×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدیوں کا بیٹا شہید ذوالفقار علی بھٹو
Dated: 05-Jan-2010
قائداعظم اور قائدعوام جیسی ہستیاں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ قائداعظم کے بارے میں پروفیسر سٹینلے اپنی کتاب ’’جناح آف پاکستان‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں ’’بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں، ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل دیتے ہیں اور ایسا تو کوئی کوئی ہوتاہے جو ایک نئی مملکت قائم کر دے۔ محمد علی جناح ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے تینوں کارنامے بیک وقت کر دکھائے۔‘‘ یقینا ہندو جیسی مکار قوم اور انگریزوں جیسے مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور بغض رکھنے والے حکمرانوں سے پاکستان چھین لینا دنیا کے عظیم سے عظیم کارنامے سے کم نہیں۔ بدقسمتی سے قائداعظم کی وفات جرتِ آیات کے بعد ان کے پائے کا کوئی لیڈر نہ مل سکا۔ موقع اور مفاد پرستوں نے آدھا ملک گنوا دیا۔ قائداعظم کے بعد پاکستان کے افق پر ذوالفقار علی بھٹو واحد لیڈر نظر آتے ہیں جنہوں نے قائداعظم کا صحیح پیروکار ہونے کا ثبوت دیا۔ ان کے پاس زمامِ اقتدار اس وقت آئی جب آدھا پاکستان دشمن کی سازشوں اور اپنوں کی نالائقیوں اور نداریوں سے کٹ چکا تھا۔ معیشت ڈوب چکی تھی۔ ادارے تباہ ہو چکے تھے اور 93ہزار فوجی بھارت جیسے مکار اور عیار دشمن کی قید میں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ساڑھے چار سال تک برسراقتدار رہے۔ اس مختصر عرصہ میں وطن عزیز پاکستان کی تاریخ ان کے عظیم کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ ان کا ہر کارنامہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ قوم کو متفقہ آئین دیا۔ معیشت کاغذ کی نائو کی طرح بحرِ بیکراں میں ہچکولے کھا رہی تھی اس کو مضبوط بنایا۔ قادیانیوں کا مسئلہ حل کیا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے مسلم امہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ اقلیتوں کو قائداعظم کے فرمان کے عین مطابق حقوق دیئے۔ شراب پر پابندی لگائی۔ اتوار کے بجائے جمعہ کو چھٹی کا اعلان کیا۔ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی مملکت میں جسے 73ء کے آئین میں اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا میں اتوار کی چھٹی کا کیا جواز تھا۔ اور جن لوگوں نے اس چھٹی کا خاتمہ کیا بار بار ’’انجام‘‘ سے دوچار ہوئے بہرحال بات قائدعوام کے کارناموں کی ہو رہی تھی۔ انہوں نے مزدور کو اس کا حق دلایا کسانوں میں زمینیں تقسیم کیں۔ پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے کے اقدام کی ابتدا کی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے بلا کر پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے قومی وسائل کے دروازے ان کے لیے کھول دیئے اور انہوں نے بھٹو شہید کی خواہش کے مطابق پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا دیا۔ بھٹو شہیدکی پاکستان کے لیے خدمات پر مزید کتابیں لکھی جا سکتی ہیں ان کو ایک کالم میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ آج وہ گوشہ بھی قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں جو بہت سے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ مرزا اشتیاق بیگ لکھتے ہیں۔ 93ہزار جنگی قیدیوں کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم اندرگاندھی اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان ایک خوفناک منصوبے پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت 1972ء میں بھارت نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قراردادپیش کی۔اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے بیشترارکان کی حمایت حاصل تھی اور اس بات کا قومی امکان تھا کہ یہ قرارداد منظور ہو جاتی تو بنگلہ دیش ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آتا اور اقوام متحدہ کا ممبر بن جاتا جس کے بعد بھارت ان 90ہزار پاکستانی فوجیوں کو بنگلہ دیش کے حوالے کر دیتا اور بنگلہ دیش ایک آزاد ملک ہونے کے ناطے پاکستان کہ سینئر فوجی افسران کے خلاف قتل، اغوا، زنا اور جنگی جرائم کا مقدمہ چلاتا اور سینئر فوجیوں کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ بھارت ایسا کرکے دنیا بھر میں پاکستانی افواج کی تذلیل کرنا چاہتا تھا تاکہ اس سے 65ء کی جنگ کی ہزیمت کا بدلہ لیا جا سکے۔ پاکستان کے لیے یہ انتہائی مشکل صورتحال تھی۔ ایسے میں وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو ایک رات خفیہ مشن پر چین گئے اور چینی حکومت کو انڈیا کے ان ناپاک عزائم سے آگاہ کیا اور اس سے مدد چاہی۔ چین اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا نیا نیا رکن بنا تھا۔ چین نے بھٹو صاحب سے یہ وعدہ کیا کہ ایسے کڑے وقت میں چین پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ اس طرح جب بنگلہ دیش کو تسلیم کرانے کی قرار داد اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں پیش ہوئی تو چین وہ واحد ملک تھا جس نے اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ اسی کے باعث بھارت جنگی قیدیوں کی رہائی پر آمادہ ہوا تھا۔میںنے جب لکھنے کا آغاز کیا تو میں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو پر کتاب ’’صدیوںکا بیٹا‘‘لکھی اورجب بھی اس کتاب کا نیا ایڈیشن چھپتاہے میرے اند رایک عزم اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔آج بھٹو صاحب کی سالگرہ پر اس کا نیا ایڈیشن رانا عبدالرحمن ’’بُک ہوم‘‘ نے چھاپ کر ایک دفعہ پھر بھٹو کے چاہنے والوں کے لیے ان کی سالگرہ پر ایک تحفہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ آج ہم اپنے عظیم لیڈر کی 81ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر دعا ہے کہ خدائے بزرگ و برتر ہمیں قائداعظم اور قائدعوام جیسے رہما عطا فرمائے جو ارض پاک کو عظیم اوطان کی صف میں لا کھڑا کریں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus