×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شیخ رشیداحمد۔۔۔ہیرو نمبر ون
Dated: 10-Oct-2017
قدیم ایرانی کہاوت ہے کہ ’’خدا نے ہر فرعون کے لیے ایک موسیٰ پیدا کیا ہے۔‘‘ روزِ اول سے ہی خدا اور اس کے منکران کی لڑائی جاری ہے اور ہر دور میں فرعون، نمرود اور یزید پیدا ہوئے مگر رب العزت نے ان کی سرکوبی کے لیے اپنے نیک بندوں، انبیاء اور اولیاء کا انتخاب کیا۔ قارئین! 1974ء میں قادنیت، احمدیت کے شر نے ایک دفعہ پھر سر اٹھایا تو پاکستان کے گلی کوچوں میں ایک خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اسی دوران آغاشورش کشمیری (مرحوم) ایک نڈر ،بے باک اور مرنجان مرنج شخصیت کے حامل تھے۔ وہ عاشقِ رسولؐ تھے۔ ایک بار انہوں نے بھٹو کے پائوں پکڑ کر کہا تو ایک مسلمان شخص ہے آقائے نامدار کی ختمِ نبوت کا مسئلہ حل کر دے تاکہ آخر ت میں دربارِ الٰہی میں سرخرو ہو کر جائوں۔ بھٹو نے انہیں اٹھا لیا اور گلے لگا کر کہا آغا صاحب میں حضور نبی اکرمؐ سے سچے عشق کی لگن اور تڑپ محسوس کرتا ہوں اور میں بھی چاہتا ہوں کہ میں بھی دربارِ الٰہی میں پیش ہوں تو پاکستان کے دوسرے سربراہوں کی طرح سرندامت سے نہ جھکا ہو اور پھر جب بھٹو شہیدنے قادیانوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو شورش (مرحوم) نے بے ساختہ لکھا۔ بھٹو کا نام زندئہ جاوید ہو گیا شورش شکست کھا گئے اشرار زندہ باد بھٹو شہید کو اس جرمِ ضعیفی کی جو سزا ملی وہ نہ صرف تاریخ میں رقم ہو گئی بلکہ اس اقدام سے خود بھٹو ہمیشہ کے لیے اَمر ہو گئے مگر اس جرم کی سزا انہیں یہ ملی کہ ان کی نرینہ نسل کو یک بعد دیگرے قتل کر دیا گیا اور آج جب یہ فتنہ پھر سر اٹھانے لگا تو راولپنڈی کے بیٹے شیخ رشید احمد نے اس گھنائونی سازش کو جب پارلیمنٹ کے فلور پر بے نقاب کیا تو پارلیمنٹ کے تین سو بیالیس اراکین میں سے تین سو تیس مسلم اراکین کو یہ ادراک تک نہ ہوا کہ آئین کو نقب لگا کر ختمِ نبوتؐ کی شق کو حذف کیا جا رہا ہے۔ دراصل چال ہی کچھ ایسی ماہرانہ تھی جسے پارلیمنٹ میں موجود درجنوں جلیل القدر جید علماء بھی سمجھنے سے قاصر رہے تھے اور جب شیخ رشید نے اس سازش کو آشکار کیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وقت کے یزید اپنا وار کر چکے ہیں۔ خود راقم نے ٹیلی فون کرکے شیخ رشید سے اس پورے واقعہ کی تفصیلات حاصل کیں اور جب ہم نے اس مسئلہ کو سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ کرنا شروع کیا تو خود میرے کئی قریبی دوست اور احباب حکومتی پروپیگنڈا مشینری سے مرعوب ہو کر ہم سے اس سانحہ کی وضاحت اور لفظوں کے ہیر پھیر کا ثبوت مانگنے لگے اور ایسے ہی ایک پاکستان سے آئی ہوئی ٹیلی فون کال پر میں نے اپنے اس مبینہ دوست سے کہا کہ شاہ جی فرض کرو آپ پل صراط پر پہنچ چکے ہیں اور آپ کو پل صراط پار کرنے کے لیے شفاعت رسولؐ کی ضرورت ہے تو اس وقت وہاں موجود ملائک کو آپ اپنے مسلمان ہونے کا اور کلمہ طیبہ پر ایمان رکھنے کا کونسادستاویزی ثبوت پیش کرو گے؟ اور آج ناموس رسالتؐ پر حرف آنے کی نعوذ باللہ بات ہوئی ہے تو آپ کا کمزور ایمان شیطان کے بہکاوے میں آ کر ثبوتوں کی دلدل میں پھنسا رہا ہے۔ قارئین! یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ شیخ رشید نے ختمِ نبوتؐ پر نقب لگانے والوں کو للکارا ہو اس سے پہلے بھی 1974ء میں جب وہ گارڈن کالج یونین کے صدر تھے تو انہوں نے نظامِ مصطفی ؐ کی تحریک میں کلیدی کردار ادا کیا تھا اور سولہ سال کی عمر میں جیل یاترا کا شرف حاصل کیا۔ شیخ رشید کی راولپنڈی میں وہی حیثیت ہے جو جہانگیر بدر (مرحوم) کی لاہوریوں کے لیے تھی۔ دونوں ایک عام گھرانے سے ابھرنے والے لیڈر بنے۔ شیخ رشید میرے ذاتی دوست اور ہمدرد اور بڑے بھائی جیسے ہیں۔ دنیاوی خواہشات کو چھوڑ کر انہوں نے راولپنڈی اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہوئی ہے اور آج حکومت وقت آئین میں کی جانے والی حالیہ ترامیم واپس لینے پر تیار ہوئی ہے تو یقینا اس کا سہرا شیخ رشید احمد کے سر سجتا ہے۔ شیخ رشید نے ایک دفعہ پھر پوری قوم کے دل جیت لیے ہیں۔ قارئین! پاکستان کی علاقائی، جغرافیائی ، لسانی اور معاشرتی تمدن اور مذہبی تعلق کو دیکھا جائے تو ہمارا مزاج قطعاً جمہوری نہیںہے ۔ راقم خود ذوالفقار علی بھٹو شہید او رمحترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا فالوور اور قریبی ساتھی رہ چکنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جس طرح تربوز جیسا پھل گرم مرطوب علاقے میں کاشت کیا جاتا ہے اور اس کو یورپ اور کینیڈا کے ٹھنڈے علاقوں میں کاشت نہیں کیا جا سکتا اسی طرح آم اور چیری کی مثال بھی لی جا سکتی ہے تو پھر کس طرح ایک مغربی طرزِ حکومت کو جہاں شرح ناخواندگی صفر ہے۔ اس جمہوریت کو ہم خطے کے دوسرے ممالک اور ریاستوں کی طرح پاکستان میں بھی نافذ کر سکتے ہیں؟ جبکہ ہمارے آبائواجداد مسلم طرزِ حکومت میں خلفاء کی بات کی گئی اور خلیفہ ٔ وقت کو منتخب کرنے کر طریقے اور اصول بتائے گئے جبکہ شوریٰ کا اسلامی تشخص بھی ہمارے سامنے ہے اور اس طرح قاضی اور انصاف، عدل، عدالت کا اسلامی تشخص مغربی معاشرے سے یکسر مختلف ہے۔ ہمارے ایام، مہینے اور ہمارا اسلامی کیلنڈر مغربی کیلنڈر سے یکسر مختلف ہے۔ میں آج بھی اسلامی جمہوریت کا سب سے بڑا داعی ہوں اور میڈیکل سائنس کے مطابق ہم ایشیائی اور عربوں اور افریقیوں کو گورے انگریزوں سے مختلف اقسام کی بیماریاں ہوتی ہیں اور آج یورپین ڈاکٹر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ ادویات جو مغربی لوگوں پر ریسرچ کرکے بنائی جاتی ہیں وہ ایشیائی، عربی اور افریقی مریضوں کو سوفیصد رزلٹ نہیں دے سکتیں۔ قارئین! پاک فوج کا نہ صرف وجود بلکہ ایک نیوکلیئر پاکستان کا موجود ہونا خطے میں توازن کی ضمانت ہے جو نام نہاد دانشور، اینکرز، کالمسٹ اور رائٹرز، تجزیہ نگارپاکستا ن میں بیٹھ کر امریکہ ،کینیڈا، برطانیہ اور سینٹرل یورپ کی مثالیں دیتے ہیں۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ بیلجیم، ہالینڈ، لگسمبرگ، ڈنمارک، سپین، مناکو، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ سمیت درجنوں ممالک میں آج بھی شاہی نظام رائج ہے جبکہ امریکہ کی باون ریاستوں کو پینٹاگون نے جکڑ کر رکھا ہوا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ امریکہ کے وفاق کی علامت پینٹاگون ہے جبکہ ہمارا ازلی دشمن ہمسایہ بھارت قریباً پچیس لاکھ کی افواج رکھ کر کشمیر، جونا گڑھ ، حیدرآباددکن،بھوٹان کی ریاستوں پر جبری قابض ہے اور ایسے حالات میں پاکستان جو پہلا اسلامی نیوکلیائی مملکت ہونے کے ناطے دشمنان اسلام اور بھارت کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔ پاکستان میں امریکہ، جرمنی اور فرانس کی طرح ایک قومی زبان نہیں ہے۔ پاکستان چار اقوام کو ملا کر ایک وفاقی ریاست جس میں ایک درجن سے زائد صوبائی لسانی زبانیں بولی، لکھی پڑھی اور سمجھی جاتی ہیں اور وفاق کی اکائی کو زندہ اور سلامت رکھنے کے لیے ہمیں چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایک وفاقی طاقتور فوج کی ہمہ وقت ضرورت ہے۔ یہ پاک فوج کا ہی طرئہ امتیاز ہے کہ آج ہمارے تین اطراف، افغانستان، ایران اور بھارت اور پھر ان کی مدد کے لیے اسرائیل اور امریکہ موجود ہیں جبکہ ان پانچوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیاں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں کہ وہ خدانخواستہ پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کوتباہ کرنے میں ایک منٹ کی دیر نہ لگائیں اور بھارت جو کہ روزمریدکے سمیت پینتیس مقامات کو ٹارگٹ کرنے کی خواہشات کا اظہار کرتا ہے اور حافظ محمد سعید احمد کو خدانخواستہ ختم کرکے کشمیر کا قصہ صاف کرنا چاہتا ہے۔ وہ پاک فوج کی موجودگی کی وجہ سے ہی ابھی تک باز ہے جبکہ کرپشن زدہ کئی خاندان پاکستان کا خون تو چوس چکے اب کھال اتارنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے مگر پاک افواج کی موجودگی سے ہمیں ہمت او رجذبہ ملتا ہے کہ ہم ایک محفوظ گھرانہ ہیں۔ 10اکتوبر2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus