظروں میں زندہ رہتے ہیں۔ جولائی کے مہینے کی ایک ا ور تاریخ 18جولائی 1918ء کو ایک ایسی شخصیت کا جنم دن ہے جس نے دنیا کو ناممکن کو ممکن بنانا سکھایا جس نے صرف 22سال کی عمر میں 1940ء میں افریقن نیشنل کانگریس کا باقاعدہ ممبر بن کر مظلوم کالے افریقن کو گورے سامراج سے آزادی دلانے کی جدوجہد شروع کی، جی ہاں نیلسن منڈیلا جنہوں نے یوں تو پوری زندگی جدوجہد اور صعوبتوں میں گزاری مگر انہیں مسلسل ستائیس سال تک ملک کی خوفناک جیلوں میں پابندِ سلاسل رکھاگیا مگر اس آہنی عزم والے پہاڑ نما انسان کو کوئی بھی سر نہ کر سکااو رآخرکار 1994ء سے لے کر 1999ء تک وہ جنوبی افریقہ کے پہلے صدر رہے۔ میری ان سے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹائون میں پہلی بار محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں پُرعزم اور باہمت پایا اور ڈرتے ڈرتے ان سے یہ سوال کیا کہ سر آپ نے دوبارہ صدارتی الیکشن کیوں نہیں لڑا، جس پر وہ مسکرا کر بولے میں اس کے دو جواب دینا چاہوں گا پہلا یہ کہ میں ان قوتوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں جن کے خلاف میں نے ساری زندگی جدوجہد کی کہ میرا ہدف جنوبی افریقہ کا صدر بننا نہیں بلکہ اپنی قوم کو ان کے حقوق دلانا تھا اور نمبر2میں اب جسمانی طور پر بوڑھا ہونے چلا ہوں تو میں جنوبی افریقہ کو جوان قیادت کے حوالے کرنا چاہتا ہوں تاکہ اس ملک کو نئے عالمی تقاضوں کے مطابق تعمیر کر سکیں۔نیلسن منڈیلا اس کے بعد 5دسمبر2013ء تک زندہ رہے، انہوں نے اپنی درجنوں کتب کے ذریعے جنوبی افریقہ کے عوام کی رہنمائی جاری رکھی اور آج وہ تاریخ کے اوراق پر زندہ و جاوید ہیں۔ قارئین! میں یہاں ذوالفقار علی بھٹو شہید کا ذکر کرنا بھی پسند کروں گا جن کو 5جولائی 1977ء کے روز مارشل لاء لگا کر تختہ الٹ دیا گیا اور پھر ایک عدالتی قتل کے ذریعے ان کو سین سے غائب کرنے کی کوشش کی گئی ۔ بھٹو اڈیالہ جیل میں قید تھے تو انہوں نے وہاں پر ایک کتاب لکھی ’’اگر مجھے قتل کر دیا گیا‘‘۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا ان کی پھانسی سے قبل ان کو لیبیا کے معمر قذافی اور سعودی عرب کے اس وقت کے بادشاہ سمیت درجن بھر سربراہانِ مملکت نے پاکستان چھوڑ کر ان کے ملکوں میں رہائش اختیار کرنے کی دعوت دی مگر بھٹو نے بھاگ کر جان بچانے کی بجائے موت کو ترجیح دی اور آج بھی وہ تاریخ اور عوام کی نظروں میں ایک شہید کی طرح زندہ ہیں۔ قارئین! پھر جب میں موجودہ حکمران وزیراعظم جناب نوازشریف کے ماضی کو دیکھتا ہوں وہ اور ان کا خاندان پچھلے پینتیس برسوں سے پنجاب اور مرکز پر بذریعہ اقتدار مسلط ہیں۔ اس دوران ان کے خاندان کو چھ دفعہ پنجاب کا اقتدار ملا اور تین دفعہ مرکز میں وزارتِ عظمی ملی مگر جب 12اکتوبر1999ء کی طالع آزمائی میں ناکامی کے بعد جب ان کو پابندِ سلاسل کیا گیا تو تاریخ میں ان کی دلخراش آوازیں اور کوٹھڑی کی سلاخوں کو اداسی سے پکڑنا صاف نظر آتا ہے۔ موصوف نے اپنی جیل کی کوٹھڑی میں سانپ، چوہے اور بچھو چھوڑنے جانے کی شکایات کیں اور پھر اپنے عالمی خیر خواہوں کو درمیان میں ڈال کر وقت کے ڈکٹیٹر مشرف سے ایک معافی نامہ کرکے جس کی ضمانت سعودی عرب اور لبنان کے حکمرانوں نے دی ، اپنے پورے خاندان اور چالیس بڑے سوٹ کیسز کے ساتھ بمعہ ذاتی ملازمین رات کے اندھیرے میں جدہ کے سرور محل میں منتقل ہو گئے۔ تو اس موقع پر قارئین مجھے تاریخ کے اوراق سے نپولین بوناپاٹ یاد آیا اپنی آخری جنگ میں جب وہ گرفتار ہوا تو اسے ایک جزیرے پر نظربند کر دیا گیا تھا جہاں چند مہینوں بعد کچھ یورپین جرنلسٹس نے حکومت سے اس کا انٹرویو لینے کی اجازت لی اور پھر جرنلسٹس کو ایک کشتی کے ذریعے اس جزیرے پر پہنچا دیا گیا۔ صحافیوں نے دیکھا ایک بوسیدہ عمارت کے پھپھوندی لگے کمرے میں ایک شخص ٹوٹی چار پائی پر بیٹھا ہے اور ہلکی بارش جاری تھی جس کا پانی کمرے کی چھت سے ٹپک رہا تھا۔ صحافیوں نے نپولین سے مخاطب ہو کر کہا کہ سر یہ کیا ماجرہ ہے ؟ کیا آپ نے فوج سے اس کی شکایت کی ہے تو نپولین نے ایک گرجدار آواز میں صحافیوں کو جواب دیا کہ ’’بادشاہ کبھی شکایت نہیں کرتے بلکہ حکم دیتے ہیں اور میں نے شکست کو کبھی قبول نہیں کیا پھر میں شکایت کیوں کروں؟‘‘ تو قارئین! میں نے آپ کے سامنے پانچ حکمرانوں کا ایک مختصر سا تاریخی خاکہ پیش کیا ہے شاید اسی ماہ یا اگست کے شروع تک میاں نوازشریف مسندِ اقتدار سے ہٹ جائیںیا انہیں علیحدہ کر دیا جائے مگر تین بار پاکستان کا وزیراعظم رہنے کی وجہ سے وہ عہدے کے تقدس کا احترام کریں۔ میں سہیل وڑائچ کی پارٹی از اوور سے اتفاق نہیں کرتا، پارٹی کہ پارٹی اور گیم کبھی اوور نہیں ہوتی ماسوائے زندگانی کی پارٹی میں بندہ موت کے ہاتھوں شکست کھا جائے اس طرح میاں نوازشریف کے بعد مسلم لیگ ن کا مستقبل ہے مریم صفدر، حسن نواز، حسین نواز، شہبازشریف اور حمزہ شبہاز ابھی لائن میں لگے ہیں تو پھر یہ پارٹی اوور کیسے ہوئی؟جب کہ درجن بھر وزراء وزارتِ عظمی کے لیے رال ٹپکاتے نظر آتے ہیں اور سنا کہ کچھ وظیفہ خوار کالم نویس، اینکراور صحافیوں کا نئے ملکی حالات میں وزیراعظم ہائوس سے وظیفہ بند ہو گیاہے۔میرا یقین ہے کہ دنیا میں بے شمار جنگیں صرف اس بنا پر جیتی گئیں کہ ایک مدِ مقابل کے پاس خوداعتمادی، اعتماد اور یقین وافر مقدار میں موجود تھا۔ پارٹی کبھی اوور نہیں ہوتی اس میں بریک آ جاتی ہے، تین گھنٹے کی فلم کے دوران وقفہ بھی آ جاتا ہے اور وقفے کے بعد کی فلم دیکھنا بھی ضروری ہے۔بات جولائی سے شروع ہوئی تھی،گزشتہ سال جولائی ہی کے مہینے میں دنیا کے سب سے بڑے عملی سوشل ورکرعبدالستار ایدھی انتقال کر گئے تھے،ان کا،کارکردگی،کارنامے اور کمالات انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ایدھی انسانیت کی خدمت کے باعث تاریخ کے تاریخ بننے تک زندہ رہیں گے۔ 11جولائی2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus