×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
الطاف کا بیان۔۔۔ملکی و بین الاقوامی پس منظرمیں
Dated: 27-Aug-2010
وطن عزیز نے بدقسمتی کی صورت ا س وقت دیکھی جب بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح انتقال کر گئے۔ اس کے تھوڑے عرصے کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان شہید کر دیئے گئے۔ اس طرح پاکستان اپنے قیام کے ابتدائی ایام میں ہی اعلیٰ قیادت سے محروم ہو گیا۔ اقتدار کی کھینچا تانی میں پہلے دس سال مکمل ہوئے تو اقتدار سکندر مرزا کی جھولی میں آ گرا۔ مرزا صاحب سے اقتدار کے گھوڑے پر کنٹرول نہ رہا تو اس نے اپنے ہی جرنیل ایوب خان کو ملک پر پہلا مارشل لاء لگانے کی دعوت دی۔ مارشل لائوں کی ایسی ابتداء ہوئی جو ختم ہونے میں نہ آئی۔ بعدازاں ایوب خان نے جاتے جاتے اقتدار ایک جرنیل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔ اس طرح پہلے دو مارشل لائوں کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ ہم آدھا پاکستان گنوا بیٹھے۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے باقی ماندہ پاکستان کی ڈوبتی نیّا کو پار لگانے کا بیڑا اٹھایا تو چند سال بعد ہی وہ ملک کو پستی سے نکال کر عروج پر لے گئے لیکن اپنے ہی منتخب کردہ آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا شکار ہو کر پھانسی کے پھندے تک جا پہنچے۔ یہ مجموعی طور پر پاکستان میں لگایا جانے والا تیسرا مارشل لاء تھا جس کے بارے میں ضیاء الحق کا کہنا تھا کہ یہ پی این اے یعنی قومی اتحاد اور عوام کی اپیل پر لگایا گیا ہے۔ پی این اے اور عوام کی مبینہ اپیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کی قسمت میں ضیاء الحق کی منافقت،کوڑے، پھانسیاں اور تشدد آئے۔ مارشل کے ثمرات سے عوام تو ’’محظوظ‘‘ ہوئے ہی اس کے ساتھ ساتھ دیگر تحائف میں ہیروئن، کلاشنکوف کلچر،45لاکھ افغان مہاجرین اور ایم کیو ایم شامل تھے۔ ساڑھے 11سال تک عوام وطن عزیز میں نازل ہونے والے اس تیسرے مارشل لاء کے عذاب سے باہر نکلے تو صرف 11سال کے اندر چار جمہوری حکومتوں کو سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے چلتا کیا۔ 12اکتوبر1999ء کو جب ملک پر چوتھا مارشل لاء مسلط کیا گیا تو کہا گیا کہ فوج نے عوامی مفاد اور عوامی حلقوں کی ڈیمانڈ پر ٹیک اوور کیا ہے۔ پونے9سال دندنانے والے فوجی دور میں نہ صرف سیاسی روایات کو پامال کیا گیا بلکہ ایک نیا سیاسی کلچر متعارف کرایا اور تسکین طبع کے لیے کئی نئے سیاسی تجربات کیے گئے جس کی بھینٹ قوم کو چڑھایا گیا۔ اس دوران کیا کھویا کیا پایا یہ قوم کو بتانا ضروری اس لیے نہیں کہ نئی نسل کے ذہن میں یہ واقعات ابھی تازہ ہیں۔ بہرحال قوم نے عظیم رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو کھودیا۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے وصال کے بعد وطن عزیز لمبا عرصہ تک قیادت کے بحران میں مبتلا رہا۔ یہ خلا ذوالفقار علی بھٹو نے پُر کیا۔ اس کے بعد پھر 11سال تک قیادت کا فقدان رہا جو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پورا کیا۔محترمہ کی شہادت سے پاکستان ایک مرتبہ پھر قیادت کے بحران میں مبتلا ہو گیا۔ آج ہم یہاں متحدہ قومی موومنٹ کے قائدالطاف حسین کے تازہ ترین بیان جو انہوں نے امریکی ایلچی برائن ڈی ہنٹ سے ملاقات سے صرف دو دن بعد دے کر ملک و قوم کو ایک سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہم اس بیان کا مختلف پہلوئوں سے جائزہ لیں تو بے شمار حقائق سامنے آتے ہیں۔ 88ء کے بعد ایم کیو ایم ہر دور میں نہ صرف حکومت بلکہ سسٹم کا بھی حصہ رہی ہے۔ اقتدار کے بل بوتے پر ایم کیو ایم اپنی جڑیں اور بنیادیں مضبوط کرنے میں اس حد تک کامیاب ہو گئی کہ آج قومی اسمبلی میں اس کے 25ارکان، صوبائی اسمبلی میں 51اور سینٹ میں 9موجود ہیں۔ آج وفاق میں اس کے پاس اہم وزارتیں ہیں، سندھ حکومت میں اس کا آدھا حصہ ہے۔ سندھ کے گورنر عشرت العباد پاکستان کے طویل ترین عرصہ تک گورنر رہنے کا ریکارڈ قائم کر چکے ہیں ان کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت اور الطاف بھائی ایک لمبے عرصے سے وڈیروں اور فیوڈلز کے خلاف سیاسی بیان دیتے چلے آ رہے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بار ہر حکومت میں وہ انہی وڈیروں،جاگیرداروں اور صنعتکاروں کے ساتھ اقتدار کی بندربانٹ میں برابر کے شریک رہے۔ وہ کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو لسانی بنیادوں پر اپنے ساتھ ملا کر طاقت کا توازن تو اپنے حق میں بدلنے میں کامیاب رہے مگر پاکستان کے دیگر تین صوبوں اور کشمیر گلگت و بلتستان کے لوگوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کراچی اور حیدرآباد شہر پچھلے دو سال سے خصوصاً ٹارگٹ کلنک کی زد میں ہیں۔ موجودہ حکومت کی دو بڑی اتحادی سیاسی جماعتیں طاقت کے توازن کو اپنے حق میں بدلنے کے لیے ہر وقت خون کی ہولی کھیلتی نظر آتی ہیں۔ اے این پی اور ایم کیوایم ایک دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادتوں کو نشانہ بنا کر اور کبھی دونوں جماعتیں مل کر اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کو نشانہ بنانے سے بھی باز نہیں آتیں۔ایم کیو ایم کو جو خود بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے لسانی طبقات پر مشتمل ہے اورایک پناہ گزین گروپ کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہے کے تحفظات ہیں کہ اے این پی کراچی کے اندر خیبرپختونخواہ سے لاکھوں لوگوں کو کراچی میں لا رہی ہے جن کی آبادکاری سے سندھ کے اربن ایریاز میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہونے کے خدشات ہیں۔ حالیہ سیلاب نے جہاں خیبرپختونخواہ کے 80فیصد رقبے کو جزوی طور پر تباہ کر دیا ہے، بے شمار دیہات اور متعدد شہر بھی صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، آنے والے دنوں میں یہ سیلاب زدگان حصول روزگار کے لیے یقینا کراچی کاہی رخ کریں گے۔ اسی طرح حالیہ سیلاب سے سندھ کا رورل ایریا بھی پوری طرح تباہی کی زد میں آیا ہوا ہے۔ ایم کیو ایم کی قیادت کو شک ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت قائم علی شاہ اور ذوالفقار مرزا کی قیادت میں سیلاب متاثرین کو کراچی اور حیدرآباد میں آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح ایم کیو ایم جلد یا بدیر سندھ کے شہری علاقوں میں اقلیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایم کیو ایم اس حقیقت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے جو اٹل ہے۔ اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ اس کی پارٹنرشپ بڑے اچھے طریقے سے چل رہی ہے پھر یکایک اس کو جرنیلوں کو دعوت کی کیا سوجھی اس کے پیچھے ان کی اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہونے کا خوف ہے۔ الطاف بھائی کے بیان کو اگر عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ کی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے گذشتہ دنوں افغانستان کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ غیرمتوقع طور پر بلائی جانے والی علاقائی کانفرنس میں یہ عندیہ دے کر سب کو حیران کر دیا کہ امریکہ 2014ء تک افغانستان سے اپنی اور نیٹو کی افواج کونکال لے گا۔ چونکہ امریکہ کا ویتنام اور کوریا کی جنگوں میں 90فیصد نقصان انخلا کے موقع پر ہوا تھا اس لیے افغانستان میں انخلا سے پہلے وہ خطے کے اندر ایسے اسباب پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جس سے اس علاقے میں موجود حکومتیں اس کی مرضی کی ہوں۔ چونکہ جمہوری حکومتیں کسی نہ کسی طریقے سے عوام میں خبریں رکھتی ہیں اور وہ عوام کو جواب دہ ہوتی ہیں مگر آمرانہ اور فوجی حکومتیں براہِ راست عوام کو جواب دہ نہیں ہوتیں اس طرح برائن ڈی ہنٹ سے ملاقات کے بعد الطاف حسین کے بیان کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس اور سقراطی ذہانت کی ضرورت نہیں۔کچھ سیاسی گوروئوں اور اپوزیشن قیادت کے خیال میں الطاف بھائی کے بیان کو اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھاجائے تو چند روز قبل وزیرداخلہ رحمن ملک اور الطاف بھائی کی ملاقات اور پھر صدر کا حالیہ دورہ لندن میں ہونے والی خفیہ ملاقاتیں، صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کا سیلاب کے دنوں میں ملک میں موجود نہ ہونا، اتحادی جماعتوں کے لیے ایک بہت بڑا سیٹ بیک تھا۔ ہو سکتا ہے دونوں بڑوں نے عوام کی توجہ بہت بڑے ایشو سے ہٹانے کے لیے باہم مل کر یہ بیان تیار کیا ہو جو الطاف بھائی نے داغ دیا۔جس کے مطابق ایک فلم چلنے والی ہے لیکن اس فلم کا ابھی سکرپٹ بھی مکمل نہیں ہوا کہ سیاسی اداکاروں نے اپنے اپنے کردار کا خود ہی تعین کر لیا ہے اور وہ اس کے پروڈیوسر سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں لیکن لگ یوں رہا ہے کہ روم جل رہا ہے اور نیرو بنسری بجا رہا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus