×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ظلم، سفاکیت اور عالمی تنہائی:اسرائیل بند گلی میں؟
Dated: 30-Sep-2025
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی تقریروں میں فلسطین، امن اور موسمیاتی بحران پر اظہارِ خیال ہوا۔ فلسطین کا موضوع دیگر موضوعات پر غلبہ رکھتا تھا اور اجلاس میں بولے گئے بیانات نے واضح کر دیا کہ دنیا محض خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ خاص طور پر غزہ میں اسرائیلی بمباری اور فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم پر عالمی برادری کا ردِ عمل نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی اور انسانی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ عالمی سربراہان کے شدت سے اظہارِ خیال سے یہ بات عیاں ہے کہ مسئلہ اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک عالمی بحران بن چکا ہے جو پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو طاقتور ریاستیں اس ظلم پر خاموش ہیں وہ بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی کارروائیاں نسل کشی کے مترادف ہیں اور اگر عالمی برادری نے فوری اور مؤثر اقدام نہ کیا تو یہ تاریخ کا ایک سیاہ باب بن جائے گا۔ اردوان کا موقف نہ صرف سفارتی طور پر جراتمندانہ تھا بلکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش بھی تھا۔ وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے پاکستانی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا:فلسطینی عوام کی حالت زار ہمارے دور کے سب سے زیادہ دل دہلا دینے والے المیوں میں سے ایک ہے، یہ طویل ناانصافی عالمی ضمیر پر دھبہ اور ہماری اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے، آٹھ دہائیوں سے فلسطینی عوام اپنے وطن پر اسرائیل کے وحشیانہ قبضے کو حوصلے سے برداشت کر رہے ہیں، غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے عورتوں اور بچوں پر ایسا ظلم ڈھایا ہے جو شاید کبھی دیکھنے کو نہ ملا ہو۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی طرف سے عرب و اسلامی ممالک کو اقوام متحدہ میں مشاورتی اجلاس کے لئے مدعو کرنے کے بروقت اقدام پر ان کے شکرگزار ہیں، اس سے جنگ بندی کی نئی امید پیدا ہوئی، اس امن اقدام کا کریڈٹ بھی صدر ٹرمپ کو جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا دوحہ پر حالیہ حملہ اور دیگر ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزیاں اس کے باغیانہ رویے کی عکاسی کرتی ہیں، پاکستان برادر ملک قطر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے غزہ کے محاصرے کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ ان کا ملک انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اپنے موقف میں دو ٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ روکنے اور قیدیوں کی رہائی میں مدد دینے کے لیے تیار ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک اس بحران کو صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ سمجھ کر اس کے حل کے لیے متحرک ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جنگ بندی کی حمایت ظاہر کی اور حماس پر زور دیا کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کرے تاکہ امن ممکن ہو سکے، مگر ان کے بیانات میں وہ سنجیدگی اور غیرجانبداری محسوس نہیں ہوئی جس کی عالمی برادری کو امید تھی۔ ان کے اس اعزازاتی لہجے پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ امن انعام کے لیے حقیقی معیار تو تب ہی پورے ہوں گے جب وہ مؤثر کردار ادا کریں گے اور غزہ میں جنگ بندی کرائیں۔ فرانس اور برازیل کے سربراہان نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی اور اسرائیلی بمباری کو امن کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا، جس سے واضح ہے کہ یورپ اور لاطینی امریکا میں بھی اسرائیل کی کارروائیوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ برازیلی صدردا سلوا نے فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی اور ان کے بیان کا ایک خوبصورت لمحہ تب بھی سامنے آیا جب انہوں نے اقوامِ متحدہ میں کولمبیا کے صدر کے سر پر بوسہ دیا۔ کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اسرائیل کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا اور یہاں تک کہا کہ وہ ایشیائی ممالک کی ایک بین الاقوامی فوج تشکیل دینے کی درخواست کریں گے تاکہ فلسطین کو آزاد کرایا جا سکے — یہ درخواست عرب ممالک کو دی گئی نہیں کیونکہ وہ ان کے ممکنہ ردِ عمل سے واقف ہیں۔ گستاوو پیٹرو نے یہ بھی کہا کہ وہ 20,000 فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہیں اور اسرائیل جانے والے ہتھیاروں سے لدے کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہ دینے کا حکم دیا۔ چلی کے صدر گیبریل بورک نے غزہ کے انسانی بحران پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کو اس ظلم کی سزا کے طور پر اپنے خاندان کے ساتھ میزائل حملے میں ٹکڑے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، اور ان کا کہنا تھا کہ دنیا جاگ چکی ہے۔ چلی کے صدر نے زور دیا کہ تمام اقوام کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے اور کہا کہ نیتن یاہو اور ان کے شریکِ کاروں کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے سامنے لایا جانا چاہیے۔آئر لینڈ نے غزہ میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے باعث اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو یوروویژن میں شرکت کی اجازت دی گئی تو وہ یوروویژن کا احتجاجاً بائیکاٹ کر دے گا۔ آئر لینڈ نے پہلے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔ اس اعلان کے تناظر میں یوروویژن میں آئر لینڈ کی شرکت یا عدم شرکت کی نوعیت کی اہمیت زیادہ واضح ہو گئی ہے۔ اسی طرح یورپی ممالک کی بعض قیادتوں نے بھی مشورہ دیا ہے کہ اسرائیل کو یوروویژن جیسی ثقافتی تقریبات سے باہر رکھا جائے، جیسا کہ روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یورپ اور لاطینی امریکا کے علاوہ بہت سے رہنمائوں نے بھی اسرائیل کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے کہا کہ اسرائیل کو مستقبل میں یوروویژن سے روکا جانا چاہیے کیونکہ ثقافت میں دوہرے معیار قابلِ قبول نہیں۔ اٹلی کی وزیراعظم جورجیا ملونی نے بھی واضح انداز میں کہا کہ اب بس بہت ہو گیا — صورتِ حال قابلِ برداشت نہیں رہی۔ سپین نے نہ صرف سیاسی مؤقف اختیار کیا بلکہ غزہ کے لیے دوائیوں اور خوراک کا ایک بحری بیڑا روانہ کیا، اور خبردار کیا کہ اگر اس بیڑے پر ایک گولی بھی چلائی گئی تو یہ یورپ اور اسرائیل کے درمیان وسیع تنازع کا سبب بن سکتا ہے۔اجتماعی سطح پر یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ غزہ میں بمباری اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی جنگی ضابطوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اسپتال، اسکول، پناہ گزین کیمپ اور میڈیا دفاتر کو ہدف بنانا اس بات کی گواہی ہے کہ یہ کوئی محض دفاعی کارروائی نہیں بلکہ ایک جارحانہ نسل کشی کے شواہد مہیّا کرتی نظر آتی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی آواز، شناخت اور وجود کو ختم کرنا ظاہر ہوتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہزاروں بچوں، عورتوں اور معمر افراد کی جان لینا کسی جنگی حکمتِ عملی کا جواز ہو سکتا ہے؟ کیا بے گناہ شہریوں کو اجتماعی سزا دینا کسی مہذب دنیا میں قابلِ قبول ہے؟ اگر نہیں تو پھر عالمی طاقتیں اس خاموشی کی دلیل کیا بتائیں گی؟ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، مگر اقوامِ متحدہ اور متعدد عالمی و علاقائی رہنماؤں کی تنقید یہ بتاتی ہے کہ عوامی اور قانونی حدود کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس کے دفاع میں کہا جاتا ہے کہ یہ اقدامات سلامتی کے تقاضے ہیں، مگر عالمی ضمیر اور بین الاقوامی قوانین کے پیشِ نظر اس صورتحال پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔اب یہ واضح ہو چلا ہے کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی تنہائی کا سامنا ہے۔ کئی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کیا ہے اور دوسرے ممالک بھی تیزی سے ایسے فیصلے کر رہے ہیں۔ بعض رہنماؤں نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ اگر اسرائیل عالمی برادری کے ساتھ نہیں چلتا تو اس کے پاس انتہائی سنگین آپشنز رہ جائیں گے؛ یا تو وہ خود کو عالمی برادری کے ساتھ مطابقت میں لائے یا پھر انتہائی تکلیف دہ نتائج قبول کرے — ان میں بعض بیانات نے یہاں تک کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں اور انھیں سفر میں محدودیت کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کا ویٹو اور اس کے بعد کی تبدیلیاں بھی زیرِ بحث رہیں۔ یہ صورتحال خطّے کے امن کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی امن پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر بین الاقوامی برادری نے اس بحران کے حل کی طرف فوری اور ٹھوس اقدام نہ کیے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ عالمی اداروں، خصوصاً اقوامِ متحدہ کو اس مرحلے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ انسانی جانوں کی حفاظت، فوری امدادی رسائی اور طویل المدتی سیاسی حل کی راہیں تلاش کی جا سکیں۔پوری دنیا اسّی سال سے ہولوکوسٹ کی داستان سن رہی تھی، اب دنیا کو اس ہولوکوسٹ کی کریبلٹی پر شک ہونے لگا ہے۔اور پہلی دفعہ یو این او کا اجلاس امریکہ نے ویٹو نہیں کیا۔ٹرمپ کو اب پتا چل گیا کہ اب دنیا اسرائیل کو مزید سپیس دینے کو تیار نہیں ہے۔اب اسرائیل پوری دنیا میں، سیاسی،سماجی، معاشی ،معاشرتی اور اخلاقی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے۔اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں یا تو وہ پوری دنیا کو اپنے نیوکلیئر بم مار کر ختم کر دے یا پھر اس دنیا کے ساتھ جینا ہے تو اسے عالمی برداری کے ساتھ چلنا ہوگا۔اور اس کے فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا۔ اور آپ سب کو یہ یاد ہوگا کہ دنیا کی عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو مجرم گردانتے ہوئے اس کے وارنٹ گرفتاری جاری کر چکی اب وہ امریکہ کے سوا کسی ملک کا سفر نہیں کر سکتا۔ امریکہ کا بھی نہیں کر سکتا مگر وہ وہاں یو این او کے بہانے سے جاتا ہے۔ جس ایئرپورٹ پر بھی وہ اترا اس کو گرفتار کر لیا جائے گا۔یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے متحدہ طور پر کھڑی رہے گی یا پھر خاموشی اور صرف بیاناتی رویّے کے ساتھ حالات کو بڑھنے دے گی۔ عالمی رہنماؤں کی حالیہ تقریریں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ متعدد ممالک اس بحران کو محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک عالمی ضمیر کا امتحان سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر ان کے بیانات میں اخلاقی اور سیاسی دباؤ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ قارئین! اقوام متحدہ کی اسّی سالہ سالگرہ کے مو قع پر سب سے خوبصورت لمحات وہ تھے جب برازیل کے صدر نے کولمبیا کے صدر کی تقریر کے بعد اس کا سر اور ماتھا چوم لیا اور کہا کہ آج آپ نے دنیا بھر کے محکومین اورمظلومین کے دل جیت لیے ہیں۔یاد رہے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے اپنی تقریر کے دوران نیتن یاہو اوراسرائیل کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے تھے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus