×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہاں میں پنجابی ہوں
Dated: 21-May-2010
فیلڈ مارشل منٹگمری نے ایک دفعہ اپنے جرنیلوں کی میٹنگ میں کہا کہ میں نے بیشتر عمر نازی جرمنوں اور سیاستدانوں سے لڑتے ہوئے گزاری ہے مگر آج میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نازی جرمن سے لڑنا آسان، سیاستدانوں کو سمجھنا اور ان سے لڑنا بہت مشکل ہے۔ منٹگمری کی یہ بات یقینا اس کی زندگی اور تجربے کانچوڑ تھی۔ ہمارے ملک کے سیاستدان بھی کچھ کم نہیں ہیں ان کو سمجھنا یقینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آج ایم کیو ایم چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہی ہے کہ حیدرآباد کی موجودہ جغرافیائی حیثیت کو برقراررکھا جائے۔ مگر یہ کیسا تضاد ہے کہ چند روز قبل متحدہ کے قائدالطاف بھائی ٹی وی سکرین پر نئے صوبوں کے قیام اور پرانے صوبوں کی بحالی کا پرزور مطالبہ کر رہے تھے۔ مگر حیدرآباد کے مسئلہ پر وہ پرانے حیدرآباد کی طرف سوچنا بھی پسند نہیں کرتے۔ ایم کیو ایم نے اپنی روایتی پنجاب مخاصمت میں یہ اعلان کیا ہے کہ ہر نئے صوبے کے قیام کی حمایت کریں گے۔ مگر جب ہزارہ صوبہ کی بات ہوتی ہے تو ایم کیو ایم اصولی موقف سے ہٹ کر پختونخواہ خیبر کے بل پر دستخط کرنے والوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتی ہے کچھ روز قبل متحدہ قومی موومنٹ نے ان دنوں جبکہ پنجاب میں گندم کی کٹائی زوروں پر تھی اور کسان اپنا اناج سمیٹنے میں مصروف تھے پنجاب میں کنویشن رکھ کر یہ ثابت کر دیا کہ اسے پنجاب کی ثقافت اور روایات کا کچھ پتہ نہیں۔ اگر ایم کیو ایم باخبر ہوتی اور وہ واقع پنجاب میں کوئی کلیدی کردار ادا کرنا چاہتی ہوتی تو پنجاب کے 12کروڑ عوام کی خواہشات کے برعکس کالاباغ ڈیم کی مخالفت نہ کرتی۔ دراصل یہی وہ لوگ ہیں جو دشمن کے ایجنڈے پر عمل کرتے رہے ہیں جنہوں نے ڈالروں اور روپوں سے بھری بوریوں کے منہ کالا باغ ڈیم کے خلاف مہم کے لیے کھول دیئے۔ آمر مشرف کے دوراقتدار میں ان کی چھتری تلے کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں انتہا تک پہنچ گئے۔ آج جب حیدرآباد کی صورت میں ان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھا گیا ہے اور حیدرآباد جس کو آمر مشرف کے دور میں ایک سازش کے تحت اس کی ہیئت تبدیل کروائی گئی ایک ضلع کے 4اضلاع بنا دیئے گئے تو انہیں عوامی مینڈیٹ یاد آ رہے ہیں اور اے این پی جس کے ’’گرو‘‘ قیامِ پاکستان کے مخالف تھے جس کے گرو نے اپنے لیے سرحدی گاندھی کا خطاب پسند کیا اور پاک سرزمین میں دفن ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ آج ایم کیو ایم اسی کے ساتھ مل کر حضرت قائداعظمؒ کے وعدے کی نفی کر رہی ہے جس میں انہوں نے ہزارہ کے عوام کے ریفرنڈم کے مطالبے کو مان لیا تھا۔ آج ایم کیو ایم اور اے این پی حیدرآباد کے معاملے میں تو ریفرنڈم چاہتے ہیں مگر ہزارہ والوں کوجن کے پاس قومی اسمبلی کی 18نشستیں اور اس سے دگنا صوبائی اسمبلی کی نشستیں موجود ہیں کو صوبے کے نام کاحق دینے کو تیار نہیں۔ اس طرح ایم کیو ایم اور اے این پی پچھلے ایک عشرہ سے مل کرنوراکشتی جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ ملکی مفاد بالائے طاق رکھ کر ذاتی مفاد کے لیے سڑکوں پر انسانی لاشیں گرا رہے ہیں یہ وہ سیاسی گروہ ہیں جو اپنے مفادات کے لیے جنون تک حد تک چلے جاتے ہیں مگر یہ دونوں پارٹیاں پنجاب کی مخالفت،مخاصمت میں ایک ہی سُرتال پر رقصاں ہیں۔ سندھ دھرتی جس کے سپوت ہونے کے دعویٰ الطاف بھائی کر رہے ہیں آج اسی سندھ دھرتی کے مفاد کی بات کی جائے یا پھر پنجاب کے حق اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی بات کی جائے تو ایم کیو ایم اور اے این پی چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ پنجاب کے 12کروڑ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا چاہتے ہیں مگر انہیں سمجھنا ہوگا یہ 1857ء نہیں2010ء کا دور ہے آج کا ہر پنجابی اپنے دیس پنجاب کے لیے ’’دُلّے بھٹی ‘‘کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ جس دن پنجاب کے غیور عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا پنجاب کو تقسیم در تقسیم کرنے کی سازش پنجابیوں کو سمجھ آ گئی تو خدا کی قسم اس دن پنجابی خون کی ندیاں بہا کرحضرت بابا بلھے شاہ کی اس دھرتی کی عزت پر آنچ نہ آنے دیں گے۔ میرے سو ہنے پنجاب کے شاعر، دانش ور، ادیب، علماء کرام اور سُورمے اب ایم کیوایم اور اے این پی کی سازش کو کامیاب نہ ہونے دیں گے۔ 2000ء میں ایک بار دبئی میں جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دبئی والے گھر میں میرے اور اپنے کچھ سندھی دوستوں کے ساتھ کھانے کی میز پر تشریف فرما تھیں کہ اچانک بات پنجاب کے کردار تک آن پہنچی تو میں نے محترمہ کی اجازت سے کھانے کی میز پر موجود دوستوں کو وہاں ایک پنجابی کے بھی موجود ہونے کا احساس دلایا اور بتایا کہ اب تک پیپلز پارٹی جتنی بار بھی اقتدار میں آئی ہے اس میں پنجاب نے کلیدی کردار ادا کیا ہے اور پنجاب سے ملنے والے مینڈیٹ کے بغیر پیپلز پارٹی اقتدار میں نہیں آ سکتی۔ جس پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمارے سندھی دوستوں کو بتایا کہ مطلوب وڑائچ صحیح کہتے ہیں پنجاب کے بغیر پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کا تصور بھی محال ہے۔ اب یہ علیحدہ بات کہ محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی پنجاب کے لیڈر اور جیالے کارکنان استحصال کا شکار ہیں مگر وہ اپنی زبان پر اُف تک لانے کے لیے بھی تیار نہیں کیونکہ دل میں جب کبھی ایسی سوچ ابھرتی ہے تو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی تصویر نظروں میں آ جاتی ہے اور شہید سے کیے ہوئے وعدہ و پیماں یاد آ جاتے ہیں جو ہمارے ہاتھ، ہمارے منہ، ہمارے دماغ اور ہماری سوچوں کو جکڑ لیتے ہیں اور ہماری اسی کمزوری کو کچھ دوست کیش کروا کر ہمیں سیاسی ایموشنل بلیک میل کر رہے ہیں۔ بات اگر ذاتی حیثیت اور مفادات کی ہو تو میں ہر صدمہ بخوبی برداشت کر لیتا ہوںمگر بات پنجاب کی اور پنجاب کے مستقبل کی ہو رہی ہے تو میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میں سب سے پہلے پنجابی ہوں، پھر مسلمان اور پھر پاکستانی ہوں اور پھر میری چاہت میرا رشتہ پیپلز پارٹی سے ہے۔ اگر میری طرح میرے وطن کے دوسرے صوبے بھی ہم سے اسی طرح پیار کریں جس طرح ہم انہیں کرتے ہیں تو پھر میں بلوچی بھی ہوں، سندھی بھی ہوں، پختونخواہ بھی ہوں، کشمیری بھی ہوں، ہزاروی بھی ہوں اور گلگتی بلتستانی بھی ہوں۔ اب پنجابی جاگ چکا ہے اور آج جس پنجابی لیڈر نے بھی پنجاب سے غداری کی جرأت کی خدا کی قسم اہلیانِ پنجاب اس کی قبر بھی پنجاب ماں کی دھرتی پر نہیںبننے دیں گے۔ آج اگر پنجاب کے عوام نے خامشی اختیار کی تو وہ مجرمانہ ہو گی کیونکہ آج ہمارے مستقبل کی بات ہو رہی ہے آج تقسیم پنجاب کی بات ہو رہی ہے آج پنجاب کے حصے بکھیرنے کی بات ہو رہی ہے۔ آج پنجاب کے کروڑوں انسانوں کو آنے والے سالوں میں بھوک اور افلاس کے دلدل میں دھکیلنے کی بات ہو رہی ہے۔مستقبل کے پنجاب کو صومالیہ اور سوڈان جیسی مثال عبرت کے طور پر پیش کیے جانے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ آج پنجاب کے باسیوں کو بلاتفریق مذہب،سیاسی وابستگی، زبانی و لسانی، برادری و قبیلہ، امیر و غریب، چودھری و کمی، ملک ومہاجرسوچنا ہوگا اور اور پنجاب کو بچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہونا ہوگا۔ ایسا کیوں ہے کہ پاکستان کے دوسرے صوبے، بلوچستان، سندھ،پختونخواہ خیبر، آزاد کشمیر،گلگت بلتستان پنجاب کو استحصال کرنے والا صوبہ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ پنجاب کی سرزمین جہاں انہیں لاکھوں بھوکے ننگے ہڈیوں کا پنجر بنے پنجابی نظر نہیں آتے وہیں دوسرے صوبوں کے دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ استحصال کرنے والا طبقہ صرف پنجاب سے نہیں بلکہ دوسرے صوبوں سے بھی تعلق رکھتا ہے۔ سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ میں موجود یہ طبقہ جس کا کوئی دین،ایمان،مذہب، رنگ، نسل اور قوم و برادری نہیں ہوتا ان کا مذہب ان کی نسل ان کی قوم صرف اور صرف سبز رنگ کے ڈالر ہوتے ہیں جس کو یہ لوگ بوریوں میں بھر کر امریکہ،کینیڈا، برطانیہ، سپین اور متحدہ عرب امارات میں لے جاتے ہیں اور وہاں محلات بنا کر یہ اور ان کی اولادیں عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں۔ ان کو پاکستانی ہونے کا احساس تب ہوتا ہے جب عالمی کسادبازاری اور کاروباری مندی کی وجہ سے ان کی پراپرٹی اور رقوم ڈوب جاتی ہیں ایسے میں یہ ایک بار پھر یہ طبقہ لنگوٹی باندھ کر ہمیں پنجابی، سندھی، بلوچی اور پختون بنا کر ہمیں بیوقوف بنانے کی نئی چالیں لے کر میدان میں کود پڑتے ہیں اور ہم ان کے استحصال کا بلاامتیاز نشانہ بنتے ہیں۔یاد رکھیے ان حالات میں جب بات پنجاب کو تقسیم کرنے کی ہو رہی ہے پیپلز پارٹی،ن لیگ اور ق لیگ کے قائدین نے اگر اپنی سیاسی روش تبدیل نہ کی تو آئندہ الیکشن میں پنجاب سے صرف پنجاب سے پیار کرنے والی کوئی لیڈرشپ ابھرے گی جو اس استحصالی طبقہ کو عوامی جذبات کے سمندر میں بہا لے جائے گی میں پنجاب کو گالی دینے والے دوستوں سے کہتا ہوں میں پنجابی پیدا ہوا، میری ماں پنجابی، میرا باپ پنجابی، میری زبان پنجابی،میری ثقافت پنجابی،میرا لباس پنجابی، میرا رواج پنجابی اور میں اول و آخر پنجابی ہوں۔میری رگوں میں پنجابی خون ہے۔میرا رشتہ اس دھرتی سے ہزاروں سال پرانا ہے میری دعا ہے کہ اے ربِ جلیل تو مجھے پنجابی پہچان کے ساتھ موت نصیب کرنا جس دن میرے یہ الفاظ پنجابی سورمائوں کے کانوں اور دلوں تک پہنچ گئے تو پھر کوئی پنجاب کی تقسیم کی بات نہیں کرے گا۔ پنجاب کے ساتھ طرفہ تماشا یہ ہے کہ گزرے کل تک گریٹر پنجاب کی بات کرنے والے چودھری صاحبان اپنا ایمان بدل کر آج تقسیم پنجاب کے لیے ریلیاں نکال رہے ہیں۔ دھرتی ماں کا سودا اتنی جلدی کر لینے والوں کے لیے مستقبل میں پنجاب میں کوئی جگہ ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گی جو کہ ذاتی مفادات کی خاطر پنجاب کی پگ کو داغ لگانا چاہتے ہیں اگر ان کی مسلم لیگ ن سے سیاسی مخاصمت ہے تو اس کے لیے پنجاب کو تقسیم کرنے کی سوچ کو بدلنا ہوگا اور دوسری طرف سینیٹر محمد علی درانی جو کبھی ایک جماعت سے نکلتے ہیں تو دوسری میں شامل ہو جاتے ہیں کبھی جماعت اسلامی سے نکل کر پاسبان کہلواتے ہیں کبھی راولپنڈی سے اٹھ کر بہاولپور جا کر سرائیکی بن کر بیٹھ جاتے ہیں ان لوگوں نے کس طرح پنجاب اور پاکستان کے عوام کو بیوقوف بنا رکھا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو کل کی برف آج بیچنا چاہتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے حلقوں میں کونسلر تک تو منتخب نہیں ہو سکتے اور صوبے بنانے کی بات اس طرح کرتے ہیں جیسے ’’کن فیکون کن‘‘کا سارا اختیار انہی کے ہاتھ میں ہے۔جس طرح بھارت نے مشرقی پنجاب سے چندی گڑھ کو الگ کرکے پنجاب کو اپاہج بنا دیا ہے اسی طرح ہم پنجاب کی کسی لسانی و سیاسی اور دیگر قومیتوں و پارٹیوں کو موقع نہ دیں گے کہ وہ میرے پیارے پنجاب کو معذور اور اپاہج بنا دیں۔ یہ پانچ پانیوں سے بننے والا پنجاب جس کو پہلے بھی ایک پٹھان حکمرا ن نے پانچ میں سے تین دریا دشمن کے ہاتھ بیچ کر اس کو صحرا میں بدلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ یہ دراصل پنجاب کو لنگڑا و لولا کرنے کی سازش تھی اس کے باوجود بھی پنجاب استحصالی ہونے کی گالی کھاتا رہا جبکہ پنجاب جس کی سرزمین کرئہ ارض پر اتنی سرسبز اور شاداب ہے کہ یہ صرف اپنے لیے ہی نہیں بلکہ ایشیا بھر کے لیے اناج پیدا کرنے کی سکت رکھتا ہے اورپاکستان کو اناج کی کبھی بھی حقیقی کمی نہیں ہونے دی یہ علیحدہ بات ہے کہ اناج یہاں سے ہمسایہ ممالک کو سمگل کر دیا جاتا ہے اور یہ اناج پیدا کرنے والا پنجاب جس کا شہری اس وقت 950روپے من گندم خرید رہا ہے جبکہ باقی ماندہ پاکستان سبسٹڈی کے ساتھ 500 روپے من گندم خرید رہا ہے۔ اور اگر کالاباغ ڈیم نہ بنا تو پاکستان میں گندم 5000 روپے من بھی نہ ملے گی اور پھر جب اناجوں سے بھرے ٹرکوں اور ٹرالوں کو اٹک اور صادق آباد کی سرحد پر پنجابیوں نے روک لیا اور پھر چاہے تم ہماری بجلی اور گیس بند کر دینا مگر پھر تمہارے حلق سے بھی اس پنجابی اناج کے نوالے نہیں اتریں گے۔ میں بڑی عزت اور احترام سے مسلم لیگ ن کی کشمیری قیادت کو جو پنجاب میں بس کر پنجابی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیںسے کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے پنجاب کے مفادات سے غداری کی تو اس دن یہ پنجاب بالکل اسی طرح جیسے سمندر اپنے اندر آنے والی آلائش کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے ان کا بھی یہی حال ہوگا۔ کیا میرے معصوم شریف برادران کو 18ویں ترمیم اور پختونخواہ خیبر پر دستخط کرتے ہوئے تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کے سحر نے تو نہیں جکڑا ہوا تھا ورنہ یہی موقع تھا کہ پنجاب کے مستقبل کی ضمانت کالاباغ ڈیم کی صورت میں حاصل کر لی جاتی۔ یقینا ایسے موقع پر پیپلز پارٹی پنجاب کے عوام کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی تھی اگر ایسا ہو جاتا تو آج کا سیاسی تلاطم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کی قیادتوں کے لیے بھنور پیدا نہ کرتا۔ اب پنجاب کے عوام کو طے کرنا ہوگا کہ پنجاب کا ہر دانشور،شاعر، کالمسٹ،اینکرپرسن یہاں اپنا کلیدی کردار ادا کر ے کیونکہ اس وقت پنجاب کو اپنا مقدمہ لڑنے کی ضرورت ہے آج جو پنجاب کی طرف کھڑا ہوگا کل کو وہی پنجاب میں بسے گا اور جس نے آج پنجاب سے غداری کی اور دھرتی ماں کا حق ادا نہ کیا تو اس کے لیے دنیا میں کہیں بھی چارگز جگہ تلاش کرنا ممکن نہیں رہے گا۔اب ہمارے پنجابی بھائیوں کو، بہنوں کو، مائوں کو، بیٹوں کو،بزرگوں کو،نوجوانوں کو اب ’’پنجاب بچائو‘‘ تحریک میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا ورنہ پنجاب کو تقسیم اور ختم کرنے کی سازش کرنے والے کسی دن خدانخواستہ ہمیں اپنے ہی گھر سے بے گھر نہ کر دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus