×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امن کی آشا۔یا۔دشمن کی بھاشا
Dated: 09-Jan-2010
آج ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے جیسے دنیا گلوبل ویلج بنی۔ویسے ہی جنگیں لڑنے کے انداز میں بھی جدت آ گئی۔ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں یا جنگوں پر بنی فلمیں دیکھتے ہیں تو قرونِ وسطیٰ میں تیر تلوار اور نیزے بھالے استعمال ہوتے تھے۔بات منجنیقوں، بندوقوں سے ہوتی ہوئی توپوں، ٹینکوں اور پھربراعظمیٰ راکٹوں،میزائلوں اور ایٹم بم پرجا پہنچی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین 3جنگیں اور چند مہم جوئیاں ہو چکی ہیں۔ بھارت آج بھی پاکستان اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا ہے اورپاکستان کے علاوہ حیدرآباد دکن،بھوٹان،سری لنکا،نیپال، مالدیپ،کو اپنا غلام تصور کرتا ہے۔ آج بھی اس کی پاکستان کے حوالے سے پالیسیوں میں جارحیت کا عنصر غالب ہے اور اس طرف سے جارحیت کے کسی امکان کورد نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ اسلام اور خصوصی طور پر پاکستان دشمنی اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اس جنونی ہمسائے نے ہمارے اوپر آزادی کے صرف ایک سال بعد اس وقت جنگ تھوپ دی تھی جب وطن عزیز تعمیر اور ارتقاء کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا تھا۔ پھر 65ء اور 71ء کی جنگیں، سیاچین اور کارگل کی مہم جوئیاں بھی بھارتی جارحیت و مکاری کا ثبوت ہیں۔ جارحیت ہمیشہ ہندوستان کی طرف سے ہوئی پاکستان کو ہر دفعہ دفاع کرنا پڑا۔ کشمیر کے ساتھ ساتھ بھارت نے ہمارے پانیوں پر بھی جارحانہ قبضہ جما رکھا ہے جو کسی بھی وقت ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے خلاف اس نے ثقافتی یلغار روزاول سے شروع کر رکھی ہے۔ پہلے جو کام فلموں اور وی سی آر کے ذریعے سست روی سے جاری تھا آج کیبل نیٹ ورک اورسیٹلائٹ کی صورت میں سرعت سے چل پڑا ہے۔ اکثر پاکستانی نادانستگی میں بھارتی چینلز سے اسیر ہو کر اس کی بھاشا الانپنے لگے ہیں۔ ہمارے ایک سابق وزیراعظم بھارتی کلچر سے ایسے متاثر ہوئے کہ اپنے بھارتی ہم منصب سے فرمائش کر دی کہ خوبرو اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کو پاکستان میں سفیر تعینات کر دیا جائے۔ اب ’’جنون‘‘ گروپ کہیں بھارتی اداکارہ کترینہ کیف کو پاکستان کا وائسرائے تو نہیں بنانا چاہتا ؟ آج بھی کچھ حلقے امن کی آشا کے نام پر بھارت کی بھاشا بولتے نظر آتے ہیں۔ ایک مخصوص حلقے نے داخلی محاذ پر طالع آزمائیوں میں ناکامی کے بعد اپنے کاروباری مقاصد کے لیے اپنے ہی جیسے بھارتی حلقے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے اور امن کی آشا کے نام پر محب وطنی پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان ’’بھولے بھالوں‘ کو یقینا علم ہے کہ بھارت اسرائیل سے ایک ارب ڈالر کا جدید اسلحہ خرید رہا ہے۔ اس کے فرانس، روس، آسٹریلیا اور ہالینڈ کے ساتھ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے حصول کے معاہدوں پر حالیہ دنوں میں دستخط ہوئے۔ امریکہ پہلے ہی نیوکلیئر ٹیکنالوجی اسے فراہم کر چکا ہے۔ امریکہ جدید ترین ایف 18اور روس سنحوئی لڑاکا طیارے بھی اسے دے گا۔ جبکہ تین نئی ایٹمی آبدوزیں اس کے بحری بیڑے کا حصہ بن چکی ہیں۔ پوری دنیا میں اسے جہاں سے بھی اسلحہ ملتا ہے وہ اپنی جنتا کے کپڑے تک اتار کر خرید رہا ہے۔ آج بھارت سب سے زیادہ اسلحہ روس سے خریدتا ہے اور اسرائیل کے اسلحہ کی خریداری کا سب سے بڑا گاہک بھی بھارت ہے۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ بھارتی آرمی چیف دیپک کپور نے پاکستان کے خلاف محدود ایٹمی جنگ کی دھمکی بھی دی ہے اور جس دن امن کی آشا پنجرے سے نکلی بالکل اسی روز دیپک کپور کی زبان سے بیک وقت پاکستان اور چین کو 96گھنٹوں میں فتح کرنے کی بھاشا نکلی بھی نکلی۔ جبکہ بھارت خوب جانتا ہے کہ پاکستان اور چین سے پنگا لے کر وہ پہلے بھی جوتے کھا چکا ہے۔ اس وقت بھارت میں پاکستان سے تقریبا دوگنا زائد مسلمان موجود ہیں بھارتی گجرات میں گذشتہ دنوں جنہیں گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا اور مسلمانوں کی مذہبی عبادت گاہیں محفوظ نہیں،بابری مسجد سمیت سینکڑوں مساجد اور گرجوں کو جلایا اور فتح کیا گیا اور مسلمان نام والے اداکار سیف علی خان، سلمان خان اور عرفان ہاشمی نے تو پچھلے دنوں ہونے والی پریس کانفرنس میں یہ الزام بھی لگایا کہ انہیں بمبئی کے ایک مخصوص علاقہ میں گھر خریدنے کی اجازت نہیں دی گئی اور امن کے سب سے بڑے داعی بالی وڈ کے سٹار امیتابھ بچن نے اپنے بیٹے ابھیشیک بچن کی شادی پربھارت میں بسنے والے 35کروڑ مسلمانوں میں سے کسی ایک کو بھی مدعو نہیں کیا۔یہ بھارتی سیکولرازم کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے۔ ذرا سوچو! آگ بجھا کے سوچو! دل کے دیئے جلا کے سوچو! بھارت امن کی فاختائیں اڑانے کے لیے تو کھربوں ڈالر کا جدید اور مہلک اسلحہ تو نہیں خرید رہا اور خطے میں پاکستان کے سوا اس کا اور کون دشمن اور ہدف ہے جس کے ساتھ لڑنے کے لیے روایتی اور غیر روایتی اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے۔ جبکہ پاکستان اور بھارت کے مابین اسلحہ کی استعداد اور فوجوں کی تعداد کا ایک اور تین سے زائد کا تناسب ہے۔ امن کسے پسند نہیں لیکن خطے میں بدامنی کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ مجید نظامی صاحب نے ٹینکوں پر بیٹھ کر دہلی جانے کا ارادہ کیا اللہ رب العزت ان کی دلی مراد پوری کرے۔بھٹو شہید نے ہزاروں سال لڑنے کا نعرہ مستانہ لگا کر اور اب ان کے داماد اور سیاسی وارث صدرمملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے کشمیر کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہید بھٹو کے انہی الفاظ کا اعادہ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ہزار سال تک جنگ بھٹو کا عزم تھا۔ پاکستان حاصل کیا اب کشمیر بھی لیں گے۔ کشمیریوں کے مفاد پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ کشمیر اور پاکستان کا دائمی رشتہ ہے اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اپنی شہ رگ پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ برداشت نہیں کریں گے۔ آخری فتح کشمیریوں کی ہو گی اورکشمیر کا پاکستان سے الحاق ہم پر فرض ہے۔اسی طرح پاک فوج کے نائب سالار جناب جنرل طارق مجید نے بھارت کو اس کی اوقات یاد دلاتے ہوئے کیا خوب کہا ہے کہ ’’کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ‘‘مگر ہمارے کچھ مہربان ضرورت سے زیادہ ’’لبرل ازم‘‘ کا شکار ہیں یا پھر اس کی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں ہمارے انہی دوستوں نے پہلے پاکستان کے اندر الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں وائس آف امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرکے کروڑوں ڈالر کمائے اب بھارت اور اسرائیل کے ساتھ صحافتی و ثقافتی معاہدے کرکے اربوں ڈالر بنانے کے چکر میں ہیں۔ہمارے یہ پُرامن دوست ہر دو تین ہفتے کے بعد کسی نئے کھیل کی تلاش میں رہتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ جس درخت کی شاخ پر وہ بیٹھے ہیں اسی شاخ کو کاٹنے کے درپے ہیں۔شاید انہی نادان دوستوں کے لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے: یاروں کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus