×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نو بل انعام:نہاتی دھوتی رہ گئی
Dated: 14-Oct-2025
آج غزہ والوں کی، فلسطین والوں کی، حماس والوں کی دعائیں اوپر پہنچ گئیں۔ پاکستان کی حکومت، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ریاستی طور پر نوبیل کے لیے نامزد کیا تھا اور اس کا برملا آن سکرین اس کا اظہار بھی کرتے رہے۔دوسرے لفظوں میں آج یہ کہنا چاہیے کہ آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ شکست تھی، یہ ایک طرح سے نہیں بلکہ پوری طرح، پوری کھلے عام یہ شکست ہے۔ پنجابی کا ایک محاورہ ہے ،ایک مثال ہے، اسے ہم آکھان کے طور پر بھی بول سکتا ہیں، مثل کے طور پر بھی لیکن اس کا مطلب پوری دنیا میں سمجھا جاتا ہے کہ "نہاتی دھوتی رہ گئی، نک تے مکھی بہہ گئی"۔ یہ ایک بڑا زبردست فقرہ ہے۔اسے مختلف معنوں اور اصطلاحات میں استعمال کر سکتے ہیں۔یہ جناب آج یہ مجھے کیوں یاد آیا؟ آج صبح میں جب اٹھا، بیدر ہوا تو یکدم میرے ذہن میں آیا، میں مطالعہ کر رہا تھا، کچھ پڑھ رہا تھا۔ صبح صبح مطالعہ کرناپڑتا ،پڑھنا پڑتا ہے۔ بعد میں اپنے کالم لکھنے کے لیے جو میں الحمدللہ متواتر لکھتا ہوں، اور پھر دوسرے وی لاگ کے لیے۔ پھر یہ کہ سیاسی جراثیم کیونکہ بدرجہ اتم ہم میں موجود ہیں تو ان کے لیے بھی اور ذاتی تسکین کے لیے بھی، اور اطمینان کے لیے بھی کچھ پڑھنا پڑتا ہے۔ تو میں جب مطالعہ کر رہا تھا، ریسرچ کر رہا تھا تو مجھے پتہ چلا کہ آج تو نوبل ایوارڈ کا دن ہے۔نوبیل انعام آپ سب جانتے ہیں اس پر پہلے بھی ہم ایک پروگرام کر چکے ہیںالفریڈ نوبل کے انعام پہ۔ یہ سویڈش تھے ،کیمیا دان تھے اور صنعت کار بھی تھے۔ انہوں نے کوشش کی کہ ان کو جستجو تھی چیزیں تلاش کرنے کی، بنانے کی، ایجاد کرنے کی ،تو انہوں نے ڈائنامائیٹ ایجاد کیا، وہی ڈائنامائیٹ جس کے پھٹنے سے، جس کے لگانے سے پہاڑ بھی پھٹ جاتے ہیں۔ پہاڑوں میں بھی راستے بنائے جا سکتے ہیں، سرنگوں میں سڑکیں اور یہ سب کچھ یہ اچھی سوچ تھی۔ لیکن اس کو بعد میں جب جنگوں میں استعمال کیا جانے لگا، مائنز کے طور پر بھی اور دوسرے بارود کے طور پر بھی، تو پھر یہ اتنی تباہی دنیا میں لائے کہ جس کی مثال آپ خود لگا سکتے ہیں۔ یہ انعام پوری دنیا میں ایک اعزاز سمجھا جاتا ہے، آج تک جن لوگوں کو ملا، ایک طاقتور نام تھے۔ جیسے کوفی عنان صاحب تھے، جیمی کارٹر امریکی صدر تھے، کوفی عنان یو این کے جنرل سیکریٹری تھے۔ یاسر عرفات فلسطین کے مسلم لیڈر تھے ، پی ایل او کے سربراہ تھے، شمعون پیرس اسرائیل کے وزیراعظم، میرے دوست، میرے بہت ہی ہمدرد ساتھی تھے، آنجہانی شمعون پیرس ان کو ملا۔نیلسن منڈیلا ایک علامت جدوجہد اور انقلاب اور سٹرگل کی ایک علامت کے طور پر، جب بھی نام لیا جائے گا، نیلسن منڈیلا کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔ اور عربوں کے درمیان اتحاد کو قائم کرنے اور نفاق کو ختم کرنے، جس شخص نے یہ خدمات دی، وہ انور سادات بھی تھے، مصر کے، ان کو بھی۔اور پھر امریکن مشہور ایکٹوسٹ اور ہیومن رائٹس اور انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے پرچم بلند کرنے والے مارٹن لوتھر کنگ کا نام ان میں شامل ہے۔ اور اس کے علاوہ اگر امریکی صدور کا نام لیا جائے تو جیسے میں نے جیمی کارٹر،بل کلنٹن اور اس کے علاوہ بارک اوباما جو 2009میں جن کو اقتدار سنبھالنے کے صرف آٹھ نو ماہ بعد ہی نوبل انعام دیدیا گیا جو سمجھ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پریزیڈنٹ ٹرمپ صاحب جو کہ خود اس دفعہ دو ہزار پچیس کے نوبل انعام کے لیے خود کو ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے لائے اور سمجھتے تھے کہ وہ ایک مضبوط امیدوار ہیں۔ تو ان کو جناب انہوں نے آج کہا کہ اوباما نے تو کچھ کیا بھی نہیں، صرف آٹھ ماہ اس کی صدارت کو ہوئی، اس نے کوئی جنگ بند نہیں کروائی، اس کو ایوارڈ دے دیا گیا تھا۔ اور میں نے جس نے آٹھ جنگیں رکوائیںلیکن مجھے ایوارڈ دینے میں کنجوسی سے کام لیا گیا۔ تو یہ ان کی جائز ہے جو ہمارے پریذیڈنٹ ونلڈ ٹرمپ صاحب ہے۔ بڑی محنت کر رہے ہیں، بڑی جدوجہد کر رہے ہیں، بڑے جنگوں کو روکنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن اس کے لیے جو کمیٹیاں بنی ہوتی ہیں، جو ادارے بنے ہوتے ہیں، جو ایک آرگنائزیشن باڈی بنی ہوتی ہے، ان کا اور بھی کام ہوتا ہے۔ انہوں نے صرف یہ نہیں دیکھنا کہ آپ نے جنگیں روکیں، آپ نے جنگیں کیسے روکیں؟ یہ جنگیں ہونے ہی کیوں دی گئیں؟ کیا یہ آپ کی کسی فیل کا تسلسل تو نہیں تھا جو آپ پچھلے چار سالوں میں چھوڑ کے گئے تھے؟ تو بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔ تو بہت ہی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پہ یہ چیزیں انٹرنیشنل کمیٹیاں جو دیکھتی ہیں۔ اور دنیا میں پہلی بار ایک سو تیرہ برس پہلے یہ ایوارڈ شروع کیا گیا تھا۔سب سے پہلا ایوارڈ جو تھا وہ ہنری ڈونا کو دیا گیا۔ ہنری ڈونا وہ ایک سوئزرلینڈ کے شہری تھے، ایجاد کرنے والے۔ انہوں نے ریڈ کراس جو دنیا میں سب سے بڑا ادارہ جو انسانی خدمت کا ادارہ جسے تصور کیا جاتا ہے، بعد میں مسلمان ممالک نے مل کر ان کے مقابلے میں یا ان کے لیول پر اپنا ایک ادارہ ’’ہلال احمر ‘‘قائم کیا، لیکن سب سے پہلے جو دنیا میں انسانی خدمت کا جذبہ لے کے جو ادارہ قائم کیا گیا، اس کا نام ’’ریڈ کراس‘‘ تھا۔ جو آپ نے سوئزرلینڈ کے جھنڈے پر بھی بنا دیکھا ہوگا ، تو اس ریڈ کراس کے بانی ہنری ڈونا کو یہ پہلا ایوارڈ دیا گیا۔ جب ہم دوسرے نام لیتے ہیں تو پاکستان میں بھی کچھ لوگوں کو یہ ایوارڈ ملا جن میں ملالہ یوسفزئی جو دنیا میں پندرہ خواتین جن کو یہ اس ایوارڈ سے آج تک نوازا گیا، ان میں سے ملالہ یوسفزئی بھی ایک ہے جن کا تعلق پاکستان سے، یہ سٹوڈنٹ تھی، پندرہ سالہ سٹوڈنٹ جن کو جس وقت اس ایوارڈ سے نوازا اور ڈاکٹر عبدالسلام تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام کو کون نہیں جانتا، پوری دنیا ان کے نام، ان کے کام سے متعارف ہے۔ وہ ایک محب وطن پاکستانی کے طور پر ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جو فزکس اور دوسرے موضوعا ت پر ان نے خدمات دی تھیں۔اور پھر ہمارے ہمسایہ جو بھارت ہے ، وہ تو متحدہ ہندوستان کے، جو مہاتما گاندھی جنہوں نے انسانیت کے لیے اور جمہوریت کے لیے، انسانیت کے لیے، حقوق انسانی کے لیے، جتنی خدمات مہاتما گاندھی کی تھی کسی اور شخص کی نہیں تھی۔ اپنے دور میں۔ تو یہی وجہ ہے کہ انیس سو اڑتالیس میں جب نوبل انعام کا اعلان کرنا تھا تو مہاتما گاندھی سے کچھ دیر پہلے وفات پا چکے تھے، تو اس سال پھر نوبل پرائز کمیٹی نے نوبل انعام کا اعلان ہی نہیں کیا، انیس سو اڑتالیس میں اس لیے کہ یہ انعام صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو زندہ ہوں۔ چونکہ مہاتما گاندھی کچھ دن پہلے اپنے ایک ہم وطن ہندو فاشسٹ سے، جنونی ہندو کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے، اس لیے اس سال نوبل انعام کمیٹی نے کہا کہ اس سال ہم یہ انعام جاری ہی نہیں کریں گے۔تو یہ انعام کوئی اتنا بڑا نہیں ہوتا کہ جس کے لیے دنیا تڑپے جا رہی ہے۔ پاکستان اور پاکستان سے باہر بھی آپ دیکھیں، ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ میں امن کے لیے کچھ کر کے جائوں، جمہوریت کے لیے کچھ کر کے جائوں، ایجادات کے لیے کچھ کر کے جائوں، انسانی حقوق کے لیے کچھ کر کے جائوں، بنی نوع انسانیت کے لیے میں کچھ کر کے جائوں تو مجھے نوبل انعام مل جائے۔ اب میڈم ماریا کورینا مچاڈو کو اس دفع عزت افزائی ان کے حصے میں آئی ہے، کوئی بندہ اس کا تصور نہیں کر سکتا کہ ان کی خدمات عالی تھیں، عارفہ ہیں۔ لیکن جب دوڑ میں دیکھتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ صاحب اس دوڑمیں سر فہرست دوڑتے ہوئے نظر آتے تھے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو مالٹا کے وزیر خارجہ نے اس انعام کے لیے نامزد کیا۔ مالٹا ایک چھوٹا سا ملک ہے، یورپ کے سب سے چھوٹے ملکوں میں اس کا شمال ہوتا ہے لیکن اس کی اہمیت جو یورپ کے اندر رہتے ہوئے تو اس لیے مالٹا کے وزیر خارجہ ایان برگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نامزد کیا، افیشلی اور ایک ریاست کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کو، صدر ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ان کو ایک ریاست کے طور پر جس نے انڈوز کیا وہ تھا پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کی ریاست۔ اور اس کے ساتھ جب آپ نے دیکھا پچھلے دنوں فوٹیج میں جب آپ سوشل میڈیا یا ٹی وی پر، پاکستان کے ٹیلی ویژن پر بھی اس کو بڑھا چڑھا کر ، یو این او کی ڈیبیٹ کے اندر بھی پاکستان کے وزیراعظم نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہم نے مسٹر ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے انڈورز کیا ہے اور ہماری ساری ہمدردیاں،مسلمان ممالک کی ساری ہمدردیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہیں کیونکہ انہوں نے جنگ رکوائی پاکستان اور بھارت کی، جس کو بھارت اب تک مانتا ہی نہیں ہے کہ سانوں تے تسیں چھڈوایا ہی نہیں ، سانوں تے جنی مار پینیں سی پے گئی ہے اور مار پڑنے سے زیادہ اب آپ بار بار اس کا تذکرہ کر کے مسٹر ٹرمپ آپ ہمیں مار رہے ہیںاور ہمارے زخموں پر نمک چھڑ ک رہے ہیں، پھر ان پر ایران اور اسرائیل کی جنگ رکوانے کا بھی وہ اپنے کھاتے میں سمجھتے ہیںوہ جو انہوں نے خود ایک پارٹی بن کر اسرائیل کے ساتھ ایک پارٹی بن کر ایران کے مفادات پر، ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر، ان کی تنصیبات پر حملے کیے، ایک پارٹی بن کے اور پھر وہ جنگ بند کرانے کا اگر کہیں تو کون کافر ہے جو اس پر اعتبار کرے ، اس ایسی باتوں پر۔ میں کہتا ہوں یقین کریں ایک انڈر ففتھ کلاس کا جو بچہ بچی ہے وہ بھی بہت سادہ سمجھ جاتا ہے، بھائی آپ تو اس طرح کے ساتھ مل کے ان کی تنصیبات پر حملے کر رہے ہو تو آپ جنگ بند کرانے والوں میں سے، کریڈٹ لینے والوں میں سے کیسے شامل ہو گئے؟ پھر ان پر یہ بھی ہے کہ میں نے سیریا میں بھی جنگ بند کروائی، یعنی ایک پارٹی کو اپنی مرضی کی پارٹی کو جو پرو اسرائیل ہے اس کو لاکر بٹھا دیا اور وہ جو پرو ریشین اور پرو عرب تھی، بشارت الاسد اس کو اٹھا کے بھگا دیا وہاں سے جو آج کل روس میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، تو وہ جناب اس دفعہ اس نوبل انعام کی کمیٹی میں تین سو اڑتیس، افراد اور تنظیموں کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے دو سو چوالیس افراد، مرد حضرات تھے یعنی افراد تھے، ان میں عورتیں بھی تھیں، مرد بھی تھے، اور نائنٹی فور تنظیمیں تھیں، آرگنائزیشنز تھیں، جنہوں نے انسانی حقوق کے لیے، جمہوریت کے لیے، انسانی فلاح کے لیے خدمات سرانجام دی تھیں۔ اگرچہ یہ کمیٹی پچاس روزتک نام کو سامنے نہیں آنے دیتی، پچاس روز تک، لیکن رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ صاحب اس ریس میں آگے جا رہے تھے اور سوڈان کی ایک آرگنائزیشن ہے جیسے وہ ریڈ کراس قسم کی ایک تنظیم ہے جو ایمرجنسی کی صورت میں جیسے ہمارے ون ون ٹو ٹو ہے، ایسی ایک تنظیم ہے سوڈان کی اس کا نام ایمرجنسی ریسپانس روم ہے۔وہ بھی اس دوڑ میں شامل تھی اور تجزیہ نگاروں کے مطابق ماریا کورینا کا انتخاب ایک مضبوط پیغام ہے۔ تو یہ اچھی بات نہیں ہے پاکستان کے لیے۔ مطلب ٹھیک ہے پاکستان کا معاملہ نہیں تھا یہ، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کو اپنے وعدوں کے بارے میں، امریکی عوام کی رہائی جو ان کے کیے ہوئے وعدے، اپنی عوام کے ساتھ انہیں بھی پشت پناہی میں ڈال کر انہوں نے ذاتی مفاد کے لیے پاکستان کے اندر ڈکٹیٹرشپ، پاکستان کے اندر لاقانونیت، پاکستان کے اندر آئین کی پامالی کرنے والے افراد اور اداروں کو سپورٹ کیا۔ اس لیے آج نوبل کی پیس کمیٹی نے جناب ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کو ریجیکٹ کر دیا ہے اور ان کے ساتھ جو جو ریجیکٹ ہوئے ہیں اس کا میں اظہار ابھی آپ کے ساتھ کر چکا ہوں کہ ان کے جھٹکے کہاں تک پہنچے ہیں، ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ دونوں صورتوں میں۔تو ابھی جناب جب یہ ہم بات کر رہے ہیں تو میں آپ کو بتائوں کہ اور بھی پاکستان میں سننا تھا شروع میں کہ وہ جو ایک خاتون ہے بلوچستان سے،ماہ رخ بلوچ صاحبہ، انہوں نے بہت اس میں ان کی بھی خواہش تھی، پوری دنیا میں بھارتی لابی نے ان کے لیے بڑے لمبے چوڑے نام لیے، ان کو سپورٹ کیا، کروڑوں اربوں روپے کمپین پر لگائے کہ کسی طرح اس کا وہ کم ازکم دوڑ کی پہلی صفحہ میں نظر آجائیں، وہ بھی اس میں اپنا بالکل نچلے نمبروں پر بھی کہیں نظر نہیں آتی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا یہ خیر اچھی بات نہیں ہے بلوچستان میں پیس ہونا چاہیے، لیکن جس طرح کی پیس ’’را‘‘ اور جس طرح کا پیس بھارت چاہتا ہے یہ پیس کے نام پر سلامتی کے نام پر ایک دھبہ ہے، اس طرح نہیں اور یہ سلامتی کے نام پر دھبہ ہے اس لیے ایسے لوگوں کو ریکانائزیشن نہیں ملتی۔ بھارت کو آج احساس ہو گیا ہوگا کہ کس طرح بھارت کی دنیا بھر میں اس وقت عزت موجود ہے اور کتنی ہے، کتنی کوانٹیٹی میں ہے۔ آج بھارت کو اس بھارت کا برملا اندازہ ہو گیا ہوگا۔ کوئی پلئر ہمارا بھی ہارا ہے، پلئر بھارت کا بھی ہارا ہے، لیکن ہم ہار کے بھی خوش ہیں اس لیے کہ ہم نے کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ دنیا بھر میں نامزدگیاں ہوتی ہیں، لوگ کرتے ہیں، پاکستان نے بھی کی، پاکستان نے ریاست کے مفاد نہیں دیکھے، لیکن سب سے بڑی بات کہ غزہ کے ایک لاکھ شہیدوں کو، بچوں کو، معصومین کو، خواتین کو، نوجوانوں کو، بوڑھوں کو جو شہادت پا چکے ہیں اور لاکھوں جو ہسپتالوں اور ملک کھنڈرات میں اب بھی رْل رہے ہیں، ان کی بددعائیں صدر ٹرمپ صاحب کو کیسے آج امن کا یہ انعام دلاتی ، کیسے یہ ممکن ہوتا؟ تو اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر رہیں گے۔ آپ انسان کوئی بڑا طورخم خان بن جائے وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہوتا وہی ہے جو میرے مالک کی کائنات رب العزت چاہتا ہے اور کبھی بھی اس کی مرضی کے بغیر،آج غزہ والوں کی، فلسطین والوں کی، حماس والوں کی دعائیں جو ہیں وہ اوپر پہنچ گئیں اور اس کو ٹرمپ صاحب کو جو اس غزہ کو چھین کر مسلمانوں سے اور خود اسرائیل سے بھی ایک کاروباری مرکز بنانا چاہتے تھے، ایک ایسی پٹی جیسے سنگاپور طرز کی یا دبئی طرز کی ایسی بنانا چاہتے تھے، اللہ نے تمام ارادوں کو فیل کر دیا اور آخری حتمی فیصلہ اس رب العزت کا ہوتا ہے۔اورہمارے پیارے صدر ڈونلڈ ٹرمپ صاحب کے متعلق صرف یہی کہا جا سکتا ہے:’’نہاتی دھوتی رہ گئی، نک تے مکھی بہہ گئی‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus