×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لاہور کو بھی ایک سید مصطفیٰ کمال چاہیے!
Dated: 02-Jan-2010
شیر شاہ سوری مغل شہنشاہوں سے اقتدار چھین کر مختصر عرصے کے لیے ہندوستان کا بادشاہ بنا۔ اس نے اپنے دور میں ایسے ایسے ترقیاتی کام کیے جو اس سے پہلے اس خطے میں کوئی دوسرا حکمران نہ کر سکا تھا۔ آج کی جی ٹی روڈ اس دور کی حسین یادگارہے۔ پھر اس نے اس سڑک پہ ہر دس کوس پر ایک قصبے کا سنگ بنیادرکھا ہر قصبے میں ایک تالاب مسافروں کی ضروریات کے لیے موجود ہوتا تھا۔ ڈاک کا مربوط نظام بھی اسی نے قائم کیا۔ ہر قصبے میں خوبصورت عمارتیںآج بھی شیر شاہ سوری کی یاد دلاتی ہیں۔ مغل حکمرانوں نے جب دوبارہ اقتدار حاصل کیا تو انہوںنے بھی بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔ دلی کی بادشاہی مسجد،قطب مینار،آگرہ کا تاج محل،لال قلعہ اور اسی طرح لاہور میں بادشاہی مسجد، شالامار باغ مغل د ور کی یادگاریں ہیں۔ میاں شہباز شریف جب پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تو انہوں نے بھی لاہور پر خصوصی شفقت کی متعدد انڈرپاس بنوائے، لاہور کی معروف شاہراہ جیل روڈ جو تجاوزات کی زد میں تھی اسے راتوں رات قبضہ گروپوں سے واگزار کرا کے لاہور کو ایک خوبصورت شاہراہ دی جس کی عوام میں پذیرائی ہوئی اور ایک ایسا وقت آیا کہ میاں برادران کو مغل حکمرانوں کا جانشین پکارا جانے لگا۔میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن ہوںمگر جو درست کام کرے اس کا تعلق چین سے ہو یا بخاراسے یا کراچی کا میئر سید مصطفی کمال ہواس کا ذکر نہ کرنا سیاسی بددیانتی ہو گی جس کا کہ میں مرتکب ہو نہیں سکتا۔ سید مصطفی کمال نے چند سال قبل والے کراچی کو ناقابل یقین حد تک بدل کے رکھ دیاہے۔ شہر میں درجنوں اوورہیڈ بریجز، سڑکیں تعمیر کرائیں، سیوریج اور واٹر سپلائی سسٹم مثالی بنایا، کراچی کو پارکوں اور روشنیوں کا شہر بنا دیا۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج سے سات آٹھ سال پہلے کراچی دیکھنے والوں کے لیے آج کا کراچی ایک نیا شہر ہوگا۔ خوبصورت ترقی یافتہ اور تمام سہولتوں سے آراستہ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کا بہترین میئر قرار دے کر جرمنی اور امریکہ نے انہیں ایوارڈز سے نوازا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جذبہ صادق، لگن اور جستجو ہو تو آپ پاکستان میں رہ کر بھی کمالات دکھا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور میں پچھلے تین عشروں سے تجاوزات کی بھرمار رہی۔ لاہور کی سڑکیں ٹریفک کے لیے ناکافی ثابت ہونے لگیں پنجاب کے مرکز لاہور کو جو کہ میٹروپولیٹن اورباغوں کا شہر کہا جاتا تھا۔ وہ کرپٹ بیوروکریٹس،موسمی سیاستدانوں اور لینڈ مافیا کے رحم کرم پرآ گیا۔ لینڈ مافیا نے مختصر عرصے میں لاہور کی زمین ہی لاہوریوں پر تنگ کر دی۔ ایک عام پاکستانی کے لیے لاہور میں گھر بنانے کو ایک خواب بنا کر رکھ دیا۔ خصوصی طور پر مشرف کے آمرانہ دور میں کوئی خالی پلاٹ حکمرانوں کی للچائی نظروں سے نہ بچ سکا۔ جگہ جگہ پلازے پھوٹ پڑے قانون کی دھجیاں سرعام دیدہ دلیری سے اڑائی گئیں۔ ایل ڈی اے نے اپنے کرپٹ افسروں کی وجہ سے کرپشن کا بازار گرم کیے رکھا اور قانون و ضوابط کامذاق اڑاتے رہے۔ پلازوں کے تہہ خانوں کی پارکنگ کو دکانوں میں تبدیل کرکے بیچ دیا گیا۔لاہور میں تجاوزات صرف آٹھ سال سے نہیں بلکہ 30سال سے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھیں۔ اس دوران جتنے بھی وزرائے اعلیٰ نے لاہور کے تخت کو رونق بخشی وہ قبضہ مافیا کی فصل کی آبیاری کرتے رہے۔ یقینا یہ سب ناجائز تھا۔ مگر آج پاکستان کے معروضی اور معاشی حالات اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اگر لاہور کا فضائی جائزہ لیں تو یہ لاہور کے بجائے نیٹوکی کارپٹ بمباری کے بعد ’’تورا بورا‘‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق غیرقانونی پلازوں اورعمارتوں کو گرانے کے عمل میں لاہوریوں اور سرمایہ کاری کرنے والوں کو 7کھرب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس معاشی بدحالی میں پنجاب کا دل لاہور اس نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ میں نے چونکہ اپنی زندگی کا بڑا حصہ سمندرپار گزارا ہے۔ یہ بات میرے علم میں ہے کہ پچھلے دو عشروں میں سمندرپار پاکستانیوں نے پاکستان میںکھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، ان کا اصل ہدف ریئل سٹیٹ تھا کیونکہ دیارغیر بسنے والے لاکھوں پاکستانیوں نے ہمارے محترم سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے پروگرام ’’قرض اتارو ملک سنواروں‘‘ کے تحت اربوں ڈالر پاکستان بھجوائے، پھر جب ان کے اکائونٹ منجمد کیے گئے تو اس صدمے کے بعد دوسرے ممالک میں موجود پاکستانیوں نے ریئل اسٹیٹ میں انویسٹمنٹ کو زیادہ محفوظ سمجھ لیا۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس دوران جتنے پلازے اور کمرشل بلڈنگز تعمیر ہوئیں ان میں 80فیصد سرمایہ کاری سمندر پار پاکستانیوں کی تھی جو مجھ جیسے کالم نویسوں کو فون کرکے اپنی بربادی کا حال سنائے چلے جاتے ہیں۔ دل ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر کڑھتا تو بہت ہے مگر میں الفاظ کی تلوار سے حکمرانوں کے عزائم کی راہ میں سدراہ نہیں بن سکتا۔ ان غیرقانونی تجاوزات کو گرانے کے بجائے حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پلازہ مالکان کو بھاری جرمانے کرتی اور ان رقوم سے شہر میں جگہ جگہ کارپارکنگ بنائی جاتیں۔ اس کا ایک دوسرا حل یہ بھی تھا کہ ان پلازوں کے غیرقانونی حصوں کو قبضے میں لے کر وفاقی اور صوبائی محکموں کے وہ دفاتر جو کرائے کی مہنگی کوٹھیوں میں قائم کیے گئے ہیں انہیں ان پلازوں میں منتقل کر دیا جاتا اور اس طرح اس مد میں دی جانے والی اربوں روپے سالانہ کی بچت کی جا سکتی تھی اور سرکاری خزانے کو غیرضروری عیاشی سے پاک کیا جا سکتا تھا۔ایک طرف تو لاہور اور اس کے شہری بارود اور خودکش دھماکوں کی زد میں ہیں اور دوسری طرف لاہور کے حسن کو بگاڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی اور حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح محمود غزنوی نے بت اور مندر گرائے تھے ہم پلازے اور عمارتیں گرا کر محمود ثانی بن جائیں گے۔اگر محترم وزیراعلیٰ واقعی کسی جذبے کے تحت یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں تو پھر لاہور میں موجود پاکستان کے ایک بڑے نشریاتی ادارے اور فائیوسٹار ہوٹل جو کہ غیرقانونی تجاوزات کے ماتھے کا جھومر ہیں کو بھی گرا کر یہ ثابت کریں کہ وہ واقعی اپنے اس عمل میں مخلص ہیں۔کب تک ارضِ پاک کے لیے قربانی کے نام پر پاکستان میں بسنے والے اور اووسیز پاکستانی اسی طرح لٹتے رہیں گے۔ میری میاں شہباز شریف صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن ہماری انتخابی حریف ہے اگر وہ اسی طرح کی فاش غلطیاں کرتی رہی تو آئندہ آنے والا الیکشن اپنے حریفوں کے لیے آسان بنا دے گی۔لیکن یہ وقت اس طرح کی سیاسی خودغرضی کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے میری میاں شہباز شریف صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس وقت پنجاب کے سب سے بڑے مسئلے پر غور کریں اور ان جرائم کے پیچھے جو ہاتھ ملوث ہیں چاہے وہ مرکھپ چکے ہیں یا اپنی زندگی کے بقایا ایام امریکہ اور برطانیہ میں جائیدادیں خرید کر گزار رہے ہیں ان کرپٹ بیوروکریٹس،ایل ڈی اے کے سابق ایم ڈی و چیئرمین حضرات کا کڑا احتساب کیا جائے اور لاہور کے سابق میئر کو احتساب کے اس کڑے عمل سے گزارا جائے جو آٹھ سال لاہور کے میئر رہے یہ سب کچھ ان کی نظروں کے سامنے اور اقتدار کی چھتری تلے ہوتا رہا۔ وزیراعلیٰ صاحب ورنہ آپ کے اس پلازے گرانے والے عمل میں غریب اور میڈل کلاس انویسٹر تو پِس جائے گا مگر بڑی مچھلیاں اپنے سیاسی قد قاٹھ اور میڈیا کی چھتری کا سہارا لے کر یقینا ایک دفعہ پھر بچ جائیں گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus