×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
Dated: 23-Sep-2025
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دور اندیش حکمت عملی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی کرن جگا دی ہے۔ ان کی بصیرت افروز قیادت بلاشبہ انہیں ’’مارشل آف پاکستان‘‘ کے اعلیٰ ترین منصب کا مستحق بناتی ہے۔ وہ پس منظر میں رہتے ہوئے ایسا شاندار پیش منظر تخلیق کر رہے ہیں جس نے پاکستان کی عسکری اور سفارتی ساکھ کو نئی جہت بخشی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ ان کے وسیع ویژن اور غیر معمولی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف نوعیت کے معاہدے ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ تازہ پیش رفت خطے کو امن کی ایسی راہوں سے متعارف کروا سکتی ہے جو پہلے کبھی ممکن نہ تھیں۔ ماضی میں اسرائیل کے سامنے کمزور اور غیر متحد ممالک کھڑے ہوا کرتے تھے، لیکن اب پاکستان ایک ایٹمی طاقت کی حیثیت سے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک اشتراک کر کے سعودی مملکت کو بھی اس طاقت سے مزین کر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا آغاز قیامِ پاکستان 1947ء سے ہی گرم جوشی اور اخوت پر مبنی رہا ہے۔ یہ رشتہ محض ریاستی تعلق نہیں بلکہ صدیوں پرانے مذہبی، ثقافتی اور تجارتی رشتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان دنیا کی وہ واحد ریاست ہے جو اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آئی، جبکہ سعودی عرب پیغمبر اسلام ؐ کی جائے پیدائش اور حرمین شریفین کا مرکز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کی آئینی اور ریاستی اساس میں قرآن و سنت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ یہی مشترکہ نظریاتی بنیاد دونوں کو ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے قریب لے آئی۔ 1951ء میں دونوں کے درمیان ہونے والا دوستی کا معاہدہ اس تعلق کی بنیادوں کو مزید مضبوط کر گیا اور اس کے بعد ہر دور میں جب بھی کسی ایک کو دوسرے کی ضرورت پڑی، برادرانہ تعاون نے یہ رشتہ سنبھالا۔ سعودی عرب کی تعمیر و ترقی میں پاکستانی انجینئرز، ڈاکٹروں، مزدوروں اور دیگر پیشہ ور افراد نے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا، اور آج بھی لگ بھگ بیس لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں خدمات سرانجام دے کر اس دوستی کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاض میں ایک تاریخی سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر جارحیت کی گئی تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ فوجی مشقوں کے علاوہ انٹیلی جنس، فضائی دفاع، میزائل ٹیکنالوجی اور جدید عسکری تربیت جیسے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیں گے۔ پاکستان اپنی وسیع عسکری مہارت اور تجربے کے ذریعے سعودی عرب کو ان نئی صلاحیتوں سے آراستہ کرے گا جو بدلتے ہوئے خطے کے تقاضوں کے لیے ضروری ہیں۔ یہ معاہدہ برسوں کی مسلسل گفت و شنید کا حاصل ہے، جسے عملی شکل دینے میں پاکستان کی سیاسی قیادت اور بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک محنت اور بصیرت نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کے وژنری خیالات اور عزم ہی پاکستان کو اس مقام تک لائے کہ وہ سعودی عرب جیسے برادر ملک کے ساتھ ایک اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کا حصہ بن سکا۔ایک دفاعی معاہدے کا پس منظر تو ایک تاریخ رکھتا ہے لیکن جیسے ہی اسرائیل کی طرف سے قطر پر حملہ کیا گیا تو اس سے معاہدے کی نوک پلک کو بڑی تیز رفتاری سے درست کر کے عملی جامہ پہنا دیا گیا۔اسرائیل قطر سے پہلے لبنان شام یمن عراق اور ایران پر حملے کر چکا ہے۔سعودی عرب اسرائیل کو کئی مرتبہ فلسطینیوں پر مظالم کے حوالے سے تنبیہ کر چکا ہے پاکستان اور سعودی عرب اس حوالے سے ایک پیج پر رہے ہیں۔پاکستان ایٹمی قوت ہے لہذا اسرائیل اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا مگر سعودی عرب کو نشانہ بنا سکتا ہے اب ایسا کرنے کے اس کے راستے میں یہ معاہدہ حائل ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ محض ایک تحریری دستاویز نہیں بلکہ ایک ایسا مضبوط عہد ہے جو پاکستان اور سعودی عرب کو ایک ناقابلِ شکست رشتے میں جوڑ دیتا ہے۔ اس میں سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ یہ ہر پاکستانی کے لیے باعثِ فخر ہے، کیونکہ ہم بحیثیت مسلمان پہلے ہی اس مقصد کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اب یہ ذمہ داری ایک قومی فریضے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مخلصانہ قیادت، ان کا دینی جذبہ اور ریاستی وقار کا شعور اس مقام تک پہنچنے میں فیصلہ کن عوامل رہے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک عسکری رہنما ہیں بلکہ مذہبی اقدار کو عقیدت کے ساتھ نبھانے والی شخصیت ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی کاوشیں ہر سطح پر مقبول اور قابلِ ستائش ہیں۔ یہ معاہدہ خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ خلیجی ممالک طویل عرصے سے امریکہ کو اپنی سلامتی کا ضامن سمجھتے رہے ہیں، لیکن حالیہ حالات نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ اسرائیل کے معاملے میں امریکہ پر مکمل انحصار اب ممکن نہیں۔ قطر پر اسرائیلی حملے نے اس حقیقت کو اور نمایاں کیا کہ عرب دنیا کو اپنی بقا کے لیے نئے اور مضبوط اتحاد درکار ہیں۔ ایسے وقت میں پاکستان نے اپنے کردار کو غیر معمولی جرات اور بصیرت کے ساتھ منوایا ہے۔ جنگِ مئی اور معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری کامیابیوں نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع کی طاقت رکھتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کی عزت و حرمت کی حفاظت کے لیے بھی تیار ہے۔ انہی کامیابیوں نے سفارتی محاذ پر نئی راہیں کھولیں، اور پاک-سعودی دفاعی معاہدہ اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ پاکستان اس وقت مغرب سے مالی تعاون اور مشرق سے عسکری تعاون کے امتزاج کے ذریعے ایک نئے توازن کو تشکیل دے رہا ہے۔ اس توازن کی راہ ہموار کرنے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دور اندیش قیادت نمایاں ہے، جنہوں نے عسکری مہارت کو سفارتی بصیرت کے ساتھ جوڑ کر پاکستان کو خطے میں ایک نئے مقام پر کھڑا کیا ہے۔ سعودی عہدیدار بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ برسوں کی محنت اور گفت و شنید کا حاصل ہے۔ لیکن اس سے خطے میں طاقت کا توازن ضرور بدل جائے گا، خاص طور پر بھارت کے حوالے سے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی قربت بھارت کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ اب خطے میں ایک نیا عسکری اور سفارتی بلاک تشکیل پا رہا ہے۔ معرکۂ حق میں پاکستان کی عسکری برتری نے دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ پاکستان اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا۔ اسی اعتماد نے سعودی قیادت کو پاکستان کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاک-سعودی سٹریٹجک دفاعی معاہدہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ ایک مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، جس کے تحت پاکستان حرمین شریفین کی حفاظت کو اپنا قومی فرض سمجھ رہا ہے۔ یہ سب ترقیات فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت، محنت اور ویژن کے بغیر ممکن نہ تھیں۔ انہوں نے پاکستان کو عالمی سیاست کی بساط پر دوبارہ مرکزی حیثیت دلائی ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے لیے باعثِ افتخار ہے بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد کا محور بھی بن رہا ہے۔ معرکۂ حق میں پاکستان نے بھارت کو شکستِ فاش دی، اور دشمن کی آبادی، فوجی سازوسامان اور اسلحے کی کثرت بھی پاکستان کے عزم و حکمت عملی کے سامنے ریزہ ریزہ ہو گئی۔ یہ اعزاز اللہ تعالیٰ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نصیب میں لکھا تھا، اور انہوں نے اپنی بصیرت، جرات اور بہادری سے دشمن کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ اسی بنیاد پر انہیں جنرل سے فیلڈ مارشل کے رینک پر فائز کیا گیا، اور اب ان کی اسلامی دنیا کو محفوظ بنانے کی کاوشیں انہیں ’’مارشل آف پاکستان‘‘ کا حق دار بناتی ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں یہ اعزاز صرف چند شخصیات کو ملا ہے: فن لینڈ میں کارل گستاف مانرہائم، یوگوسلاویہ میں جوزف بروز ٹیٹو، ترکی میں مصطفیٰ کمال اتاترک اور عصمت انونو، پولینڈ میں یوزف پلسوڈسکی اور چند دیگر جنرلز، رومانیہ میں بادشاہ کیرول دوم اور آئن انتونیسکو، شمالی کوریا میں کِم اِل سونگ اور کِم جونگ اِل، سوویت یونین میں ژوکوف، ووروشیلوف اور دیگر جنرلز، فرانس میں فیردینان فوچ، فیلیپ پیتین اور کئی جرنیل، اور اٹلی میں وکٹر ایمینوئل سوم اور دیگر فوجی رہنما اس رینک سے نوازے گئے۔ آئندہ ممکن ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایسے اقدامات بھی سامنے آئیں جو انہیں نوبل انعام کا حقدار ٹھہرا دیں۔ ان کی قیادت پاکستان کو نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور مستحکم مقام فراہم کر رہی ہے۔ قارئین! سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی دن سے قدرتی ،نظریاتی اور دینی بھائی ہیں اب اس معاہدے نے ان قربتوں کو ایک نئے بندھن میں باندھ دیا ہے اور آج سے پاکستان کے خلاف کوئی بھی اقدام سعودیہ کے خلاف تصور ہوگا اور سعودیہ کی طرف پھینکا جانے والا کوئی بھی پتھر پاکستان پر حملہ تصور ہوگا۔اسی مناسبت سے مجھے قتیل شفائی کا خوبصورت شعر یاد آ گیا: یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus