×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جھک مارنا تو کوئی ان سے سیکھے!
Dated: 03-Oct-2017
میرے قریبی ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ اس وقت کینیڈا، امریکہ اور یورپ میں سینکڑوں سندھی اور بلوچ وڈیرے، نواب زادے اور سردار لاکھوں کروڑوں ڈالرز بیگوں میں بھر کر لیے پھرتے ہیں۔ پاکستان کا قومی خزانہ لوٹ کر یورپ اور امریکہ میں ان وڈیروں کی اولادیں عیاشیاں کرتی پھرتی ہیں اور ا ن ممالک میں جہاں بھی پراپرٹی، بنگلے، مکانات اور کمرشل پراپرٹی کا لیں دین ہو وہ ان امیر زادوں کی یا ان کے حواریوں کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں یقینا اس مال میں ’’را‘‘کے دیئے ہوئے صدقات بھی شامل ہوتے ہیں اور اس مال کو حلال بنانے کے لیے تھوڑا سا سعودی، اماراتی اور ایرانی فطرانہ بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔ قارئین پاکستان بچانا ہے تو ہمیں منافقت چھوڑنا ہو گی۔ اکثر پاکستانی امراء اور دولتمند خاندان جو قیامِ پاکستان سے ہی وطنِ عزیز کا جونک کی طرح خون چوس رہے ہیں۔ میں پچھلے پینتیس سال سے اوورسیز میں مقیم ہوں اور ایک پورے تسلسل کے ساتھ میرے ذاتی مشاہدات میں یہ بات آئی ہے کہ پاکستان کا حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اور ان کی اولادیں صرف حکومت گری کے لیے پیدا ہوتے ہیںاور جو بھی گردی کریں وہ جائز ہے۔ باقی دشمنوں کے خلاف لڑنا اور شہادتیں رقم کرنا فوج کا کام ہے اور انہیں اس منصب کے لیے تنخواہ اور مشاہرہ ادا کیا جاتا ہے۔ باقی رہے عوام تو کسان کا کام فصل بونا اور کاٹنا جبکہ مزدور کا کام ان کی فیکٹریوں اور کارخانوں میں محنت مزدوری کرنا یا پھر ہر پانچ سال بعد اپنے بے قدر ووٹ دے کران کو ایوانوں میں پہنچانا ہوتا ہے۔ جھورا جہاز کہہ رہاتھا کہ وڑائچ صاحب ان امراء کی سپیشل اولادیں جو دیکھنے میں بھی بظاہر ابنارمل نظر آتی ہیں انہیں آکسفورڈ اور ہارورڈ میں دولت کے بل بوتے پر داخلے مل جاتے ہیں اور ان اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر یہ شہزادے اور شہزادیاں اپنا استحقاق سمجھتے ہیں کہ وہ کسی ایشیائی بینک، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف یا اقوامِ متحدہ کے کسی ادارے میں ڈائریکٹر کے عہدے پر چند برس کا ملازمت کا تجربہ حاصل کرکے اپنے آبائی وطنوں کو لوٹ جاتے ہیں۔ جہاں ان کے باب دادایا چاچا کی چھوڑی ہوئی خاندانی سیٹ پر الیکشن لڑ کے اسمبلیوں میں پہنچنا ہوتا ہے۔ برصغیر میں ایسی پریکٹس اڑھائی سو سال پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے ساتھ ہی شروع ہو چکی تھی جو اب تسلسل سے جاری ہے۔ اس دوران جمہوریت کی بقا کے لیے کبھی کبھی کسی جہانگیر بدر، معراج خالد اور ڈاکٹر غلام حسین جیسے لوگوں کو بھی اقتدار کا لولی پاپ دے دیا جاتا ہے لیکن غلام ابنِ غلام کی روش اور رسم سے جو پہلوتہی کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ کے گمنام دیمک زدہ اوراق کی طرح پڑے نظر آتے ہیں۔ قارئین! گذشتہ روز ہمارے نئے نویلے وزیر خارجہ خواجہ آصف صاحب جو گذشتہ چارسال سے پاکستان کے وزیر دفاع بن کر دشمن قوتوں کے وزیر دفاع کا کام کر رہے تھے اور اسمبلی کے فلور پر پاک فوج کی تضحیک کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے اور انہی چار سالوں کے دوران موصوف پانی نہ بجلی کی وزارت کا قلم دان بھی سنبھالے رکھا اور انہی کی کاوشوں کی وجہ سے نندی پور پراجیکٹ میں سینکڑوں ارب کی بے ضابطگیاں آن ریکارڈ ہیں جبکہ حاصل نتیجہ پر اگرس صفر ہے۔ یعنی نند پوری کا پُر آسیب پراجیکٹ اس وقت صرف ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے سے بھی قاصر ہے۔ نیویارک میں گذشتہ روز ایشیائی فورم کے سٹیج پر بیٹھے ہوئے وہ دنیا کی ساتویں نیوکلیئر پاور کے وزیر خارجہ کم ا ور سٹوڈنٹ پولیٹکس کے کھلاڑی زیادہ لگ رہے تھے۔ اپنے طرزِ تکلم سے مشہور ہونے والے خواجہ صاحب نے دشمن کے کندھوں پر سر رکھ کر رونے کی زیادہ کوشش کی ہے اور خاص طورپر ان کے اس فقرے نے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے پاک بھارت دوستی اور مودی سرکار سے تعلقات کی پاداش میں وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھوئے۔ ان الفاظ نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔ واہ خواجہ صاحب جھک مارنا تو کوئی آپ سے سیکھے۔یعنی پاک فوج اپنی حکمت، دانش اور پروفیشنل ازم سے اپنی سرحدوں کے تینوں اطراف تین بڑی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہے مگر ہمارے سیاست دانوں کی غلطیوں کی وجہ سے پاک فوج اور ملکی سلامتی کو نہ صرف اندرونی مزاحمت کا سامنا ہے بلکہ اس سے ملکی سالمیت کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ قارئین! اپنے ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے اور پاکستان کو خارجی محاذوں پر شکست دینے کے لیے میاں نوازشریف نے روبرٹی گلوبل نامی فرم کو ہائر کیا ہے جو اربوں روپے کے عوض نوازشریف اور ان کے خاندان کے تحفظ کے لیے لابنگ کرے گی جبکہ اپنے دورِ حکومت میں سابق وزیراعظم نے بھارت کو موسٹ فیورٹ ریاست قرار دیئے جانے کی شدید خواہش کا برملا اظہار کیا تھا جبکہ کشمیر کے مسئلے کو پسِ پشت ڈال کر بھارت سے آزادانہ تجارت کی خواہش بھی کی تھی۔نواز شریف بین الاقوامی بارڈر کو کہتے ہیں کی سرف ایک لکیر ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان حائل ہے ورنہ تو ہم ایک جیسے لوگ ہیں ہمارا رب ایک ہے۔ گذشتہ دنوں بھارتی وزیر خارجہ سُشما سوراج نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے گذشتہ ستر سالوں میں لاتعداد اچیومینٹس کی ہیں جبکہ پاکستان نے ماسوائے دہشت گرد پیدا کرنے کے کچھ نہیں کیا، تو میرا سشما سوراج جی کو نوائے وقت کے ذریعے سوال ہے بھارت پچھلے ستر سالوں میں اپنے عوام کو پینے کا صاف پانی اور گھروں میں بیت الخلا کے استعمال کو تو یقینی نہ بنا سکتا تو عالمی سپر طاقت کیسے بن گیا؟دنیا کی انسانی تاریخ میں ہر گھٹیا حرکت ، رسم بھارت میں پائی جاتی ہے اور اس وقت دنیا بھارت کے چہرے پر لگی سیاہی کو دیکھ رہی ہے۔ خود بھارت کے چھبیس صوبوں میں آزادی کی تیس سے زیادہ تحریکیں اپنے پورے دوام پر ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ اگلے چند برسوں میں بھارت کا نقشہ ایک سے زائد مرتبہ تبدیل ہو جائے اور جس دن پاکستان نے اپنے اندرونِ خانہ حالات پر قابو پا لیا وہ دن متحدہ بھارت کا آخری دن ہوگا۔ خاص طور پر حیدرآباد، بنگال، آسام، جوناگڑھ، گجرات، پنجاب، مدراس اور تامل آبادی کے اکثریتی صوبے میں مجھے آزاد ریاستوں کا ظہور نظر آ رہا ہے۔ قارئین! جس وقت میں یہ کالم تحریر کر رہا ہوں ٹھیک اسی وقت میاں نوازشریف نیب کی احتساب عدالت میں فردِ جرم کا ٹھپہ لگوانے جا رہے ہیں اور جن کم عقل دوستوں نے انہیں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائو کا مشورہ دیا ہے وہ خود تو شاید پتلی گلی سے نکل کر غائب ہو جائیں مگر میاں صاحب ان کی فیملی اور خاندان جس راستے پر چل پڑے ہیں اس کے سامنے ایک گہری کھائی ہے اور انسان دنیا سے تو بھاگ سکتا ہے مگر اپنے رب کی مرضی کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔میاں صاحب پر فرد جرم نو اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے مگر وزیرداخلہ نے اس موقع پر فوج کیخلاف زہر اگلنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہ طے ہو چکا ہے کہ میاں صاحبان، زرداری صاحب اور دیگر تمام اقتدار زدہ طبقے کا احتساب ہونا اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اور جو قوتیں ،دانشور، اینکرز اور کالم نگار میاں صاحب کو زرداری صاحب کو مشورے دیتے ہیں وہ خود برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا میں امیگریشن کنسل ٹینٹس تلاش کر رہے ہیں۔ قارئین! عاشورہ محرم کے ایام اپنے اختتام کو پہنچے مگر پاکستان کی معاشی، معاشرتی اور سماجی مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ میں آج ایک نجی ٹی وی چینل پردیکھ رہا تھا کہ لاہور کے اطراف میں درجنوں ڈیجیٹل دودھ کی فیکٹریاں اور ڈیری فارمز قائم ہیں جو روزانہ لاکھوں لیٹر دودھ بغیر بھینس اور گائے کے تیار کرتی ہیں جو کسی معجزے سے کم نہیں۔ خشک دوودھ اور ویجی ٹیبل پائوڈر سے دودھ تیار ہو کر لاہور اور پنجاب بھر کے صارفین کو سپلائی ہوتا ہے اور اس دھندے کی حاکمیت مقامی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور وزراء کرتے ہیں۔ قارئین جس ملک میں ہمارے ننھے نونہالوں کو ایک فیڈر خالص دودھ نہ ملے ، جہاں ہسپتال میں پڑے بستر پر مریض کو دوائی کے ساتھ ایک گلاس خالص دودھ نہ ملے، جہاں ضروریات زندگی کے لیے خالص دودھ میسر نہ ہو، اس ملک میں خالص جمہوریت کی بات کرنے والے خالصتاًنفسیاتی مریض ہیں۔ دوائوں، مشروبات اور فوڈ پراڈکٹس میں ملاوٹ کرنے والے مجرموں کو سزائے موت دی جائے وگرنہ دیارِ غیر میں مقیم ڈیڑھ کروڑ پاکستانی تارکین وطن جو یہ رپورٹس دیکھتے ہیں وہ کبھی بھی واطن واپس کی خواہش کو سر اٹھانے نہ دیں گے۔ 3اکتوبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus