×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیز فائر معاہدہ اور افغانوں کی احسان فراموشی
Dated: 21-Oct-2025
پاکستان اور افغانستان کے مابین جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، لیکن یہ شعلے بھڑکے تو آخر کار کیوں بھڑک گئے؟ یہ سوچنے والی بات ہے۔قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا پاکستان اور افغانستان کے مابین سیز فائر ہو گیا اس حوالے سے مزید مذاکرات 25 اکتوبر کو ہوں گے معاہدے کے قطر اور ترکی ثالث کے ساتھ ساتھ ضامن بھی ہیں۔بعید نہیں کل بھارت کے اکساوے پر طالبان پھر پاکستان کے خلاف محاذ کھول دیں۔ پاکستان کا ہمیشہ سے افغانستان کے لیے نرم گوشہ رہا ہے، خصوصاً طالبان حکومت کی پاکستان نے ہمیشہ حمایت ہی کی ہے۔ ملا عمر کی قیادت میں 1996 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان نے سب سے پہلے اس سے تسلیم کیا تھا۔ملا عمر پاکستان کے لیے احسان مندی کے جذبات رکھتے تھے۔مگر اب جب کہ طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو یہ پاکستان کے احسانات کو فراموش کر کے پاکستان کے دشمن کیمپ میں جا بیٹھے۔ انڈیا کی پراکسی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان پر براہ راست حملہ کر دیا۔ پاکستان نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ جوابی کارروائی میں اب تک 400 سے زیادہ طالبان، جارحانہ عزائم رکھنے والے فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 25 پاکستانی سپاہی جوابی کارروائی میں مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔سیز فائر ہونے سے وقتی طور پر خون ریزی رک گئی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں مجاہدین اور مشرف دور میں طالبنائزیشن جیسے فیصلے ابھی تک پاکستان کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ امت کا درد رکھتے ہوئے پانچ دہائیوں کے لگ بھگ افغانوں کو پناہ دینے اور اپنا خون جگر پلانے کے باوجود بھی یہ لوگ احسان فراموشی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے افغان طالبان کی بلی تھیلے سے باہر آ چکی ہے۔ ٹی ٹی پی، اے ٹی پی، بی ایل اے، مجید برگیڈ—ایک ہی سکے کے کئی رخ ہیں اور بھارت کی پراکسی ہیں۔ حالیہ دنوں بھارت میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی کے دورے کے بعد انٹرنیشنل سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دشمن ملک کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں دی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنے پر بھارت کی حمایت کی گئی۔ اس دوران 2,600 کلومیٹر کی لمبی پاک افغان سرحد پر طالبان کی چڑھائی، خودکش بمباروں اور سینکڑوں دہشت گردوں کی تشکیل کی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں روانگی کے علاوہ ایران میں اسرائیل اور بھارت کے لیے جاسوسی نیٹ ورک کا حصہ بننا، اور غزہ کے ہزاروں معصوم فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموشی کیا پیغام دیتی ہے؟جن کے ہاتھ میں افغانستان کا اقتدار آ گیا، ثابت ہو گیا کہ ان کو پیسوں کے عوض کرائے کے قاتل، دہشت گرد یا جنگجوؤں کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی اشارے پر دہشت گردی میں شدت لانے والے جو آج پتھر کے دور میں گوریلا وار کو جیت کا ذریعہ سمجھنے والے پاکستان کا ایک دن بھی مقابلہ نہ کر سکے فوری طور پر سیز فائر کی درخواست کر دی۔پاکستان نے بڑے دل سے کام لیتے ہوئے ان کی درخواست کو قبول کر لیا۔اور اب بات ایک باقاعدہ معاہدے پر ا پہنچی ہے۔ پاکستان میں مہاجر کی حیثیت سے آنے والے اب واپس جا رہے ہیں تو ان کی طرف سے غیر انسانی رویہ سامنے آنے لگے ہیں۔ اتنے کم ظرف ہیں، انہوں نے جو گھر ادھر بنائے تھے، جس میں رہتے تھے—پہلی بات کہ انہوں نے کوئی زمین خریدی ہی نہیں تھی۔ جہاں کہیں خالی زمین نظر آئی، اس پر گھر بنا لیا۔ اب وہ گھر توڑ رہے ہیں؛ جہاں کہیں اگر کوئی ماربل لگا ہے، وہ بھی توڑ رہے ہیں تاکہ کسی کے ہاتھ نہ لگے۔ کراچی جو افغان کالونی ہے، اس میں گھر خالی کرکے اور اندر سے توڑ کر لائٹیں تک خراب کرکے، اور اس گھر کو آگ لگا دیتے ہیں۔ وہ بیچ بھی نہیں سکتے کیونکہ لوگ خریدتے نہیں کہ یہ غیر قانونی جگہ پر بنے ہوئے ہیں اور بعد میں حکومت ختم کر دینے والی ہے۔ جب یہ پاکستان آئے تھے تو ان کی تعداد چالیس لاکھ تھی، اور ان کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے اور اب تقریباً دو کروڑ کے قریب ہو گئی ہو گی۔ پاکستان سے اب تک پچاس لاکھ بھی واپس نہیں گئے۔ ابھی بھی ایک کروڑ کی تعداد تک کہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بنگالی بھی ایک انسان ہیں اور یہ بھی انسان ہیں۔ بنگالی جب ہم سے الگ ہوئے تھے تو ہمارا کوئی نقصان نہیں کرکے گئے، نہ کبھی پاکستان سے جنگ کی۔ مگر ہمارے ذہن میں ایک خلش ہے کہ ہم نے ان سے زیادتی کی ہے۔ لیکن انہوں نے پچھتاوا بعد بھی آ کر ہم سے گلے ملے ہیں۔ ہم پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کے لوگ پاکستانیوں سے پیار اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ افغانی جو یہاں سے ہی کرکٹ سیکھ کر گئے ہیں—ہم نے اپنے سینئر کھلاڑی ان کو سکھانے کے لیے لگائے اور فری ان کو سکھایا، اور ہماری ہی گراؤنڈز استعمال کرتے رہے۔ ان کے سارے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان اور دیگر شعبوں کے لوگ یہ سارے پاکستان سے پڑھ کر گئے ہیں۔ آج بھی افغان طالبان کی جو قیادت ہے، ان سب کے بچے پاکستان میں پڑھتے ہیں۔ جب یہ پاکستان سے جاتے ہیں تو پاکستان کو گالیاں نکالتے ہیں۔ پاکستان سے جب کسی دوسرے ملک—جرمن، فرانس یا کینیڈا—چلے جاتے ہیں تو وہاں پاکستان کے لوگوں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔ ہم نے ان کے صوفیاء کے نام پر، ان کے ہیروز کے نام پر اپنے میزائل اور ٹینک تک بنا دیئے۔ ان کو عزت دینے کے لیے غوری میزائل، غزنوی میزائل بنائے۔ کیا ہمارے پنجاب کے ہیرو نہیں تھے جن کے نام پر ہم رکھ سکتے تھے؟ لیکن ان کو ہم نے اپنے بھائی بنا کر رکھا۔ ہمارے پنجاب کے ہیرو—دْلا بھٹی، ملنگی، نظام لوہار، رائے احمد خاں کھرل—ان کے نام پر کوئی بلھے شاہ کا نام رکھا، انہوں نے میاں محمد بخش کا نام کسی ٹاؤن کا نام رکھا۔یہ رویوں کی بات ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ایک افسر کا ایک شہر سے دوسرے شہر تبادلہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ بڑی اچھی راہ و رسم تھی۔ جس دن انہیں اپنی فیملی کے ساتھ اس گھر سے دوسرے شہر شفٹ ہونا تھا—یہ بڑے افسر تھے، وہ شہر میں ان کے لیے پہلے سے گھر کا بندوبست کر دیا گیا تھا۔ میں اور دیگر مشترکہ دوست ان سے ملنے کے لیے ان کے گھر گئے تو وسیع و عریض گھر کا گراسی لان خشک ہو چکا تھا اور پھول پودے مر جھا چکے تھے۔ ان صاحب کے ملازم دوسرے شہر میں ان کے گھر سنوارنے کے لیے پہلے سے جا چکے تھے۔ انہوں نے اپنے گراسی لان کو آخری دنوں میں پانی لگانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ اسی طرح پانی نہ ملنے سے پھول پودے بھی مرجھا گئے تھے۔ اسی طرح ایک اور موقع پر ہم اپنے ایسے ہی ایک اور افسر کو خدا حافظ کہنے گئے۔ اس گھر میں ان کا یہ بھی آخری روز تھا۔ ان سے گھر کے گیٹ پر ہی ملاقات ہو گئی۔ وہ خود اس روز، جب انہوں نے یہ گھر چھوڑ دینا تھا، پودوں کو پائپ پکڑ کر پانی لگا رہے تھے۔ جو افغان ہمارے حصے میں آئے، یہ کتنے زیادہ نامراد ہیں کہ جاتے ہوئے اپنے گھروں کو ناقابل رہائش بنا کر جا رہے ہیں۔ ذرا ان کی کرکٹ ٹیم کی بات کیجیے—یہ پاکستان کی سکھائی ہوئی بلکہ سدھائی ہوئی ٹیم ہے۔ اس ٹیم کو یوں سمجھ لیں کہ پاکستان نے اس طرح سے ٹرینڈ کیا ہے جیسے بچے کو انگلی پکڑ کے چلنا سکھایا جاتا ہے۔ اب ذرا ان کے رویے ملاحظہ فرمائیے: پاکستان اور افغانستان کے مابین میچ ہوتا ہے تو افغان کھلاڑی پاکستان ٹیم کے خلاف اس طرح سے رویے کا اظہار کرتے ہیں جیسے بھارت کی طرف سے ان دنوں کیا جاتا ہے جب پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی عروج پر ہوتی ہے۔بیرون ملک ان کے رویے پاکستان کے حوالے سے کبھی دوستانہ نظر نہیں آتے۔ اخوت اور اسلامی بھائی چارہ وہ بھی ان پر کوئی اثر انداز نہیں ہوتا۔کبھی پاکستان میں "گڈ طالبان" اور "بیڈ طالبان" کی بات ہوتی تھی، مگر اب یک زبان ہو کر ہماری فوجی اور سیاسی قیادت طالبان کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے، اور وہ ہے ان کے رویوں کی وجہ سے ان کا پاکستان دشمن ہونا۔ کل ہی ایک بڑا اجلاس ہوا جو وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے بلایا گیا تھا، جس میں فوجی قیادت بھی موجود تھی—فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر بہ نفس نفیس اس اجلاس میں موجود تھے۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام کے تمام غیر قانونی افغانیوں کو پاکستان سے ہر صورت بے دخل کیا جائے گا۔ یہاں میں یہ تجویز کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی پاکستان میں قانونی طور پر رہائش پذیر ہے یا غیر قانونی طور پر افغان موجود ہے—بلا امتیاز سب کو ان کے وطن واپس بھجوا جائے۔ ان میں سے اچھے بھی ہوں گے، نیکوکار بھی ہوں گے، لیکن جب ایک بڑا حصہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتا ہے، تو کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا ہوتا کہ کون نیکوکار ہے، کون دہشت گردوں کا سپورٹر ہے اور کون دہشت گرد ہے۔ اس لیے ان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی ضرورت ہے اور ہر کسی کو پاکستان سے چلتا کر دیا جائے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus