×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آٹھ فروری آٹھ بجے تک
Dated: 06-Feb-2024
انتخابی مہم ختم ہونے میں صرف ایک دن جبکہ انتخابات کے انعقاد میں دو دن بچے ہیں لیکن اب بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ انتخابات آٹھ فروری کو ہو رہے ہیں حالانکہ سپریم کورٹ کی طرف سے واضح طور پر پہلے ہی روز یہ کہہ دیا گیا تھا کہ انتخابات آٹھ فروری کو ہونا پتھر پر لکیر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم جاری کیا گیا تھا کہ میڈیا میں اس پر کسی قسم کا شکوک و شبہات پھیلانے والا تبصرہ نہیں ہوگا۔اس سب کے باوجود بھی انتخابات کے حوالے سے شکوک و شہبات کا نہ صرف یہ کہ میڈیاپر تذکر ہ ہوتا رہا بلکہ سینیٹ میں ایک نہیں دو قراردادیں پیش کرکے ایک منظور بھی کروا لی گئی۔پہلی قرارداد تو منظور ہو گئی دوسری خیر منظوری کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکی۔ اس پر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا جو انتخابات کی مخالفت نہیں کر رہی تھیں جو انتخابا ت کی مخالفت کر رہی تھیں ان ہی کی ایما پر قرارداد پیش ہوئی اور منظور بھی ہوئی۔ دوسری قرارداد اس کے باوجود پیش کر دی گئی کہ پہلی قرارداد کی شدید مخالفت ہو رہی تھی۔یہاں یہ بھی ہوا کہ نہ صرف پہلی قرارداد منظور ہوئی اس پر شدید ردعمل آنے کے باوجود بھی اس قرارداد کے محرک کی طرف سے سینیٹ کے چیئرمین کو خط لکھا گیا کہ اس قرارداد پر عمل درآمد کروایا جائے۔ اس سے اندازہ کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ انتخابات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے لوگ کتنے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہیں لیکن ان کی پیش نہیں چل سکی۔مگر سوال یہ ہے کہ ان کی ابھی تو پیش نہیں چل رہی تو کیا یہ پکے پکے بے بس ہو گئے ہیں؟ یا ان کی طرف سے پس منظر میں رہ کر اب بھی گھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں۔لگتا ہے انہوں نے سرنڈر نہیں کیا۔ انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا تھا، انتخابی سرگرمیاں پہلے کچھ ٹھنڈی رہی اب جب کہ انتخابات کے انعقاد میں صرف دودن باقی بچے ہیں،مگر اس طرح سے انتخابی ماحول نہیں بن سکاجس طرح سے عمومی طور پر ان دنوں بلکہ اس سے ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہوتا ہے۔جن پارٹیوں کی انتخابات میں حصہ لینے کی پوری تیاری ہے۔وہ بھی پْریقین نہیں ہیں کہ انتخابات آٹھ فروری کو ہو جائیں گے حالانکہ اس میں صرف اب دو دن ہی بچے ہیں۔ اس وقت تک لوگ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جب تک کہ ان کے ہاتھ میں بیلٹ پیپر پرلگانے والی مہر کا ٹھپہ نہیں آ جاتا۔جو آٹھ فروری کو صبح آٹھ بجے آنا ہے۔ جب تک انتخابات کا انعقاد نہیں ہو جاتا۔صورت حال ایسی بن چکی ہے کہ اس وقت تک یقین نہیں آ رہا کہ انتخابات ہو جائیں گے۔ یقین نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ کی طرف سے واضح طور پر احکامات جاری کر دیئے گئے، پتھر پر لکیر قرار دے دیا گیا ،منع کر دیا گیا کہ میڈیا پر اس پر بات نہیں ہو گی۔ اس کے باوجود بھی میڈیا پر کچھ پارٹیوں کی طرف سے باقاعدہ مہم چلائی جاتی رہی جو اب بھی جاری ہے اور پھر انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ،ان کو مؤخر کرنے کے لیے نہ صرف اندرونِ ملک سازشیں ہوتی رہی بلکہ بیرون ملک بھی کچھ ہاتھ اس میں ملوث نظر آئے۔ یا ان ہاتھوں کو کسی نے استعمال کیا۔جیسا کہ اچانک بیٹھے بٹھائے ایران کی طرف سے پاکستان پر یلغار کر دی گئی۔ پاکستان نے اس کا جواب دیا۔گو کہ معاملہ زیادہ نہیں بڑھا، یہ دانشمندی ہے ہمارے اداروں کی ،ریاست کی کہ صورت حال کو بہت جلد کنٹرول کر لیا گیا لیکن حالات کو خراب کرنے والے کی نیت تو واضح ہو گئی اور پھر ایک عرصے سے لاپتا افراد کے حوالے سے احتجاج ہو رہے ہیں،مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن اچانک سے اسلام آباد میں عین اس دوران جب انتخابات کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار ہو رہا تھا ایک قافلہ بلوچستان سے آ کر بیٹھ گیا۔یہ بھی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک کوشش تھی، منصوبہ بندی تھی، سازش تھی۔ اس سے بھی پاکستان نکل گیا، یہ لوگ اس وقت واپس چلے گئے جب پاکستان کی طرف سے ایران کو جواب دیتے ہوئے سیستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں کو حملہ کرکے مار ڈالا گیا، سات دہشت گرد اس میں ہلاک ہوئے، ان میں سے کچھ وہ بھی تھے جن کو لاپتا قرار دے کر اسلام آباد میں مظاہرے ہو رہے تھے۔ اور پھر بھارت کی طرف سے تو ہمیشہ ہی پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا جاتا رہا ہے۔ بھارت اپنی جگہ پر انتخابا ت کو سبوتاژ کرنے کے لیے سازشیں بنتا رہا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہونے لگے، جس طرح سے مچھ اور اردگرد کے علاقوں میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی ہوئی ،تین چار روز میں تیس دہشت گردوں کو فورسز کی طرف سے ہلاک کیا گیا۔ ابھی تک کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ پاکستان کی بقا، ترقی اور خوشحالی بلاشبہ جمہوری عمل میں مضمر ہے اور اس کے لیے انتخابات کا انعقاد مقررہ وقفے کے بعد ہونا لازم ہے، ناگزیر ہے۔ مگر بوجوہ جو انتخابات اکتوبر 2023ء میں ہونے تھے وہ 2024ء تک آ چکے ہیں اور ان کو بھی کچھ قوتیں مؤخر کروانا چاہتی ہیں۔ آٹھ فروری کے انتخابات پر بدستور ابہام کے سائے لہرا رہے ہیں۔ انتخابات اگر آٹھ فروری کو ہو جاتے ہیں تو یہ ریاست کے عزم و ارادے کے باعث ہی ہوں گے ورنہ تو جمہوریت مخالفت قوتوں کی طرف سے انتخابی عمل کو اور انتخابات کے انعقاد کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ قارئین۔ انتخابات موخر کروانے کی آخری کوشش اس وقت کی گئی جب پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین اور ان کی اہلیہ کے اوپر قائم دوصد سے زائد مقدمات میں تین مقدمات کو فائنل کیا گیا ایک میں سابق وزیر اعظم کو غدار ثابت کروانا مقصود تھا جب کہ دوسرے میں سابق وزیر اعظم اور سابق فسٹ لیڈی کو چور اور قومی خزانہ لوٹنے کا مجرم قرار دلوانا تھا جبکہ تیسرے مقدمے میں ان کے نکاح اور ازواج تعلق کو غیرشرعی اور غیر اسلامی قرار دلوانا تھا بہرحال یہ جتن بھی کر لئے گے اور سابق حکمران جوڑے کو اکتیس۔ اکتیس سال کی سزا سنا کر بظاہر الیکشن گیم سے آئوٹ کر دیا گیا ، کہ ان حالات میں سابق حکمران جوڑا پھر کوئی 9 مئی جیسی حرکت کر بیٹھے یا کم از کم الیکشن کا بائیکاٹ کر دے مگر ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ، لہٰذا مندرجہ بالا وجوہات حالات و واقعات کو مدر نظر رکھتے ہوئے یہ توقع اور تجزیہ کیا جا سکتا ہے کہ ابھی تک کی الیکشن ملتوی کروانے کی ہر شازش ناکام ثابت ہوئی ہے ، قارئین۔ دعا کیجئے کہ آئیندہ چند گھنٹے بھی آرام سے گزر جائیں تاکہ اعلی عدالت کی طرف سے پتھر پر لکیر کا جذبہ سچ ثابت کیا جا سکے ، اور اراکین منتخب کرنے کا خواب بیل منڈھے چڑھنے کے مصداق پورا ہوتا نظر آئے۔ آمین!
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus