×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چور کو کھاتے ہوئے نہیں۔ مار کھاتے ہوئے دیکھو
Dated: 21-Nov-2010
بادشاہ سلامت کا دربار سجا ہوا تھا۔ کابینہ کے وزیر، مشیر اور مملکت کے قاضی بھی موجود تھے۔ آج ملک کی تاریخ کے ایک معروف ڈاکو اور چور کے کیس کا فیصلہ تھا۔ وہ چور جس نے امیروں،غریبوں پر ہی اکتفانہ کیا بلکہ بادشاہ سلامت کے محل میں بھی چوری کی وارداتیں کی تھیں۔ رعایا اس کی وارداتوں سے تنگ تھی۔ عوام کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے بادشاہ سلامت نے خصوصی دستہ تشکیل دیا۔ جس نے بہت دنوں کی سخت محنت ک بعد بدنامِ زمانہ اس چور کو پکڑ کر قاضی القضاء کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا تھا۔ لوگوں کا ایک جمِ غفیر اس چور کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھاجس نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہوئی تھی۔ بادشاہ سلامت کے آنے کا بگل بجتا ہے۔ رعایا، وزراء احتراماًکھڑے ہو جاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت تخت پر براجمان ہوتے ہیں۔ قاضی القضاء ملزم کے جرائم کی لمبی چوڑی فہرست پڑھ کر سناتے ہیں۔ ملزم پر فرد جرم عائد کیجاتی ہے۔ ملزم کے پاس صحت جرم سے انکار کی گنجائش اس لیے باقی نہیں بچتی کہ وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا۔ ملزم کے قبول جرم کے بعد قاضی صاحب، چور کے لیے سزائے موت تجویز کرتے ہیں۔بادشاہ سلامت قاضی کی سنائی ہوئی سزا پر مہرتصدیق ثبت کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی حکم صادر فرماتے ہیں کہ چورکو آج ہی اسی عوام کے ہجوم میں سرعام موت کی سزا دی جائے۔ قاضی صاحب کی ایماء پر اہلکار چور سے اس کی آخری خواہش پوچھتے ہیں۔ سزا سننے کے بعد بھی پرسکون اعصاب کے ساتھ چور خواہش کرتا ہے کہ اس کی ماں سے اس کی آخری ملاقات کرائی جائے۔ چور کی ماں کو دربار میں لایا جاتا ہے وہ روتی ہوئی اپنے مجرم بیٹے کے پاس جاتی ہے۔ چور اپنی ماں کے پاس جا کر کہتا ہے ماں میں آپ کے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ چور ماں کے کان کے قریب ہو کر سرگوشی کے انداز میں اچانک ماں کا کان اپنے منہ میں چبالیتا ہے۔ ماں چیختی ہے،سرکاری ہرکارے آگے بڑھتے ہیں، چور کو مارتے ہوئے،اس کو ماں سے علیحدہ کرتے ہیں مگر یہ دیکھ کر سب دم بخود رہ جاتے ہیں کہ چور کے منہ میں ماں کا کان رہ جاتا ہے جو وہ ماں کے چہرے سے کھینچ چکا ہوتاہے۔حیرت میں گم بادشاہ چور سے سوال کرتا ہے کہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ یہ بہیمانہ سلوک کیوں کیا؟ چور جس کے چہرے پر اس حرکت کے بعد ندامت کے آثار تک نہ تھے۔ بادشاہ کے سوال کا جواب دیتا ہے۔ بادشاہ سلامت جب میں بچپن میں پہلی دفعہ اپنے دوستوں کی چیزیں چُرا کر گھر لایا تھا اس دن اگر میری ماں میری سرزنش کرتی،مجھے سزا دیتی، میری حوصلہ شکنی کرتی تو آج میں اس ملک کا نامور چور نہ بنتا۔ آج میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا نہ ہوتا اور گردن اتارے جانے کے لیے جلاد کا انتظار نہ کررہا ہوتا۔ آج میں زنجیروں سے بندھا ہوا نہ ہوتا۔مگر میری ماں نے میری پہلی چوری کو نظرانداز کرکے میری تربیت کو بگاڑ دیا۔ نہ میرا حوصلہ بڑھتا اور نہ آج میں جرائم کی دلدل میں پھنساہوتا۔بادشاہ،رعایا اور درباری دم بخود سوچ رہے تھے کہ کیا واقعی چور کا قصور کم ہے اور ماں ہی اصل ذمہ دار ہے؟ مجھے بھی یہ واقعہ میرے بچپن میں میری ماں نے کہانی کی صورت سنایا تھا۔ جو میرے ذہن و دماغ پر نقش ہو کر رہ گیا۔ اور اب جب بھی میں کسی چور کے متعلق پڑھتا ہوں اسے دیکھتا ہوں تو ماں کا سنایا ہوا یہ قصہ مجھے یاد آ جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال ایک کھرب روپے ٹیکس چوری اور کرپشن کی صورت میں اس عوام کا حق یہ ’’ چور‘‘ اڑا لیتے ہیں۔ اس ملک کے صرف 2پرسنٹ لوگ جونکوں کی طرح اس ملک کے غریب عوام کا خون چوس لیتے ہیں۔ ان میں ایسے وزراء،مشیر بھی شامل ہیں جو چند سال پہلے بس سفید پوش کہلاتے تھے مگر آج ان کے ملکی و غیرملکی اکائونٹس کروڑوں روپوںمیں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ایک سنیئر وفاقی وزیر صاحب جو ایک معمولی سرکاری ملازم کے صاحبزادے ہیں جودبئی کے بینکوں میں کروڑوں ڈالرز کا بینک اکائونٹ کھلوا کر وطن واپس سدھارے ہیں۔یہ ایک اکیلی مثال نہیں، موجودہ کابینہ کے کم از کم دو درجن وزراء کے ڈالر اکائونٹس کا حجم کروڑوں میں ہے جو چند سال پہلے تک اپنی جیب سے ہوائی ٹکٹ ایفورڈ نہ کر سکتے تھے۔ اس ملک کے ایک سابق نیوی چیف نے اربوں کی کرپشن کرکے شہرت اور دولت کمائی اور آج بھی کمال ڈھٹائی سے زندہ ہیں۔ اس ملک کے ایک سابق وزیر مملکت اربوں روپے کا نقصان سرکاری خزانے کو پہنچا کر آج بھی پابند سلاسل ہیں۔اس ملک کے ایک ممبر قومی اسمبلی چند سال پہلے اڈا منیجر تھے آج اربوں روپوں کے مالک ہیں اور پورے شہر کے بے تاج بادشاہ بھی۔اس ملک کے ایک سابق جرنیل کا بیٹا جو خود معمولی بینکر تھا آج کھربوں روپوں کا مالک ہے۔ اس ملک کی ایک سابق ایگزیکٹوشخصیت جو آج کئی گروپس آف انڈسٹری کے مالک ہیں جنکا سالانہ کروڑوں روپے ذاتی خرچہ ہے، صرف پانچ ہزار روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اقتدار کے مسند پر بیٹھی اس ملک کی ایک اعلیٰ شخصیت جودوران طالبعلمی اپنا خرچہ خود چلاتے تھے آج دنیا کے آٹھ امیر ترین رئیسوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گریڈ اٹھارہ کے ایک سابق ملازم جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں آج دبئی اور لندن کے بینکوں کے چہیتے اکائونٹس ہولڈر ہیں۔ اس ملک کی ایک موجودہ ایگزیکٹوشخصیت کے پاس الیکشن 2008ء سے پہلے کرائے کا مکان تھا، آج لاہور میں ڈیفنس سمیت ملک بھر کی تمام پرائیویٹ و سرکاری رہائشی سکیموں میں بے شمار کوٹھیوں کے مالک بن گئے ہیں۔ جو سیاست دان اور سرمایہ دار کل تک گنے کے رس کی مشین کے بھی مالک نہ تھے وہ آج 70شوگر ملوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔اس ملک کے بے شمار دانشور دوست جو چند سال پہلے اپنا پنکچر سائیکل سڑکوں پر گھسیٹتے نظر آتے تھے آج لمبی لمبی کاروں اور کوٹھیوں اور فارم ہوسز کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ اس ملک کے وہ لوگ جو پی ٹی وی کے باہر ٹھیلے لگاتے تھے آج ٹی وی چینلوں کے مالک بن گئے ہیں۔ لیکن میرا ایمان ہے جس دن اس ملک کو ایک آزاد بااختیار قاضی مل گیا، جس دن اس ملک کو ایک مخلص راہنما مل گیا، جس دن اس ملک کی رعایا کا احساس جاگے گا، جس دن انقلاب کا لفظ زبان زدِ عام ہوگا،اپنے حقوق کے تحفظ کا خیال جنم لے گا، اس دن یہ سارے چور پکڑے جائیں گے۔ اس دن یہ سب چور کٹہرے میں کھڑے ہوں گے اور دنیا دیکھے گی۔پھراس دن ان سب کی مائوں کے کان غائب ہوں گے۔ ’’بگا‘‘ ہمارے قصبے کا مشہور چور تھا، اس کی پولیس ہسٹری بھی تھی، وہ اچھے بوسکی کے کپڑے اور قیمتی ’’کُھسے‘‘پہنتا تھا، اکٹر کر چلتا تھا،وہ باربی کیو کی دکانوں پر چکن لیگ پیس چباتا نظر آتا تھا مگر جب وہ پکڑا جاتا تھا اور قصبے کے بازار میں پولیس چھترول میں اسے برآمدگی کے لیے لے جایا جار رہا ہوتا تھا۔ پولیس کی لاٹھیوں کی زد میں وہ چیختا،روتا اور گھسیٹا جا رہا ہوتا تھاتو مجھے میری ماں کا وہ فقرہ ضرور یاد آتا تھا کہ بیٹے’’چور کو کھاتے ہوئے نہیں۔مار کھاتے ہوئے دیکھو ‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus