×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
14سے15اگست ۔۔ایک صدی بند دن
Dated: 15-Aug-2017
مسلم لیگ کا قیام انیسویں صدی کا عظیم معجزہ تھا۔ برٹش سرکار کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر چمک رہا تھا اور برصغیر ہند میں آٹھ صدیوں تک حکمرانی کرنے والے مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا تھا۔ ایسے میں سر نواب سلیم اللہ خاں، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور محمد علی جناح ؒ اور ان کی وفادار اور انتھک ٹیم نے ایک ایسے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا جس کا بادی النظر میں تصور بھی محال تھا۔مسلم لیگ کے قیام اور اس کی صف بندی کے دوران مسلمانانِ ہند کو جن مصیبتوں اور مشکلات سے گزرنا پڑا اس کا تصور آج کی نوجوان نسل کو نہیں ہو سکتا۔ ذرا تصور کیجیے کہ تقریبا ایک صدی تک گوروں کی جبری غلامی اور متعصب ہندوئوں کی منافقت اور غداری کا تڑکا بھی شامل تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر کی دو بری مذہبی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام ہند اور جماعتِ اسلامی ہند کے اکابریں مولانا مفتی محمود اور مولانامودودی مرحوم نے کھل کر قیامِ پاکستان اور نظریۂ پاکستان کی مخالفت کی اور شومئی قسمت کہ آج یہ ہی دو جماعتیں جو اب نیم سیاسی جماعتیں بن چکی ہیں اور خود کو نظریۂ پاکستان کا اصل محافظ سمجھتی ہیں۔ مسلم لیگ کے قیام دن1906 سے لے کر 14اگست 1947ء تک کا سفر ایک کٹھن سفر تھا اس عرصے کے دوران مسلمانوں کو جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان کی تفصیلات بڑی پرسوزہیں۔ آخری دو وائسرائے ہند مکمل طور پر ہندو اکثریت کے جیسے زرخرید غلام تھے۔ ان حالات میںقائداعظم محمد علی جناح کی پرعزم قیادت نے ہمیں 14اگست تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ہزاروں مسلمانوں نے اس راہ میں جانیں قربان کیں یہ وہ دور تھا جب عالمی سطح پر مسلمان روبہ زوال تھے۔ سلطنتِ عثمانیہ اور ترکوں کی خلافت خاتمے کے قریب تھی اور اسی وجہ سے برصغیر ہند میں ریشمی رومال اور تحریکِ خلافت جیسی تحریکوں کا آغاز ہو چکا تھا جس کی بدولت انگریز سرکار مسلمانانِ ہند سے خفا تھے۔ خدا خدا کرکے سازشوں کے درمیان راستہ بناتے ہوئے 14اگست کا دن آیا اور آج ہم بھارت میں بسنے والے بتیس کروڑ مسلمانوں کے حالات دیکھ کر کہتے ہیں کہ اس وقت قائداعظم محمد علی جناح کی زیرک نظر نے پچاس برس بعد کے زمینی حقائق کو تاڑ لیا تھا ۔آج انڈیا میں نہ صرف دو لاکھ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے بلکہ آسام، بہار اور بنگال میں آزادی کی تحریکوں کو کچلا جا رہا ہے جبکہ سکم، بھوٹان، جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن کی ریاستوں کو بزورِ طاقت بھارت میں ضم کیا جا سکتا ہے۔ ایک عسکری تجزیے کے مطابق صرف مقبوضہ کشمیر میں سوا آٹھ لاکھ بھارتی فوج کشمیریوں کا قتال جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحادی آج نریندر مودی جیسے قاتل کی قیادت میں مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ گذشتہ بیس سالوں کے دوران انڈین گجرات میں پچاس ہزار مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی جبکہ مشرقی پنجاب میں آج بھی سکھ قوم ماسٹر تارا سنگھ کی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور 1984ء سے لے کر اب تک تین لاکھ سے زائد سکھ نوجوانوں کا بہیمانہ قتل کرکے سکھ قوم کی بھی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ قارئین! 14اگست سے 15اگست تک بظاہر چوبیس گھنٹوں کا فاصلہ ہے مگر اس دوران بائیس لاکھ مہاجرین مسلمانوں کو بھارت کی سرزمین پر تہ تیغ کیا گیا، واہگہ بارڈر کراس کرکے پاکستان پہنچنے والی لاتعداد ٹرینیں لاشوں سے بھری ہوئی پہنچیں۔ ہماری آزادی پہ گرہن اس وقت ہی لگ گیا جب ہمارے ازلی دشمن کو پاکستان بننے کے صرف چوبیس گھنٹے بعد آزاد کر دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ہمارا دشمن ہم پر کم از کم پانچ مشکل جنگیں مسلط کر چکا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت قوانین و ضوابط کے مطابق ہمارے حصے کا خزانہ آج تک ہمارے حوالے نہیں کیا گیا اور قیامِ پاکستان کے بعد چند مہینوں تک نواب آف حیدرآباد دکن اور نواب آف بہاولپور (مرحومین) نے پاکستان کے سرکاری اداروں کی تنخواہیں ادا کیں جس پر قہر آلود ہو کر ہندوستان نے حیدرآباد کی ریاست پر ناجائز قبضہ کر لیا وہ وقت تھا کہ چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا۔ دارالخلافہ ان دنوں کراچی تھا مگر گورنر جنرل پاکستان جناب قائداعظم محمد علی جناح کے آفس میں معزز مہمانوں کو چائے اور کھانا پیش کرنے کے لیے ڈنر سیٹ تک موجود نہیں تھا اور اس بات کا علم جب نواب آف بہاولپور کو ہوا تو انہوں نے ٹرین کے ذریعے ڈنر سیٹ اور ٹی سیٹ کراچی پہنچائے اور قارئین! آج حالات یہ ہیں کہ وزیراعظم ہائوس اور پریذیڈنٹ ہائوس کے سالانہ اربوں ڈالر کے بجٹ مختص کیے جاتے ہیں۔ ستر سالوں میں کوئی بھی ایسی سیاسی قیادت وطنِ عزیز کو میسر نہیں ہوئی جو قوم اور خزانے کو لوٹنے کی بجائے اس کی حفاظت کرے۔جو بھی حکمران پچھلے ستر سالوں میں پاکستان کو میسر ہوئے انہوں نے اپنے اور اپنی اولاد کے اثاثوں میں کروڑوں اور اربوں گنا اضافہ کیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت لوہا پگھلا کر درانتی اور گھوڑے کی کُھریاں بنانے والی بھٹی چلانے والے 60سے 70کی دہائی تک ایک عدد فونڈری کے مالک بن چکے تھے جبکہ ان کی سیاسی قد کاٹھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا سپوت اپنے محلے کی بلدیاتی کونسلر کی سیٹ بُری طرح ہار چکا تھا ۔پھر قسمت کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ 1984سے لے کر 2017ء تک اس خاندان کی اندرونِ اور بیرون ملک پراپرٹی، اثاثہ جات اور بینک بیلنس کا تخمینہ پینتیس ارب ڈالرز لگایا گیا ہے۔ آج عوام سے پوچھ رہے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے؟میرا جرم کیا ہے؟قارئین! پنجاب کا ایک محاورہ ہے ’’ڈانگیں رب نہ ماردا تے مت کو لڑی پا‘‘ پاناما سکینڈل آنے کے بعد تضاد بیانی کا سلسلہ طوالت اختیار کرتا جارہا ہے ایک مسلسل بے ربط گفتگو اور وضاحتیں پیش کی جارہی ہیں۔ باپ کی کی ہوئی وضاحت بیٹی سے نہیںملتی۔ بیٹی کی دی ہوئی وضاحت بھائیوں سے نہیں ملتی جبکہ ان سب کی پیش کی ہوئی وضاحتیں خزانے کے مدارالمہام کے دیئے ہوئے حلفیہ اعترافی بیان سے نہیں ملتیں۔ قارئین! وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار پانے کے بعد میاں صاحب شاید گھر بیٹھ جاتے مگر آتی آتی وزارتِ عظمیٰ ہاتھ سے پھسل جانے کے باعث بی بی سخت سیخ پا ہیں جبکہ حقائق اس قدر تلخ ہیں اور مستقبل کے آئینے میں اگر دیکھا جائے تویہ لوگ اس وقت اڈیالہ کے اسیر ہوتے اور اب بھی انکا مطمع نظر یہ ہے کہ نیب میں ریفرنس قائم نہ کیے جائیں اور نیب کو چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کا پابند نہ کیا جائے اور سپریم کورٹ کے فاضل جج مسٹر اعجازالاحسن کو اس سارے پراسس کا نگران مقرر نہ کیا جائے۔ ڈونگا گلی سے جی ٹی روڈ تک لگنے والے اس سارے تماشے کی ڈیمانڈ عسکری اسٹیبلشمنٹ اور معزز عدلیہ کے ساتھ ایک نئے ’’این آر او‘‘ کا حصول ہے لیکن میاں صاحب کی رُندھی ہوئی آواز اور آدھ درجن ریلی کے باراتیوں کا خون بھی شاید میاں صاحب اور ان کے خاندان کو ریلیف نہ دلوا سکے۔ بھارت، ایران اور افغانستان کے ساتھ انتہائی کشیدہ تعلقات اور میاں صاحب کی برطرفی کے بعد ترکی، سعودی عرب اور چین کا یوں آنکھیں پھیر لینا بھولے بھالے میاں صاحب کے لیے سوہانِ روح ہے۔ اوپر سے طاہر القادری صاحب ایک بار پھر اور شاید اب کی بار یہ آخری بار ہو۔ چودہ شہادتوں کا قصاص بھی مانگ رہے ہیں اور پھنس گئی جان شکنجے اندر کے مصداق اب بچت کی کچھ صورت نظر نہیں آتی۔جہاں سب سے افسوسناک اور انسانیت کو شرما دینے والا پہلو یہ ہے کہ کوئٹہ میں دہشتگردی سے دس فوجیوں سمیت سولہ افراد شہید ہوکر زمین پر گرے ہوئے تھے اور بیس خون میں لت پت زخموں سے چور تھے ایسے میں وزیراعلیٰ بلوچستان لاہور میں سٹیج پر ناچ کر اپنی بے پایاںوابستگی کا اظہار کررہے تھے۔قارئین! اس سے پیوستہ کچھ تلخ و شیریں حقائق پھر کسی کالم میں انشاء اللہ۔ 15،اگست 2017
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus