×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سارا بوجھ زرداری صاحب پر
Dated: 14-Jan-2010
کچھ لوگ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش میں اپنی نادانیوں کے باعث اپنے ہی دوستوں کی مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔آصف علی زرداری اور ان کی حکومت کے ساتھ بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پاکستانی قوم پر شامِ غم طاری تھی پارٹی ایک بجھے دل کے ساتھ پارٹی الیکشن میں گئی تو قوم نے ووٹوں سے اس کی جھولی بھر دی۔ میاں نوازشریف نے بھی صدقِ دل سے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا۔ پارٹی نے مخدوم آف ملتان کو پاکستان کا بلا مقابلہ وزیراعظم بنوا دیا۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ،اے این پی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی پر مشتمل ایک قومی حکومت کی طرز کا قیام عمل میں آیا۔ ہر پارٹی کو کابینہ میں اس کی عوامی مینڈیٹ کے تناسب سے نمائندگی دی گئی لیکن زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ اس کولیشن کو جمہوریت کے بدخواہوں کی نظر لگ گئی۔ مسلم لیگ ن نے کابینہ سے استعفیٰ دے کر اپنی راہیں جدا کر لیں۔ پیپلز پارٹی نے اس کی افراتفری میں خانہ پُری کی اور مسلم لیگی وزرا کی جگہ لینے والوں نے اسے موقع غنیمت سمجھا اور نوزائیدہ حکومت کے پائوں جمنے سے قبل ہی ’’جوہر‘‘ دکھانا شروع کر دیئے۔ اس دوران پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے پرزور اصرار پر آصف علی زرداری صاحب نے شہید محترمہ کے مشن کی تکمیل کے لیے ایوانِ صدر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ مرکز میں سابق کولیشن پارٹنر نے زرداری صاحب کے غیر متوقع فیصلے پر ان کو ٹف ٹائم دینے کی ٹھان لی۔ اس کے باوجود دوتہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وہ پاکستان کے پہلے صدر ٹھہرے۔ لیکن صدر مشرف کی چھوڑی ہوئی خرابات و خرافات حکومت کو بدستور عدم استحکام سے دوچار کیے ہوئے تھیں۔ ڈالر کئی سال سے 62روپے پر ریت کی دیوار کی مانند کھڑا تھا۔ یہ دیوار ایک دن تو گرنا ہی تھی۔ گری تو ڈالر 83روپے پر چلا گیا۔ اناج کا بحران آیا تو گندم، چاول، گھی اور چینی عوام کی دستردس میں نہ رہے۔ زرعی ادویات کھاد اور بیج کسان کی پہنچ سے دور ہوتے چلے گئے۔ جرنیلی آمریت کے دوران ایک میگاواٹ بھی بجلی پیدا نہ کی گئی تھی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے عوام پر قہر بن کر توٹوٹنا ہی تھا۔ جس کی حشر سامانیاں اب بھی جاری ہیں اور طرفہ تماشا یہ کے پانی و بجلی کے ذمہ داران نے حساب کتاب اورجمع تفریق کیے بغیر عوام کو جھوٹے لارے و دلاسے دینے شروع کر دیئے۔ کبوتر اگر بلی کو دیکھ کر یہ تصور کر لے کہ بلی اس پر نہیں جھپٹے گی اور وہ تر نوالا بننے سے بچ جائے گا۔بلی کو تھیلے سے باہر تو آنا ہی تھا اب جب وعدوں اورعہدو پیماں کی تاریخیںسر پر آن پہنچیں تو عوام کے صبر و نفرت کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا۔ ذمہ داران تو مالِ غنیمت سمیٹنے میں لگے رہے اور یہ عوامی نفرت پوری کی پوری صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے حصہ میں آ گئی۔حکومت کے سامنے بحران تھے۔ بحران در بحران اور مقابلے میں مردِ صحافت مجید نظامی صاحب کے مردِ حُر اور مردِ راہوار آصف زرداری مردِ بحران بن کر ڈٹ گئے۔ جو ہر نئے بحران پر قابو پاتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خارجہ معاملات کے امور سنبھالنے کے لیے طوفانی دورے کرنے پڑے۔ یہی وجہ تھی کہ صدر مملکت پارٹی کے دیرینہ کارکنان اور اسمبلی سے باہربیٹھی لیڈرشپ سے دور ہوتے چلے گئے۔ بعض وزرااور مشیروں نے اسے سنہری موقع جانا اور فائدہ اٹھایا۔ پھر ان کی کرپشن کی داستانیں عام ہونے لگیںجس پر ایکشن لیتے ہوئے وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی نے کچھ وزراء کے محکمے تبدیل کیے اور کچھ کے ابھی تبدیل ہونے والے ہیں۔ اس دوران میڈیا کے ایک مخصوص گروپ نے صدر اور وزیراعظم کے درمیان ایک ان دیکھی خندق کھودنے اور پیپلز پارٹی کے لیے ایک نیا لغاری تراشنے کی کوشش کی لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کسی دوسری وکٹ پر کھیلنے کے بجائے اپنی وکٹ پر جمے رہے۔ اسی میں ان کا وقار اور عزت و عظمت تھی اور انشاء اللہ رہے گی۔ اس دوران جب آصف علی زرداری کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تودووفاقی وزرا نے اپنی دانست میں پارٹی کے جہاز کو ڈوبتے سمجھ کر اس سے چھلانگیں لگا دیں۔ 27دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے یومِ شہادت پر صدر صاحب کا نوڈیرو اس سے قبل پارٹی کے یومِ تاسیس پرمزار قائدؒ پر خطاب اور پھر سند ھ کے طوفانی دورے سے وہ عوام کو ایک پیغام تو دینے میں کامیاب ہو گئے مگر کیا ہی بہتر ہوتا کہ یہ کام پارٹی کی سینئر قیادت یا وہ لوگ اانجام دیتے جن کی یہ ذمہ داری تھی۔ لیکن پارٹی کا نشرواشاعت کا شعبہ چاروں صوبوں اور مرکز میں اپنا مطلوبہ کردارا ادا کرنے میں ناکام رہا۔ پنجاب پیپلز پارٹی کی تنظیم کے سینئر عہدیداروں کو شکایت ہے کہ ان کی میڈیا ٹیم پارٹی کی کارکردگی کو نمایاں کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم صاحب نے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کو حکومتی معاملات پر بیان بازی سے روک دیا ہے مگر چاہیے تو یہ تھا کہ سیکرٹری نشرواشاعت کے لیے یہ ذمہ داریاں کسی ایسے شخص کو دی جاتیں جس کے پارٹی اور عوام کے اندر ’’روٹس‘‘ ہوں۔ دیگر پیشتر وزرا کی طرح وفاقی وزیراطلاعات و نشریات،کشمیر و شمالی علاقہ جات اور گورنر بلتستان و گلگت قمرالزمان کائرہ کا بیک وقت اتنے محاذوں پر ڈٹ جانا ایک کارنامہ ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پارٹی کا شعبہ نشرواشاعت اور دیگر ذمہ داران جانفشانی سے لڑتے ہوئے اپنے سپہ سالار کے بازو بنتے مگر یہاں عالم یہ ہے کہ کام کرنے والوں کی ٹانگیں کھینچی اور ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور پارٹی کے ایک مخصوص طبقے نے اپنے اثر و رسوخ سے میرے جیسے ’’فری لانس‘‘ خدمت گزاروں کے لیے جو کہ دمے و سخنے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر آ کر پارٹی پالیسیوںکا دفاع کرتے تھے ان پر سرکاری چینل پی ٹی وی کے دروازے بند کروادیئے جب کہ یہ وہی پی ٹی وی تھا جو آمرکے دور میں بھی ہمیں ہماری صلاحیتوں کے اعتراف میں مدعوکرتا رہتا تھا۔پیپلز پارٹی کے یہ ان دیکھے ہاتھ اپنے مذموم مقاصد میں تو شاید کامیاب ہو جائیں مگر پارٹی کے لیے فری سروس مہیا کرنے والے خدمت گزاروں کے لیے یہ حوصلہ شکنی اور ٹانگیں کھینچے جانے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کام پارٹی عہدیداران کو کرنا چاہیے تھا وہ پارٹی چیئرمین جن کے کندھوں پر صدارت کی بھاری ذمہ داری بھی ہے کو کرنا پڑتا ہے اور اس کے ردعمل کے جواب میں غیرسیاسی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے صدرِ مملکت کی ذات ڈائریکٹ نشانے پر ہے۔ عوامی عدالت میں جانے کو ابھی تین سال باقی ہیں۔ اگرآئندہ الیکشن میں سرخرو ہونا ہے تو آج سے ہی پارٹی کی تنظیم نو کرنا ہو گی۔ ان لوگوں کو آگے لانا ہوگا جن کی عوام میں جڑیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے این اے 123 اور این اے 55 اور پنجاب میں صوبائی اسمبلی کی خالی نشستوں پر الیکشن کا حکم صادر فرمایا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس ان دونوں حلقوں میں کوئی مناسب امیدوار نہیں ہے۔ ’’سیانے‘‘ کہتے ہیں کہ اپنی پگ کسی دوسرے کے سر پر نہیں رکھتے۔کیا پیپلز پارٹی اسی طرح ضمنی الیکشنوں سے راہ فرار اختیار کرتی رہے گی تو پھر وہ دن دور نہیں جب یہ پارٹی بھی قومی الیکشن میں اپنی سیٹوں پر ادھر ادھر سے پکڑ کر لوگوں کو بٹھانا شروع کر دے گی اور پاکستان کی یہ سب سے بڑی پارٹی جو ملک کے پانچوں صوبوں میں اپنی جڑیں عوام کے اندر رکھتی ہے ایک دن ہوٹلوں کے اندر ہونے والے سیمینارز کی پارٹی بن کر رہ جائے گی۔’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘ مجھے ڈر ہے کہ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری جو ہمیشہ یاروں کے یار کہلاتے ہیں ایک بار پھر یاروں کی خاطر ان کو جیل یاترانہ کرنا پڑے اور یہ ’’یار‘‘ برادران یوسف کی طرح ہمیں بیچ کر کچھ سات سمندر پار اور کچھ سات پردوں میں چھپ جائیں گے اور آخر ہم ہی ساتھ ہوں گے جو پہلے بھی جیل میں ان کی رفاقت کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus