×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ارب پتیوں کو مخیر حضرات کی تلاش
Dated: 02-Sep-2010
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کے پاس 120ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں وہ مائیکروسافٹ ویئر کا بے تاج بادشاہ ہے۔ پوری دنیا میں پھیلے ہوئے اس کے کاروبار سے روزانہ کروڑوں ڈالر اس کے اکائونٹ میں جمع ہو رہے ہیں۔ ہاں اس شخص کا نام ہے بِل گیٹ جو امریکہ کا ہی نہیں دنیا کے امیر ترین اشخاص کی لسٹ پر پہلے نمبر پر ہے۔ وہ کترینہ کا طوفان ہو یا سونامی کی افتاد وہ ہر موقع پر عطیے دینے والوں کی لسٹ پر بھی پہلے نمبر پر ہے۔ پچھلے دنوں جب امریکہ عالمی کساد بازاری اور معاشی عدم استحکام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا اور چار سو سے زائد بینک دیوالیہ ہو چکے تو اس نے اپنے ملک کے بنکوں کو بچانے کے لیے اپنے بینک اکائونٹ اپنی حکومت کوپیش کر دیئے تاکہ ا سکا ملک اور اس کی معیشت اپنے قدموں پر کھڑی ہو سکے۔ چیریٹی کے سینکڑوں رفاعی ادارے اب بھی دنیا بھر میں اس کے دم سے چل رہے ہیں۔ اس نے اپنے بیٹے بیٹیوں کے لیے بس اتنی سی رقم مختص کی ہے کہ جس سے وہ بمشکل اپناکوئی چھوٹا موٹا کام کر سکیں۔ دنیا میں اور بھی امیر آدمیوں کی کمی نہیں مگر چیریٹی کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں اس کے لیے بِل گیٹ جیسے بڑے دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے۔ برونائی کے سلطان جن کے پاس کھربوں ڈالر ہیں کی بیگم سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے مہنگے ترین بازار ’’بان ہاف سٹریٹ‘‘ پر شاپنگ کر رہی تھیں ایک بوتیک پر ملازم سے معمولی تکرار ہوئی۔ شام تک سلطان آف برونائی نے بان ہاف سٹریٹ بازار کی سو سے زائد دوکانیں خرید کر جن کی مالیت دوسو ملین ڈالر سے بھی زائد کی تھیں بیگم کو گفٹ کر دیں اس طرح سعودی عرب میں چند ایسی بزنس ورائل فیملیز ہیں جن میں ہر ایک کے پاس کھربوں ڈالر کے اثاثے ہیں اگر وہ چاہیں تو مسلم دنیا کا کوئی ملک غریب نہ رہے اور افغانستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک میں موجود مسلمان ایک وقت کی روٹی کے لیے نہ ترسیں۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات،دوبئی،ابوظہبی، شارجہ، مسقط، عمان، قطر کے عرب شیوخ کے پاس دولت کے اتنے انبار ہیں کہ وہ روزانہ اپنے پیسے کو جلانا شروع کر دیں تو چند سال تک وہ آگ ٹھنڈی نہ ہو۔ مگر یہ شیوخ شکار پر گھڑواونٹ ریس پر تو اربوں لٹا سکتے ہیں۔ذاتی عیاشیوں پر ان غریب ملکوں سے حوا کی بیٹیوں کی خرید پر اربوں ڈالر سالانہ صرف کر دیں گے مگر خطے میں موجود غریب اسلامی ممالک کے خطہ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کروڑوں مسلمانوں کو تڑپتا دیکھ کر بھی اپنی تسکین کی پیاس بجھاتے ہیں یہ لوگ کبھی ملائیشیا، کبھی دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارات تعمیر کرنے کے جنون میں رہتے ہیں کبھی ان عمارتوں کے اوپر چڑھ کر ذرا نیچے دیکھیں تو انہیں نظر آئے کہ کروڑوں مسلمان اس خطے میں صرف ادویات نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لاکھوں بچے روزانہ مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مائوں کی گود میںدم توڑ جاتے ہیں، کتنی مسلمان بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بابل کی دہلیز پر بوڑھی ہو جاتی ہیں۔ لاکھوں مسلمان نوجوان بے روزگاری کے آسیب سے تنگ آ کر ریل کی پٹریوں پر لیٹ جاتے ہیں۔ میناروں سے چھلانگیں لگا کر ہمارے سماج کے منہ پر طمانچے مارتے ہیں۔ گذشتہ دنوں ایک سروے رپورٹ منظر عام پر آئی جو ہمارے پاک وطن سے متعلق تھی۔ کم از کم پچاس ایسے لوگ ہیں جن کی مجموعی اثاثوں کی ملکیت کھربوں ڈالر بنتی ہے۔ ایسے خوش نصیبوں میں میاں منشاء مسلم کمرشل بینک جو کہ پیپر ملوں اور ٹیکسٹائل فیکٹریوں کے مالک ہیں جن کے اثاثوں کی ملکیت 3ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ مسٹر انور پرویز بیسٹ وے گروپ کے مالک ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت تقریباً2ارب ڈالر سے زائد، میاں نوازشریف شہباز شریف برادران پونے دو ارب مالیت ڈالر کے اثاثے، صدر الدین ہاشوانی پی سی ہوٹل میرٹ ہوٹلوں کی چین کے مالک اور کئی ملوں کی مالک ہیں،اثاثے ڈیڑھ ارب ڈالر، مسٹر نثار سچن کے اثاثوں کی ملکیت بھی ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے اسی طرح حاجی عبدالرزاق یعقوب اے آر وائی گروپ کے مالک اثاثے ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد، سہگل گروپ کے نسیم و طارق سہگل اور دیوان گروپ کے یوسف فاروقی و برادران کے اثاثے ایک ایک ارب ڈالر سے زائد کے ہیں۔ یہ اعدادوشمار ملک کے اندر ان کے اثاثہ جات کے ہیں۔ دبئی، ملائیشیا،لندن، نیویارک،شکاگو،کینیا،سعودی عرب میں موجود ان لوگوں کے اثاثوں کو تین سے ضرب دے لیں تو بھی محتاط اندازہ تصور ہوگا۔ اسی طرح اس ملک کے سیاست دان بھی دھن بنانے کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں ایک اخبار نے ملک کے موجودہ صدر جناب آصف علی زرداری کے بھی 80کروڑ ڈالر کے اثاثوں کا ذکر کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے 340اراکین میں سے کم از کم 250اراکین کے اثاثے کروڑوں ڈالر کے ہیں۔ سینٹ کے ممبران کی بڑی تعداد فی کس کروڑوں ڈالر کے ثاثوں کے مالک ہیں۔ ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں بشمول کشمیر گلگت بلستان کے اسمبلیوں کے اراکین بھی کروڑ وں ڈالر مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں۔ جن کی مجموعی مالیت اربوں ڈالر میں ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف، جمعیت العلمائے اسلام، اے این پ کی قیادتوں کے اثاثے بھی کروڑوں ڈالر میں ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت کے اثاثے جس تیز رفتاری سے روزانہ بڑھ رہے ہیں اگر تسلسل برقرار رہا تو ایک دن ان کا شمار اس ملک کے سب سے امیر لوگوں میں ہوگا۔جماعت اسلامی کے اعلیٰ عہدیدار بھی معاشی طور پر اپنے قدم جما چکے ہیں۔ دولت کی اس دوڑ میں ہمارے کچھ سابق آمر بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ جنرل ریٹائرپرویز مشرف کے پاس 2ارب ڈالرز کی مالیت کے اثاثے ہیں۔ اس طرح سابق آمر ایوب خان، جنرل ضیاء الحق کے برخورداران کے پاس بھی کروڑوں ڈالرز کے اثاثے ہیں۔ سابق جرنیل اختر عبدالرحمن خان کے بیٹوں کے پاس بھی کروڑوں ڈالرز مالیت کی ملیں، فیکٹریاں اور اثاثہ جات ہیں۔ ابھی حال ہی میں بحریہ کے ایک سابق نیول چیف نے 6ارب روپے نیب کو واپس کرکے باقی ماندہ کالے دھن کو سفید کر لیا۔ ڈالرز کی اس دوڑ میں ہمارے فیوڈل لاڈز بھی کسی سے پیچھے نہیں ہزاروں ایکڑزمینوں کے مالک اور خاندانی مزاروں کے یہ متولی خاندان اپنے اپنے علاقوں کے بے تاج بادشاہ ہیں جو اپنی غریب رعایا کا خون چوس چوس کر اتنے امیر ہو گئے ہیں کہ ان کے اثاثے بھی کروڑوں ڈالرز ہیں۔ مگر آج جب ملک پر آسمانی آفات آپڑی ہے تو ہمارے حکمرانوں نے قوم کے درد میں چیخنا چلانا شروع کر دیا ہے اور کشکول پکڑ کر پوری دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک بھگ منگتی قوم کے طور پر پیش کیا ہے۔ پاک وطن کی اساس اور چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے اور ہم کس رعونت کے ساتھ اقوام عالم میں بڑے فخر سے کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھیگ دو۔دنیا میں آج ہماری پہچان ایک قابلِ رحم قوم کی ہو گئی ہے۔ جس ملک کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہو کہ میرے قیمتی سوٹ و بوٹ نیلام کرکے فلڈ ریلیف میں دیئے جائیں تو کیا وہ قوم غریب متصور ہو گی جس ملک کا سربراہ وزیراعظم لاکھوں ڈالر مالیت کے سوٹ و بوٹ پہنتا ہے اس ملک کی قیادت کے ہاتھ میں کشکول کچھ جچتا نہیں۔حکمران چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ ملک کے مخیر حضرات آگے بڑھیں اور مدد کریں کیا حکمران بتانا پسند کریں گے کہ وہ اس ملک کی اشرافیہ سے بے خبر ہیں؟ ان کو نہیں پتا کہ مخیر کون ہیں؟اور اگرپتہ ہے تو پھر میڈیا میں کروڑوں کے اشتہار دے کر وہ کونسے مخیر حضرات کوڈھونڈ رہے ہیں۔ سیلاب کے ایشو پر اعلانات کے باوجود کمیشن ابھی تک نہ بن سکا ہے کہ اب اربوں ڈالر کی جمع امداد کو تعمیر نو اور بحالی اور آبادکاری کے نام پر بندر بانٹ کے اصول طے نہیں ہو رہے ہیں۔ لاشوں پر سیاست پتہ نہیں کب بند ہو گی؟ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں سے رقوم کاٹ کر ان کی سفید پوشی کا بھرم پھوڑا جا رہا ہے مگر اپنی جیبوں کو تھوڑا ہلکا کرنا انہیں مقصود نہیں، چند روز پہلے میری بیگم بدرالنساء وڑائچ جو کہ ان دنوں ہزاروں میل دور اپنے بچوں کے ساتھ جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں کا فون آیا کہ میں اپنے پاس موجود جیولری زیورات کو بیچ کر سیلاب زدگان کی مدد کے لیے رقم بھجوا رہی ہوںاور میں اپنے پاس صرف آپ کی والدہ کا دیا ہوا ایک خاندانی کنگن نشانی کے طور پر رکھ رہی ہوں تاکہ کہیں آپ ناراض نہ ہو جائیں۔مجھے تعجب تو نہ ہوا مگر سوچا عورتیں زیور بنانے کے لیے کتنے جتن کرتی ہیں مگر یہ کیسی عورت ہے جس کو اپنی ہی پارٹی کے دورِ حکومت میں اسلام کے نام نہاد ٹھیکے داروں نے جلاوطنی پر مجبور کیا وہ اپنے کم سن بچوں کے ساتھ کیسے حالات میں جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہی ہے اور اپنا لاکھوں روپے مالیت کے زیورات بیچ کر سیلاب زدگان ہم وطنوں کی مدد کے لیے بے تاب ہے۔ مجھے اپنی بیگم اور بچوں کے یہ خیالات اور عزم دیکھ کر ایسے لگا کہ اس ملک کے امیر حکمران اور مخیر حضرات کتنے بونے قد کے ہیں ہمیں مخیر حضرات ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہمیں بس بڑے لوگ ڈھونڈنے کی ضرورت ہے وہ لوگ جو پردیسی اور جلاوطنی میں بھی اپنے وطن کی خیر مانگتے ہیں جو اپنے گہنے اتار کر کچھ چہروں پر مسکراہٹ بکھیر سکتے ہوں۔ اگر ہم ایسی مائوں، بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں،سیاستدانوں،بزنس مینز اور طبقہ ہائے فکر کے دردِ دل رکھنے والے افراد کو جھنجوڑ سکیں تو خدا کی قسم ہمیں یہ ندامت کے کشکول لے کر دنیا کے بازاروں میں بھیگ نہیں مانگنا پڑے گی۔ یاد رہے قومیں انہی امتحانوں میںسے بنتی ہیں آج مجھے یہ فخر ہو رہا ہے کہ میرے پاس میرے بچوں کو ایک اچھی قوم بنانے کی صلاحیت رکھنے والی ماں موجود ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus