×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پنجابی واجب القتل ہیں ؟
Dated: 15-Jul-2025
پچھلے ہفتے بلوچستان کی سڑکوں پر ایک بار پھر وہی خونی کھیل دہرایا گیا جس نے ملک کے امن اور سالمیت کو سالہا سال سے یرغمال بنا رکھا ہے۔ رات گئے دہشت گردوں نے دو مسافر بسوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو افراد کو اغواء کیا۔ بعد ازاں ان تمام مغویوں کو پہاڑی علاقے میں لے جا کر اندھا دھند گولیوں سے بھون دیا گیا۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق دہشت گردوں نے مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد دس بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کر دیا۔قتل کیے گئے افراد میں دو سگے بھائی عثمان طور اور جابر طور بھی شامل تھے، جو اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کوئٹہ سے دنیاپور جا رہے تھے۔ ان دونوں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں ان دونوں کے جنازوں پر چھائی خاموشی اور ان کے خاندان کا دکھ بیان سے باہر ہے۔ یہ سانحہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ان واقعات کے تسلسل کا حصہ ہے جس میں مخصوص شناخت رکھنے والے افراد—چاہے وہ پنجاب، سندھ، یا کسی مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتے ہوں—کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بلوچستان میں شناخت کی بنیاد پر قتل عام کا بھیانک تسلسل۔نوشکی (اپریل 2024):قومی شاہراہ پر ایک بس کو روکا گیا، مسافروں کے شناختی کارڈ دیکھے گئے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے نو مرد اغواء کر لیے گئے۔ بعد میں ان کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ایک پل کے نیچے پھینکی گئیں۔فروری 2025 (برخن):پنجاب جانے والی بس کے سات مسافروں کو شناخت کے بعد اتارا گیا اور انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔اگست 2024 (مسخائل):23 پنجابی مسافروں کو مختلف گاڑیوں سے اتار کر قتل کیا گیا، لاشیں پہاڑی راستوں پر پھینک دی گئیں۔مستونگ (جنوری 2014):ایران جانے والی مسافر بس پر بم حملہ کیا گیا، جس میں 29 زائرین شہید اور 32 زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے فرقہ وارانہ پہلو نے بلوچستان کے حالات مزید خطرناک بنا دیے۔مئی 2015 (مستونگ):بیس مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا، جبکہ 35 افراد کو اغواء کر لیا گیا۔مئی 2025 (خضدار):اسکول بس پر خودکش حملہ کیا گیا، جس میں 10 بچے اور 1 استاد شہید ہوئے جبکہ 53 زخمی ہوئے۔جعفر ایکسپریس کا واقعہ:یہ واقعہ پاکستانی تاریخ کے سب سے خوفناک اغواء و قتل عام میں شمار کیا جاتا ہے۔ کوئٹہ سے راولپنڈی جانے والی ٹرین کو دہشت گردوں نے روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب و خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 22 افراد کو پہاڑوں پر لے جا کر شہید کر دیا۔ زندہ بچ جانے والے چند مسافروں کے مطابق یہ حملہ بلوچ علیحدگی پسند گروپ کی کارستانی تھی۔ دہشت گردی کی حقیقت اور بھارتی سازشوں کا گھناؤنا کھیل۔بلوچستان میں ان خونریز حملوں کی نوعیت ہمیشہ ایک جیسی رہی ہے: مسافروں کو روکا گیا، شناختی کارڈ دیکھے گئے، اور مخصوص شناخت رکھنے والوں کو قتل کر دیا گیا۔ کبھی پنجابی مزدور، کبھی شیعہ زائرین اور کبھی سندھ یا خیبر پختونخوا کے عام شہری—یہ سب بھارتی پشت پناہی سے سرگرم گروہوں کی نفرت انگیز حکمت عملی کا شکار بنتے رہے۔ بلوچستان میں سرگرم کالعدم گروہ—خصوصاً بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں—کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکی ہیں، اگرچہ بعض اوقات یہ گروہ اپنی ہی کارروائیوں سے انکار کرتے ہیں۔ ان میں شامل کمانڈروں کی بڑی تعداد بیرون ملک بیٹھی ہے؛ کوئی سوئٹزرلینڈ میں پاکستان مخالف مہم چلا رہا ہے، کوئی بھارت اور افغانستان میں بیٹھ کر سازشیں بْن رہا ہے، تو کوئی لندن و امریکہ کی پرتعیش زندگی سے بلوچ عوام کے نام پر جھوٹا انقلاب بیچ رہا ہے۔ ان دہشت گردوں کا دعویٰ ہے کہ پنجاب سے آنے والے لوگ بلوچستان کے وسائل کا استحصال کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جو معصوم مزدور اور کاریگر ان کے ہتھے چڑھتے ہیں، وہ زیادہ تر موچی، نائی، دھوبی، یا خانساماں جیسے غریب محنت کش ہوتے ہیں، جنہوں نے کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ ان کے قتل سے بلوچستان کو کون سا فائدہ ہوتا ہے؟بیرون ملک بیٹھے ہوئے دہشت گردوں کے سرپرست جو غریب پنجابیوں پر استحصال کا الزام لگاتے ہیں تو کیا ان کی جگہ ان بڑوں نے لینی ہے جو دوسرے ممالک میں بیٹھ کر زندگی گزار رہے ہیں۔یہ بلوچستان میں ہے ان کو نکال کر دھوپ بھی نائی خانسامہ ڈرائیور اور خاکروب بننا چاہتے ہیں۔دراصل یہ اپنے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں جن میں بھارت سب سے آگے ہے۔ وزیراعظم اور صدر نے ان حملوں کو ‘‘بھارتی سازش’’ قرار دیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بلوچستان حکومت نے سرچ آپریشنز شروع کرنے اور سکیورٹی کو مؤثر بنانے کا اعلان کیا ہے۔مگر یہ اقدامات کب تک محض بیانات کی حد تک رہیں گے؟ جعفر ایکسپریس جیسے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب بات وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی قدم اٹھانے کی ہے۔پاکستان کی سرزمین پر کھیلا جانے والا خونی کھیل افغانستان سے جڑتا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب کے دوران دہشت گردی دم توڑنے لگی تھی، مگر جب دہشت گرد افغانستان فرار ہو گئے اور وہاں سے دوبارہ منظم ہوئے تو پاکستان میں چھوٹے چھوٹے حملوں سے لے کر بڑے قتل عام تک کا سلسلہ شروع ہو گیا۔افغان سرزمین پر موجود بھارتی خفیہ ادارے دہشت گرد گروہوں کو مالی، عسکری اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے اندر فرقہ واریت اور لسانی بنیادوں پر انتشار پھیلایا جا سکے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد پرامن ہے، مگر ایک بڑی تعداد دہشت گردی میں براہِ راست ملوث یا سہولت کار ہیں۔ پاکستان نے ان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے لیے کئی ڈیڈ لائنز دی ہیں، مگر اب تک مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ایران جیسے اقدامات کی پاکستان کو بھی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کا گلا گھونٹا جا سکے۔بلوچستان کے پہاڑوں میں بہتا یہ خون کسی ایک صوبے کا نہیں، یہ پاکستان کے ہر کونے کا دکھ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کے بیرونی آقاؤں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو یہ زخم مزید گہرے ہوں گے اور پاکستان کی جڑیں کمزور کریں گے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی اس وطن کو امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔ ہمیں بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان مظلوموں کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔ قارئین! بلوچستان میں لسانی بنیادوں پر پنجابیوں کا قتل اور نسل کشی کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ پچھلے تیس پینتیس سال سے ہزاروں پنجابیوں کو تصدیق اور شناخت کرکے قتل اور ذبح کیا جانایہ علامت نہیں بلکہ اب حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ ہمارا ازلی دشمن بھارت مشرقی پاکستان کو پاکستان سے جداکرنے کے بعد بھارت نے بلوچستان کو دوسرا ٹارگٹ اور ہدف منتخب کر لیا ہے اور اپنی اس ناپاک سازش کو سرانجام دینے کے لیے 1947ء اور 1971ء کی طرح اس بار بھی پنجاب کے عوام کا انتخاب کیا گیا ہے۔پنجاب کا محنت کش طبقہ کب تک بلوچی سرداروں کی بربریت کا شکار ہوتا رہے گا۔بلوچستان میں بلوچوں کی کل آبادی پچیس سے تیس لاکھ سے زائد نہیں لیکن ان تیس لاکھ میں 95فیصد بلوچ عوام پاکستان سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ جنہیں کسی تصدیق اور سرٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔لیکن صرف چار سے پانچ فیصد وہ لوگ جو صرف پیسے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔اور غیر ملکی آقا ئوںکے اشارے پر ناچنا جن کا وطیرہ ہے،اگر ان کو مزید چھوٹ دی گئی اور یک مشت سرکوبی نہ کی گئی تو یہ بات غیرتمند پنجابیوں کو خواب غفلت سے یقینا جگائے گی بلکہ جھنجھوڑ کر رکھ دے گی۔جس کے یقینا یہ نتائج نکلیں گے کہ پاکستان کا اندرونی امن اور بھائی چارہ ناقابل یقین حد تک کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔قارئین! پاکستان تو کیا صرف پنجاب کے بڑے شہروں میں موجود کالجز اور یونیورسٹیوں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طالبعلم زیر تعلیم ہیں جو نہ صرف پنجاب کی حقیقی میزبانی سے بلکہ تعلیم اور معاشی صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اگر کل کلاں کو چمن،تفتان، کوئٹہ اور گوادر سے پنجابیوں کی لاشیں آنا بند نہ ہوئیں تو پھر پنجابی ردعمل کو روکنا کسی کے بس میں نہ رہے گا۔اس لیے ہماری بہادر فوج،ملکی قیادت اور قومی سیاستدانوں کو مل کر ہنگامی بنیادوں پر ان لاشوں کے پارسل اور تابوت بھیجنے والے افراد کا سدباب کرنا ہوگا۔ورنہ یہ چنگاری کسی وقت بھی ملکی امن و آتشی کو راکھ کر دے گی۔اگر پنجابیوں کی نسل کشی کو یونہی برداشت اور قبول کیا جاتا رہا تو یہ پیغام خطے کے لیے زہرِقاتل ہوگا کہ کیا پنجابی واقع ہی واجب القتل ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus