×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یُدھ ختم شُد؟
Dated: 01-Jul-2025
قارئین! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، جنگ کے بادل ابھی پوری طرح نہیں چھٹے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ جنگ، جو ایران اور اسرائیل کے مابین لڑی گئی، اپنے پیچھے بے شمار نقوش اور سوالات چھوڑ گئی ہے۔ اس جنگ سے جو نتائج برآمد ہوئے ہیں، وہ بھی ایسے نہیں کہ جنہیں نظرانداز کیا جا سکے۔ یہ شاید واحد جنگ ہے جس میں یہ طے کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ کون کس کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ اگر مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل بیک وقت کئی محاذوں پر لڑ رہا تھا۔ ایک طرف حزب اللہ لبنان کے ساتھ زمینی جھڑپیں جاری تھیں، دوسری طرف یمن کے ساتھ فضائی جھڑپیں چل رہی تھیں، اور تیسری جنگ غزہ میں حماس کے خلاف جاری تھی۔ لیکن 13 جون کو جب اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے متعدد سائنسدانوں اور جرنیلوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، تو دنیا حیرت میں ڈوب گئی۔ سب سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اسرائیل کے پاس آخر کون سے ایسے ذرائع تھے جن کی مدد سے اس نے بیک وقت ان تمام اہم شخصیات کو ایک ہی جگہ پر ہدف بنایا؟ یہ کہنا کہ ایران نے تمام جرنیل اور سائنسدان ایک ہی اپارٹمنٹ میں بٹھا رکھے تھے، عقل کے خلاف بات لگتی ہے۔ سائنسدان کا کام جنگی حکمتِ عملی بنانا نہیں، بلکہ تحقیق اور اختراع ہے۔ جبکہ جرنیل جنگی پالیسیوں کے نگران ہوتے ہیں۔ جب سائنسدان اور جرنیل مارے گئے، تو ایران نے شدید ردعمل دیا۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ ایران کا جوابی حملہ اتنا سادہ اور کمزور محسوس ہوا کہ جیسے سری لنکا کے پاس بھی اس سے بہتر دفاعی نظام موجود ہو۔ دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز نے چونکایا وہ اسرائیلی دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘ تھا، جسے ایک ناقابلِ تسخیر چھتری کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ مگر ایران کے حملے نے ثابت کیا کہ یہ صرف ایک زبانی دعویٰ تھا، عملی طور پر ان کا دفاعی نظام کاغذی شیلٹر ثابت ہوا۔ پہلے تین دن ایران کے میزائل نشانے پر نہیں لگے، مگر بعد میں ان کے حملے مؤثر اور تباہ کن ہو گئے۔ حیفہ شہر کو مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، جہاں بھارت کے امبانی برادران کی اربوں کی سرمایہ کاری تباہ ہو گئی۔ امریکہ جو ابتدا میں غیرجانبداری کا تاثر دے رہا تھا، آہستہ آہستہ جنگ میں کود پڑا۔ ابتدا میں امریکی وزیرِ خارجہ نے دونوں فریقین کو جنگ بندی کا مشورہ دیا، لیکن بعد میں واضح کر دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں، اگرچہ حملہ فوری طور پر نہیں کریں گے۔ یہ صورتحال اتنی پیچیدہ ہو گئی کہ بڑے بڑے تجزیہ کار، علمِ نجوم والے اور مستقبل بینی کرنے والے بھی حیرت میں پڑ گئے۔ امریکہ نے E-2 بمبار طیاروں کے ذریعے زمین میں سو میٹر گہرائی تک مار کرنے والے بم گرا کر اسرائیلی افواج کو ’’صدیوں کا خواب‘‘ پورا کرنے پر مبارکباد دی، اور یروشلم اور بیت المقدس پر قبضے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیا، گویا صلاح الدین ایوبی کی فتح کو اب شکست دے دی گئی ہو۔ مگر ایران نے بھی 24 گھنٹوں میں جوابی حملے میں قطر، عراق اور شام میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، اور انہیں بُری طرح نقصان پہنچایا۔ امریکہ نے دعویٰ کیا کہ انہیں پہلے ہی حملے کی خبر تھی، اس لیے دس ہزار فوجی پہلے ہی نکال لیے گئے تھے، صرف سات فوجی زخمی ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر فوجی پہلے ہی نکال لیے گئے تھے تو سات زخمی کیسے ہو گئے؟ میزائلوں سے صرف زخمی نہیں ہوتے، جانیں بھی جاتی ہیں۔ ٹرمپ نے اس جنگ کو’’بارہ روزہ جنگ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ جنگ بارہ بجے دن ختم ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور پتّا کھیلا: چین، شمالی کوریا اور روس نے اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایران کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کریں گے، چاہے ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ بھی ہوں۔ ایران کو اس سے حوصلہ ملا۔ امریکہ نے جب اس ساری صورتحال کا تجزیہ کیا تو دیکھا کہ اگر چین ایران سے تیل خریدتا ہے، تو وہ امریکہ سے بھی تیل خریدتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایران پر عائد پابندیاں عملاً ختم ہو گئیں۔ اور یہی بات دنیا کے لیے حیرت کا باعث بنی کہ شاید یہ جنگ حقیقت میں کوئی جنگ تھی ہی نہیں۔ ایران نے اس صورتحال کو ’’فتح‘‘ قرار دیتے ہوئے جشن منایا، اور جن سائنسدانوں اور جرنیلوں کے مارے جانے کی خبر تھی، وہ زندہ سلامت جشن کے اسٹیج پر چلتے پھرتے دکھائی دیے۔ یہ دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ بعد میں یہ بھی پتہ چلا کہ اسرائیلی بم حملے میں تہہ خانوں کو نقصان نہیں پہنچا کیونکہ استعمال ہونے والے بم صرف سطحی تھے، گہرائی میں جانے والے ’’ڈرل بم‘‘ نہیں۔ جب ایران نے میزائل حملے کیے اور سائرن بجنے لگے، تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو بھاگتے ہوئے دکھایا گیا۔ اب ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے جیسے دھوبی کا کتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اندرون ملک ان کے خلاف بے شمار مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ میں نے امریکہ ،کینیڈ اور یورپ بھر میں اپنے مغربی صحافی اور لکھاری دوستوں سے اس ساری جنگ پر تبادلہ خیال کیا تو سب کی متفقہ رائے یہی بنی کہ یہ جنگ دراصل امریکہ اور یورپ کی طرف سے نیتن یاہو کو سبق سکھانے کا ایک منصوبہ تھی۔ ایرانی جرنیل ’’کانی‘‘ کے متعلق بھی بتایا گیا تھا کہ وہ شدید زخمی ہے اور چل نہیں سکتا، لیکن بعد میں وہ ہشاش بشاش، صحت مند اور بغیر کسی پٹی کے نظر آیا۔ اصل میں جب آپ کا اپنا پالا ہوابدمعاش آپ کو ہی آنکھیں دکھانے لگے، تو اسے ایسے سمجھنا چاہیے جیسے میری بلی مجھے میائوں۔تو آپ کسی اور کے ہاتھوں اس کی پٹائی کروا دیتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کی عسکری اور سیاسی حکمتِ عملی کے تحت، فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ نے اسرائیل کی حمایت تو کی، لیکن جنگ میں شمولیت سے انکار کیا۔ امریکہ نے بھی صرف دکھاوے کی بمباری کی، اور بعد میں ایران قطر کا شکریہ ادا کرتا پایا گیا کہ انہوں نے ایرانی میزائلوں کو اپنے ہدف تک پہنچنے دیا۔ اس جنگ کو مذہبی زاویے سے دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ دنیا کے مسلمانوں نے اپنی ذہانت، علم اور روابط کے ذریعے یورپ کے عیسائیوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دیا ہے کہ یہودی مسلمانوں اور عیسائیوں کو آپس میں لڑا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ بیت المقدس تینوں مذاہب کے لیے مقدس ہے، اور یہ بات عیسائی دنیا اب سمجھنے لگی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھایا، مسلمان نہیں۔ آج تک براہِ راست جنگ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کبھی نہیں ہوئی۔ اصل جھگڑا ہمیشہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان رہا ہے، اور مسلمانوں کو ان کی جنگ میں گھسیٹا جاتا رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں بھی مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں تھا، اس میں بھی لڑائی عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان تھی۔ یہ تمام شواہد اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ اسرائیل سے تنگ آ کر امریکہ اور یورپ نے اسے ایک زوردار سبق سکھایا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ستر برسوں میں پہلی مرتبہ اسرائیل کا نشہ اترا ہے، اور وہ اب چند دن اس سوجن کو سہلائے گا۔اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پوری دنیا کو حیران اور پریشان کردینے والا یہ نیم عالمی یُدھ ابھی ختم شُد نہیں ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus