×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مادام روتھ فائو ۔۔۔ سیاسی گھمسان
Dated: 22-Aug-2017
آنجہانی ڈاکٹر روتھ کیتھرینا مارتھا فائو کو گذشتہ روز بائیس کروڑ چھلکتی آنکھوں اور سسکیوں کے ساتھ گوراقبرستان کراچی میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیاگیا۔ ڈاکٹر روتھ فائو جو کہ جرمن نژاد تھیں اور جرمنی کے شہر لیپزگ میں9ستمبر1929 کو پیدا ہوئیں اور اعلیٰ تعلیم مکمل کرتے ہی پاکستان جو کہ ان دنوں کوڑھ کے موذی مرض میں مبتلا تھا شفٹ ہو گئیں۔ ستاسی سال کی عمر میں انتقال کرنے والی اس عظیم خاتون نے پچپن سال سے زائد پاکستانیوں کی خدمت کی ا ور جزام(کوڑھ) کے مرض کا پاکستان میں مکمل صفایا کیا۔ آج صرف آپ کو چند ٹریفک لائٹس پر مصنوعی کوڑھی فقیر تو مل سکتے ہیں مگر حقیقی کوڑھ کے مریض نہیں۔ اس وقت پاکستان کے طول و عرض میں ایک سو چھپن جزام سینٹر اور کئی خصوصی ہسپتال مادام فائو کی زیر نگرانی چل رہے تھے۔ مادام فائو کو پاکستانی مدرٹریسا بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں ان کی خدمات کے عوض ہلال امتیاز، ہلالِ پاکستان، نشانِ قائداعظم اور متعدد عالمی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ قارئین! یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مادام فائو کی وفات کے بعد ایک مخصوص طبقہ نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس لاحاصل بحث سے یقینا مادام فائو کی روح کو تکلیف پہنچ ہو گی۔ وہ بحث یہ تھی کہ کیا مادام فائو جنتی ہیں یا نہیں؟ قارئین! جھورا جہاز آج ایک بڑی بات کہہ گیا وہ کہہ رہا تھا کہ مادام روتھ فائو کو جنت ملتی ہے یا نہیں یہ مجھے نہیں پتہ مگر روزِ محشر میں آقائے نامدار سرورِ کونین کے ذریعے رب العزت سے التجا کروں گا کہ اگر میں جنت کا حقدار ہوں تو میرے حصے کی جنت مادام فائو کو عطا کر دی جائے۔ جھورے کی بات سن کر مجھے محسوس ہوا کہ ہم میں سے بیشترپستیوں میں گِر چکے ہیں مگر جھورے جیسے چند انسانوں کی وجہ سے یہ قوم، یہ ملک اور سلطنت ابھی تک قائم و دائم ہے۔ قارئین! آج کا دوسر اموضوع پاکستان کی سیاست میں جاری اس گھمسان کی سیاست سے متعلق ہے جو احتساب اور انقلاب کے درمیان گردش کر رہی ہے اور منقسم قوم کا حال یہ ہے کہ آدھی قوم مملکت میں بسنے والے ہر ذی بشر کا بلاتفریق حساب چاہتی ہے جبکہ ایک مخصوص طبقہ جو پچھلے ستر سالوں سے مفاد حاصل کرتا رہا ہے وہ احتساب کے لفظ کو ہی اپنی انا کا استحصال سمجھتا ہے اور ایک چوتھائی طبقہ وہ ہے جو کسی بھی حالت میں ’’سانوں کی‘‘ کے فلسفے پر عمل پیرا ہے۔ دراصل 1947ء میں تقسیم ہند اور آزادی کے وقت ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی اور پھر اس لکیر نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ہمارا پیچھا نہ چھوڑا۔ سیاست میں لائن، مذہب میں لائن، صحافت میں لائن، تعلیمی سسٹم میں لائن،ہیلتھ پروگرام میں ایک لائن، غرضیکہ موت اور زندگی کے درمیان ایک مصنوعی لائن کھینچ دی گئی ہے۔ ہمارے شہروں اور قصبات کا حال دیکھیے جس میں شہر کے ایک مخصوص حصے کو دنیا بھر کی تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ ان کے قمقمے روشن ہوتے ہیں جبکہ چند سو گز کے فاصلے پر باقی ماندہ شہر میں جرائم کی بھرمار ہوتی ہے۔ پانی، بجلی، سوئی گیس اور ضروریات زندگی کے دیگر تمام لوازمات سرے سے ہی ناپید ہوتے ہیں۔ دراصل پاکستانی معاشرے کو اس غیر منصفانہ تقسیم کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ تصور کیجیے کہ جس ملک میں سیاست کو بطور بزنس اپنایا جائے، صحافت جیسے مقدس پیشے کو کاروبار کا نام دیا جائے اور مذہب کو مسلکوں کی دکانداری میں تبدیل کرکے یہ سائن بورڈ آویزاں کیے جائیں کہ اس مسجد میں صرف فلاں فرقے کے لوگ عبادت کر سکتے ہیں تو اس معاشرے کو، اس قوم کو،اس مملکت کو، آپ انحطاط پذیر نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ قارئین! آج پاکستان کی سیاست میں عورتوں کی عصمت کو دائو پر لگاکر مخالفین پر کیچڑاچھالا جاتا ہے۔ الیکشن کیمپین میں مخالف خواتین سیاسی پارٹی کی سربراہ کی جعلی عریاں تصویریں ہیلی کاپٹر کے ذریعے گرائی جاتی ہیں۔ ہوسِ طاقت اور ہوسِ اقتدار اور ہوسِ دولت کی یہ انتہا ہے کہ ہمارے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف صاحب کو تین مرتبہ اقتدار سے جبراً علیحدہ کیا گیا اور تینوں بار وہ اپنا مختص عرصہ پورا نہ کر سکے لیکن وہ آج بھی تیسری دفعہ نکالے جانے کے بعد پوچھتے ہیں کہ میرا قصور کیا ہے؟ جبکہ والیوم 10نامی فائل نیب کے سامنے کھل چکی ہے اور اس کے اندر ہوشربا اعدادوشمار اس بات کے غماز ہیں کہ ہمارے نااہل وزیراعظم صاحب نے صرف برطانیہ میں دس ارب ڈالر مالیت کے اثاثہ جات بنائے اور حکومت برطانیہ کے ایک بیان کے مطابق اگر میاں صاحب کو مقامی عدالتوں سے سزا ہو گئی تو برطانوی حکومت ان اثاثہ جات کو حکومت پاکستان کو دینے کی پابند ہو گی جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، امریکہ، بیلجیم، سوئٹزرلینڈ، ڈنمارک اور سویڈن میں لوٹے ہوئے قومی خزانے سے بنائے گئے اثاثہ جات کی تفصیلات والیم ٹین میں موجود ہیں۔ قارئین! محکمہ نیب کے کچھ ایماندار افسران نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں اپنی تحقیقات کا عمل تیز کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ایفیڈرین کیس کے مرکزی ملزم اور اس کے خاندان کے تمام بینک اکائونٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو آج 22اگست کو نیب نے طلب کر رکھا ہے جبکہ میاں نوازشریف اور ان کے دو بیٹے او ر بیٹی نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ میاں صاحب کے دو بیٹے اور بیگم ملک سے جا چکے ہیں اور شنید ہے کہ کسی دن دل کے عارضے میں مبتلا میاں صاحب اپنی بیٹی کے ہمراہ برادر اسلامی ملک کی بھیجی ہوئی ایئر ایمبولینس کے ذریعے کوچ کر جائیں گے۔ قارئین! آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ پھر حلقہ NA120کے الیکشن کا کیا بنے گا؟ تو جواباً عرض ہے کہ اگر محترمہ کلثوم نواز یہ آبائی سیٹ جتنے میں کامیاب ہوگئیں تو میاں نوازشریف کی خواہش ہے کہ انہیں وزیراعظم بنا کر ایک دفعہ پھرپرائم منسٹر ہائوس شفٹ ہو جائیں تاکہ 2018ء میں سینیٹ الیکشن کو کنٹرول کر سکیں اور آئندہ جنرل الیکشن سے پہلے نئی صف بندیاں ترتیب دے لیں۔ یوں تو گذشتہ روز حمزہ شہباز کو بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم کے انچارج کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر بعدازاں اس تمام عمل کو پالش کرنے کی کوشش کی گئی مگر حمزہ شہباز اور مریم نواز کی باڈی لینگوئج چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ دوسری طرف عدالت سے ایک نااہل سینیٹر یعقوب ناصر کو مسلم لیگ کا قائم مقام صدر بنایا گیا ہے جبکہ میاں شہبازشریف کو ایک بار پھر طفل تسلی دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ میرا نہیں خیال کہ شہبازشریف جیسا زیرک سیاست دان ان سیاسی آنکھ مچولیوں کو نہ سمجھتا ہو۔ قارئین! دوسری طرف اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے اس موقع پر کوئی مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ جماعت اسلامی آئندہ الیکشن کے لیے مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کی طرف دیکھ رہی ہے جبکہ کراچی میں متحدہ پاکستان، مہاجر قومی موومنٹ آفاق اور پاک سرزمین پارٹی پیپلزپارٹی سے خائف سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اور جلد ہی جنرل پرویز مشرف، چوہدری شجاعت حسین اور پیر صاحب پگاڑااور ملک بھر میں دیگر مسلم لیگی دھڑوں کو اکٹھا کرنے کا خواب بھی شرمندئہ تعبیر ہو سکتا ہے جبکہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک بار پھر اڑان بھر چکے ہیں اور کچھ تحریکی ساتھیوں کا خیال ہے کہ جب تک وہ پاکستان میں مستقل رہ کر سیاست نہیں کرتے اور سانحہ ماڈل ٹائون کے کیس کی پیروی نہیں کرتے تب تک حصولِ انصاف ناممکن ہے مگر پاکستان کے پرامید عوام کی نظریں شیخ رشید، عمران خاں، شاہ محمود قریشی اور جہانگیر خان کی طرف لگی ہوئی ہیں دیکھتے ہیں کہ وہ بحرِ غرقاب سے کیسے بچاتے ہیں۔ 22اگست2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus